Connect with us

Today News

بہادر کشمیری رہنما اشفاق مجید وانی کی شہادت کو 36برس بیت گئے

Published

on


بہادر کشمیری رہنما اشفاق مجید وانی کی شہادت کو 36برس بیت گئے ہیں۔ اشفاق مجیدوانی نے نوجوان نسل کو بیدارکیااورتحریک آزادی کشمیرمیں نئی روح پھونک دی۔

1980کی دہائی کےآخرمیں ابھرنےوالی نوجوان مزاحمتی قیادت کااہم نام اشفاق مجید وانی تھےجنہوں نےسیاسی شعوراوربیداری کو تقویت دی۔ اشفاق مجیدوانی دین اورفکرِاقبال سےمتاثرباہمت رہنماتھے جنہوں نےنوجوانوں میں آزادی اورحریت کا جذبہ پیدا کیا۔

30 مارچ 1990 کوسرینگر کے علاقےحوال میں بھارتی قابض فورسز نےبزدلانہ کارروائی کرتےہوئےانہیں گھیرلیا۔ اشفاق مجیدوانی قابض بھارتی فوج کےخلاف آخری دم تک بہادری سے لڑتےہوئے شہیدہوگئے۔

ان کی شہادت نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کونئی طاقت دی اور مزاحمتی جذبات کو مزید مضبوط بنا دیا۔ آج بھی اشفاق مجید وانی کوکشمیری نوجوانوں کیلئےمزاحمت،حوصلے اورجدوجہد کی علامت سمجھےجاتےہیں۔

بھارتی قابض افواج کے ظلم، جبراور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کشمیری عوام کے حوصلے توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔

کشمیری عوام پاکستان کو اپنی امید اور جدوجہد کا فطری حامی سمجھتے ہیں اور ہر آزمائش میں یہ وابستگی مزید مضبوط ہوتی جاتی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس اچانک منسوخ

Published

on



صبح کی دھوپ ابھی پوری طرح پھیل بھی نہیں پائی تھی کہ کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ایک بڑا دھچکا لگا۔ جعفر ایکسپریس وہ مشہور ٹرین جو بلوچستان کے صحراؤں سے گزرتے ہوئے پشاور تک لوگوں کے خواب، کاروبار اور رشتوں کو جوڑتی ہے، آج کی سروس مکمل طور پر منسوخ کر دی گئی۔

ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹریک پر فوری مرمتی کام کی وجہ سے یہ ناگزیر فیصلہ کیا گیا، مگر مسافروں کے چہروں پر مایوسی اور غصے کی لکیریں صاف نظر آ رہی تھیں۔ اسی طرح، پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو بھی جیکب آباد ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا۔

ٹرین میں سوار مسافر گھنٹوں انتظار میں بیٹھے رہے، کچھ تو اپنے گھر والوں کو فون کر کے بتا رہے تھے کہ ’’ابھی نہیں پہنچ سکتا، ٹرین رک گئی ہے۔‘‘

ریلوے حکام نے یقین دہانی کروائی ہے کہ یہ بندش صرف ایک دن کی ہے اور کل تک سروس بحال ہو جائے گی، مگر اس ایک دن نے ہی کئی خاندانوں کے منصوبے درہم برہم کر دیے۔ کوئٹہ اسٹیشن پر صبح سے ہی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ ٹکٹ ہاتھ میں لیے مسافر کاؤنٹرز کے سامنے قطاروں میں کھڑے تھے۔

ایک بزرگ مسافر حاجی عبدالرحمان نے دل برداشتہ ہو کر کہا کہ بیٹا، میں اپنی بیٹی سے ملنے پشاور جا رہا تھا۔ تین مہینے بعد موقع ملا تھا، اب یہ ٹرین بھی نہیں چل رہی۔ ریلوے والے کہتے ہیں ٹریک کی مرمت ہے، مگر ہمارا کیا بنے گا؟

دوسری جانب نوجوان طالب علم علی حسن نے ایکسپریس کو بتایا کہ میں یونیورسٹی کے امتحان کے لیے پشاور جا رہا تھا۔ اب متبادل کیا کروں؟ بسوں میں بھی رش ہے اور کرایہ بھی ڈبل جبکہ بارشوں کی وجہ سے قومی شاہراہ بھی بند ہے۔ ریلوے حکام کو چاہیے تھا کہ پہلے سے اعلان کر کے متبادل کا بندوبست کرتے۔

دوسری جانب، جیکب آباد میں رک جانے والی ٹرین کے مسافروں کی پریشانی اور بھی زیادہ تھی۔ کچھ لوگ پلیٹ فارم پر بیٹھے انتظار کر رہے تھے تو کچھ ٹرین کے اندر ہی سو گئے۔ ریلوے اسٹاف صرف اعلانات کر رہا تھا کہ مرمت جلد مکمل ہو جائے گی۔

مسافروں کے مطابق ریلوے مسلسل بحران کا شکار ہے اور یہ صرف جعفر ایکسپریس کا مسئلہ نہیں۔ کراچی جانے والی بولان میل اور چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرینوں کی سروسز پہلے ہی کئی دنوں سے بند پڑی ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے مسافر اب شدید مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔

ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریک کی خراب حالت، پرانی لائنز اور کبھی کبھار سیلاب کی وجہ سے ایسی مرمتیں بار بار ضروری ہو جاتی ہیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ مرمت کے دوران کوئی بڑا حادثہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے، مگر مسافروں کا سوال ہے کہ کیا ہر بار مرمت کے نام پر سروس بند کرنا ہی واحد حل ہے؟

کوئٹہ ڈویژن کے ریلوے حکام نے کہا کہ مسافروں کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے، ٹریک کی مرمت ناگزیر تھی۔ تمام متاثرہ مسافروں کو ٹکٹ کی مکمل رقم واپس کر دی جائے گی اور کل صبح تک جعفر ایکسپریس معمول کے مطابق چلے گی تاہم مسافر اس پر مطمئن نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صرف رقم واپس کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا انہیں فوری متبادل ٹرانسپورٹ، بسوں کا بندوبست یا کم از کم شفاف معلومات چاہیے۔

ریلوے انتظامیہ نے رات بھر مرمت کا کام جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ریلوے ہیلپ لائن پر رابطہ کریں یا آن لائن پورٹل اور ایپلیکیشن ٹریک مائی ٹرین چیک کرتے رہیں۔

بلوچستان کے مسافر طویل عرصے سے ریلوے انفرا اسٹرکچر کی بہتری، نئی ٹرینوں اور بروقت سروس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آج کی یہ منسوخی ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر رہی ہے کہ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، ایسے اچانک فیصلے مسافروں کی زندگی کو متاثر کرتے رہیں گے۔



Source link

Continue Reading

Today News

گیس کی کمی؛ سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند اور بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ

Published

on


گیس کی کمی کے باعث ملک میں سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند اور بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ذرائع کے  مطابق آئندہ ماہ (اپریل) سے ملک بھر کے پاور پلانٹس کو صرف 80 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دستیاب ہوگی، جس کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مارچ میں ملنے والی 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور ایل این جی کی فراہمی بند ہو جائے گی۔ سی این جی سیکٹر کے لیے بھی گیس مکمل طور پر بند کیے جانے کا امکان ہے۔

پاور سیکٹر کو 25 سے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس منتقل کی جائے گی اور فرٹیلائزر سیکٹر کی گیس بھی ممکنہ طور پر بجلی کی پیداوار کے لیے مختص کی جا سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئلے سے پیدا ہونے والی 1500 سے 1800 میگاواٹ بجلی کی پیداوار بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فیصد بجلی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ساہیوال اور جامشورو کے پلانٹس کوئلے کی قلت کا شکار ہیں ۔ کوئلے کا موجودہ ذخیرہ صرف 3 سے 7 دن کے لیے کافی ہے، جس کے باعث مزید 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا امکان ہے۔

دوسری جانب ایس ایس جی سی کو بھی گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ ترجمان کے مطابق 2 گیس فیلڈز میں ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سے گیس کی فراہمی میں کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس غیر متوقع قلت کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

حادثہ کہیں بھی ہو سکتا ہے، نشے کے عادی افراد شہر کیلیے بڑا چیلنج ہیں، میئر کراچی

Published

on



کراچی:

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ حادثہ کہیں بھی ہو سکتا ہے، نشے کے عادی افراد شہر قائد کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

کلفٹن میں نجی سپر اسٹور میں آگ لگنے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے پر  میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی جاری ہے۔ تمام متعلقہ ادارے موقع پر موجود ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے نمائندے بھی وہاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد بروقت کارروائی کرتے ہوئے عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی جبکہ عمارت میں موجود 24 سے 25 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

آگ لگنے کے وقت انتظامیہ کے افراد بھی عمارت میں موجود تھے جنہیں نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

میئر کراچی نے مزید بتایا کہ واٹر باؤزرز، فائر ٹینڈرز اور ریسکیو 1122 کا عملہ بھی موقع پر موجود ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی طبی امداد کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور گرِلز نکال کر دھواں خارج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ راستے بھی بنائے جا رہے ہیں تاکہ جگہ کو جلد کلیئر کیا جا سکے۔ انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت عمارت میں ان کا کوئی ملازم موجود نہیں ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ یہ علاقہ کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام آتا ہے ۔ یہاں فائر سیفٹی آڈٹ بھی کیا گیا تھا، تاہم پھر بھی واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور مختلف عوامل کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو کا عمل جلد مکمل کرنا ترجیح ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

انہوں نے گل پلازہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا اور اسی طرز پر یہاں بھی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ شہر بھر میں ڈپٹی کمشنرز اور دیگر ادارے فائر سیفٹی آڈٹ کر رہے ہیں ۔ صدر میں ایک مارکیٹ کو آڈٹ نہ ہونے پر سیل بھی کیا گیا تھا۔ بعض اوقات عوام کے مفاد میں سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

میئر کراچی نے نشے کے عادی افراد کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد اکثر ایسی جگہوں پر پہنچ جاتے ہیں جہاں لوہا یا دیگر سامان موجود ہو۔ گل پلازہ میں دوبارہ آگ لگنے کی ایک وجہ بھی یہی عناصر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے وزیر داخلہ سے بات کی گئی ہے، انہوں نے پولیس کو نشے کے عادی افراد اور منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین بعد میں کیا جائے گا اور مکمل قابو پانے کے بعد تحقیقات شروع ہوں گی۔

میئر کراچی نے فائر فائٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا عملی کام قابل تعریف ہے ، جسے سراہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کی جانب سے فائر فائٹرز کو آلات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ یہ ادارہ ہر حال میں کام کر رہا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ ہو یا ایکسپورٹ پروسیسنگ زون، بہادر فائر فائٹرز ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ڈی سی ساؤتھ بھی موقع پر موجود ہیں جن کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending