Connect with us

Today News

بھارتی جریدہ بھی پاکستانی سفارتکاری کے گُن گانے لگا، مودی سرکار کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید

Published

on



نیو دہلی:

بھارتی جریدے دی وائر نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی مؤثر اور متوازن سفارت کاری نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور خطے میں اسلام آباد کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں نئی دہلی کے بجائے اسلام آباد کی اہمیت کو تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔

جریدے نے لکھا کہ نریندر مودی حکومت کے بلند و بانگ دعوے عملی میدان میں ناکام ثابت ہوئے، جبکہ پاکستان نے سفارتی توازن برقرار رکھتے ہوئے دونوں اہم فریقین کا اعتماد حاصل کیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی حکمت عملی بری طرح ناکام ہوئی ہے اور بھارت کو اب خطے میں ایک کمزور کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان علاقائی استحکام کے ایجنڈے پر مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

دی وائر کے مطابق دنیا بھارت کو اسرائیل اور امریکا کا حد سے زیادہ تابع سمجھتی ہے جس کے باعث اس کی اسٹریٹجک خودمختاری متاثر ہوئی ہے جبکہ پاکستان نے متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنی ساکھ مضبوط کی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ کے درمیان سفارتی تعاون نے بھارت کو مغربی ایشیائی قیادت سے باہر کر دیا ہے جبکہ چاہ بہار منصوبے میں بھارت کی سرمایہ کاری بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

جریدے کے مطابق جس ملک کو مودی حکومت نے غیر اہم قرار دیا تھا وہی آج عالمی امن میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ بھارت کی پالیسیز اسے تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریکی افواج میں ہلچل مچ گئی، آرمی چیف آف اسٹاف جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

Published

on



واشنگٹن:

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے اور فوری ریٹائرمنٹ لینے کی ہدایت کی ہے جس سے امریکی فوجی قیادت میں ہلچل مچ گئی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پیٹ ہیگسیٹھ ایسے شخص کو اس اہم عہدے پر لانا چاہتے ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی دفاعی پالیسی کے وژن کو مکمل طور پر نافذ کر سکے۔

ایک سینئر دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ جنرل جارج کی خدمات قابلِ قدر ہیں، تاہم اب فوج میں قیادت کی تبدیلی کا وقت آ چکا تھا۔

جنرل رینڈی جارج ایک تجربہ کار انفنٹری افسر رہے ہیں اور یو ایس ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہیں۔

انہوں نے پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں خدمات انجام دیں، جبکہ انہیں 2023 میں سابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور ان کی مدت 2027 تک متوقع تھی۔

رپورٹ کے مطابق آرمی کے موجودہ وائس چیف آف اسٹاف جنرل کرسٹوفر لانیو کو عبوری طور پر نیا چیف مقرر کیا جا رہا ہے۔

ترجمان پینٹاگون سین پارنیل نے انہیں ایک تجربہ کار اور قابلِ اعتماد رہنما قرار دیا ہے جو موجودہ انتظامیہ کے وژن کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیٹ ہیگسیٹھ پہلے ہی درجنوں سینئر فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹا چکے ہیں، جن میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین سی کیو براؤن، نیول آپریشنز کی سربراہ لزا فرانچیٹی اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق جنرل جارج کو ہٹانے کا فیصلہ حالیہ ہیلی کاپٹر واقعے سے متعلق نہیں بلکہ وسیع تر قیادت کی تبدیلی کی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت امریکی فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

اجناس کا بحران اور ہماری ذمے داریاں

Published

on


اﷲ تعالیٰ پوری امت مسلمہ کی تمام پریشانیوں کو ختم فرمائے بالخصوص مسلمانان پاکستان اس وقت شدید اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ اجناس کے بحران نے انہیں تباہ کر دیا ہے مزید بے حسی کا یہ عالم ہے کہ کچھ تجارت پیشہ افراد اس موقع پر دونوں ہاتھوں سے لُوٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ آئیے! اس بارے قرآن و سنت سے راہ نمائی لیتے ہیں کہ قحط سالی اور بحران کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟ اس کا حل کیا ہے؟ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والی تاجر برادری کو شریعت کیا تعلیم دیتی ہے؟

مفہوم: (لوگو) ’’تم پر جو پریشانیاں آتی ہیں وہ تمہارے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہیں جب کہ تمہارے بہت سارے گناہوں کو تو اﷲ معاف بھی فرما دیتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الشوریٰ)

معلوم ہُوا کہ جتنی پریشانیاں ہم پر آتی ہیں یہ ہمارے بعض گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہیں جب کہ اکثر گناہوں کے سزا یا تو اﷲ تعالیٰ بالکل ہی معاف فرما دیتے ہیں یا ان کو آخرت پر موقوف کر دیتے ہیں۔

اﷲ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کی تباہی اور ان پر آنے والی سزاؤں کی وجہ بھی ان کے گناہوں کو قرار دیا ہے اور اس مضمون کو قرآن کریم نے مختلف انداز میں متعدد مقامات پر اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ ہم ان گناہوں سے بچ جائیں ورنہ ہمارا انجام بھی انہی جیسا ہوگا۔

قرآن کریم میں ہے، مفہوم: ’’پھر ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی وجہ سے سزا دی، ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کی بارش برسائی اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے پانی میں غرق کیا، اﷲ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘ (سورۃ العنکبوت)

نوٹ: یہاں یہ بات بھی اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ بعض مرتبہ گناہوں کی سزا مجموعی طور پر نہیں آتی بلکہ اس کا کچھ حصہ کسی خاص قوم یا علاقے کے لوگوں پر آتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ اسی علاقے کے لوگوں کے گناہوں کا ہی وبال ہو۔ یہ تنبیہ ہوتی ہے کہ باقی لوگ گناہوں سے باز آجائیں۔

مفہوم آیت:’’تم سے پہلے کتنی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جنہوں نے اﷲ اور رسولوں کی نافرمانیاں کیں تو ہم نے ان کے اس جرم کی وجہ سے ان کا سخت حساب لیا اور بڑے بڑے عذابوں میں مبتلا کر دیا آخر کار انہوں نے اپنے بعض گناہوں کا وبال دنیا میں ہی دیکھ لیا یہاں تک کہ وہ قومیں صفحۂ ہستی سے نیست و نابود ہوگئیں۔ اﷲ نے ان کے لیے آخرت میں سخت ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے عقل والو! اﷲ تعالیٰ سے ڈرو! اور اس سے نصیحت حاصل کرو۔‘‘ (سورۃ الطلاق)

مفہوم: ’’جب کسی قوم میں حرام مال عام ہو جائے، تو اﷲ رب العزت ان کے دلوں میں خوف اور دہشت بٹھا دیتے ہیں، اور جب کسی قوم میں زنا بدکاری عام ہو جائے تو ان میں موت کی کثرت ہو جاتی ہے اور حادثاتی اموات پھیل جاتی ہیں، اور جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو ان کے رزق کو گھٹا دیا جاتا ہے اور جب کوئی قوم ظلم و ناانصافی کرنے لگے تو ان میں قتل و قتال عام ہوجاتا ہے، اور جب کوئی قوم وعدہ خلافی کے جرم کا ارتکاب کرتی ہے تو ان پر دشمن کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔‘‘

(موطا امام مالک، باب ماجاء فی الغلول)

حدیث مبارک میں چند بڑے جرائم اور ان کے معاشرے پر پڑنے والے وبال کو ذکر کیا گیا ہے اس میں اس گناہ کی نشان دہی بھی کر دی گئی جس کی وجہ سے رزق میں تنگی آتی ہے اور وہ ہے ناپ تول میں کمی کرنا۔

سابقہ امتوں میں سے حضرت شعیب علیہ السلام کو جس قوم کی طرف بھیجا گیا وہ ایسی قوم تھی جو ناپ تول میں کمی کرنے کے گناہ میں مبتلا تھی اس وجہ سے ان پر اﷲ کی طرف سے سخت سزا آئی۔ قرآن کریم میں ہے کہ شہر مدین کی طرف ہم نے ان کے قومی بھائی شعیب علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا، مفہوم: ’’لوگو! صرف اکیلے اﷲ ہی کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی والا جرم نہ کیا کرو۔ میں تمہیں خوش حال دیکھتا ہوں اور اگر تم اﷲ پر ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے میں ایسے سخت دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہر طرف سے گھیر کر ہی رہے گا۔ لوگو! ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا پورا تولا کرو۔ لوگوں کو ان کی خریدی ہوئی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو، ایسا جرم کر کے زمین میں فساد مت پھیلاتے پھرو۔‘‘ (سورۃ ھود)

حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا، مفہوم: ’’اے مہاجرین کی جماعت! جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے اس پر قحط سالی مسلط کر دی جاتی ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

ستم دیکھیے کہ ایک طرف ملک میں اجناس اور دیگر اشیاء کا بحران تو دوسری طرف کے چند لوگ ذخیرہ اندوزی والا ستم ڈھا رہے ہیں لوگوں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

ذخیرہ اندوزی کسے کہتے ہیں؟

ذخیرہ اندوزی اِسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص یا جماعت غلہ یا دیگر اجناس کو بڑی مقدار میں اس لیے اکٹھا کر لیں یا خرید کر ذخیرہ کر لیں کہ بازار میں جب وہ جنس زیادہ مہنگی ہو جائے اور لوگوں میں اس چیز یا جنس کی مانگ کا مرکز صرف وہی بن جائیں اور لوگ مجبور ہو کر ذخیرہ اندوزی کرنے والے سے اس کی شرائط اور مقرر کردہ نرخوں کے مطابق خرید سکیں۔ یہ طریقہ سراسر غلط اور ایسی ذخیرہ اندوزی شرعاً حرام اور ممنوع ہے۔ اور اگر بازار میں اس ذخیرہ کی جانے والی جنس یا چیز کی کوئی کمی نہ ہو اور کسی شخص کے کسی چیز یا جنس کو ذخیرہ کرنے کی وجہ سے قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو یہ اکٹھا کر لینا ذخیرہ اندوزی نہیں کہلاتا کہ جس کی شریعت نے مذمت بیان کی ہو اور اس سے روکا ہو۔

اسلام نے سچے تاجر کا حشر دن قیامت انبیائؑ اور صالحین کے ساتھ ذکر کیا ہے لیکن جب تاجر ذخیرہ اندوزی کرنے والے جرم کا مرتکب ہو تو اسلام ایسے تاجر کی سخت ترین مذمت کرتا ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم: ’’جس تاجر نے اس قابل مذمت ارادے سے ذخیرہ اندوزی کی کہ وہ اس طرح مسلمانوں سے اس چیز کے مہنگے دام وصول کرے تو ایسا شخص بڑے درجے کا گناہ گار ہے۔‘‘ (مسند احمد)

حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم: ’’جائز طریقے سے نفع کمانے والے تاجر کو برکت والا رزق ملتا ہے جب کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا اﷲ کی رحمت سے خود کو دور کر نے والا (لعنتی) ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا، مفہوم: ’’جس شخص نے مسلمانوں کی ضرورت کے وقت ان کے کھانے پینے (اور ضرورت کی اشیاء) کی ذخیرہ اندوزی کی ایسے شخص کو اﷲ تعالیٰ کوڑھ کے مرض میں مبتلا کر دیتے ہیں یا پھر مفلس غریب بنا دیتے ہیں۔‘‘

(شعب الایمان للبیہقی)

حضرت عمرؓ اپنے عہد خلافت میں ایک دن مسجد کی طرف تشریف لے جا رہے تھے تو دیکھا کہ مسجد سے باہر غلہ اناج کا ڈھیر لگا ہوا تھا آپؓ نے اس بارے پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ ہمارے لیے فلاں جگہ سے لایا گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اﷲ اس غلے میں اور اس کو لانے والے شخص میں برکت عطا فرمائے۔ بعد میں حضرت عمرؓ کو تفصیل سے بتایا گیا کہ اس کے مالکوں نے اس غلہ کی ذخیرہ اندوزی کی ہوئی ہے۔ آپؓ نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ جنہوں نے مسلمانوں کی ضرورت کے وقت اس غلہ کا ذخیرہ کیا ہُوا ہے بتایا گیا کہ فروخ اور فلاں شخص ہیں۔ آپؓ نے انہیں بلوایا اور فرمایا: کیا وجہ ہے کہ آپ لوگ مسلمانوں کی ضرورت کے وقت غلہ کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ امیر المومنینؓ! ہم اپنے مال سے خرید و فروخت کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں نے خود اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس بارے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے مسلمانوں کی ضرورت کے وقت ان کے کھانے پینے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کی ایسے شخص کو اﷲ تعالیٰ کوڑھ کے مرض میں مبتلا کر دیتے ہیں یا پھر مفلس غریب بنا دیتے ہیں۔ اسی وقت فروخؒ نے عرض کی: اے امیر المومنینؓ! میں اﷲ سے اور آپ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی اناج کی ذخیرہ اندوزی نہیں کروں گا جب کہ دوسرے شخص نے کہا کہ ہم اپنے مال سے خرید و فروخت کرتے ہیں۔ یعنی ہماری مرضی ذخیرہ اندوزی کریں یا نہ کریں کسی کو اس سے کیا ؟ ابُو یحیٰؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اسی شخص کو کوڑھ کے مرض کی حالت میں خود دیکھا ہے۔ (مسند احمد)

عوام کی ذمے داری بنتی ہے کہ گناہوں سے بچیں اور سابقہ گناہوں پر استغفار اور آئندہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کریں۔ پھر بھی گناہ ہوجائے تو فورا توبہ کریں ورنہ ہمارے گناہوں کا وبال کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہوتا رہے گا کبھی آٹے کا بحران ہوگا تو کبھی کسی دوسری چیز کا۔ مسلمان تاجروں خصوصاً مل مالکان اور دکان داروں کی ذمے داری یہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی لعنت سے اپنے کاروبار کو پاک کریں۔ اس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ اور کھانے پینے کی اشیاء میں کمی آرہی ہے غریب عوام آپ کے پیدا کردہ بحران میں بری طرح پس رہے ہیں۔ اسلامی طریقہ تجارت کے مطابق جائز منافع کمائیں۔

ارباب حکومت کی ذمے داری ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے والی کمیٹیوں کو فعال کر کے آٹے اور چینی وغیرہ کے بحران اور ذخیرہ اندوزی کے مستقل سدباب کے لیے مضبوط اور منظم اقدامات کریں۔ اس کی کڑی نگرانی کریں اور عوام کو معاشی پریشانیوں سے آزاد کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

اﷲ کریم ہماری تمام ضروریات کو اپنے کرم سے پورا فرمائے۔ تمام پریشانیوں اور بحرانوں سے نجات عطا فرمائے اور عافیت کے ساتھ دین و دنیا کی تمام تر بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین





Source link

Continue Reading

Today News

اﷲ ہے بس پیار ہی پیار۔۔۔۔۔!

Published

on


 

 

انشرہ طارق

محبت کا لفظ خود اپنے اندر بڑی مٹھاس، کشش، لذت اور لطف رکھتا ہے۔ کسی کے بھی تعلق کے ساتھ یہ بولا جائے تو دل میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اﷲ اور اس کے آخری پیارے رسول کریم ﷺ سے محبت تو سب سے پاکیزہ اور مقدس جذبہ ہے۔ خوش قسمت لوگ ہی اس پاکیزہ جذبے سے آشنا ہوتے ہیں اور ہمیشہ اس جذبے کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

مفہوم: ’’اور ایمان والے اﷲ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔‘‘

 (سورۃ البقرہ)

حقیقی محبت کی حق دار تو صرف ایک ہی ہستی ہے اور وہ ہے اس دو جہانوں کے مالک اﷲ رب العزت کی کی عظیم و مقدس ہستی۔ آج تک کوئی ایسا پیمانہ نہیں بنا جو ماں کی محبت کو ناپ سکے اور اﷲ پاک تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے ہیں۔ کوئی اﷲ کی محبت کی گہرائی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اﷲ پاک نے تو انسان کی تھوڑی سی مشقت کے بدلے پوری جنت سجا دی۔ جس میں انسان کی آسائش کے لیے ہر چیز رکھ دی۔ جہاں صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی غموں کی پرچھائی تک نہ ہوگی۔ اگر انسان پر اﷲ کی طرف سے کوئی آزمائش آ بھی جائے تو اﷲ پاک بار بار دلاسہ دیتے ہیں کہ میرے بندے گھبرانا نہیں تمہارا اﷲ تمہارے ساتھ ہے تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ تو ہے کوئی اﷲ پاک جیسا جو انسان سے اس سے زیادہ محبت کرتا ہو؟ پھر کیوں نہ اک اﷲ سے محبت کی جائے ؟ کیوں نہ اﷲ کی محبت میں خود کو فنا کیا جائے ؟

مفہوم: ’’اے ابنِ آدم! اگر اﷲ کی محبت کو ہمیشہ مقدم رکھو گے تو دونوں جہاں میں کام یاب ہو جاؤ گے۔‘‘

اﷲ سے محبت کا سفر بہت حسین ہوتا ہے۔ جو اس راہ کے مسافر بن جاتے ہیں اﷲ اسے بھی اندر باہر سے حسین کر دیتے ہیں۔ وہ تو پل پل اپنے محبوب کی چاہ میں جینے لگتے ہیں۔ پھر اس کی آنکھیں محبوب کی یاد میں بہتی ہیں۔ پھر اس کا دل اﷲ کی یاد سے لطف پاتا ہے۔ یقین رکھیے! اﷲ سے محبت کرنے والے بڑے حسین ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہی اﷲ سے محبت محسوس ہونے لگتی ہے۔ دنیا کا سب سے حسین تر لمحہ وہ ہوتا ہے جب آپ کو محسوس ہو کہ بادشاہوں کا بادشاہ، ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا، جنت و جہنم کا مالک، اس دنیا کو بنانے والا رب آپ سے محبت کرتا ہے۔ کتنا خوش قسمت ہوتا ہے وہ انسان جس سے اﷲ پاک محبت کرتے ہوں اور محبت بھی ایسی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سبحان اﷲ

حالات چاہے کیسے بھی ہوں مومن لوگ کبھی بھی اﷲ تعالیٰ کی محبت میں کمی نہیں آنے دیتے، وہ حالات سے مایوس نہیں ہوتے اور اپنے پالن ہار پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ جو لوگ اﷲ سے محبت رکھتے ہیں ان کے لیے اس دنیا کی دولت و شہرت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ اس دنیا کی رنگینیوں میں کبھی نہیں کھوتے۔ ہاں! اگر شیطان کے بہکاوے میں آکر کبھی گناہ ہو جائے تو تڑپ اٹھتے ہیں فوراً اﷲ پاک سے توبہ کرتے ہیں۔

اﷲ تعالیٰ سے محبت کرنے والے لوگ کبھی مایوس نہیں ہوتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں اﷲ پاک انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، وہ اﷲ پاک کے معجزوں کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر بہت شدید دعاؤں کے بعد بھی ان کی خواہش پوری نہ ہو پھر بھی وہ ’’الحمدﷲ‘‘ کہتے ہیں کبھی بھی اﷲ پاک سے شکایت نہیں کرتے بلکہ وہ فوراً اﷲ کی رضا میں راضی ہو جاتے ہیں۔

اﷲ پاک سے محبت کرنے والے لوگ ہمیشہ اﷲ کی ناراضی سے ڈرتے ہیں۔ ڈرتے ہیں کہ کبھی کوئی ایسا گناہ نہ ہو جائے جو اﷲ کی ناراضی کا سبب بنے۔ اﷲ کے حکموں کو ماننا ہمیشہ اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ نیکی کے کاموں میں بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں اﷲ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو جائیں۔

اﷲ تعالیٰ سے محبت کرنے والے لوگ بہت نرم دل ہوتے ہیں۔ وہ اﷲ کی مخلوق سے بھی محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ دوسروں کے دکھ درد میں شامل ہوتے ہیں۔ اﷲ سے محبت کرنے والے لوگ کبھی غریب لوگوں سے نفرت نہیں کرتے ان سے کراہت محسوس نہیں کرتے۔ ایسے لوگ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہوتے ہیں۔

اﷲ تعالیٰ سے محبت کرنے والے اﷲ کے سوا کسی اور در پہ سر نہیں جھکاتے۔ وہ اﷲ کو واحد و یکتا مانتے ہیں اور صرف اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات صرف اﷲ پاک کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں اگر کوئی ذات انسان کی خواہشات کو پورا کر سکتی ہے تو وہ صرف اﷲ پاک کی عظیم ذات ہے۔

مفہوم: ’’کبھی بھی سر کو اﷲ کے علاوہ کسی اور در پہ نہ جھکاؤ، اس سر کے جھکنے کے لیے سب سے بہترین در اﷲ تعالیٰ کا در ہے۔‘‘

اﷲ سے محبت کرنے والے کبھی غرور و تکبر جیسے گناہ کا شکار نہیں ہوتے۔ وہ کبھی دوسروں کی دولت و شہرت، عزت و مرتبہ دیکھ کر حسد نہیں کرتے، بلکہ وہ تو اﷲ کے عاجز بندے ہوتے ہیں۔ ان کے ہر انداز سے عاجزی جھلکتی ہے۔ وہ تو اﷲ کی نعمتوں کو دیکھ کر ہمیشہ شکر ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔

اﷲ سے محبت کرنے والے کبھی مشکلات سے گھبراتے نہیں ہیں۔ وہ بڑی سے بڑی مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں ہر آزمائش میں پورا اترتے ہیں۔ کیوں کہ ان کا یقین صرف اور صرف اﷲ کی ذات پر ہوتا ہے۔ اور یقین بھی ایسا جو سمندر سے بھی زیادہ گہرا ہو۔ وہ یقین رکھتے ہیں جو ذات اندھیروں کو روشنی میں بدلنے پر قادر ہے وہ ہی ان کے غموں کو خوشیوں میں بدلنے پر قادر ہے۔

اﷲ تعالیٰ سے محبت کرنے والے خود پر دنیاوی محبت حاوی نہیں ہونے دیتے۔ بلکہ وہ اﷲ کی محبت کو اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔ وہ اﷲ کی محبت میں اس فانی دنیا کی محبتوں کو قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اور یہی بندے اﷲ کے خاص بندے ہیں جن پر اﷲ نظر رحمت فرماتے ہیں۔ جس سے اﷲ پاک محبت کریں اس سے زیادہ خوش قسمت اس روئے زمین پر کوئی نہیں۔

میرا اﷲ بس محبت ہی محبت ہے۔ جب قران کو سمجھ کر پڑھا تو اﷲ کو محبت ہی محبت پایا۔ ہر جگہ تسلی دیتا ہوا، دعاؤں کی قبولیت کا یقین دلاتا ہوا، ہمیشہ ساتھ رہنے کا عہد کرتا ہوا، چھوٹی سی آزمائش پر بڑے بڑے اجر سناتا ہوا، اپنی رحمت کا یقین دلاتا ہوا، چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر جنت کی خوش خبری سے نوازتا ہوا میرا اﷲ بس محبت ہی محبت ہے۔ اﷲ پاک سے جُڑ جائیں۔ اﷲ پاک سے محبت کریں شدید سے شدید تر۔

اﷲ سے محبت کرنے والے لوگ محبوب کی محبت کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں سب سے بہترین رنگ اﷲ کی محبت کا رنگ ہے۔

یا رب! تُو ہمیں بھی اپنی محبت کے رنگ میں رنگ دے۔ آمین





Source link

Continue Reading

Trending