Today News
بھارتی مصنوعی ذہانت کا میلہ یا نظم و نسق کا امتحان؟
عصرِ حاضر میں اقوام کی برتری کا پیمانہ صرف عسکری قوت یا معاشی حجم نہیں رہا بلکہ علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں سبقت نے عالمی قیادت کا معیار متعین کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایشیا سے یورپ تک ہر ریاست اس جستجو میں مصروف ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور اختراعی صنعتوں کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرے۔ مگر کسی بھی بین الاقوامی ٹیکنالوجی سمٹ کی کامیابی محض دلکش نعروں، بلند آہنگ اعلانات اور معروف شخصیات کی موجودگی سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل بنیاد منظم حکمتِ عملی، شفاف نظم و نسق، پیشہ ورانہ تیاری اور اعتماد کی فضا پر استوار ہوتی ہے۔
حالیہ بھارتی اے آئی سمٹ کے حوالے سے عالمی خبر رساں ادارے Reuters کی رپورٹنگ نے کئی ایسے پہلو نمایاں کیے جنہوں نے اس تقریب کی انتظامی استعداد پر سوالات اٹھا دیے۔ سب سے نمایاں واقعہ اس وقت پیش آیا جب عالمی سطح کی ممتاز شخصیات نے عین آخری لمحوں میں اپنی شرکت منسوخ کر دی۔
Bill Gates، جو مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور ٹیکنالوجی دنیا کی ایک بااثر آواز سمجھے جاتے ہیں، نے اپنے طے شدہ کلیدی خطاب سے چند گھنٹے قبل عدم شرکت کا اعلان کیا۔ اس کے بعد Jensen Huang کی منسوخی کی خبر بھی منظرِ عام پر آئی۔ ایسے بڑے ناموں کی غیر موجودگی کسی بھی عالمی فورم کے لیے محض علامتی دھچکا نہیں بلکہ ساکھ، توجہ اور سرمایہ کارانہ اعتماد پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ جب اسٹیج پر قیادت کی نمائندگی کمزور پڑ جائے تو پورا ایونٹ اپنی معنوی قوت کھو بیٹھتا ہے۔
علاوہ ازیں رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا کہ انتظامی سطح پر متعدد کوتاہیاں رہیں۔ نمائشی ہالوں کو اچانک بند کرنا، شرکت کرنے والی کمپنیوں کو بروقت اور واضح معلومات فراہم نہ کرنا، اور بعض اسٹالز کا غیر متوقع طور پر ہٹا لیا جانا،یہ سب ایسے عوامل ہیں جو منصوبہ بندی کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایک روبوٹک کتے کے تنازع کے بعد گالگوٹیا کی جانب سے اسٹال ہٹانے کا واقعہ اس امر کی علامت بن گیا کہ بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی کمزور تھی۔ جب نمائش کنندگان، جو اپنی تحقیق، مصنوعات اور خواب لے کر آتے ہیں، غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوں تو یہ مستقبل کے شراکت داروں کے لیے بھی منفی پیغام بن جاتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا میں ایک اور پہلو نے خاصی توجہ حاصل کی اور وہ مبینہ طور پر نقل شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہے جس میں ایک چینی روبوٹ کے استعمال کا ذکر کیا گیا۔ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں اصل تحقیق، دانشورانہ دیانت اور اختراعی خودمختاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی پلیٹ فارم کے بارے میں یہ تاثر ابھرے کہ وہاں جدت کی بجائے نقالی یا غیر شفاف ذرائع سے کام لیا جا رہا ہے تو اس کا اثر صرف ایک تقریب تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے ٹیکنالوجی ایکوسسٹم پر پڑتا ہے۔انتظامی چیلنجز صرف نمائش گاہ تک محدود نہ رہے۔
شہری سطح پر بھی مشکلات کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وی آئی پیز کی نقل و حرکت کے باعث سڑکوں کی بندش، ٹریفک کا شدید دباؤ، اور شرکاء کو ٹیکسی یا شٹل کی عدم دستیابی کے سبب طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے،یہ سب ایسے مسائل ہیں جو کسی بھی عالمی کانفرنس کے تجربے کو متاثر کرتے ہیں۔ جب شرکاء بنیادی سہولیات کے حصول میں الجھ جائیں تو علمی مباحث، کاروباری روابط اور تحقیقی تبادلے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
ابتدائی ہجوم کے بعد مقامِ تقریب کا نسبتاً خالی نظر آنا بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا سیشنز میں تسلسل کی کمی تھی؟ کیا مقررین کا انتخاب اور موضوعات کی گہرائی شرکاء کو مکمل دورانیے تک متوجہ رکھنے میں ناکام رہی؟ عالمی معیار کے سمٹس میں مواد کی سنجیدگی، مکالمے کی وسعت اور نیٹ ورکنگ کے بامعنی مواقع وہ عناصر ہوتے ہیں جو حاضرین کو اختتام تک وابستہ رکھتے ہیں۔ اگر پروگرام کی ساخت میں ربط نہ ہو تو جوش و خروش وقتی ثابت ہوتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے جڑے توانائی اور وسائل کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اے آئی انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینیٹرز اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے لیے درکار بھاری بجلی اور پانی مستقبل میں دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ معاملہ محض ایک ایونٹ کا نہیں بلکہ قومی پالیسی، پائیدار توانائی حکمتِ عملی اور آبی نظم و نسق سے جڑا ہوا ہے۔ اگر گرڈ کی مضبوطی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور وسائل کے مؤثر استعمال پر ہمہ گیر توجہ نہ دی جائے تو ٹیکنالوجی کے بلند بانگ عزائم عملی رکاوٹوں سے ٹکرا سکتے ہیں۔
سیاسی سطح پر بھی اس سمٹ نے بحث کو جنم دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے انتظامی نقائص پر تنقید اور انجینئرز و شرکاء کو طویل فاصلہ پیدل چلنے پر مجبور کیے جانے کے بیانات نے اس تقریب کو داخلی سیاست کا موضوع بنا دیا۔ جب کوئی بین الاقوامی پروگرام توقعات پر پورا نہ اترے تو وہ محض ٹیکنالوجی کانفرنس نہیں رہتا بلکہ حکومتی کارکردگی کی علامت سمجھا جانے لگتا ہے۔ مزید یہ کہ ای میل انکشافات اور اعلیٰ شخصیات کی شرکت سے متعلق متضاد اطلاعات نے اعتماد کے مسئلے کو گہرا کیا۔ کسی بھی بڑے ایونٹ میں بروقت، شفاف اور ہم آہنگ ابلاغ بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، اگر معلومات میں تضاد ہو یا آخری لمحوں کی تبدیلیوں کو مؤثر انداز میں نہ سنبھالا جائے تو افواہیں جنم لیتی ہیں اور ساکھ مجروح ہوتی ہے۔
ان تمام پہلوؤں کو یکجا کیا جائے تو تصویر یہ بنتی ہے کہ بھارتی اے آئی سمٹ انتظامی ہم آہنگی، پیشگی منصوبہ بندی، بحران مینجمنٹ اور مؤثر مواصلات کے میدان میں نمایاں آزمائش سے دوچار رہا۔ بھارت جیسے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی مرکز کے لیے یہ واقعہ محض تنقید کا باب نہیں بلکہ سیکھنے کا موقع بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ان خامیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے، احتساب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور آیندہ کے لیے اصلاحی اقدامات متعارف کرائے جائیں تو یہی تجربہ مستقبل کی کامیابیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ عالمی اے آئی دوڑ میں سبقت کا انحصار صرف وژن اور بیانیے پر نہیں بلکہ اس وژن کو مؤثر حکمتِ عملی، دیانت دارانہ طرزِ عمل اور عملی مہارت کے ساتھ نافذ کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ قومیں خوابوں سے نہیں، نظم و ضبط اور مسلسل بہتری سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔
Today News
پاکستان کیساتھ مذاکرات کے خواہاں ہیں؛ ترجمان طالبان حکومت
افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حالیہ کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کابل حکومت بارہا اس بات پر زور دے چکی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل کا پُرامن اور سفارتی حل تلاش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے متعدد بار پُرامن حل پر زور دیا اور اب بھی چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
طالبان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ افغان حکومت خطے میں استحکام اور امن کی خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتی ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ہم ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کو بارہا یقین دلاتے رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ہم اب بھی اس عزم پر قائم ہیں۔
یاد رہے کہ افغانستان سے دراندازی کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا ہے جس میں طالبان رجیم کے سیکڑوں اہلکار مارے گئے۔
Today News
ملک بھر میں ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی
وزارت داخلہ نے ملک بھر میں ڈرون کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارت داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد سمیت تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو مراسلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈرون اور کواڈ کاپٹرز کی فلائنگ پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی گئی ہے، خلاف ورزی پر فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا جائے، حساس اور عوامی تنصیبات کے قریب ڈرون اور کواڈ کاپٹرز استعمال نہیں ہوگا۔
Source link
Today News
غضب للحق کا مطلب کیا ہے اور افغانستان کیخلاف اس آپریشن کو یہ نام کیوں دیا گیا؟
پاک افغان جنگ کے دوران پاکستان نے جو فوجی کارروائی شروع کی ہے اسے آپریشن غضب للحق کا نام دیا گیا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس آپریشن غضب للحق کا مطلب کیا ہے اور افغانستان کے خلاف پاکستان کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کو یہ نام کیوں دیا گیا؟
گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے کیے جانے والے اکثر آپریشنز کے نام مذہبی یا عربی زبان سے لیے گئے جس کا مقصد اس آپریشن کو اخلاقی یا نظریاتی پس منظر دینا بھی ہے، تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ایک آپریشن ایسا بھی کیا گیا جس کا نام انگریزی زبان سے لیا گیا۔
افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں 15 جون 2014 کو عسکریت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کو 'ضربِ عضب' کا نام دیا گیا جو عربی زبان کا لفظ ہے۔ ضرب عضب دو الفاظ کا مرکب ہے، ضرب جس کا مطلب ہے وار اور دوسرا لفظ عضب ہے جس کا مطلب ہے نبی پاک ﷺ کی تلوار۔ اس طرح ضربِ عضب کا مطلب حق کی تلوار کا وار ہے۔
پاک فوج نے فروری 2017ء میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ملک کے چاروں صوبوں میں تلاشی کی کارروائیاں کیں اور کئی افراد کو حراست میں لیا اس آپریشن کو رد الفساد کا نام دیا گیا جس کا مطلب فساد کو رد کرنا یا فساد یعنی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
پاک بھارت کشیدگی کے دوران 2019 میں بھارتی فضائی حملے کے جواب میں پاکستان نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارتی پائلٹ ابھینندن کو بھی گرفتار کیا گیاتھا۔ یہ نام انگزیری زبان سے لیا گیا، سوئفٹ کا مطلب تیز اور ریٹارٹ کا مطلب جواب یا ردعمل ہے یعنی سوئفٹ ریٹارٹ کا مطلب فوری جواب ہے۔
گزشتہ سال مئی کے دوران بھی پاکستان نے بھارت کے خلات آپریشن بنیان مرصوص کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں بھارت کے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا تھا اور متعدد بھارتی فوجی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے، بنیان مرصوص کا لفظ بھی قرآن کی آیت سے لیا گیا جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی دیوار۔
اسی طرح رواں ماہ میں پاک فوج نے افغانستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے سیکڑوں طالبان مارے، افغانستان کی متعدد پوسٹیں تباہ کیں اور کئی چوکیوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا پرچم لہرا دیا۔
افغانستان کے خلاف اس آپریشن کو غضب للحق کا نام دیا گیا، غضب للحق تین الفاظ کا مرکب ہے یعنی غضب جس کا مطلب ہے غصہ یا ردعمل، دوسرا لفظ لل ہے جس کا مطلب ہے کے لیے یا کی خاطر جبکہ تیسرا لفظ حق ہے جس کا مطلب سچائی ہے۔ یعنی غضب للحق کا مطلب حق یا سچائی کے لیے غصہ یا ردعمل ہے اور یہ محض جذباتی غصہ نہیں بلکہ حق کے دفاع کی خاطر کیا جانے والا ردعمل ہے۔
افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا گیا، 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاک فوج نے افغانستان میں قائم فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان رجیم نے اسے بنیاد بناکر خیبرپختونخوا میں پاک افغان سرحد کے 15 سیکٹر میں 53مقامات پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پاک فوج نے حق کے دفاع کی خاطر آپریشن غضب للحق کا آغاز کر دیا۔
Source link
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Entertainment5 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech1 week ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: A TWIST IN THE TALE