Today News
بنگلہ دیش: نیا سفر اور چیلنجز کے خارزار
ماضی کے مشرقی پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش کے ساتھ علیحدگی کے باوجود ہماری ایک جذباتی اور تاریخی وابستگی موجود رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی سخت گیر حکومت نے البتہ اپنی سیاست کی بنیاد پاکستان دشمنی اور علیحدگی کی تاریخ پر رکھی۔
مقامی سیاست میں اس پالیسی کے نتیجے میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ سختیاں برداشت کرنا پڑیں۔ سخت گیر اور آمرانہ رویے کا دوسرا بڑا شکار سب سے بڑی اپوزیشن سیاسی جماعت بی این پی ہوئی۔ آمرانہ انداز حکومت نے بالآخر مزاحمت کی چنگاری بھڑکائی جس کی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے حسینہ واجد کا اقتدار جلا کر راکھ کر دیا۔
اس مزاحمت سے قبل ہمارے ہاں بہت سے احباب بنگلہ دیش کی حکومت اور معیشت کو رشک کی نظروں سے دیکھتے تھے بلکہ اکثر لوگ مصر تھے کہ پاکستان میں صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور سرمایہ کار دھڑادھڑ بنگلہ دیش کی جنت نظیر معیشت کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
دور کے ڈھول سہانے کہ حقیقت اس کے الٹ تھی۔ حسینہ واجد کا اقتدار انجام کو پہنچا تو ہمارے ہاں اپنے اپنے سیاسی بیانیے کی تقویت کے لیے کئی احباب نے رشک سے مثالیں دینا شروع کیں کہ ہمارے ہاں بنگلہ دیش جیسی مزاحمت ہوئی کہ ہوئی! اور کچھ کو یہ گلا تھا کہ بنگلہ دیش کا سیاسی شعور بازی لے گیا اور ہم پیچھے رہ گئے۔
اب عبوری حکومت الیکشن کروا کر زمام اقتدار اکثریتی جماعت بی این پی کو حوالے کر کے اپنا فرض ادا کر چکی ہے۔ بنگلہ دیش کا ایک نیا سفر شروع ہو رہا ہے۔ سیاسی فتح اور سیاسی جوش وخروش حقیقت آشنا ہو رہا ہے۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ بنگلہ دیش کا یہ نیا سفر ایک اور دائرے کا سفر ہے یا کسی مختلف منزل کی جانب رواں ہوا ہے۔
حالیہ پارلیمانی انتخابات نے اقتدار کی تبدیلی تو یقینی بنا دی، مگر اس تبدیلی کی اصل معنویت اب شروع ہوتی ہے۔ طویل عرصے تک ریاستی سیاست پر چھائی رہنے والی عوامی لیگ کے مقابلے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی کامیابی کا نیا باب امکانات سے زیادہ امتحانات سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
گزشتہ دہائی میں بنگلہ دیش کو جنوبی ایشیا کی نسبتاً کامیاب معیشت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ گارمنٹس کی برآمدات، خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں بہتری نے اسے کامیابی کا ایک استعارہ بنایا مگر سیاسی سطح پر مسلسل کشیدگی، اپوزیشن پر سختیاں اور من چاہے انتخابی عمل پر سوالات بھی اس دوران ساتھ ساتھ چلتے رہے۔
اب جب کہ بی این پی اقتدار میں آئی ہے، اسے سابقہ حکومت کے مقابل ایک واضح متبادل پیش کرنا ہوگا اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی آزمائش شروع ہو گئی ہے۔
بنگلہ دیش کو معاشی، انتظامی اور سماجی سطح پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ معیشت اس وقت سب سے بڑا دباؤ ہے۔ بنگلہ دیش کا مجموعی عوامی قرض تقریباً 189 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
رواں مالی سال میں قریباً 30 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں درکار ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، درآمدی لاگت میں اضافہ اور عالمی منڈی کی غیریقینی کیفیت نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
گارمنٹس سیکٹر اب بھی برآمدات کا بڑا ستون ہے، مگر عالمی طلب میں سست روی اور مسابقت میں اضافے نے اس انحصار کی کمزوری بھی نمایاں کر دی ہے۔
اسی سال نومبر میں بنگلہ دیش کا ’’کم ترقی یافتہ ممالک‘‘ (LDC) کا درجہ ختم ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر اعزاز معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے معاشی اثرات گہرے ہوں گے۔
خصوصی تجارتی رعایتوں کے خاتمے کے بعد یورپی اور دیگر منڈیوں میں مسابقت سخت ہو سکتی ہے۔ صنعتی شعبے کو نئے قواعد، لیبر معیارات اور ممکنہ ٹیرف کا سامنا ہوگا۔ یوں ترقی کا اگلا مرحلہ پہلے سے کہیں زیادہ نظم وضبط اور مسابقت کا متقاضی ہوگا۔
ادارہ جاتی سطح پر بھی ابتدائی فیصلوں نے بحث کو جنم دیا ہے۔ مرکزی بینک، یعنی Bangladesh Bank میں پیشہ ور ماہرِ معاشیات کی جگہ کاروباری پس منظر رکھنے والی شخصیت کی تعیناتی نے مالیاتی پالیسی کی خودمختاری پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ایسے وقت میں جب افراطِ زر اور شرحِ سود حساس مرحلے میں ہوں، مرکزی بینک کا کردار غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح چھ بڑے شہروں کے انتظامی سربراہان کی سیاسی بنیادوں پر تقرری نے مقامی حکمرانی کے غیرجانبدارانہ تاثر کو متاثر کیا ہے۔
یہ اقدامات اس بحث کو تقویت دیتے ہیں کہ آیا نئی صف بندی ادارہ جاتی مضبوطی لائے گی یا سیاسی وفاداری کا کلچر جاری رکھے گی۔
سماجی منظرنامہ بھی کم تشویش ناک نہیں۔ اندازوں کے مطابق 21 ملین سے زائد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ مہنگائی نے متوسط طبقے کی قوتِ خرید کم کی ہے جب کہ دیہی معیشت موسمی اور دیگر سنگین مسائل سے دوچار ہے۔
اگرچہ ماضی میں غربت میں کمی اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں بہتری کو نمایاں کامیابی قرار دیا جاتا رہا، مگر حالیہ معاشی دباؤ نے ان کامیابیوں کی رفتار سست کر دی ہے۔
غربت محض اقتصادی چیلنج نہیں بلکہ سیاسی حساسیت کا محور بھی ہے، کیونکہ عوامی رائے کا رخ روزمرہ زندگی کے تجربات سے طے ہوتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں جین زی کا کردار فیصلہ کن ہے۔ یہ نسل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر متحرک، عالمی رجحانات سے آگاہ اور فوری نتائج کی خواہش مند ہے۔ اس کے لیے روزگار، تعلیمی مواقع اور اظہارِ رائے کی آزادی بنیادی تقاضے ہیں۔
انتخابی مہم میں اس نسل کی شرکت نے سیاسی درجہ حرارت کو بڑھایا، مگر اب یہی طبقہ کارکردگی کا تقاضا کرے گا۔ سیاسی بیانیہ اگر عملی نتائج میں نہ ڈھلا تو سوشل میڈیا کی حمایت جلد تنقید میں بدل سکتی ہے۔
سیاسی تقسیم کا معاشرتی بوجھ بھی کم نہیں۔ انتخابات نے معاشرے کو واضح خطوط پر منقسم کر دیا ہے۔ ایک طبقہ نئی حکومت کو اصلاحات کی امید سمجھتا ہے، جب کہ عوامی لیگ کا حمایتی طبقہ اسے جمہوری تسلسل میں تعطل قرار دیتا ہے۔
یہ تقسیم محض سیاست تک محدود نہیں بلکہ جامعات، میڈیا اور کاروباری حلقوں تک محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں ہر پالیسی فیصلہ فوری طور پر سیاسی عینک سے دیکھا جاتا ہے، جس سے اجتماعی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی توازن ناگزیر ہے۔ بھارت کے ساتھ سیکیورٹی اور تجارتی روابط اہم ہیں، جب کہ چین انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کا بڑا شراکت دار ہے۔ پاکستان نے موقع کی نزاکت کا صحیح فائدہ اٹھاتے ہوئے بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کیے ہیں اور مزید مضبوط کرنے کا متمنی ہے۔
بنگلہ دیش اس وقت ایک ایسی حقیقت کا سامنا کر رہا ہے جہاں سیاسی تبدیلی اور معاشی تقاضے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیش کو اب نعروں سے زیادہ توازن، جذبات سے زیادہ حکمت اور سیاست سے زیادہ بہتر طرزحکمرانی کی ضرورت ہے۔ اب فیصلہ نئی حکومت اور آنے والے دنوں میں اس کی دانش، تحمل، سیاسی طرز حکومت پر منحصر ہو گا۔
Today News
حزب اللہ کا اسرائیل پر ابتک کا سب سے بڑا میزائل حملہ؛ امریکی شہریوں کا انخلا شروع
حزب اللہ نے لبنان سے اب تک کا طویل فاصلے تک کے مار کرنے والے راکٹوں سے اسرائیلی دارالحکومت سمیت وسطی اور شمالی علاقوں پر حملہ کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے راکٹس آسمان پر اُڑتے جیسے ہی اسرائیل کے قریب پہنچے صیہونی ریاست میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور افراتفری مچ گئی۔
اسرائیلی شہری دیوانہ وار اپنی محفوظ پناہ گاہوں ’’زیر زمین بنکرز‘‘ کی جانب بھاگے اور اندر داخل ہوگئے تاکہ اپنی جانیں بچا سکیں۔
یہ اب تک کا حزب اللہ کا اسرائیل پر اب تک کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل حملہ تھا جس میں ممکنہ طور پر بھاری نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی دارالحکومت میں پہلے ہی ریڈ الرٹ جاری کیا ہوا ہے اور تازہ حملوں سے شہریوں میں مزید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ایمبولینسوں اور ریسکیو اداروں کی ٹیموں کو دارالحکومت کے مختلف مقامات کی جانب جاتے دیکھا گیا ہے۔
جبکہ دوسری جانب امریکا نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔
دوسری جانب اسرائیل سے امریکی شہریوں کے انخلا کا کام مزید تیز کردیا گیا جن کی تعداد 500 کے لگ بھگ ہے۔
واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تقریباً 500 امریکی شہریوں سے براہ راست رابطے میں ہے تاکہ انھیں بحفاظت واپس بلایا جاسکے۔
محکمہ خارجہ کے اہلکار نے مزید بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اب تک سیکڑوں امریکی شہری اسرائیل چھوڑ چکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ چند روز قبل 130 امریکی شہریوں کو اسرائیل سے نکالا جب کہ آج تقریباً ایک سو شہری روانہ ہونے والے ہیں۔
امریکی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مدد کے لیے دیے گئے ہنگامی نمبر پر رابطہ کریں اور اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام میں رجسٹر ہوں تاکہ تازہ معلومات حاصل کر سکیں۔
یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ روز خطے کے ایک درجن سے زائد ممالک میں موجود امریکیوں کو فوری طور پر وہاں سے نکلنے کی ہدایت بھی کی تھی۔
جس میں کہا گیا تھا کہ جتنی جلدی ممکن ہو کمرشل پروازوں کے ذریعے اسرائیل سے کسی بھی محفوظ ملک کی جانب روانہ ہو جائیں اگرچہ خطے کی بیشتر فضائی حدود جزوی طور پر بند ہیں۔
عالمی عوامی امور کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈیلن جانسن نے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ سے نکلنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے فوجی طیاروں اور چارٹرڈ پروازوں کا بندوبست بھی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق حکام بیرون ملک موجود تقریباً تین ہزار امریکیوں سے براہ راست رابطے میں ہیں۔
Today News
پی ٹی آئی نے خطے کی صورتحال پر بلائے گئے اجلاس میں شرکت عمران سے ملاقات سے مشروط کردی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے خطے کی صورت حال پر بریفنگ کے لیے طلب کیے گئے پارٹی سربراہان کے اجلاس میں شرکت بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات سے مشروط کردیا۔
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اہم اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا کہ جس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعظم کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ جب تک بانی چئیرمین سے ان کے ذاتی معالج کی ملاقات نہیں کراوئی جاتی، حکومت کی طرف سے بلائے گئے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق ملکی و بین الاقوامی صورت حال پر تفصیلی غور اور ایران پر امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے جہاں 160 سے زائد طالبات کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے لیے فاتحہ خوانی اور ملک گیر احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے لیے بھی دعائے مغفرت کی گئی اور پرامن مظاہرین پر فائرنگ اور ریاستی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے واقعات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا کا مطالبہ کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی سلامتی اجلاس میں شرکت بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات سے مشروط اور بانی چیئرمین کو ذاتی معالجین تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیا اور 2 اکتوبر 2025 سے فیملی ملاقات بند ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
پی ٹی آئی نے عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوا تو حکومتی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا تھا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے بریفنگ بلائی ہے لیکن ہمارا مؤقف ہے کہ بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں بلکہ پوری پارلیمنٹ کو دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے اور کل تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کردیں گے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا تھا کہ بہتر ہوگا بریفنگ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یا کم از کم سینیٹ میں دیں اور خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔
Source link
Today News
ایران کے نئے وزیر دفاع تقرری کے 24 گھنٹوں بعد ہی اسرائیلی حملے میں شہید؛ میڈیا رپورٹ
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ حملوں میں ایران کے قائم مقام وزیر دفاع ماجد ابن الرضا بھی شہید ہوگئے۔
یہ دعویٰ اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے سوشل میڈیا پر رپورٹ کیا۔ چند بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹس نے بھی سوشل میڈیا پر اس دعوے کو پھیلایا۔
جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے نئے وزیر دفاع بھی اپنی تعیناتی کے محض 24 گھنٹوں بعد اسرائیل کے ایک حملے میں مارے گئے۔
تاہم اس حوالے سے نہ تو اسرائیل اور نہ ہی ایران نے تصدیق یا تردید کی ہے۔ تاحال کسی مستند خبر رساں ادارے نے بھی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
یاد رہے کہ ایران کے صدر نے پیر کے روز ماجد ابن الرضا، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے ایک جنرل ہیں کو قائم مقام وزیر دفاع مقرر کیا تھا۔
BREAKING: IRAN’S NEW DEFENSE MINISTER WIPED OUT IN UNDER 24 HOURS! 🚨💥
General Majid al-Raza (aka Majid Ebnelreza / Seyed Majid Ibn al-Reza), just appointed yesterday as acting Defense Minister after US-Israel strikes killed his predecessor Aziz Nasirzadeh…
HAS BEEN ELIMINATED…— INDIA EYE NOW NEWS (@india_eye_now) March 3, 2026
انہیں اس وقت تعینات کیا گیا جب ان کے پیشرو سابق وزیر دفاع ناصر زادہ اسرائیل امریکا کے مشترکہ فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔
ایران پر ان لگاتار حملوں کا مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت اور فیصلہ ساز اداروں کو براہِ راست نشانہ بنانا ہے۔ صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران پر حملے کے مقاصد کے مکمل حصول میں 3 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حکومتی ترجمان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition