Connect with us

Today News

بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بھارت میں بحث تیز ہو گئی

Published

on


بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بھارت میں بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ کسان تنظیموں اور اپوزیشن رہنماؤں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ معاہدہ زرعی شعبے بالخصوص کپاس کے کاشتکاروں پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا سے بعض زرعی اجناس کی کم یا صفر ڈیوٹی پر درآمد کے امکانات نے کسانوں میں تشویش پیدا کر دی ہےمختلف ریاستوں میں کسان تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

بھارتی جریدے India Decoded کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ تجارتی رعایتوں کے نتیجے میں لاکھوں کپاس کے کسانوں کو سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مکئی، کپاس، پھل اور سویا بین کی کم ڈیوٹی پر درآمد مقامی پیداوار اور قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔اپوزیشن جماعت Indian National Congress کے سینئر رہنما Randeep Singh Surjewala نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت پہلے ہی امریکا سے سینکڑوں ملین ڈالر کی کپاس درآمد کر رہا ہے، جس سے مقامی کسان دباؤ کا شکار ہیں۔

ان کے مطابق پنجاب، گجرات اور مہاراشٹر میں کپاس کی فروخت اور قیمتوں کے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں، جبکہ کسانوں کے قرض میں اضافے کی شکایات بھی موجود ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث بعض کسان نسبتاً زیادہ منافع دینے والی فصلوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے کپاس کی مجموعی پیداوار میں بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق، اگر بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل مصنوعات کو امریکی منڈی میں زیادہ ٹیرف رعایت ملتی ہے تو اس سے علاقائی برآمدی مسابقت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم محصول کی سہولت کسی بھی ملک کی مصنوعات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں دیگر برآمد کنندگان کو دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے تاحال معاہدے کی حتمی شرائط پر باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ تجارتی معاہدے ملکی معیشت، صنعت اور صارفین کے لیے مجموعی طور پر فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

Controversy over harassment allegations actress Hania Aamir categorical stance comes to light

Published

on


پاکستانی شوبز انڈسٹری میں جاری حالیہ تنازع پر معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنا واضح مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بحث کے بعد اداکارہ نے کہا ہے کہ وہ ہراسانی اور استحصال جیسے معاملات پر کسی قسم کی نرمی یا سمجھوتے کی قائل نہیں اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب سابق ماڈل ماہ نور رحیم نے اداکارہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے پروڈیوسر کی قریبی دوست ہیں جن پر ہراسانی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بعض ماڈلز اور اداکاراؤں نے سوشل میڈیا پر مبینہ پیغامات کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے، جس کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا۔

صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ہانیہ عامر نے انسٹاگرام کے ذریعے وضاحت کی کہ انہیں اس معاملے کی پہلے سے کوئی معلومات نہیں تھیں اور نہ ہی وہ اس میں کسی طور شامل رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے وقار اور تحفظ کو متاثر کرنے والا کوئی بھی رویہ ناقابلِ قبول ہے اور ایسے حساس معاملات کو سنجیدگی اور احترام کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

اداکارہ نے ان خواتین کے حق میں بھی آواز بلند کی جنہوں نے مبینہ طور پر شکایات سامنے لائیں اور کہا کہ شوبز سمیت ہر شعبے میں محفوظ ماحول کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ خدشات کے پیش نظر انہوں نے متعلقہ فرد سے خود کو الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور کسی بھی سماجی یا پیشہ ورانہ وابستگی کو کسی دوسرے شخص کے عمل کی حمایت نہ سمجھا جائے۔

اپنے بیان میں انہوں نے احتساب، باہمی احترام اور محفوظ پیشہ ورانہ ماحول کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ نقصان دہ رویوں کے خلاف کھڑے ہوں اور متاثرہ افراد کی حمایت کریں۔

سوشل میڈیا پر اداکارہ کے اس بیان کو ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ بڑی تعداد میں مداحوں نے ہراسانی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے پر ان کی تعریف کی، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں مزید کھل کر اور نام لے کر بات کرنی چاہیے تھی۔





Source link

Continue Reading

Today News

راولپنڈی: ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے سرکاری اہلکار جاں بحق

Published

on


راولپنڈی میں تھانہ چونترہ کی حدود میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے اہم ادارے کا سرکاری اہلکار جاں بحق ہوگیا، موٹرسائیکل پر سوار تین ملزمان موقع سے فرار ہوگئے، پولیس نے ڈکیتی کے دوران قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس نے بتایا کہ مقتول محمد ادیب کے بھائی محمد حسین کی درخواست پرچونترہ پولیس نے ڈکیتی وقتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، مدعی مقدمہ نے بتایا کہ بڑا بھائی محمد ادیب سرکاری ملازم ہے جو چھٹی پرگھر  آرہا تھا، بھائی نے فون کیا کہ چکری انٹرچینج پہنچ رہا ہوں موٹرسائیکل پر لینے آجاؤ۔

ایف آئی آر کے مطابق بھائی چکری اڈے پر پہنچا تو اسکا دوست رحمت خان ساتھ تھا، بھائی نے کہا کہ میں رحمت کو سہال چھوڑ کر آتا ہوں تم یہیں رکو، کافی دیر  تک بھائی واپس نہ آیا تو اسکے نمبر پر کال کی رحمت نے فون اٹینڈ کرکے واقعہ بارے بتایا، کالج کے قریب واصل ہسپتال کے سامنے پہنچا تو بھائی زخمی اور قریب رحمت کھڑا تھا۔

رحمت نے بتایا کہ موٹرسائیکل سوار تین لڑکوں نے ادیب کو روکنے کی کوشش کی تھی، ادیب کے نہ رکنے پر ایک نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔

مدعی کے مطابق نامعلوم ملزمان نے بھائی کو ڈکیتی کی نیت سے روکا اور فائرنگ کرکے قتل کردیا، واقعے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور تفتیش کا آغاز کیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ واقع کا مقدمہ ڈکیتی اور قتل کی دفعات کے تحت درج کیا ہے، ملزمان کی شناخت کے لیے مختلف وسائل استعمال کررہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ریاستی اداروں پر الزامات کا کیس: سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

Published

on


اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے کیس میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم  دیدیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے کیس میں عدم حاضری پر سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔

عدالت نے اس کیس میں وزیراعلی سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا اور کیس کی مزید سماعت 9 مارچ تک ملتوی کردی۔ 

سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے  تحت این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending