Today News
بنگلہ دیش اور مستقبل کے امکانات
بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات میں خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی جس کی سربراہی خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کررہے تھے اس کی جماعت نے کل 297نشستوں میں سے 212نشستوں پر کامیابی کے بعد دو تہائی اکثریت حاصل کرلی ہے۔جب کہ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی اور اس کے اتحاد کو 77نشستوں پر کامیابی ملی جو بنگلہ دیش کی انتخابی تاریخ میں بڑا حصے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
عمومی طور پر بنگلہ دیش کے انتخابات میں حسینہ واجد اور خالدہ ضیا کی دو مضبوط سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتی تھیں ۔لیکن ان انتخابات میں حسینہ واجد کی جماعت پر پابندی کے باعث انتخابی معرکہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان دیکھنے کو ملا اور دیگر جماعتوں نے ان ہی دو بڑی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد کی حکمت عملی اختیار کی۔حسینہ واجد جو اس وقت بھارت میں جلا وطن ہیں وہ بنیادی طور پر بنگلہ دیش کی سیاست میں اس مکافات عمل کا شکار ہوئی ہیں جو انھوں نے اپنے دور میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک بڑی فسطایت اور بدترین دشمنی بشمول جماعت اسلامی کے 80برس بزرگوں کی پھانسی جیسی سزائیں بھی شامل ہیں، کا مظاہرہ کیا تھا ۔
اسی بنیاد پر ان کے خلاف ملک گیر مہم چلی اور ان کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔خود حسینہ واجد نے اپنی سربراہی میں جو انتخابات کروائے تھے اس میںتمام سیاسی مخالفین کے راستے بند کردیے گئے تھے اور اب وہ خود اس کا شکار ہوئی ہیں ۔ایک تجزیہ یہ کیا جارہا ہے کہ ان انتخابات میں نئی نسل کی اپنی پارٹی کچھ نہیں کرسکی۔لیکن جو ووٹنگ ٹرن آوٹ ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی نسل نے بڑی تعداد میں بی این پی اور جماعت اسلامی کو ووٹ دیا ہے کیونکہ مجموعی ووٹ ان ہی دو جماعتوں کو ملا ہے جس میں نئی نسل کے ناراض ووٹرز بھی شامل تھے۔
یہ بات پہلے سے نظر آرہی تھی کہ ان حالیہ انتخابات میں خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی جیت جائے گی مگر یہ اندازہ مشکل تھا کہ ان کو اس عمل میں دو تہائی اکثریت ملے گی۔کچھ لوگ یہ پیش گوئی کررہے تھے کہ جماعت اسلامی انتخابی معرکہ جیت جائے گی مگر بیشتر سیاسی پنڈت جو بنگلہ دیش کی سیاست کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ بی این پی کی جیت کی پیش گوئی کررہے تھے۔
حسینہ واجد کی جماعت کے ووٹرز نے بھی اپنا ووٹ عملی طور پر جماعت اسلامی یا دیگر جماعتوں کو دینے کی بجائے بی این پی کو ڈالا ہے کیونکہ وہ نظریاتی طور پر جماعت کے مخالف سمجھے جاتے ہیں اور ان کے پاس ووٹ ڈالنے کا کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔جماعت اسلامی کی کامیابی ماضی کے مقابلے میں ایک بڑی کامیابی ہے اور اس نے اس کے لیے مستقبل کی ملکی سیاست میں نئے مثبت امکانات پیدا کیے ہیں ۔ان انتخابات میں ہم جماعت کی کامیابی کو تین امور سے دیکھ سکتے ہیں۔
اول، حسینہ واجد کی حکومت کا جماعت اسلامی کے خلاف انتقامی سیاست کے دور کا خاتمہ اور اس کا عوامی ردعمل،دوئم، جماعت اسلامی کی حسینہ واجد کے خلاف مزاحمت اور ان کی حکومت کے خاتمہ میں موثر کردار اور عوامی سطح پر ان کی سیاسی قبولیت،سوئم، ان انتخابات میں حسینہ واجد کی جماعت پر پابندی اور اس خلا کا جماعت اسلامی نے فائدہ اٹھایا اور پہلی بار وہ اس پارلیمان میں ایک بڑی حزب اختلاف کے طور پر بیٹھے گی۔اسے کل ڈالے گئے سات کروڑ 60لاکھ ووٹ میں سے 3 کروڑ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں جو کے تقریباً 39.47فیصد ہیں۔پاکستان ان انتخابات کے نتیجے میں آنے والی جماعت بی این پی اور خود جماعت اسلامی کو پاکستان ہمدرد جماعت کے طورپر دیکھتا ہے ۔کیونکہ حسینہ واجد جہاں پاکستان مخالفت کی بنیاد پر مشہور تھیں تو وہیں ان کو بھارت نواز سمجھا جاتا تھا اور اسی بنیاد پر ان کے دور میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات خراب تھے۔
اس لیے پاکستان کو یقین ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں آنے والی بنگلہ دیش میں حکومت اور حزب اختلاف خطہ اور پاکستان کے تناظر میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔لیکن دوسری طرف بھارت کے وزیر اعظم نے حسینہ واجد کی حمایت کے باوجود بی این پی اور طارق رحمان کو انتخابات جیتنے پر مبارکباد دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم مستقبل میں مل کر آگے بڑھیں گے۔لیکن اس میں ایک بنیادی مطالبہ بی این پی اور جماعت اسلامی کا بھارت کی حکومت سے حسینہ واجد کی حوالگی کا ہوگا جو ان کے درمیان تعلقات کو متاثر کرسکتا ہے۔
اسی طرح بنگلہ دیش کی نئی نسل میں دہلی اور مودی مخالف جذبات بھی بہت زیادہ ہیں اور اس کی وجہ بھی ان کی طرف سے حسینہ واجد کی حمایت ہے اور اسی نقطہ کو بنیاد بنا کر خطہ کی سیاست میں پاکستان بنگلہ تعلقات کو زیادہ موثر بنانا چاہتا ہے۔جب کہ اس کے مقابلے میں بھارت کی پوری کوشش ہوگی اور وہ تمام سفارتی اور ڈپلومیسی کارڈ معاشی بنیاد پر کھیلے اور بنگلہ دیش کو پاکستان کے حمایتی کیمپ میں جانے سے روکے تاکہ بھارت افغانستان کے بعد بنگلہ دیش سے بھی پاکستان کو دورکرسکے۔اسی کی بنیاد پر ہم بھارت کی سفارتی جنگ کے مختلف پہلوؤں کو دیکھ سکیں گے ۔
دوسری طرف اس بات کے امکانات واضح ہیں کہ بی این پی کے قائد طارق رحمان ہی حکومت کے سربراہ ہوںگے اور جماعت اسلامی حزب اختلاف کی سیاست کا حصہ ہوگی۔لیکن یہ بھی یاد رکھیں ان انتخابات کے ساتھ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں آئینی ،سیاسی اور قانونی ،کرپشن اور انتخابی اصلاحات کے تناظر میں ان ہی انتخابات کے ساتھ ریفرنڈم کا انعقاد بھی ہوا جس میں لوگوں سے یہ پوچھا گیا کہ وہ موجودہ حالات میں اصلاحات چاہتے ہیں یا نہیں ۔اس ریفرنڈم میں65.05فیصد لوگ اصلاحات چاہتے ہیں جب کہ 34.05فیصد نے اس کی مخالفت کی ۔یقینی طورپر اب بنگلہ دیش میں جب حکومت تشکیل دی جائے گی تو پھر اس ریفرنڈم کی بنیاد پر اصلاحات کی نئی بحث شروع ہوگی اور حکومت کے لیے اصلاحات سے بھاگنا ممکن نہیں ہوگا اور خود جماعت اسلامی بھی اصلاحات کا نعرہ لگا کر موثر اپوزیشن کے طور پر سامنے آئے گی۔
اس لیے بنگلہ دیش حکومت کے نئے سربراہ طارق رحمان کے لیے اقتدار کی سیج آسان نہیں ہوگی اور ان کے گرد مختلف طور طریقوں سے گھیر ا تنگ رکھا جائے گا۔اس ریفرنڈم سے قبل جو عبوری حکومت تھی اس نے مختلف کمیشن کی رپورٹ کو قومی اتفاق رائے کمیشن کے طور پر جمع کیااور اسے جولائی قومی چارٹر کا نام دیا گیا۔ یہ چارٹر80سے زیادہ اصلاحاتی تجاویز پر مشتمل ہے جس میں تقریبا آدھی سے زیادہ آئینی نوعیت کی ہیں۔اس چارٹر پر 25سے زیادہ سیاسی جماعتوں نے 17 اکتوبر 2025 کو دستخط بھی کیے تھے ۔ ریفرنڈم میں اس کی حمایت کی کامیابی کے بعد یہ چارٹر قانونی حیثیت اختیار کرگیا ہے ۔
کہا جاتا ہے کہ ریفرنڈم کا بنیادی مقصد2024میں ہونے والی سیاسی بغاوت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال یا سیاسی خلا کو پر کرنا اور ملک کو آمرانہ حکمرانی سے بچانا تھا۔یعنی مجوزہ آئینی ترمیم کی مدد سے حکمرانی کے نظام کو دوبارہ تشکیل دینا،جمہوریت کو مضبوط بنانا، سماجی انصاف کو فروغ دینا،اداروں میں احتساب کو بڑھانا،اداروں میں توازن پیداکرنا،صدر کے اختیارات میں اضافہ ،عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانا، وزیر اعظم کی ٹرم کا تعین کرنا،آزاد الیکشن کمیشن، عبوری حکومت کی تشکیل،پارلیمنٹ کی ساخت میں تبدیلی جیسے اہم امور شامل ہیں اور اسی بنیاد پر اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
اس لیے بی این پی دو تہائی اکثریت پر مبنی جماعت کے سامنے بڑا چیلنج اس حالیہ ریفرنڈم کے نتائج اور اصلاحات کا عمل ہوگا جو بنگلہ دیش کی نئی حکومت اور پس پردہ طاقتوں کے درمیان یا تو طاقت کے نئے توازن کا تعین کرے گا اور اس دو تہائی اکثریت پر مبنی حکومت کے اختیارات میں توازن پیدا کرے گا۔ وگرنہ دوسری صورت میں ہمیں نئی حکومت اور طاقت کے مراکز میں ایک نیا ٹکراؤ یا سیاسی کشمکش دیکھنے کو ملے گی جو بنگلہ دیش کے داخلی بحران میں اور زیادہ مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
ایک خاص سوچ اور مقصد کے تحت ہی عام انتخابات کے ساتھ ہی ریفرنڈم کی سیاسی کنجی کا کارڈ ایک بڑی حکمت عملی کے تحت کھیلا گیا یا اس کا سیاسی دربار سجایا گیا تھا کہ ہم اس کارڈ کی بنیاد پر نئی حکومت پر اصلاحات کے نام پر اپنا دباؤ بڑھا سکیں۔ایسے میں اگر صدر کے اختیارات میں اضافہ ہوتا ہے یا اسٹیبلیشمنٹ کو بھی بہت سے امور پر طاقت ملتی ہے تو حکومت کو دباؤ میں لانا آسان ہوگا۔اس لیے یہ کہنا کہ ان انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کا سیاسی بحران ختم ہوگیا ہے درست نہیں بلکہ آنے والے کچھ عرصہ میں ہمیں بنگلہ دیش کی سیاست کے داخلی مسائل میں ایک اور جنگ دیکھنے کو مل سکتی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ ان حالات میں بنگلہ دیش حکومت کے سربراہ طارق رحمان کس انداز سے آگے بڑھتے ہیں یا وہ خود کتنی سیاسی لچک دکھاتے ہیں۔
Today News
غلط العام نام اورالفاظ (دوسرا اور آخری حصہ)
زراعت کار کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ اسے کاشت کے لیے کسی ایک جگہ زمین سے وابستگی ضروری ہوتی ہے ، فصل کا انتظار کرنا پڑتا ہے اوروہیں پر مستقل رہائش بھی اختیار کرنا پڑتی، بستیاں بسانا پڑتی ہیں ۔ جب کہ جانور پالوں کو اپنا اوراپنے جانوروں کا پیٹ بھرنے کے لیے کبھی یہاں کبھی وہاں کوچ اورگردش کی مجبوری ہوتی ہے۔
ایک جگہ جانوروں کی خوراک ختم ہوتی ہے یا موسم سخت ہوجاتا ہے تو دوسری جگہ خانہ بدوشی کی حالت میں رہنا پڑتا ہے اور ہندوستان یا ایشیا کے مختلف مقامات پر جو لوگ ہمیں تاریخ میں سرگرم نظر آتے ہیں، وہ سارے کے سارے خانہ بدوش ، مویشی پال یا گلہ بان اساک یا تورانی یاکشتری تھے ، آریا نہیں تھے لیکن آریا کیوں مشہور ہوئے، اس کی بھی ایک وجہ تھی ۔ ہم اپنی بات کو صرف ہندوستان تک محدود رکھیں گے کیوں کہ یہاں کے نوشتے تسلسل میں ہیں ۔
یہاں جو لوگ آئے اساک ہونے کے باوجود کیوں آریا کہلائے، وہ اپنے ساتھ ’’رگ وید‘‘ کے بجھن لائے تھے جب کہ ایراینوں کا نوشتہ اوویستا تھا ، دونوں سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ رگ وید خانہ بدوشوں کا نوشتہ ہے جس میں بارش کے دیوتا ’’اندر‘‘ کی مدح سرائیاں ہیں جب کہ اوویستا میں سب کچھ زراعت سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں ساری مدح سرائیاں آہورمزدا (سورج) کی ہوئی ہیں لیکن جب یہ اساک خانہ بدوش اور مویشی پال لوگ ہند جیسی سرسبز اورمالامال سرزمین پہنچے تو یہیں کے ہوگئے، خوشحال اورفارغ البال ہوگئے۔یہ باتیں جب ایران، آج کے افغانستان کے آریاؤں کومعلوم ہوئیں تو وہاں سے بھی آہورمزدا کے پرستار آنا شروع ہوگئے ، میں نے پیچھے پروفیسر محمد مجیب کی کتاب کاحوالہ دیا ہے، اس میں انھوںنے لکھا ہے کہ ہند کے برھمن دراصل ایران کے مذہبی لوگ تھے ۔
واضح رہے کہ ہم جب ہند کی بات کرتے ہیں تو پرانے ہند کی بات کرتے ہیں جس میں ہمارے یہ پاکستان کاخطہ بھی شامل تھا اورہندوکش کا علاقہ بھی ، مجموعی طورپر چاردانگ عالم میں سو نے کی چڑیا کی شہرت رکھتا تھا ، اوویستائی مندرجات میں اسے ستہ سندو یا ھیتہ ھندو یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کہا گیا ہے جس میں گنگا اورجمنا کے دودریا بھی شامل تھے ، یہ ایرانی مہکی اورمہرجب ایران سے چلے تو مجموعی طورپر ’’پارسو‘‘ تھے کیوں کہ اس زمانے کے مطابق ان کا جنگی ہتھیار ’’پرسو‘‘عین کلہاڑا تھا ۔ہندی مذہبی نوشتوں میں پرسورام کابہت ذکر ہے جو وشنو کااوتار تھا، ذات کابرھمن تھا اوراس نے سارے کشتریوں کو مارڈالاتھا ، پرسو کوئی فرد نہیں بلکہ وہ آریائی گروہ تھا جو کشتریوں کے تلوار کے مقابل کلہاڑا لے کر اٹھے تھے۔
یہ لفظ پارسو، پارس، پارسا بھی بہت دوردور تک گیا ہے ،انھی کی وجہ سے ایران کا نام پارس، فارس ہوگیا اورزبان بھی پارسا گرد اورپرسی پولس نامی شہربھی ان سے موسوم ہوئے تھے جب کہ موجودہ پشاورکا نام بھی پہلے پرس پور تھا کیوں کہ ایران سے چل کر یہ پہلے اس خطے میں پہنچے تھے اوربرھمن بن گئے تھے چنانچہ لفظ پارسا ، پارسائی اب بھی مذہبی اورعبادت گزار لوگوں کو کہاجاتا ہے ۔
ان پارسو یا برھمنوں کے آنے سے پہلے یہاں کھشتریوں نے جو نظام یامعاشرہ قائم کیاتھا، وہ صرف تین ذاتوں کھشتری (حکمران) ویش (کمانے والوں) اور شودروں( غلاموں) پر مشتمل تھا۔برھمنوں کایہ چوتھا طبقہ اس میں نہیں تھا، اورہاںیہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہندوستان میں ان کی آمد یک دم اورکسی ایک وقت نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ ڈھائی ہزارسال قبل مسیح سے شروع ہوکر ایک ہزار قبل مسیح تک جاری رہی تھی ، جتھے آتے رہے اوریہاں آباد ہوتے رہے بلکہ یہ سلسلہ ابھی ایک ڈیڑھ صدی پہلے تک بھی جاری تھا ، کوچی پاوندے خانہ بدوش آتے رہے اوریہاں آباد ہوتے رہے۔
پارسو اورکھشتریوں میں پہلے تو جنگ وجدل، کش مکش اورماراماری ہوتی رہی، پھر دونوں میں وہ سمجھوتہ ہوگیا جو دنیاکے ہرخطے میں ہوتا رہا ہے ، تلوار اورقلم ، کتاب وتخت ، مندراورمحل کا تاج اورچوٹی کاسمجھوتہ اوربرھمنوں کو چوتھا گوٹ تسلیم کیاگیا ، یہ پارسو آریا ، مہگی اورمہر لوگ چونکہ مدنی تھے اور پڑھت اورلکھت کے لیے متمدن ماحول چاہیے ہوتا ہے، اس لیے پڑھے لکھے تھے جب کہ کھشتری خانہ بدوش تھے اورخانہ بدوشی میں لکھت پڑھت کا نہ موقع ملتا ہے نہ ماحول ۔ وہ صرف جنگجو اورتلوار کے دھنی تھے چنانچہ برھمنوں نے ان کو بڑے کمال سے آریا بناکر اپنی پہچان سے محروم کردیا اوروہ برھمنوں کے دیے ہوئے صفاتی ناموں اورنام کی صفات میں خوش ہوگئے اورآریا نام سے خود کو موسوم کرلیا۔
اس بات کا ثبوت کہ ہند میں آنے والے اولین لوگ اساک کشتری تھے آریا نہیں تھے، یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ لوگ اس گندھارا نام کے خطے میں داخل ہوئے تھے، اس لیے ان نوشتوں میں یہاں کے بہت سارے نام مذکورہیں ،راجہ گندھار ، گندھاری، امب، امبی، بنوں ، بھرت ،ککی ، پشکلاوتی، سواستو، سوست ،سورگ وغیرہ ، خاص طورپر امبی کاراجہ ، اورسب سے زیادہ ’’اودیانہ‘‘ جو سوات کا پرانا نام ہے جسے لے کر برھمنوں نے ہندوستان میں اودھ اورایودھیا پرچسپاؒں کر دیا، امب آج بھی ’’امبیلہ‘‘ کے نام سے مشہور اورموجود ہے، یہی وہی ریاست تھی جس کا راجہ، راجہ پورس کے خلاف سکندرسے مل گیا تھا ، یہ پاکستان کے بعد بھی ایک عرصے تک ریاست رہی تھی ، ایوب خان کے زمانے میں جب اس کاآخری حکمران کیپٹن اسد ایک ہوائی حادثہ میں مرگیا تو ریاست بھی ختم ہوگئی۔
ٹیکسلا اوربرہان کے درمیان موٹروے پر ایک انٹرچینج ہے ’’برھمہ یا پتر‘‘ ظاہر ہے کہ یہ علاقہ بھی اسی نام سے موسوم ہوگا اور یہ بھی عام بات ہے کہ (ھ) اور(ح) آپس میں بدلتے ہیں جیسے ہور سے خورشد، اوریہ نام بھی اصل میں برھمن باختر ہوسکتے ہیں اورجن پرسو لوگوں کا اس نے ذکر کیا ہے وہ بلخ وباختر کے مہگی اورمہر تھے ، یہ اس خطے میں آنے یا رہنے بسنے کا دوسرا ثبوت ہے ۔کل ملا کر بات یہ بنی کہ آریا ایک غلط العام نام ہے اورہند میں آنے والے وہ خانہ بدوش مویشی پال قبائل آریا نہیں بلکہ آریاؤں کے دشمن تھے، آریا وہ لوگ تھے جو قدیم دور کے فارس یا پارس کے مختلف علاقوں سے سرزمین ہند میں آئے تھے۔
Today News
کراچی، شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان خونریز مقابلہ جاری، 2 اہلکار زخمی
کراچی:
شہر قائد میں ایک بار پھر سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی شاہ لطیف ٹاؤن میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر شاہ لطیف ٹاؤن کے ایک گھر پر چھاپہ مارا، جہاں مبینہ دہشتگردوں نے اہلکاروں کو دیکھتے ہی شدید فائرنگ شروع کردی۔
سی ٹی ڈی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی طلب کرلی گئی ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
حکام کے مطابق ملزمان کی فائرنگ کی زد میں آکر نشاندہی کے لیے لائے گئے تین گرفتار دہشتگرد بھی زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کے لیے منتقل کیا جارہا ہے۔
علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنی جارہی ہیں جبکہ سیکیورٹی اداروں نے قریبی گلیوں کو سیل کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام دہشتگردوں کو گرفتار یا غیر مؤثر نہیں بنا دیا جاتا۔
Today News
انڈین فلم انڈسٹری کیسے بدل رہی ہے
پدم بھوشن ، گولڈن گلوب ، گرامی ایوارڈز اور آسکر انعام یافتہ موسیقار اے آر رحمان سے کون واقف نہیں۔انھوں نے ہندی اور غیر ہندی فلموں میں شاندار موسیقی دی ، کامیاب ترین بین الاقوامی کنسرٹس کیے ، آزادی کی گولڈن جوبلی پر وندے ماترم کی ایسی نئی دھن تخلیق کی جو اب بھارت کا غیر رسمی قومی ترانہ ہے۔رحمان نے چند ہفتے پہلے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ گذشتہ آٹھ برس سے انھیں بالی وڈ میں رفتہ رفتہ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اب زیادہ تر فیصلے غیر تخلیقی لوگوں کے ہاتھ میں ہیں اور ممکن ہے کہ کام ملنے میں کمی کا سبب مذہبی تعصب بھی ہو۔
اس انٹرویو کے بعد فرقہ پرست ہندو تنظیمیں اے آر رحمان کے پیچھے پڑ گئیں اور وشوا ہندو پریشد ( وی ایچ پی ) نے ان سے ’’ بھارت کی توہین ‘‘ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔سوشل میڈیا رحمان مخالف پوسٹوں سے بھر گیا۔ رحمان کو ایک وضاحتی پوسٹ لگانا پڑ گئی۔ مگر یہ کوئی نئی بات نہیں۔
بالی وڈ میں ایک عرصے تک پاکستانیوں کو بطور ولن دکھایا جاتا رہا۔ چند برس سے بھارتی مسلمانوں نے ولنز کی جگہ لے لی ہے۔وہ زمانے لد گئے جب بالی وڈ میں ہر شخص ہندو مسلمان کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے کام اور ہنر کے سبب پہچانا جاتا تھا۔آج آپ اپنے فلمی کیریر میں کیسا بھی دیش بھگت کردار نبھا لیں۔کوئی سا بھی ملی نغمہ کمپوز کر لیں۔ آپ کا تعلق اکثریتی ہجوم سے نہیں تو آپ کے ایک ایک جملے اور حرکت کو خوردبین تلے رکھا جائے گا اور جہاں بھی قدم ذرا لڑکھڑائے ، طعنوں اور طنز کی بارش ہونے لگے گی اور کوئی بھی آپ کو چھتری پیش نہیں کرے گا۔
مجھے یاد ہے کہ جب دلیپ کمار صاحب نے انیس سو بانوے کے ممبئی فسادات کے بعد بے گھر مسلمانوں کے لیے سنیل دت اور اے کے ہنگل کے ساتھ مل کر امدادی کام شروع کیا تو شیو سینا کے لونڈے دلیپ صاحب کے گھر کے باہر روزانہ جمع ہو کر ان کے خلاف نعرے لگاتے اور پاکستان جانے کا مشورہ دیتے۔
معروف لکھاری اور ’’ فسطائیت کی جانب بھارت کا سفر ‘‘ نامی کتاب کے مصنف دیبشش رائے چوہدری کے بقول آج دھرنے یا جلوس کی ضرورت ہی نہیں۔آن لائن ٹرولنگ کا ہتھیار رفتہ رفتہ سماجی سطح پر نفرت کو نارمل بنانے کے لیے کافی ہے اور پھر یہی بلند آہنگ نفرتی آوازیں ریاستی بیانیہ بن جاتی ہیں۔
بیانئیے کی اس جنگ میں فلم بہت موثر ہتھیار ہے ۔ جیسے سرد جنگ کے دور میں انیس سو پچاس سے اسی کی دہائی تک امریکی اسٹیبلشمنٹ نے نام نہاد آزاد دنیا کے حق میں امریکی بیانئے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہالی وڈ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ ہالی وڈ میں ’’کیمونسٹ خیالات رکھنے والے گمراہ تخلیق کاروں ‘‘ کی صفائی کی گئی یا بقول شخصے شدید دباؤ اور بائیکاٹ کے زریعے ان کا سافٹ وئر اپ ڈیٹ کیا گیا۔جو نہیں جھکے بلیک لسٹ ہو گئے اور کام ملنا بند ہو گیا۔
بالی وڈ کا شمار دنیا کی بڑی فلم انڈسٹریز میں ہوتا ہے۔اس پر نظریاتی طور پر قابو پانا بیانئے کی آدھی جنگ جیتنے کے برابر ہے۔دو ہزار بائیس میں بالی وڈ نے کشمیر فائل اور اگلے برس کیرالہ اسٹوری ریلیز کی۔ان فلموں میں ثابت کیا گیا کہ بھارتی مسلمان دھشت گرد اور ملک کے لیے سنگین اندرونی خطرہ ہیں۔بی جے پی کی مرکزی اور صوبائی سرکاروں نے ان فلموں پر تفریحی ٹیکس معاف کر دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ فلم بینوں کو سینما ہال تک لایا جا سکے۔ پھر بھی دونوں فلموں کو اوسط کمرشل کامیابی ہی مل سکی۔
اے آر رحمان نے فلم چھاوا کا بھی میوزک کمپوز کیا۔اس فلم میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کو ایک ہندو دشمن ظالم حکمران کے طور پر پیش کیا گیا۔مگر رحمان صاحب نے انٹرویو میں قبول کیا کہ ایسی فلمیں سماجی ہم آہنگی کے لیے نیک شگون نہیں۔
سرکردہ فلمی نقاد اور اسکرین رائٹر راجہ سین کہتے ہیں کہ ان سے ایک بڑے فلم ساز نے اپنی آنے والی فلم کے ہیرو کا مسلمان نام بدل کے ہندو نام رکھنے کا مطالبہ کیا حالانکہ یہ تبدیلی کہانی سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔
انیس سو اسی کی دہائی تک کسی بھی ہندی فلم میں زیادہ تر مسلمان کرداروں کو بھائی ، دوست ، شاعر اور گلوکار کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اب جو فلمیں بن رہی ہیں ان میں مسلمان کرداروں کو سخت گیر ، رجعت پسند ، متشدد یا دھشت گرد دکھایا جاتا ہے۔شاہ رخ ، سلمان ، سیف اور عامر جیسے چوٹی کے اداکاروں کی مقبولیت سے لگتا ہے گویا بالی وڈ آج بھی اپنے پیشہ ورانہ رویوں میں روشن خیال اور سیکولر ہے۔مگر یہ ظاہری تصویر ہے۔
جب عامر خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آج ملک کی جو فضا ہے اس میں میری بیوی کو ڈر لگتا ہے یا جب عامر کی دو ہزار چودہ میں ریلیز ہونے والی فلم پی کے میں مذہبی سوالات اٹھائے گئے یا لال سنگھ چڈھا میں عدم رواداری پر بات کی گئی تو سوشل میڈیا پر بائیکاٹ عامر خان ٹرینڈ شروع ہوگیا ۔ ان سے سوال کیا گیا کہ ان کی اہلیہ ہندو کیوں ہیں۔کیا یہ لو جہاد تو نہیں۔سوال کرنے والے بھول گئے کہ عامر خان کا تعلق گاندھی اور نہرو کے ساتھی مولانا ابوالکلام آزاد کے خاندان سے ہے۔
دو ہزار پندرہ میں شاہ رخ خان کا بھی گھیراؤ ہوا کہ انھوں نے ایک انٹرویو میں یہ کیوں کہا کہ آس پاس کی فضا میں عدم رواداری بڑھ رہی ہے۔آج کل بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں جب شاہ رخ خان کی پریمیر لیگ ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے ایک بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان سے کنٹریکٹ سائن کیا تو ’’ شاہ رخ حان غدار ہے ’’ کی ٹرولنگ شروع ہو گئی۔چنانچہ بنگلہ دیشی کھلاڑی کا کنٹریکٹ معطل ہو گیا۔
جب سے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے بہانے کسی بھی ہدائت کار یا اداکار کے ڈیجیٹل یا فزیکل گھیراؤ کا فیشن شروع ہوا ہے۔بالی وڈ میں تخلیقی آزادی کی روح سہم گئی ہے۔زیادہ تر لوگ پھونک پھونک کر اور سامنے والے کے تیور دیکھ کر بات کرتے ہیں۔
کئی فلموں کے لیے اداکاروں کا انتخاب اس بنیاد پر ہوتا رہا کہ ان کی شکل کسی گروہ کو بری تو نہیں لگے گی۔ایسی کہانی جس میں اقلیت کو ہدف بنایا گیا ہو ایک محفوظ منافع بخش سرمایہ کاری بنتی جا رہی ہے اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ کسی بھی کاروبار یا صنعت کا حتمی مقاضد منافع کمانا ہے۔اکثریتی بیانیہ بھلے سرمایہ کار کو کتنا بھی ناگوار گذرے مگر اپنی آزاد سوچ اور اصولوں کو تو پیسے کے لیے بلی پر چڑھانا ہی پڑتا ہے۔گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
-
Tech2 weeks ago
New Manhattan 4K Streaming Box Brings Freely And TiVo OS To Any UK TV
-
Sports2 weeks ago
‘Not an ideal situation’: Cricketers, politicians react to Pakistan boycotting India match in T20 World Cup
-
Tech6 days ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Sports2 weeks ago
Unbeaten India defeat Pakistan to reach U-19 World Cup semis
-
Tech3 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Magazines1 week ago
Story time: Stuck in the 1990s