Today News
بڑھتے حکومتی اخراجات کا عوام پر مزید بوجھ
ایک آزاد تھنک ٹینک کے مطابق حکومت پاکستان عوام پر مسلسل مالی بوجھ بڑھانے میں مصروف ہے توگزشتہ تین برس میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اخراجات پرکنٹرول نہیں کر رہیں بلکہ اپنے حکومتی اخراجات مسلسل بڑھا رہی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے۔
نان انٹرسٹ اخراجات میں 70 فی صد اور عملے سے متعلق اخراجات میں 59 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک کے مطابق GCDA میں بدعنوانی کے خطرات کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن حکومت نے اس سلسلے میں جو اقدامات کیے ہیں، انھیں تھنک ٹینک نے کمزور اور غیر موثر قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے سیاسی طور پر حساس اصلاحات اور ادارہ جاتی خود مختاری پر سمجھوتہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر جی ڈی پی کے 56 فی صد کے برابر بنیادی سرپلس ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ایڈجسٹمنٹ ہے اور اس میں 73 فی صد بوجھ محصولات کے ذریعے ڈالا گیا ہے جس کا زیادہ تر اثر پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے باقاعدہ کاروباروں، تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے افراد پر پڑا ہے اور عوام پر بھی اثر پڑا ہے۔
تھنک ٹینک کے مطابق 2022 سے حکومت نے مسلسل مالی استحکام ضرور حاصل کیا ہے جس سے آئی ایم ایف کسی حد تک ضرور مطمئن ہے مگر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضوں کی منظوری میں تاخیر پہ تاخیر ضرور کرتا ہے مگر انکار نہیں کرتا۔ تاخیر بھی جان بوجھ کر کی جاتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف جانتا ہے کہ اپنے فالتو اخراجات پورے کرنے اور غیر ملکی قرضوں کی برائے نام ادائیگی کے لیے حکومت پاکستان ہماری ہر شرط تسلیم کرے گی اور اپنے عوام پر محصولات کا بوجھ بڑھائے گی مگر قرضہ لینے سے انکار کبھی نہیں کرے گی کیونکہ اپنے شاہانہ حکومتی اخراجات پورا کرنے ، اپنوں کو مسلسل نوازنے اور غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ بنانے والوں کے لیے سخت سے سخت شرائط مان کر بھی قرض لینا حکومت پاکستان کی مجبوری بن چکی ہے۔
حکومت خود تسلیم کر چکی ہے کہ ہمیں قرض کے لیے آئی ایم ایف کے گھٹنوں میں بیٹھنا اور ہر شرط ماننا پڑتی ہے تب کہیں وہ اپنی شرط منوا کر اور تاخیری حربے اختیار کرکے قرض کی منظوری دیتا ہے مگر انکار نہیں کرتا کیونکہ آئی ایم ایف نے قرض ضرور دینا ہے اور قرضوں پر ملنے والے سود کی وجہ سے ہی آئی ایم ایف کا کاروبار چلتا ہے۔
آئی ایم ایف کو پاکستانی عوام کا کوئی احساس نہیں ہے بلکہ وہ اپنی شرائط سے پاکستانیوں پر مہنگائی مسلط کراتا اور محصولات بڑھوانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات پر تو کمی نہیں کرے گی تاکہ قرض ادا کرسکے، اس لیے آئی ایم ایف اپنے قرض کی وصولی کے لیے حکومت کے ذریعے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھواتا ہے اور بے بس عوام ہر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس حکومتی احکامات ماننے سے انکار کی طاقت نہیں ہے۔
وہ حکومت کا ہر عوام دشمن فیصلہ ماننے پر مجبور ہیں اور حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج یا سڑکوں پر آنے کی سکت ہی نہیں رکھتے، اس لیے موجودہ حکومت نے اپنے ساڑھے تین سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا بلکہ عوام پر محصولات کا بوجھ ہی بڑھایا ہے اور عوام مہنگائی برداشت کر رہے ہیں۔ تھنک ٹینک کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت تنخواہ دار طبقے، ٹیکس ادا کرنے والوں پر ہر بجٹ میں بوجھ بڑھا دیتی ہے اور محکمہ خزانہ اس واویلے کا عادی ہو چکا ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے جب کہ عوام ہر چیز پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور حکومت نے تو بچوں کو بھی نہیں بخشا اور بچوں کی اشیا پر بھی سیلز ٹیکس عائد کر رکھا ہے۔
حکومت خود سادگی اختیارکرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ صرف عوام کو ٹیکسوں کے ذریعے نچوڑنے پر ہی یقین رکھتی ہے۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے مسلسل بڑھا رہی ہے جس کی تقلید صوبائی حکومتیں کر رہی ہیں۔ کہنے کے لیے اٹھارویں ترمیم میں وفاق اور صوبوں میں کابینہ ارکان کی تعداد کم کرنے کا ذکر ضرور ہے مگر وفاق میں اس پر عمل ہو رہا ہے نہ صوبوں میں بلکہ وزیروں، مشیروں اور معاونین خصوصی کے علاوہ بھی بے شمار کوآرڈینیٹر مقرر کر رکھے ہیں اور اپنوں کو مختلف تخلیق کیے گئے عہدوں پر تعینات کرکے نواز رکھا ہے۔
وفاق نے صوبوں میں اپنے خصوصی نمایندے مقرر کر رکھے ہیں۔ سندھ میں محکمہ اطلاعات موجود ہے مگر لاتعداد حکومتی ترجمان مقررکر رکھے ہیں اور ہر جگہ اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کے اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے مگر عوام کے لیے ان حکومتوں کے پاس ریلیف یا سہولتیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ حکومتی اخراجات بڑھنے کا سارا بوجھ عوام پر پڑا ہوا ہے اور عوام حکومتوں کے سرکاری حکام کو ہی نہیں بلکہ سیاسی حامیوں کو بھی پال رہے ہیں۔
صدر مملکت ہوں یا وزیر اعظم اور صوبوں میں بادشاہ بنے ہوئے وزرائے اعلیٰ کوئی عوام کی بات نہیں کرتا، نہ کبھی بے روزگاری اور مہنگائی کا ذکر ان کی زبانوں پر آتا ہے۔ وفاق اپنے مالی وسائل کم ہونے اور صوبوں کے وسائل کم ہونے کا رونا روتا ہے مگر وزیر اعظم اپنے غیر ملکی دورے کم کرنے پر تیار ہیں نہ حکومتیں اپنے اخراجات کم کرنے کی روادار ہیں جس کا واضح ثبوت حکومتی اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہے۔ کاش! حکومتیں قرضے لینا چھوڑیں اپنے وسائل میں رہ کر خرچ کریں تو عوام پر بڑھتا مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
Today News
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کیلیے لبنان کی ہر ممکن حمایت اور تعاون کریں گے؛ شامی صدر
شام کے صدر احمد الشراع نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک لبنان کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی صدر احمد الشراع نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران یقین دلایا کہ لبنان کے صدر جوزف عون کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہیں اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔
شامی صدر کا مزید کہنا تھا کہ شام نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر لبنان سے ملحقہ سرحد پر اپنی دفاعی فورسز کو مضبوط کر دیا ہے تاکہ جنگ کے اثرات شامی سرزمین تک نہ پھیلیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ سرحدی علاقوں میں تعیناتی کا مقصد سرحد پار سرگرم تنظیموں کو روکنا اور شام کی زمین کو کسی بھی عسکری کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے بچانا ہے۔
قبل ازیں لبنانی صدر جوزف عون نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کرنے کا فیصلہ کر کے حزب اللہ نے لبنان کو تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حزب اللہ کے یہ جارحانہ لبنان کو ایک بڑی جنگ میں گھسیٹ سکتے ہیں جس کے سنگین نتائج پورے ملک کو بھگتنا پڑیں گے۔
Today News
پاک افغان کشیدگی، چین کی سفارتی کوششیں
افغانستان کے حکمرانوں نے اول روز سے پاکستان کی مخالفت کو ریاستی پالیسی کے طور پر اختیار کیے رکھا ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کا معاملہ ہو یا بھارت کے ساتھ تنازعات ہوں، افغانستان نے ہمیشہ وہ موقف اختیار کیا جو پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفادات کے برعکس ہو۔ اب دہشت گردی کے ایشو پر بھی ، طالبان حکمرانوں نے پاکستان دشمنی پر مبنی پالیسی اختیار کر رکھی اور دنیا بھر کے تسلیم شدہ دہشت گرد گروہوں کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے بلکہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہیں، یوں پاکستان کو اپنی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا ہے۔ اب افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپ مل کر پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کررہے ہیں جسے روکنے کے لیے پاکستان ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ کئی روز سے جاری جھڑپوں کے نتیجے میں صورتحال خاصی کشیدہ ہو چکی ہے۔ ایسے میں چین کی جانب سے کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں کا آغاز ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
چین کے خصوصی نمایندہ برائے افغانستان یو شیاو یونگ کا کابل کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے دوران انھوں نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کر کے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور پاکستان و افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں چین نے واضح طور پر زور دیا کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کریں کیونکہ اس کشیدگی کا خاتمہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کا بنیادی سبب سرحد پار دہشت گردی اور سیکیورٹی کے مسائل ہیں۔ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام آباد متعدد مواقع پر افغان حکومت کو اس بارے میں آگاہ اور شواہد پیش کر چکا ہے اور مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے کی گئی اور ان حملوں کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جانیں ضایع ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سرحدی علاقوں میں سخت اقدامات کیے ہیں اور بعض مواقع پر سرحد پار کارروائیاں بھی کی ہیں۔
موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پرکیے گئے آپریشنز میں متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ عناصر مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے اور سرحد پار سے سرگرم تھے۔ ان کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
قومی ایکشن پلان اور عزم استحکام جیسے اقدامات اسی پالیسی کا حصہ ہیں جن کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی جڑیں محض حالیہ واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس کی تاریخی بنیادیں بھی موجود ہیں۔ افغانستان کی جانب سے پیدا کیا گیا سرحدی تنازع، افغان مہاجرین کی طرف سے پیدا کردہ منشیات فروشی،اسمگلنگ اور دہشت گردی کے مسائل اور افغان پالیسیوں پر پاکستان کے اعتماد کی کمی کئی دہائیوں سے تعلقات کو متاثر کرتی رہی ہے۔ افغانستان نے طویل عرصے تک ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا جب کہ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے۔ اسی طرح گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغانستان میں ہونے والی جنگوں اور عدم استحکام کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں آ کر آباد ہوئے جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک پیچیدہ سماجی اور اقتصادی جہت بھی دی۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئے گی کیونکہ پاکستان نے ماضی میں افغان طالبان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ امیدیں پوری طرح حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔ سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اعتماد کی کمی نے تعلقات کو ایک مرتبہ پھر کشیدگی کی طرف دھکیل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں افغانستان کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات میں تسلسل بڑے تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان حالات میں چین کا کردار خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی دوست اور اسٹرٹیجک شراکت دار ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی اس نے حالیہ برسوں میں اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ چین کے لیے اس خطے میں امن اور استحکام اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے کئی بڑے اقتصادی منصوبے اسی خطے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت چین ایشیا، یورپ اور افریقہ کو اقتصادی راہداریوں کے ذریعے جوڑنے کا منصوبہ رکھتا ہے جس میں پاکستان اقتصادی راہداری ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات ان اقتصادی منصوبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
چین کو اپنی مغربی سرحدوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات لاحق رہتے ہیں۔ سنکیانگ کا علاقہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے قریب واقع ہے اور چین نہیں چاہتا کہ اس خطے میں عدم استحکام اس کے اندرونی علاقوں تک سرایت کرے۔ اسی لیے چین افغانستان میں استحکام کو اپنے قومی مفادات سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔سفارتی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر چین کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ افغانستان جغرافیائی اعتبار سے وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر وہاں امن اور استحکام قائم ہو جائے تو یہ خطہ تجارت، توانائی اور ٹرانزٹ کے حوالے سے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ ایک بڑا موقع ہو سکتا ہے کہ وہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کو مزید فروغ دے۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور پاکستان کے اعتماد کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے میں عملی اقدامات کرے۔ سرحدی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی مستقل رابطوں کو برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ علاقائی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔اسی طرح افغانستان کی طالبان حکومت کے لیے بھی یہ ایک اہم امتحان ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ یقین دلائے کہ اس کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گی، اگر افغانستان واقعی خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے تو اسے دہشت گردی کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس کے بغیر نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونا مشکل ہوگا بلکہ افغانستان کی عالمی سطح پر قبولیت بھی متاثر ہوگی۔موجودہ صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ افغان حکومت تدبر اور سفارتکاری کو ترجیح دے۔ چین کی حالیہ سفارتی کوششیں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک بھی علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، اگر اس موقع کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے اور افغانستان دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دے اور خطے میں امن کے لیے تعاون کرے تو نہ صرف موجودہ بحران کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط علاقائی تعاون کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔خطے کے امن اور ترقی کا راستہ تعاون اور اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے۔ افغانستان موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوستانہ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کرے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوشحالی اور استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو آنے والے وقت میں جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک پائیدار امن اور اقتصادی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
Today News
بننے بنانے والے اور بنانا اسٹیٹ
ہمیں یاد ہے ایک زمانے میں ’’بنانا اسٹیٹ‘‘ کا ذکر اخباروں میں آتا رہتا تھا اکثر دانا دانشور اپنے ملفوظات کو عوام الناس کے ساتھ شئیر کرتے تھے جس طرح آج کل شئیر کررہے ہیں اور عوام کی عاقبت سنوارا کرتے تھے چونکہ بات ذرا اونچے لیول یعنی داناؤں اور دانشوروں کی تھی اور ہم ٹھہرے جاہل اجڈ عامی امی اس لیے زیادہ پروا نہیں کرتے تھے البتہ کبھی کبھی خیال آجاتا کہ کیا نصیب ہوگا،کیا اسٹیٹ ہوگا لوگ جی بھر کر کیلے کھاتے ہوں گے، جوس پیتے ہوں گے۔
دراصل ان دنوں ہمارے ہاں کیلے بہت مہنگے ہوگئے تھے کیونکہ جب صبح ٹھیلے والے کیلے لگاتے تو بیس روپے درجن ہوتے تھے لیکن جب ان پر پولیس والے ٹریفک والے بلدیہ والے، نرخوں والے اور پیچھے والے دکانداروں کا سیلاب گزرجاتا اور ہر ایک۔ایک دو۔یا تین درجن کیلے مفت میں لے جاتا تھا تو کیلے پچاس روپے درجن ہوجاتے تھے۔ ایسے میں کسی ایسی اسٹیٹ کا تصور ہی دل خوش کن تھا جو کیلوں کی بہتات کی وجہ سے کیلوں کا دیس کہلاتا تھا۔لیکن پھر کسی نے ہمارا یہ تصور بھی غارت کردیا کہ بنانا اسٹیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کیلے زیادہ اور سستے ہوتے ہیں بلکہ اس کا مطلب کچھ اور ہے۔اب اس کچھ اور’’مطلب‘‘ کے لیے پھر دانشوری کی ضرورت ہوتی جو ہمارے پاس نہیں تھی۔اس لیے کیلوں پر صبر کرکے بیٹھ جاتے۔ لیکن پھر ایک دن اچانک بالکل خلاف توقع طور پر ہماری سمجھ دانی میں آگیا کہ
جنھیں ہم ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینیوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں
وہ’’بنانا اسٹیٹ‘‘ تو یہی تھی جس میں ہم اس وقت رہ رہے ہیں یا اگر وہ کوئی اور انگریزی ’’بنانا‘‘ والا اسٹیٹ تھی تو ہوگی لیکن اردو’’بنانا‘‘ اسٹیٹ تو یہ ہماری ہی مملکت عزیز ہے۔ جہاں ’’بنانا‘‘ ایک باقاعدہ ہنر ہے، پیشہ ہے اور صنعت ہے۔جہاں اُلو بھی ’’بنائے‘‘ جاتے ہیں، اُلو کے پٹھے بھی۔ اور ماموں بھی بلکہ ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی’’باپ‘‘ بنایا جاتاہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ اتنی گہری دانشوری کی بات ہماری غیردانا دانشور کھوپڑی میں آئی کیسے؟ تو جواباً عرض ہے کہ اس کے لیے ہمیں دو دانی عورتوں ’’دانش وریوں‘‘ کا ممنون ہونا چاہیے۔ جن میں ایک تو اختری بائی فیض آبادی عرف بیگم اختر تھی جس سے ہم نے سنا کہ
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنادے
ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنادے
اور یہیں پر ایک مرتبہ’’بنانا‘‘ کی طرف دھیان چلا گیا کہ یہ بنانا کوئی کیلا نہیں بلکہ کوئی کھیل ہے جس میں کسی کو کچھ نہ کچھ بنایا جاتا ہے اور پھر خدا ہمیشہ خوش رکھے محترمہ صوفیہ عابدہ پروین کو۔خدا نظر بد سے بچائے رکھے اور صحت دن دونی رات چوگنی ترقی کرے کہ اس نے سارا مسئلہ حل کردیا کہ
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا
اور پھر
تو نے کیا کیا نہ بنایا
اور میں کیا کیا نہ بنا
ارے یہ تو خود ہماری یعنی کالانعاموں کی بات ہورہی ہے بلکہ پوری’’خرگزشت‘‘بیان کی جا رہی ہے، واقعی کس کس نے ہمیں کیا کیا نہ بنایا اور ہم کیا کیا نہیں بنے؟ بلکہ بنتے تھے بن رہے ہیں اور بنتے رہیں گے۔’’بننے‘‘ کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ کوئی شخص آتا ہے اس کے پاس نہ کوئی نظریہ ہے نہ کوئی پروگرام ہے نہ کوئی مہارت ہے، نہ کوئی ہنر ہے صرف ایک ڈگڈگی ہے وہ بھی بے سری اور وہ ایک دنیا کو’’بنا‘‘ دیتا ہے اس پر سوار ہوجاتا ہے اور اس نئے بنانے کو کبھی اس طرف دوڑاتا ہے کبھی اس طرف۔ اب ہم اسے’’بنانا‘‘ نہ سمجھیں تو اور کیا سمجھیں اور جہاں اتنے ’’بنانے والے‘‘ ہوں اور اتنے زیادہ بننے والے بھی ہوں تو ہم اسے بنانا اسٹیٹ۔یا ریاست بنانا نہ کہیں تو کیا کہیں گے۔ہے نا کمال کی بات۔ اور اس بات پر آپ کو ہماری پیٹھ ٹھونکنی چاہیے۔ لیکن ہماری پیٹھ اگر رسائی میں نہیں تو خود اپنی ’’پیٹھ ٹھونکیے‘‘کہ آپ بھی بننے والوں میں سے ہیں، غرور ہمیں پسند نہیں ورنہ ہم کولمبس ہونے کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ آخر ہم نے ایک بنانا ’’اسٹیٹ‘‘ یا ریاست بنانا دریافت کیا ہے۔اور وہ بھی بغیر کسی بحری یا بری سفر کیے، بیٹھے بٹھائے اس بنانا اسٹیٹ میں جو ہم نے دریافت کیا ہے، بنانے کا کام اتنے وسیع پیمانے پر ہورہا ہے کہ کسی اور کام کے لیے کسی کے پاس وقت ہی نہیں بچتا
دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ رہی اپنے آشیانے کو
چونکہ ہمیں اس بنانا اسٹیٹ یعنی بنانا ریاست یا بنانا فیکٹری کو ’’بناتے‘‘ بناتے ہوئے ستراسی سال ہوگئے ہیں۔اس لیے اس کام میں اتنے بڑے بڑے اور ایسے بنانے والے پیدا ہوگئے ہیں کہ جب بناتے ہیں تو اس کمال سے بناتے ہیں کہ خود’’بننے والے‘‘ کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ میں ’’بن‘‘ رہاہوں یا بن گیا ہوں ہم نے خود ایسے لوگوں کو دیکھا جو بنے ہوئے ہیں لیکن ان کو پتہ نہیں کہ ہم بنائے گئے ہیں یا بنائے جارہے ہیں۔ ہم نے ایک ماہر بنانا سے پوچھا کہ آخر ہمارے اس بنانا اسٹیٹ میں یہ بنانے کاکام اتنے وسیع پیمانے پر کیسے شروع ہوا۔اور بھی تو ملک ہیں۔
وہاں اتنی صفائی سے اور اتنے وسیع پیمانے پر بنانے کا کام نہیں ہوتا جتنا ہمارے ہاں ہوتا تو اس ماہر نے ہمیں سمجھایا کہ دراصل یہ کمال بنانے والوں کا نہیں بلکہ بننے والوں کا ہے، اس ملک میں چونکہ بننے والوں کی بہتات ہے قدم قدم پر ایک ڈھونڈو تو ہزار مل جاتے ہیں اور جہاں خام مال اتنا زیادہ ہو تو ظاہر ہے کہ وہاں فیکٹریاں بھی زیادہ لگ جاتی ہیں اور بنانے والے بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔اون فیکٹری وہاں لگتی ہے جہاں اون زیادہ ہو، شوگر کے کارخانے گنے کی پیداوار والے علاقوں میں لگتے اور کپڑے کے کپاس کی پیداوار والے میں۔اب کون ہوگا جو افغانستان میں شوگر مل لگائے یا سعودی عرب میں کاٹن مل لگائے یا ملتان میں پوستین بیچے اور سوات دیر چترال میں برف کا کارخانہ۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Here is Samsung Galaxy S26 Series’ Expected Price in Pakistan
-
Tech2 weeks ago
Business Line Awarded SAP Partnership in Pakistan, Strengthening Regional Footprint
-
Tech2 weeks ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp is Finally Getting a Long Overdue Chat Message Upgrade
-
Entertainment2 weeks ago
Bee Gul’s Interesting Take On Heroines Dancing In The Rain
-
Entertainment2 weeks ago
Celebrities Make Fun of Fiza Ali’s Over Emotional Acting for Views