Today News
بڑھتی ہوئی جنگ کے مسائل
امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ پانچویں ہفتہ میں داخل ہوچکی ہے۔اس جنگ نے ان ممالک سمیت سعودی عرب،خلیجی ممالک سمیت دیگر ممالک کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان باہمی سطح پر بات چیت کے امکانات تو دوسری طرف ان ممالک سمیت دیگر ممالک بشمول پاکستان پس پردہ بات چیت کی مدد سے مسائل کے حل کی تلاش کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا پر یہ دباؤ کہ وہ ایران کے خلاف حتمی کارروائی کرے، خود نئے مسائل یا ٹکراؤ کے اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ خلیجی تعاون کونسل نے ایران امریکا مذاکرات میں خلیجی ممالک کی شمولیت پر زور دیا ہے۔
امریکا کے صدر کے بقول ہم نے اس جنگ میں اپنے اہداف کو حاصل کرلیا ہے اور جلد ہی ہم ایک معاہدہ کے تحت اس جنگ سے نکل جائیں گے۔لیکن جس انداز میں یہ جنگ آگے بڑھ رہی ہے اور جس طرح سے اس جنگ نے دوسرے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تو یہ خطرات بڑھ رہے ہیں کہ جنگ کا دائرہ کار بھی بڑھ سکتا ہے اور اس میں مختلف ممالک کے درمیان پراکسی جنگ کے مسائل بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں ۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان،ترکی اور مصر جو جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں کرتے نظر آرہے ہیں اگر وہ اس عمل میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان ملکوں کی سیاسی پزیرائی ضرور ہوگی لیکن اگر یہ جنگ بڑھتی ہے اور جنگ بندی کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں تو پھر سب کی بھی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔پاکستان کی موجودہ پالیسی توازن پر مبنی ہے اور اب تک ہماری یہ ہی کوشش ہے کہ کسی بھی طریقے سے جنگ بندی پر تصفیہ ہو اور جو ایران،سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں ایک دوسرے کی سطح پر بداعتمادی بڑھ رہی ہے وہ ختم ہو۔لیکن ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اگر یہ جنگ مزید آگے بڑھتی ہے اور خلیجی ممالک کے داخلی مسائل بھی بڑھتے ہیں تو ہم پر بھی ایک خاص پوزیشن لینے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اسی کو بنیاد بنا کر جو سعودی ،ترکیہ،مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم بیٹھک اسلام آباد میں ہوئی ہے۔ یہ ملاقات اور اس کے نتیجے میں مزید سفارت کاری کی کوشش اس جنگ کے ختم ہونے یا نہ ہونے کے کچھ اشاروں کو سامنے لاسکے گی۔کیونکہ پاکستان سمیت ان ممالک کی سہولت کاری کی اپنی اہمیت ہے لیکن فیصلہ کی اصل طاقت امریکا،اسرائیل اور ایران کے پاس ہی ہوگی کہ وہ کس حد تک ایک دوسرے کے لیے سیاسی لچک دکھاتے ہیں ۔
امریکا کے صدر اس برتری سے جنگ بندی کی طرف جانا چاہتے ہیں کہ وہ اس جنگ سے سرخرو ہوئے ہیں ۔کیونکہ امریکا کی داخلی سیاست میں ٹرمپ پر بہت زیادہ تنقید بڑھ رہی ہے اور ان کے خلاف لوگ بھی سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں کہ ہمیں ٹرمپ کی صورت میں بادشاہت منظور نہیں اور وہ جنگ بندی کریں۔ لیکن کیونکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ایک ایسی جگہ پر لے کر آگئے ہیں کہ ان کے لیے بغیر کامیابی کے پلٹنا کسی بھی طور پر ممکن نہیں۔اسی لیے کہا جارہا ہے کہ ٹرمپ کے پاس دو ہی آپشن ہیں اول وہ ایران کے ساتھ کمزور معاہدہ کریں، جنگ سے باہر نکلنے کو ترجیح دیں یا دوئم، فوجی کارروائی میں مزید شدت پیدا کرکے طویل جنگ کا خطرہ مول لیں ۔یہ جو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ایران کو امریکا کیے ساتھ سنجیدہ مذاکرات پر لاسکتا ہے ،درست بات ہے ۔لیکن اصل سوال یہ ہے کیا امریکا ایران کے بارے میں اپنے موقف میں سیاسی لچک دکھا سکے گا۔اسی طرح امریکا اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضمانت کون دے گا کیونکہ وہ سیاسی یوٹرن بہت لیتے ہیں اور ایران کی قیادت بھی ان پر بہت زیادہ اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے مذاکرات میں امریکا کی ضمانت کونسا ملک دے گا اس پر سوالیہ نشان ہے۔
ایران یہ بھی سمجھتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اسے اس خطہ میں تنہا کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے بقول امریکا مذاکرات کے نام پر ایران پر ایک بڑے حملے کی تیاری کررہا ہے ۔پاکستان کا کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی ہے تو اس پر تو پاکستان کی ذمے داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران تنازعہ میں شدت کو کم کرے۔اگرچہ مذاکرات کی باتیں اپنی جگہ مگر آج بھی جنگ پر مبنی کارروائیاں شدت کے ساتھ جاری ہیں جو یقینی طور پر مذاکرات کے عمل کو پیچھے دھکیلنے کا سبب بن سکتی ہیں ،خود ایران کے بقول امریکا ہمیں مذاکرات کے کھیل میں الجھا کر ہمارے خلاف ایک بڑی جنگی کارروائی کی تیاری کررہا ہے اور امریکا ایک ناقابل بھروسہ ملک ہے اور اس کے کھیل کا مقصد اس خطہ میں اسرائیل کی بالادستی کا جنون ہے۔اس جنگ کے جنون نے پوری دنیا کو ایک بڑے معاشی سطح کے بحران میں بھی دھکیل دیا ہے اور خود پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی کمزور معیشت پر مبنی ممالک ہیں اس کو اس جنگ کی معاشی اعتبار سے ایک بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے ۔
ابھی تک حکومت نے بہت سے معاملات پر براہ راست بوجھ ڈالنے کی پالیسی اختیار کی ہے مگر یہ جنگ اگر لمبی ہوتی ہے تو پھر حکومتوں کے پاس بھی کوئی آپشن نہیں بچے گا کہ وہ اس جنگ کا بوجھ عوام پر بھی ڈالیں۔مثال کے طور پر اس وقت وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں کیا مگر صوبائی حکومتیں چاہتی ہیں عوام پر بوجھ ڈالا جائے اور ہم سے سبسڈی کے نام پر کٹوتی نہ کی جائے ۔اس لیے اس جنگ کا بند ہونا ہی عالمی اور دیگر ممالک کی سیاست اور معیشت کے مفاد میں ہے ۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب بڑے ممالک اپنی موجودہ جنگی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور طاقت کے انداز سے یا جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرکے بات چیت کے راستہ کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔
امریکا اور اسرائیل نے جس انداز سے جنگی حکمت عملی اختیار کرکے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہ ظاہرکرتا ہے کہ اس پر جو طاقت کی حکمرانی کا بھوت سوار ہے اور دنیا کے مختلف ملکوں کی خودمختاری کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ہمیں بھی امریکا کی اس جنگ کی پالیسی سے خبردار رہنا ہوگا ۔
جب ایک ایسے موقع پر امریکا اور ایران کی سطح پر اچھے بھلے مذاکرات ہورہے تھے تو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے جنگ پر مبنی حکمت عملی اختیار کی ہے اور وہ عملًا ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے تھے اور آج بھی کررہے ہیں۔پاکستان جس نے اس وقت عالمی اور علاقائی یا خلیجی سطح پر سفارت کاری میں اپنی اہمیت بڑھائی ہے تو اسے خود کو ایک ایسے کردار میں لے کر آگے بڑھنا ہے جہاں اس کی پالیسی میں توازن بھی ہو اور وہ کسی کا فریق بننے کی بجائے جس حد تک تعلقات کے بگاڑ میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکتا ہے وہ کرے۔اسی بنیاد پر پاکستان اس جنگ میں بلاوجہ الجھے بغیر اپنے داخلی، سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کے استحکام کو بھی ممکن بنا سکے گا۔
Today News
سونے کے انڈے دینے والی چڑیا
بائیں شائیں تو ہوتی رہیں گی یہ کشمیر یہ یک جہتی، یہ اسرائیل یہ امریکا بھی چلتے رہیں گے۔یہ بانی، یہ وژن، یہ سیاست ،یہ جمہوریت، یہ وزیر مشیر معاون اور ان کی پیاری خوشخبریاں بھی رہیں گی اور ان پر ہماری دانائی دانشوری کے طومار بھی ایسے چلتے رہیں گے۔
تم شہر میں ہوتے ہو تو کیا غم جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جاکر دل وجاں اور
آج چلیے تھوڑی بہت قصہ کہانی کرلیتے ہیں۔ ایک بڑی اچھی سی پیاری سی راج دلاری سی کہانی یاد آرہی ہے لیکن کہانی تو کہانی ہوتی ہے کہانی میں تاریخ یا مقام وغیرہ نہیں ڈھونڈے جاتے۔اس میں بادشاہ ہوتے ہیں شہزادے شہزادیاں ہوتی ہیں دیو پریاں بھی ہوتی ہیں، جادوگر اور ساحر بھی ہوتے ہیں لیکن مقامات اور زمانے نہیں ہوتے کہ یہ کب ہوا تھا کہاں ہوا تھا،مثلاً ایک زمانے سے ہم پرستان کی کہانیاں سنتے ہیں لیکن یہ کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ پرستان کہاں ہے، کس طرف ہے، وہاں کیسے آیا جاتا ہے، علی بابا کہاں تھا وہ چالیس چوروں کا غار کہاں تھا اور وہ اس کا کوڈ’’کھل جا سم سم‘‘ کیوں تھا اور اس میں یہ اتنی تاثیر اور حساسیت کیسے تھی۔پھر وہ چالیس چور کیا ہوا ان کا غار کیا ہوا، ٹھیک ہے بعض لوگ بعض کہانیوں میں پوچھ لیتے ہیں کہ گل نے صنوبر کے ساتھ کیا کیا تھا اور صنوبر نے گل کے ساتھ کیا کیا لیکن پھر بھی کہانی کہانی ہوتی ہے۔مطلب یہ کہ آپ کو آم کھانے سے غرض ہونا چاہیے پیڑ گننے سے نہیں۔کہانی سننے والوں کو یہ کہنے کی تو اجازت ہوتی ہے کہ’’پھرکیا ہوا‘‘ لیکن یہ اجازت ہر گز نہیں کہ کیوں ہوا،کیسے ہوا اور کہاں ہوا، کب ہوا کیسے یہ غصب ہوا۔
اب ہم جو کہانی سنانا چاہ رہے ہیں۔اس میں ایک تھی چڑیا۔اب یہ پوچھنا آپ کا کام نہیں کہ وہ چڑیا کہاں تھی۔تو ایک تھی چڑیا جو سونے کے انڈے دیتی تھی اب اگر سننے والا یہ پوچھنا شروع کردے۔کہ کیوں؟ آخر وہ سونے کے انڈے کیوں دیتی تھی کیا اس کے اندر سونے کی کان تھی یا کوئی سنار بیٹھا تھا جو سونے کے انڈے بناتا تھا۔یا یہ کہ وہ انڈے کتنے کتنے گرام یا تولے کے ہوتے تھے یا اس وقت بازار میں سونے کا بھاؤ کیا تھا۔بس اتنا آپ کے لیے کافی ہے کہ وہ جو چڑیا تھی وہ سونے کے انڈے دیتی تھی عام انڈے نہیں۔ظاہر ہے کہ جب وہ سونے کے انڈے دیتی تھی تو شکاری بھی اس کے پیچھے لگے ہوں گے جیسے لیلا کے پیچھے لگے ہوتے تھے اور اس بیچاری کو گانا چڑا تھا کہ
لیلیٰ میں لیلیٰ ایسی ہوں لیلیٰ
ہر کوئی چاہے مجھ سے ملنا اکیلا
تو بہت سے شکاری اس چڑیا کے پیچھے لگے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ اس چڑیا کو پکڑ کر اپنے پنجرے والی مُنیا میں بندکردیں۔یعنی اسے قفس میں اسیر کرکے اس کے انڈے حاصل کریں۔لیکن ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں۔
اب اپنے ہاں لیجیے کتنے ہیں جو اس ’’مینڈیٹ‘‘ نام کی چڑیا کو شکار کرنے نکلتے ہیں اور اسے پکڑنے اور اپنے پنجرے کا اسیر کرکے اس کے انڈوں کے املیٹ۔خاگینہ اور برمی کھانا چاہتے ہیں یا ٹوکریوں میں جمع کرکے بچنا چاہتے ہیں لیکن
ساقی سبھی کو ہے غم تشنہ لبی مگر
مے ہے اسی کی نام پہ جس کے اُبل پڑے
ہاں تو اس سونے کے انڈے دینے والی چڑیا کے بھی بہت سارے شکاری تھے لیکن بازی صرف ایک شکاری لے گیا کہ اس نے چڑیا کو شکار کرنے کی بجائے خود کو اس کا شکار بنایا یا ایسا پوز کیا ایک شکاری سب پر حاوی نکلا۔اس نے چڑیا اور اس کی ماں کو یقین دلایا کہ میں تو صرف چڑیا کی چہچہاہٹ کا عاشق ہوں اس کے انڈوں کا نہیں۔چڑیا بے شک اپنے ہی پنجرے میں رہے اور انڈے دیا کرے، میں اس کے انڈوں کی طرف دیکھوں گا بھی نہیں، صرف اس کے ساتھ اس کے پنجرے میں بیٹھا رہوں گا۔اسے دیکھتا رہوں گا اور پیاری پیاری میٹھی میٹھی سریلی چہچہاہٹ سنتا رہوں گا، بس
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑجائے
جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
اس کا یہ پینترہ کامیاب ہوا اور اسے چڑیا کی قربت ہم نشینی ہم نفسی بلکہ ہم قفسی میسر آگئی، ایک شکاری سب پر حاوی ہوگیا۔لیکن یہ بات نہ چڑیا کو معلوم تھی نہ کسی اور کو بلکہ شکاریوں کو بھی نہیں جو اسے اپنے چند خاص نجومیوں سے حاصل ہوئی تھی کہ چڑیا صرف سونے کے انڈے نہیں دیتی بلکہ اس میں ایک اور گُن بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی اس کا‘‘سر‘‘ کھائے تو وہ بادشاہ بنے گا۔اب چڑیا تو اس کے دسترس میں تھی لیکن اگر ایسے ہی پکڑکر ذبح کرتا اور اس کا سر بھون کر یا پکا کر کھاتا تو الزام اس پر آتا۔یعنی وہ ایسا کرنا چاہتا تھا کہ نہ سیخ جلے نہ کباب۔چنانچہ اس نے چند شکاریوں کو گانٹھ لیا اور ان کو یہ جھانسہ دیا کہ تم کو اس کے انڈے دے دوں گا۔
شکاری راضی ہوگئے ان میں بڑے گھاگ شکاری اور نہایت ہی ماہر نشانہ باز تھے، اس لیے انھوں نے بڑی دور سے کسی خفیہ مقام سے ایسا ٹھیک ٹھیک نشانہ لگاکر’’تیر‘‘مارا کہ مہا بھارت کے ارجن اور درون اچاریہ بھی حیران رہ گئے ہوں گے۔ ارجن مہابھارت کا ایک پانڈو تھا اور اسے اس کے استاد درون اچاریہ نے بلا کا ماہر تیرانداز بنایا تھا۔ بیچ میں یہ کہانی آگئی ہے تو اسے بھی سن لیجیے۔جب مشہور و معروف خاتون شہزادی درویدی کا سوئمبر ہورہا تھا تو اس سوئمبر کی شرط یہ تھی کہ نیچے تیل کی کڑاھی میں دیکھ کر اوپر ایک گھومتی ہوئی مچھلی کی آنکھ میں تیر مارا جائے اور ارجن نے یہ کردکھایا یہاں بھی۔ایسے ہی ایک ماہر تیرانداز نے سونے کی چڑیا کو تیرماردیا۔ہاہا کار مچی، بہت شور شرابا ہوا، بہت سارے ماہرین نے تیرانداز کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن تیرانداز کا پتہ نہیں چلا۔ یہاں وہاں کچھ زندہ مردہ لوگوں کے نام لیے گئے لیکن پتہ نہیں چلا۔چنانچہ چڑیا کے ہم نشین شکاری نے آنسو بہابہا کر نہایت دکھ کے ساتھ اس کا سربھون کرکھالیا۔اب اگر آگے بھی پوچھیں گے کہ پھر کیا ہوا۔تو آپ سے بڑا سٹوپڈ اور کوئی نہیں۔ وہی ہوا جو شکاری نے چاہا۔اور کیا؟
تلاش منزل جاناں تو اک بہانہ تھا
تمام عمر ’’میں‘‘اپنی طرف’’روانہ‘‘ تھا
Today News
اسرائیل کے سیاہ فام یہودی
یہ درست ہے کہ اسرائیل آئینی طور پر خالص یہودی ریاست ( جیوش ہوم لینڈ ) بتائی جاتی ہے۔ چنانچہ اسرائیل کی انیس فیصد عرب آبادی سے درجہِ دوم کا اور مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں سے درجہ سوم اور چہارم کا سلوک سمجھ میں آ سکتا ہے۔ مگر اسی اسرائیلی آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ملک ان تمام یہودیوں کی محفوظ آماجگاہ ہے جو دنیا میں کہیں بھی آباد ہیں۔وہ جب چاہیں اسرائیل کے شہری بن سکتے ہیں۔انھیں اسرائیل میں اترتے ہی بلا امتیازِ رنگ و نسل و خطہ مساوی سماجی و قانونی حقوق حاصل ہوں گے۔ کیا واقعی یہ سچ بھی ہے ؟
اسرائیل میں دو طرح کے یہودی آباد ہیں۔ایک وہ جو روس ، مشرقی و مغربی یورپ اور شمالی امریکا سے ہجرت کر کے یہاں پہنچے۔انھیں اشکنازی یہودی کہا جاتا ہے۔دوسرے وہ جنھوں نے افریقہ ، عرب اور بھارت و پاکستان و وسطی ایشیا سمیت غیر مغربی دنیا سے ہجرت کی۔انھیں سفاری یہودی کہا جاتا ہے۔
اسرائیل کے قیام سے پہلے مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے ایک پرجوش نوجوان رہنما زیوو جیبوٹنسکی نے یہودی مراجعت کے نظریے کے تحت ارگون نامی مسلح آباد کار گروہ کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اسرائیل کے قیام سے آٹھ برس قبل اگست انیس سو چالیس میں جیبوٹنسکی کا انتقال ہو گیا۔مگر ان کا شمار اسرائیلی ریاست کے ’’ فاؤنڈنگ فادرز ‘‘ میں ہوتا ہے۔
جیبوٹنسکی ان تمام رہنماؤں کا نظریاتی گرو سمجھا جاتا ہے جنھوں نے بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی بن گوریان کی لیبر پارٹی کیبرعکس صیہونیت ، الٹرا نیشنل ازم اور انتہائی دائیں بازو کے خیالات سے لبریز لیخود جماعت کی بنیاد رکھی۔ اس انتہا پسند مذہبی قوم پرستی نے مینہم بیگن ، ایتزاک شمیر اور نیتن یاہو جیسے رہنما پیدا کیے۔مگر یہ امر محض حسنِ اتفاق نہیں ہے کہ اسرائیل میں آج تک کوئی بھی غیر اشکنازی وزیرِ اعظم نہ بن سکا ۔
جیبوٹنسکی نے نوے برس پہلے کہا تھا کہ ’’ خدا کا شکر ہے کہ تہذیبِ مشرق سے ہم یہودیوں کا کوئی لینا دینا نہیں۔ہمارے بہت سے ناخواندہ بھائی ( عرب ، ایشیائی و افریقی یہودی ) صدیوں پرانے فرسودہ رسوم و رواج کو مشرقیت کا نام دیتے ہیں مگر ہمیں ان کا قبلہ درست کرنا پڑے گا۔یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ہم انھیں ابھی سے اچھی تعلیم بھی دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنی نام نہاد مشرقی دقیانوسی سے نجات پا کر اچھے شہری بن سکیں ( یورپی یہودیوں کی طرح )۔
ہم بہت پہلے کسی مضمون میں صراحت کر چکے ہیں کہ صیہونیت کے نظریے نے روس ، مشرقی و مغربی یورپ میں آباد اشکنازیوں کے ہاں جنم لیا۔اس نظریہ کو دستاویزی شکل دینے والے تھیوڈور ہرزل کا تعلق ہنگری سے تھا اور اس کی صدارت میں سوئس شہر باسل میں اگست اٹھارہ سو ستانوے میں منعقد ہونے والی پہلی صیہونی کانگریس کے دو سو مندوبین میں غالب اکثریت اشکنازیوں کی تھی۔یعنی ابتدائی زمانے سے ہی صیہونیت کا غیر یورپی دنیا میں آباد یہودیوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
مشرق میں آباد یہودیوں کے برعکس یورپی یہودی نہ صرف دولت مند تھے بلکہ اس دولت کے سبب ان کا سیاسی اثر و رسوخ بھی یورپ کے ہر دربار اور حکومت میں تھا۔بینکاری نظام پر ان کی گرفت کے سبب ہر یورپی حکومت ان کی مقروض یا احسان مند تھی۔حتی کہ سترہ سو چھہتر میں جب ریاستہائے متحدہ امریکا کا جنم ہوا تو اس کی معاشی رگوں میں بھی یہودی قرضہ گردش کر رہا تھا۔ اس بارے میں بھی ہم سابقہ مضامین میں تفصیلی روشنی ڈال چکے ہیں۔
یورپ میں نازی ہالوکاسٹ سے متاثر ہونے والے یہودی بھی اشکنازی تھے۔چنانچہ اسرائیل میں روزِ اول سے ہی اشکنازیوں نے اپنی مظلومیت اور صیہونی نظریے کے پھیلاؤ میں سرگرم حصہ لینے کی بنیاد پر جس مملکت کی بنیاد رکھی وہاں نسلی تفریق کی غیر اعلانیہ پالیسی پر سنجیدگی سے عمل ہونا باعثِ حیرت نہ تھا۔
برسوں بعد ڈی کلاسیفائی ہونے والی سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل آنے والے سفاری یہودیوں کے ہزاروں بچے ’’ مہذب ‘‘ بنانے کے مشنری جذبے کے تحت پیدائش کے فوراً بعد اسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز سے چرا کر متمول اسرائیلی و بیرونِ ملک مقیم اشکنازی خاندانوں کے حوالے کر دیے گئے۔اس منصوبے کا سب سے بڑا نشانہ یمنی نژاد یہودی بنے۔
مئی انیس سو اڑتالیس تا انیس سو چون کے دوران چار برس سے کم عمر کا ہر آٹھواں یمنی بچہ غائب کر کے اسے لاولد یا ضرورت مند اشکنازی خاندانوں کے حوالے کر دیا گیا۔
ایتھوپیائی یہودی اپنی شناخت ’’ بیتا اسرائیل ‘‘ گروہ کے طور پر کرتے ہیں مگر ایتھوپیا میں یہودی کمیونٹی کو مقامی امہاری زبان میں فلاشا کے توہین آمیز نام سے پکارا جاتا ہے۔اس کا مطلب ہے آوارہ گرد۔
انیس سو ستر کی دہائی میں ہزاروں فلاشاز کو سوڈان کے راستے اسمگل کر کے اسرائیل پہنچایا گیا۔اس وقت اگرچہ فلاشا اسرائیل کی یہودی آبادی کا دو فیصد ہیں مگر ان میں سے نصف خطِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ان کے محلے خستہ حال ہیں۔ نئی نسل منشیات کے استعمال ، متشدد رویے اور اسکول سے بکثرت اخراج کے سبب پہچانی جاتی ہیں۔انھیں ادنی درجے کی ملازمتوں یا فوج کے نچلے رینکس میں بھرتی کے لیے ہی موزوں سمجھا جاتا ہے۔فلاشا یہودیوں میں ڈیپریشن اور خود کشی کا تناسب کسی بھی دیگر اسرائیلی یہودی کمیونٹی سے زیادہ ہے۔
ایک ایتھوپیائی نژاد اسرائیلی خاتون ایکٹوسٹ عورت یارس کے بقول ’’ ہمارا خون فوج میں بھرتی ہونے کے لیے تو ٹھیک ہے مگر کسی اور کام کے لیے نہیں ‘‘۔
انیس سو نوے کی دہائی میں متعدد اسرائیلی اسپتالوں نے ایچ آئی وی کے خدشے کے پیشِ نظر افریقی یہودیوں کی جانب سے خون کے عطیات ضایع کر دیے۔دو ہزار بارہ میں تل ابیب میں سیاہ فام یہودیوں کا احتجاجی مظاہرہ طاقت استعمال کرکے منتشر کیا گیا۔دو ہزار پندرہ میں دو پولیس والوں نے ایک ایتھوپیائی نژاد اسرائیلی فوجی کو نسلی گالیاں دیتے ہوئے زدوکوب کیا۔اس واقعہ کی وڈیو نے آگ لگا دی اور ہزاروں سفاری یہودیوں نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا۔دو ہزار انیس میں بھی ایسا ہی ایک مظاہرہ ہوا۔مگر صیہونیت چونکہ ایک نسل پرست یورپی نظریہ ہے لہذا اشکنازی یہودیوں کی برتری ریاستِ اسرائیل کا بنیادی نصب العین ہے۔
سوچئے اگر رنگ و نسل کی بنیاد پر اپنے ہم مذہبوں سے یہ سلوک ہے تو عربوں اور دیگر سے نفرت کا کیا عالم ہو گا ؟ نفرت بربریت کی شکل میں یہی صیہونیت پورے خطے کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
ایران، امریکا مذاکرات … پہلا قدم !
تاریخ شاہد ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اندر کے جنگی جنوں کی تسکین اور تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہیں۔ جنگ میں شامل ہر دو فریق ایک دوسرے پر قابض ہونے، اپنا تسلط قائم کرنے اور اہداف کے حصول میں ناکامی کے امکانات دیکھتے ہیں تو پھر آخری حربہ جسے انگریزی اصطلاح میں (Face Saving) کہتے ہیں یعنی اپنی عزت بچانے کے لیے مذاکرات کی میز پر آجاتے ہیں۔
ایسے موقع پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی ضرورت پڑتی ہے جو دونوں فریق سے اپنے اچھے مراسم کو استعمال کرتے ہوئے جنگ رکوانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں جب بھارت نے پاکستان پر غیر ضروری طور پر جنگ مسلط کی تو اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی بہادر افواج نے بھارت کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ مودی سرکار کے اوسان خطا ہوگئے، اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منت سماجت کر کے پاکستان سے اپنے تعلقات کی بنیاد پر جنگ رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے جارحیت کی تھی اور پاکستان نے اپنا دفاع، بالٓاخر صدر ٹرمپ کی ثالثی کے بعد پاک بھارت جنگ کا خاتمہ ہوا۔امریکا کے صدر ٹرمپ آج بھی بڑے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی۔ وہ کھلے دل سے پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت بالخصوص وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور بروقت دانشمندانہ فیصلوں کی اعلانیہ تعریفیں کرتے ہیں۔
غالباً اسی پس منظر میں امریکا کے صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے اب دوست اور قابل اعتماد ملک پاکستان پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ثالثی کے کردار کو کھلے دل سے خوش آمدید کرتے ہوئے یہ امیدیں باندھی ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے جو دونوں فریق کو قابل قبول ہو۔ مذاکرات کی راہیں ہموار کرنے میں برادر ترکیہ ، سعودی عرب اور مصر بھی پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون اور معاونت فراہم کررہے ہیں تاکہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ خلیج میں امن قائم ہو اور مشرق وسطی کے مستقبل کے حوالے سے اسرائیل کے مذموم ارادوں کے آگے بند باندھا جاسکے۔
پاکستان کی سیاسی و قومی قیادت نے باہمی تعاون و اشتراک سے بڑی ذہانت ، سمجھداری، حکمت اور بصیرت کے ساتھ سفارت کاری کے محاذ پر جان دار انداز میں پیش قدمی کی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جنگ کے منفی اثرات سے پاکستان میں پیدا ہونے والی بحرانی صورت حال سے بھی نبرد آزما ہیں تو دوسری جانب اسی خلوص و محنت کے ساتھ وہ امریکا ، ایران جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے بھی ٹیلی فونک سفارت کاری کے ذریعے امریکا، ایران، خلیجی ممالک کے سربراہوں، مصر، اردن، ترکیہ کی قیادت اور چین کے ساتھ مسلسل رابطوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے ثالثی کے اس کردار کو نہایت مثبت اور قابل تحسین انداز میں دیکھا اور سراہا جارہا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائم کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر امریکا ایران کشیدگی کم کرانے کی خفیہ سفارت کاری میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ اسلام آباد امریکا، ایران مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے۔ممکنہ ثالثی اور مذاکرات کی امید کے پیش نظر امریکا کے صدر ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹ پر حملے مزید 10روز کے لیے موخر کردیے جو خوش آیند بات ہے لیکن دوسری جانب وہ مشرق وسطی میں اپنی فوج بھی بھیج رہے ہیں جس سے ان کے مستقبل کے عزائم کے حوالے سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ تمام تر کوشش اور دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام رہے ہیں۔ مذاکرات کے حوالے سے جنگ بندی کے لیے امریکا نے پاکستان کی معرفت ایران کو جو 15نکاتی فارمولا بھیجا ہے اسے ایرانی قیادت نے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور اپنی جانب سے جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط پیش کی ہیں دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر جنگ بندی چاہتے ہیں۔
امریکا کی خواہش ہے بلکہ بھرپور مطالبہ اور شرط ہے کہ ایران اپنی جوہری صلاحیتوں کو ختم کردے۔ جمع شدہ یورینیم اور دیگر ایٹمی مواد عالمی جوہری توانائی ایمبسی کے حوالے کردے اور آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی پابندی سے آزاد علاقہ قرار دیا جائے جب کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے حملے روکے جائیں، دوبارہ جنگ نہ کرنے کی ٹھوس ضمانت دی جائے، جنگ کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ، خلیج میں امریکی اڈے ختم کیے جائیں اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خود مختاری کو تسلیم کیا جائے۔ مذاکرات کسی بھی سطح پر ہوں کامیابی کا دارومدار لچک دار رویوں اور کچھ لو اور کچھ دو پر منحصر ہوتا ہے۔ امریکا بڑا ملک اور عالمی سپرپاور ہے اسے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ لچک دکھانا چاہیے اور ٹرمپ عالمی امن قائم کرنے اور جنگیں رکوانے کے وعدے کرتے ہیں۔ ایران جنگ کا آغاز امریکا نے کیا تھا اور ختم کرنے کا پہلا قدم بھی امریکا ہی کو اٹھانا چاہیے۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Films Releasing In Cinemas & TV On Eid Ul Fitr 2026
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper