Today News
بھارت جاکر سچن سے شادی کرنے والی سیما حیدر کا 11 ماہ میں دوسرے بچے کی پیدائش
پاکستان سے غیر قانونی طور پر بھارت جاکر شادی کرنے والی سیما حیدر کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سیما حیدر اور ان کے بھارتی شوہر سچن کے یہاں گزشتہ 11 ماہ میں دوسرے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔
اس سے قبل 15 مارچ 2025 کو سیما حیدر نے ایک بیٹی کو جنم دیا تھا جب کہ پاکستان میں ان کے پہلے شوہر سے 4 بچے تھے جو اب ماں کے ساتھ ہی بھارت میں رہتے ہیں۔
یاد رہے کہ سیما حیدر 2023 میں اپنے محبوب سچن سے ملنے اپنے چار بچوں کے ہمراہ پاکستان سے نیپال کے راستے غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہوئی تھیں۔
بعد ازاں سچن اور سیما نے شادی کرلی اور یہ معاملہ دونوں ممالک میں خاصی توجہ کا مرکز بنا رہا تھا۔ سیما نے خود کو بھارتی ماحول ڈھال لیا ہے۔
30 سیما حیدر کی خود سے 10 سال چھوٹے سچن مینا سے 2019 میں آن لائن گیم کے ذریعے ملاقات ہوئی تھی۔ آن لائن بات چیت سے شروع ہونے والا یہ تعلق محبت میں تبدیل ہوا تھا۔
واضح رہے کہ سیما حیدر کا معاملہ بھارت میں سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں کی جانب سے بھی زیرِ تفتیش رہا ہے جس کے بعد انھیں بھارت میں رہنے کی اجازت دی گئی۔
Today News
مسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے والے ایف آئی اے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار
نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن عملے کی مبینہ ملی بھگت سے تارکین وطن کو رشوت لیکر غیر قانونی طور پر بیرون ممالک و یورپ بیجھوانے کے لیے سہولت کاری و انسانی سمگلنگ کے میگا سکینڈل کا انکشاف ہوا۔
چار مسافروں سے رشوت کے عوض امیگریشن کلئیر کرنے کے الزامات پر ایف آئی اے امیگریشن کے افسر محمد عالم ،ایف سی انضمام الحق اور زون میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کو گرفتار کرکے رشوت ستانی و دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا۔
حکام کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور ڈائریکٹر ایف ایک اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کو خفیہ ذرائع سے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن اہلکاروں کے غیر قانونی سرگرمیوں و انسانی اسمگلروں سے روابط کی اطلاع ملی۔
جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد شہزاد ندیم بخاری اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن نے خود نگرانی کرتے ہویے تحیقیقات شروع کیں توالزامات سچ نکلنے۔
الزامات سچ ہونے پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کے ڈپٹی ڈائریکٹر افضل خان نیازی کی سربراہی میں ٹیم نے چھاپہ مارا اور آئی ائی اے امیگریشن کے اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور زونل آفس میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا جس میں رشوت لیکر باہر بھجوائے گئے 4 مسافروں کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کی جانب سے سے درج مقدمے میں موقف اختیار کیاگیا کہ اطلاع موصول ہوئی کہ عمرہ ویزہ پر سفر کرنے والے چند مسافر یورپ جانے کے لیے غیر قانونی طور پر سمندری راستے کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
اطلاع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر امیگریشن اور ڈائریکٹر اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری کی ٹیم نے اسلام آباد سے دمام اور سعودی عرب جانے والی پرواز کے دوران چھاپہ مارا تو پرواز پر پشاور سے تعلق رکھنے والے مسافر کامران خان اور زیاد خان ،باجوڑ سے تعلق رکھنے والے محمد شعیب اور یاسین خان امیگریشن کاؤنٹر سے کلیرینس پاکر طیارے میں سوار ہونے کے لیے ویٹنگ لاونج میں تیار تھے۔
متن مقدمہ کے مطابق جہاں چھاپہ مار کر چاروں مسافروں کو آف لوڈ کرکے پوچھ گچھ کی گی، انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ تمام مسافر عمرہ ویزوں پر سعودی عرب جا رہے تھے اور کاؤنٹر کے اہلکار انضمام الحق (ایف سی) نے انہیں مزید جانچ پڑتال کے لیے سیکنڈ لائن افسران کے حوالے کیے بغیر کلیئر کیا۔
مزید انکشاف ہوا کہ مسافر عمرہ ویزہ (سنگل انٹری کیٹیگری) پر سفر کر رہے تھے جبکہ امیگریشن کے دوران مسافروں کے لیے یہ غلط تاثر پیدا کرنا کہ وہ دوبارہ سعودی عرب میں داخل ہو رہے ہیں۔
ایس او پی کے مطابق مسافر لو پروفائل تھے جنکی پروفائل ایل ایل کے تحت سیکنڈ لائن آفیسر کے حوالے کرکے دوبارہ پروفائلنگ ضروری تھی،
مسافروں نے پوچھ گچھ کے دوران انکشاف کیا کہ ان سے یونس خان نامی ایجنٹ نے رابطہ کرکے سعودی عرب، مصر، لیبیا کے راستے یورپ میں داخلے کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
مسافروں نے مزید انکشاف کیا کہ بورڈنگ پاسز کے اجراء کے بعد ایجنٹوں نے انہیں خاص طور پر ہدایت کی کہ وہ کلیئرنس کے لیے امیگریشن کاؤنٹر نمبر 13 جہاں انضمام الحق ایف سی تعینات ہوگا اُس پر جائیں تاکہ مزید جانچ پڑتال اور پروفائلنگ سے بچا جا سکے۔
متن مقدمہ کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن اہلکار انضمام الحق نے انکشاف کیا کہ اے ایس آئی محمد عالم جو ایئرپورٹ پر ہی امیگریشن شفٹ اے اراییول میں بطور کاؤنٹر اہلکار تعینات ہیں۔ اُس کے کہنے پر کلئیر کیا،
امیگریشن اہلکاروں انضمام الحق (ایف سی ) اور اے ایس آئی محمد عالم کو مسافروں سمیت تحویل میں لیکر قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل اسلام آباد کے حوالے کردیا۔
کارروائی کے دوران مسافروں کے چار موبائل فون بھی تحویل میں لے لیے گیے۔
ادھر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی ابتدائی تفتیش میں امیگریشن کاؤنٹر پر تعینات اہلکار ایف سی محمد انضمام الحق کے ہوش ربا انکشاف سامنے آئے ہیں جسکے مطابق امیگریشن اہلکار انظمام الحق نے بتایا کہ اس سے امیگریشن اراییول کے اے ایس آئی محمد عالم نے چار مسافروں کو 30 ہزار روپے فی مسافر کے عوض کلیئر کرنے کے لیے کہا جبکہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن میں تعینات اے ایس آئی محمد عالم نے انکشاف کیا کہ اس سے ایف آئی اے اسلام آباد زون میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل نے رابطہ کیا اور چاروں مسافروں کی کلیرینس 80 ہزار روپے فی مسافر میں ڈیل طے کی۔
اے ایس آئی محمد عالم نے مزید انکشاف کیا کہ ہیڈکانسٹیبل محمد اسماعیل نے ایجنٹ کے ساتھ یہ ڈیل 15 لاکھ روپے میں طے کی اور محمد اسماعیل کے ساتھ ملکر ایک ہفتے میں اس سے پہلے 12 مسافروں کو کلیئر کیا۔
ان 12 مسافروں کو بھی اسی امیگریشن اہلکار انظمام الحق ایف سی نے 30 ہزار فی مسافر نقد لے کر کلیئر کیا۔
ایف آئی آر میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل نے اے ایس آئی محمد عالم کو لاکھوں روپے دیے جبکہ ساڑھے پانچ لاکھ اسکی جانب بقایا ہے اور ایجنٹ ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل سے براہ راست رابطے میں تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن اہلکاروں ایف سی انضمام الحق اور اے ایس آئی محمد عالم سمیت زون میں تعینات ایف آئی اے کے ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل کے خلاف رشوت ستانی و انسانی سمگلنگ میں سہولت کاری وغیرہ کے جرم میں مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ انسانی سمگلنگ کے حوالے سے انسداد انسانی سمگلنگ سیل نے بھی ملزمان کے خلاف الگ سے کاروائی شروع کردی اور تفتیش کے دوران مزید انکشافات کی توقع ہے۔
ادھر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کا کہناتھاکہ ایف آئی اے میں کالی بھیڑوں کی کوئی گنجائش نہیں، غیرقانونی کاموں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔
Source link
Today News
سالانہ 60 ارب کی گیس چوری ہوتی ہے نقصان صارفین پر ڈالتے ہیں، سوئی گیس حکام کا اعتراف
اسلام آباد:
سوئی گیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں سالانہ 60 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے جس میں 30 ارب سوئی ناردرن اور 30 ارب سوئی سدرن سے چوری ہوتی ہے اوگرا کی حد تک نقصانات کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جاتا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس معنقد ہوا۔ اجلاس میں گیس کے معاملات پر بات ہوئی۔
سوئی گیس حکام نے انکشاف کیا کہ سوئی ناردرن کا گیس چوری اور نقصانات سے 30 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔
ایم این اے گل اصغر خان نے کہا کہ گیس کی چوری کے نقصان کے 30 ارب روپے صارفین پر ڈالے جاتے ہیں، صنعتی صارفین گیس چوری کرتے ہیں اور اسے گھریلو صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔
سوئی گیس حکام نے کہا کہ اوگرا کی مقررہ حد تک نقصانات صرف صارفین پر ڈالتے ہیں، ترقیاتی یافتہ ممالک میں بھی گیس سیکٹر میں یو ایف جی 6 فیصد تک ہوتی ہے جب کہ سوئی سدرن کا گیس چوری کا معاملہ 10 فیصد سے زائد ہے، سوئی سدرن سے 30 بی سی ایف گیس چوری ہورہی ہے، سوئی سدرن سے بھی سالانہ 30 ارب روپے کی گیس چوری اور نقصانات ہورہے ہیں۔
اجلاس میں قائمہ کمیٹی میں پٹرولیم کمپنیوں کے انرجی ٹریننگ فنڈز کا معاملہ زیر بحث آیا۔
سید نوید قمر نے کہا کہ جس مقصد کے لیے رقم جمع ہوئی اس کے لیے استعمال نہیں ہوئی، پالیسی سازی نہ ہونے سے وجہ سے یہ نااہلی سامنے آ رہی ہے، ٹریننگ فنڈ پر صوبوں کو بھی کمیٹی میں بلا کر پوچھنا چاہئیے۔
پیٹرولیم حکام نے کہا کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں تاکہ رقم کے استعمال کا کوئی پلان بنا سکیں۔ اس پر نوید قمر نے کہا کہ آخر کب تک پلان بنائیں گے؟ ہم اپنا صبر کھو رہے ہیں۔
Today News
ملک میں اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں، وفاقی وزیر صحت
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بتایا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریباً 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں اور اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں۔
قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صحت کے شعبے سے متعلق ریگولیٹری اور پالیسی امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ملک میں ایچ آئی وی کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے وزارت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں خامیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ طلب کردہ متعدد تفصیلات رپورٹ میں شامل نہیں کی گئیں جن میں صوبہ بلوچستان سے متعلق ایچ آئی وی کا ڈیٹا بھی شامل ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ نیشنل ایڈز پروگرام کے تحت فی مریض سالانہ تقریباً 300 تا 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں، ارکان نے نشان دہی کی کہ سندھ اور پنجاب سے تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ایچ آئی وی مریض رپورٹ ہوئے ہیں، جو تقریباً 75 فیصد بنتے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے وضاحت کی کہ اس وقت 84 ہزار افراد ایچ آئی وی کے زیر علاج ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 19-208 میں 20 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2024 کے پہلے نو ماہ میں 9 ہزار 700 کیسز سامنے آئے، کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ نشتر اسپتال میں ایچ آئی وی مثبت قرار دیے گئے 31 مریضوں کے علاج کی پیش رفت سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
مزید برآں ضلع سرگودھا (کوٹ مومن) میں 19-2018 کے دوران رپورٹ ہونے والے 5 ہزار کیسز میں سے 669 کیسز کا ڈیٹا بھی دستیاب نہیں تھا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2019 میں 24 ہزار مریض علاج کے لیے رجسٹر ہوئے، کمیٹی ارکان نے اعتراض کیا کہ طلب کردہ اعداد و شمار اور اسباب سمیت متعدد پہلو وزارت کی رپورٹ میں مناسب طور پر شامل نہیں کیے گئے۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وضاحت کی کہ وزارت کی جانب سے ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد 24 سے بڑھا کر 127 کرنے کے نتیجے میں زیادہ افراد کی اسکریننگ ہوئی، جس سے کیسز کی نشان دہی میں اضافہ ہوا۔
وزارت نے آگاہ کیا کہ ملک بھر میں اسکریننگ اور آگاہی اقدامات جاری ہیں جبکہ پروگرام سے متعلق امور، فنڈز اور نگرانی کے نظام سے متعلق تفصیلات آئندہ بریفنگ میں فراہم کی جائیں گی۔
چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس سے قبل مجموعی پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے، این جی اوز کو دی جانے والی فنڈنگ، پروگرام پر عمل درآمد بالخصوص ایچ آئی وی سے متعلق امور اور منصوبہ جاتی آپریشنل بریفنگ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔
وزیر صحت نے کہا مفروضے کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی کے تین لاکھ مریض ہیں، گلوبل فنڈ 25 فیصد فنڈ گورنمنٹ کو 75 فیصد فنڈ این جی اوز کو دیا جا رہا ہے، ابھی آپ کو کیسز اور زیادہ ملیں گے، 90 فیصد لوگ میڈیکل وجوہات پر ڈی پورٹ ہو رہے ہیں، ڈی پورٹ ہونے والوں کی اسکریننگ ہو گی۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں ایک ہی جگہ پر بچوں میں مرض پایا گیا جہاں غلط سرنجز لگائی گئیں،کراچی بنارس کے علاقے میں 70 مریضوں میں تشخیص ہوئی اور ڈی جی ہیلتھ کو کراچی بھیجا۔
پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس کے حوالے سے وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جنگ ابھی جاری ہے اور انہوں نے ہار نہیں مانی اور تجویز دی کہ اس معاملے کو آئندہ ان کیمرہ اجلاس میں زیر غور لایا جائے۔
وزیر صحت نے کہا کہ نرسنگ کونسل کا اتنا بڑا مافیا ہے، ملک کا تماشا ہے،کتنا بڑا اسٹیک ہے معتبر نام انگلی پکڑ کر چلتے ہیں اور عدالت نے بغیر سنے حکم امتناع دیا ہے، اراکین کمیٹی نے کہا کہ ایکٹ میں تجویز دینا چاہتے ہیں۔
رکن کمیٹی شازیہ سومرو نے ذرائع کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا کہ نئی تشکیل شدہ کونسل میں گلگت بلتستان اور بلوچستان سے بعض ارکان کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں اور مطلوبہ اہلیت موجود نہیں، جس پر کمیٹی نے معاملے کی چھان بین کی ہدایت کر دی۔
وزارت کے بجٹ کے حوالے سے مصطفی کمال نے کہا کہ مجھ سے قبل 21 ارب روپے بجٹ تھا، جب مجھے وزارت ملی تو ہمیں صرف 14 ارب روپے بجٹ میں دیے گئے،کوئی نئی اسکیم گزشتہ سال پاس نہیں کی گئی، تین ہفتے قبل تین ارب روپے کی اسکیمیں مںظور کی گئی ہیں۔
اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی اور نگرانی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ارکان نے کلینیکل نگرانی اور نفاذ کے اقدامات سے متعلق پیش رفت، رپورٹنگ میں تاخیر اور نامکمل معلومات پر تشویش کا اظہار کیا، وزارت نے بتایا کہ بعض امور مزید جائزہ اور وقت کے متقاضی ہیں۔
Source link
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech4 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims