Today News
تاریخ اقوام عالم – ایکسپریس اردو
مرتضی احمد میکش نے تحقیقی کام‘ 1940میں ہی مکمل کر لیا تھا۔ مگر متعدد وجوہات کی بنا پر یہ شائع تقریباً دس برس کے بعد ہوا۔ چھپنے کے لیے مسودہ‘ حیدر آباد کی ریاست میں کسی پبلشر کے پاس پڑا رہا۔ بٹوارے کے بعد ‘ بڑی مشکل سے ملا۔ یہ ایک حد درجہ سنجیدہ کتاب ہے۔
جس کی بنیاد ‘ وہ تمام مراحل ہیں‘ جن میں انسانی نسل ‘ وقت کا سفر طے کر کے ایک مرحلہ سے دوسرے ارتقائی مرحلہ میں داخل ہوتی رہی ۔ اس بلند پایہ کام پرمرتضی صاحب نے جتنی محنت کی ہے‘ وہ نسخہ کے حجم ہی سے معلوم پڑ جاتی ہے۔ اسے پڑھنا‘ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمیں معلوم پڑ سکے‘ کہ ہم کس کس دور سے نکل کر آج کے وقت میں براجمان ہیں۔ طالب علم کی نظر میں یہ ایک قیمتی کاوش ہے۔ اس کی قدر ہونی چاہیے۔
چند اقتباسات ‘ زیر تحریر کرتا ہوں۔
پتھر کا زمانہ قدیم: دس ہزار ق م سے پانچ ہزار سال ق م تک۔ یورپ کی سرزمین پے اسپ خوروں کی یلغار ۔ اس دور کی ابتداء یورپ کی سرزمین پر اسپ خور(گھوڑے کھانے والے) شکاری انسانوں کی یلغار سے ہوتی ہے جو یوریشیا کے سرسبز میدانوں سے چل کر یورپ کی سرسبز زمین میں جنگلی گھوڑوں کا شکار کھیلتے ہوئے کوہستان پرنبیر تک جا پہنچے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ شمالی میدان اعظم میں جو سائیبیریا کے جنوبی حصوں ترکستانات اور وسطی روس پر مشتمل ہے‘ گھوڑوں کی نسلیں بہت افراط کے ساتھ پل رہی تھیں جو یورپ کے میدانوں کی طرف پھیلتی چلی گئیں۔ اسپ خور (گھوڑے کھانے والے) قوم کے لوگ انھی کے پیچھے یورپ میں پہنچے۔ ان کی یلغار کا سراغ ان کے اوزاروں سے ملتا ہے۔ جو افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا کے ان باشندوں کے اوزاروں سے ساخت میں بہت مختلف ہیں۔
دھات کا زمانہ :دو ہزار ق ۔ م سے ایک ہزار ق۔ م تک۔ کے دور میں جنوب مغربی ایشیا‘ مصر ‘ جزائر ایجئنین‘ یورپ کے ممالک‘ وسط ایشیا اور چین تک کے آثار میں تانبے کے اوزار کثرت سے ملتے ہیں جو اس دور کی صنعتی ترقی کا پتا دے رہے ہیں۔ تانبے اور سونے کا رواج تین ہزار سال ق م بلکہ اس سے بھی پہلے شروع ہو چکا تھا۔ تانبا اور سونا دونوں نرم دھاتیں ہیں جن سے تیز دھار اوزار جو شکار اور جنگ میں کام دے سکیں نہیں بنائے جاسکتے تھے۔ اس لیے ان سے جو اشیاء بنائی جاتی تھیں، وہ محض آرائشی اور نمائشی ہوتی تھیں۔
لوہے کا زمانہ ( پہلی صدی سے 200عیسوی تک) دین مسیحی کے پیروؤں کی سرگرمیاں تاریخ عالم میں بہت سے انقلابوں اور حادثوں کا موجب بنتی رہیں۔ نوع انسانی کی بڑی بڑی اقوام نے اس مذہب کو قبول کیا جس کے پیروکار آج بھی دنیا میں بھاری تعداد میں موجود ہیں۔ دین مسیحی جس شخصیت کی زندگی کے واقعات اور تعلیمات پر مبنی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے حالات عیسائیوں اور مسلمانوں کی مذہبی کتابوں سے معلوم ہوجاتے ہیں۔
بارود کا زمانہ:دور استعمار (1500سے 1800تک) فرنگستان (یورپ)کے باشندوں جو صدیوں سے غیر متمدن زندگی بسر کرتے چلے آرہے تھے۔ گیارہویں صدی کے اواخر اور بارھویں صدی کے آغاز میں اس طالع آزمانا اضطراب کی علامات ظاہر ہونے لگی تھیں جو قوموں کو دوسرے ملکوں کی فتح و تسخیر کے لیے ابھارتا اور تاریخی انقلابات کا موجب بنتا رہا ہے۔ اس دور میں اقوام فرنگ نے اقتصادی مشکلات سے متاثر اور مذہبی جوش کے جذبے سے سرشار ہو کر مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں کی ایک طویل اور مسلسل معرکہ آرائی شروع کر دی۔
1050 سے لے کر 1250 تک دو سال کے عرصے میں اہل فرنگ نے ایشیا پر چڑھائی کرنے کے لیے بار بار اور لگاتار کوششیں کیں لیکن طاقتور اسلامی تمدن کی دیوار میں شگاف ڈال کر آگے بڑھنے کے لیے راستہ نکالنے میں انھیں ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس لیے یورپ کے لوگ دو صدیوں کے لیے تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ ان دو صدیوں میں اہل فرنگ کی عملی قوتیں زیادہ تر اپنے داخلی امور اور اندرونی تحریکات میں صرف ہوتی رہیں جو مذہبی اصلاح‘ معاشرتی اضطراب اور اقتصادی مشکلات کے باعث پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ تھیں۔ یہ دور اہل فرنگ کی فکری اور علمی قوتوں کی ابتدائی بیداری کا زمانہ ہے۔
دور ایجادات :(1800 سے 1845 تک) انیسویں صدی ‘ نپولین اعظم کا عروج و زوال: انقلاب فرانس کے بعد فرانس اور یورپ کی شاہی حکومتوں کے درمیان پیہم جنگوں کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ 1802میں ایمیز کے صلح نامہ پے جا کر اختتام پذیر ہوا ۔ فرانس کے قونصل نمبر ایک نپولین بونا پارٹ نے جسے ملک کے دستور حکومت میں آئینی ڈکٹیٹر کی حیثیت حاصل تھی جنگوں سے فراغت پا کر داخلی انتظامات کی طرف توجہ مبذول کی۔ کلیسا کے نظام کو از سر نو برقرار کیا۔ فراریوں کو ملک میں واپس آنے کی اجازت دی۔ اٹلی اور سوئٹزر لینڈ کی جمہوریتوں کے نظام کی اصلاح کی طرف توجہ مبذول کی جو فرانس کے زیر اقتدار آ چکی تھیں۔
جزائر غرب الہند کے ایک جزیرہ ہیٹی کے اصلی باشندوں کی بغاوت فرو کرنے کے لیے فوجیں بھیجیں لیکن کامیابی نہ ہوئی اور ہیٹی میں آزاد جمہوریت قائم ہو گئی۔ برطانوی حکومت نے معاہدہ تو کر لیا تھا لیکن انگریزوں کا دل فرانسیسیوں کی طرف سے صاف نہ ہوا تھا۔ انگریزوں نے معاہدہ کی شرط کے خلاف مالٹا پر اپنا قبضہ جمائے رکھا اور 1803 میں فرانس کے جہازوں کی گرفتاری کا حکم صادر کر کے فرانس کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ نپولین نے وہ تمام انگریز جو فرانس کی سرزمین میں سیر و سیاحت یا تجارت کی غرض سے آئے ہوئے تھے گرفتار کر لیے۔ ہالینڈ فرانس کا ساتھی بن گیا۔
جوہری آتش کا زمانہ: اقوام متحدہ کی تنظیم‘ اپریل 1945 میں جب کہ جرمنی‘ اٹلی اور جاپان کی فوجیں جنگ کے ہر تھیٹر میں پسپا ہو رہی تھیں اور صاف نظر آ رہا تھا کہ محوری طاقتوں کا ہار مان لینا اب کوئی دن کی بات ہے تو اتحادی اقوام کے قائدین رزم نے امریکا کے شہر سان فرانسسکو میں ایک بزم منعقد کی جس کا مقصد دنیا میں امن قائم کرنے اور امن قائم رکھنے کی تدابیر سوچنا تھا۔ کوئی اکاون قوموں کے نمائندے اس کانفرنس میں شریک ہوئے اور قرار پایا کہ امن کی خاطر اقوام متحدہ کی ایک انجمن بنائی جائے۔ 10جنوری 1926 کو یو این او یعنی تنظیم اقوام متحدہ کا پہلا اجتماع بہ مقام لندن منعقد ہوا جس میں اکاون قوموں کے نمائندے شامل ہوئے۔ اس اجلاس میں طے ہوا کہ یو این او کی جنرل اسمبلی کا اجلاس سال بہ سال منعقد ہوا کرے۔
جس میں بین الاقوامی اہمیت کے تمام مسائل زیر بحث لائے جائیں۔ اس کے علاوہ ’’سلامتی کونسل‘‘ کے نام سے ایک مستقل مجلس قائم کر لی جائے جس کا کام دنیا کا امن قائم رکھنے کے لیے کوشاں رہنا اور قوموں کے متنازعہ امور کا تصفیہ افہام و تفہیم سے کرانا ہو۔ اس کے ساتھ ہی اقتصادی اور معاشرتی امور کی ایک کونسل بنائی گئی۔ ایک کونسل تولیت یعنی ٹرسٹی شپ کی بنائی گئی جس کا وظیفہ محوری ملکوں کے سابقہ مقبوضہ ملکوں کی نگرانی قرار پایا۔ ان کے علاوہ اور کونسلیں‘ مجلسیں‘ ماتحت کمیٹیاں‘ ادارے اور کمیشن بنائے گئے۔ ایک کمپنی انسانیت کے بنیادی حقوق معین کرنے کی غرض سے قائم کی گئی اور ایک کمیشن ایٹم کی طاقت پر بین الاقوامی کنٹرول قائم کرنے کی غرض سے بٹھایا گیا۔
اس ضخیم کتاب کو پڑھنے سے قاری کی آنکھیں کھل جاتی ہیں کہ آج کا جدید سائنسی دور کن کن مشکل اور محیر العقول مراحل سے نکل کر اس شکل تک پہنچا ہے۔ یہ علم سے بھرپور کتاب ہے۔ کوشش کیجیے کہ اسے ڈھونڈ کر پڑھیں۔
Today News
وی آئی پی کلچر کے خاتمے سے کفایت شعاری ممکن
حکومتوں نے دکھاوے کی کفایت شعاری کے لیے متعدد فیصلوں کا اعلان تو کیا مگر سرکاری طور پر نہ ہی وی وی آئی پی کلچر کو محدود کیا جس سے کفایت شعاری برائے نام ہوئی اور وی آئی پی کلچر پر تو کوئی اثر پڑا ہی نہیں، جس کا واضح ثبوت وزیراعظم کا حالیہ دورہ کراچی تھا جس پر لوگوں کی نظر تھی اور وہ گن رہے تھے کہ وی وی آئی پی پروٹوکول میں کتنی سرکاری و غیر سرکاری گاڑیاں ہیں جو گننے والوں کے مطابق 37 تھیں ۔تنقید کرنے والے کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم کو رمضان المبارک سے قبل سانحۂ گل پلازہ کے موقع پر کراچی آنا چاہیے تھا جہاں بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور کروڑوں روپے کا نقصان ہوا تھا ۔
وزیراعظم کے دورے میں کوئی سرکاری پروگرام نہیں تھا، بس وہ سینیٹر شیری رحمن کے گھر ان کی صاحبزادی کی وفات پر اظہار تعزیت اور پی پی رہنما فریال گوہر کی صاحبزادی کی شادی کی مبارک باد کے لیے کراچی آئے تھے اور چلتے چلتے ایئرپورٹ پر ایم کیو ایم کی قیادت کو بھی ملاقات کا شرف بخشا ۔
پی پی رہنماؤں سے ملاقات وزیراعظم کے دورے کے شیڈول کا حصہ تھی ۔میرے خیال میں وہ کراچی آئے تھے تو شہر کے نمائندوں کو بھی وزیر اعظم سے ملاقات کرکے کراچی شہر کی ابتر حالت سے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ اگر ملاقات ہوتی تو کراچی میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے جاری منصوبوں میں بہت زیادہ تاخیر اور شہریوں کو درپیش مسائل سے وزیراعظم کو آگاہی دی جاتی مگر کسی نے بھی وزیر اعظم سے ملاقات کرنے کی کوشش نہیں کی ،لگتا ہے کہ عوامی نمائندوں کو شہر کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ وزیراعظم مہینوں بعد کراچی کا یہ سیاسی دورہ کرکے واپس اسلام آباد لوٹ گئے ۔
جہاں ترقیاتی منصوبے ہفتوں میں مکمل کرلیے جاتے ہیں اور کراچی میں منصوبے سالوں سے زیر تعمیر ہیں جن کی تکمیل کی سندھ حکومت کو ہی فکر نہیں تو وفاقی حکومت کو کیوں ہوگی اور نہ کراچی کے منصوبوں کی تکمیل وفاقی وزراء کی ذمے داری ہے۔ وزیر داخلہ کو جب پنجاب کی ذمے داری ملی تھی تو انھوں نے پنجاب میں اپنی کارکردگی دکھائی تھی اور اب وہ اسلام آباد میں اپنی ذمے داری پوری کرکے وہاں وفاقی منصوبوں کو قبل از وقت تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔
ملک میں عشروں سے جاری وی وی آئی پی پروٹوکول اور وی آئی پی کلچر کم ہونے پر کوئی سرکاری توجہ نہیں ہے۔ صرف 1985 میں ملک میں مارشل لاء کے باوجود وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اس کلچر کے خاتمے پر توجہ دی تھی اور ملک کے ہر شعبے کے اعلیٰ افسران کے لیے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی پالیسی دی تھی جس پر خود بھی عمل کیا تھا اور سرکاری عہدیداروں سے بھی عمل کراکر دکھایا تھا مگر 1988 میں ان کی حکومت ختم کردی گئی تھی کیوں کہ ملک کے وزیراعظم سے بڑوں کو وہ پالیسی پسند نہیں تھی جس کے بعد سے سرکاری طور پر مہنگے سے مہنگی کاریں فروغ پا رہی ہیں اور سندھ و پنجاب وکے پی میں سب سے زیادہ اور بلوچستان میں کچھ کم وی وی آئی پی کلچر بڑھ رہا ہے اور 17گریڈ تک کے افسروں کو بھی مہنگی گاڑیاں فراہم کردی گئی ہیں جن میں نمایاں اسسٹنٹ کمشنر ہیں جب کہ ملک بھر میں ڈپٹی کمشنروں کی رہائش گاہیں ان کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں سہولتیں اور مراعات ہر دور میں عوام دیکھ اور بھگت رہے ہیں۔
جن کی زندگی عوامی ٹیکسوں پر شاہانہ گزر رہی ہے۔ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرول گیس کے بحران کے باعث حکومت پاکستان نے بھی کفایت شعاری کا اعلان اور سرکاری و عوامی تقریبات کے انعقاد پر کچھ پابندیاں عائد کی تھیں مگر ملک کے تاجروں کے آگے وفاقی و صوبائی حکومتیں اتنی مجبور بے بس ہیں کہ کاروباری اوقات مقرر یا ان پر عمل نہیں کرا پا رہی کیوں کہ تاجروں کو ملک سے زیادہ اپنے کاروباری مفادات عزیز ہیں جس کی وجہ سے جزوی لاک ڈاؤن بھی نہیں لگا پا رہیں اور وفاقی حکومت کا بھی صوبائی حکومتوں پر بھی اثر نہیں اور وفاقی حکومت صوبوں پر حکم نہیں چلاسکتی۔ صرف صوبوں سے درخواست ہی کرسکتی ہے۔ صوبائی حکومتیں مالی طور پر وفاق سے زیادہ مستحکم ہیں جہاں کے حکمران اپنے اپنے صوبوں میں کمال بااختیار اور شاہانہ اخراجات میں آزاد اور وی وی آئی پی پروٹوکول انجوائے کررہے ہیں۔
خواہ پنجاب حکومت اربوں کا جہاز خریدے یا کے پی حکومت اپنے مال سے اپنے ورکروں میں کروڑوں روپے بانٹے اور سندھ کی حکومت ہر محکمے میں اپنے جیالے ضرورت سے زیادہ بھرے اور جس کو چاہے حکومتی عہدوں سے نوازے۔ بلوچستان حکومت بھی دیگر صوبوں کے ہی نقش قدم پر چل رہی ہے۔ایران جنگ کی وجہ سے حکومت پاکستان کو پٹرولیم مصنوعات کے باعث کفایت شعاری کا خیال آیا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں نے متعدد اعلانات تو کیے مگر وی آئی پی کلچر کے خاتمے اور سرکاری پروٹوکول میں کمی کا کوئی اعلان نہیں ہوا جس کے بغیر کفایت شعاری ممکن ہی نہیں اور حکمرانوں کی سادگی کی صرف باتیں ہیں کیوں کہ ان کی سادگی دکھاوے کے لیے صرف اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دکھائی جاتی ہے اور اقتدار میں آتے ہی انھیں نئی سرکاری گاڑیاں اور زیادہ سے زیادہ پروٹوکول مطلوب ہوتا ہے، البتہ نئے نئے سوٹ انھیں خود سلوانے پڑتے ہیں اور ان کی سادگی ختم ہوجاتی ہے۔
Today News
islamabad talks not an event but process irani ambassador
پاکستان میں تعینات ایرانی سفری رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ تمام فریقین کے مفاد کے لیے ایک مضبوط فریم ورک تیار کرنے کے لیے سفارتی عمل کی بنیاد ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں رضا امیری مقدم نے کہا کہ یہ مذاکرات کسی ایک وقتی ایونٹ کے بجائے ایک مسلسل سفارتی عمل کی حیثیت رکھتے ہیں، مذاکرات نے مستقبل میں پیش رفت کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے، جو باہمی اعتماد اور سنجیدہ سیاسی عزم کے ذریعے تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برادر ملک پاکستان اور خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مذاکرات کے انعقاد میں نیک نیتی اور مثبت کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت، افواج، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی انتھک کاوشوں کے باعث مذاکرات ایک پرامن، منظم اور محفوظ ماحول میں منعقد ہوئے جہاں دونوں فریقین کو یکساں سہولیات فراہم کی گئیں اور مہمانوں کے لیے باوقار ماحول یقینی بنایا گیا۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایرانی اعلیٰ سطح کے مذاکراتی وفد نے وقار، خوداعتمادی اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا اور عوامی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی مفادات اور عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور باوقار انداز میں گفتگو کی۔
The Islamabad Talks is “not an event but a process.”
The Islamabad Talks laid the foundation for a diplomatic process that, if trust and will are strengthened, can create a sustainable framework for the interests of all parties.I would like to express my gratitude to the… pic.twitter.com/qzCb1xYzPh
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) April 12, 2026
خیال رہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر پرمشتمل تھا، جنہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں وفد کے ساتھ مذاکرات کیے تاہم حتمی معاہدہ نہیں ہوپایا۔
ایرانی وفد دو روزہ دورے کے بعد واپس ایرانی روانہ ہوگیا جبکہ امریکی وفد ان سے قبل امریکا واپس گیا تھا۔
Today News
جے ڈی وینس سمجھتے ہیں ایران سے معاہدہ ممکن ہے، امریکی عہدیدار
امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ بدستور ممکن ہے لیکن ایران نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر نتیجہ خیز بنائے بغیر واپسی کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان بدستور موجود ہے۔
عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذاکرات کا خلاصہ بتایا کہ امریکی وفد کی سربراہی کرنے والے جے ڈی وینس نے مذاکرات کیے تھے اور ان کا خیال ہے کہ ایران نے مذاکرات میں لین دین کے حوالے سے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران وسیع مسائل پر حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ان مسائل میں ایران کی یورینیم افزودگی کا خاتمہ، وسیع پیمانے پر امن کا فریم ورک بشمول خطے میں اتحادیوں اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایک حل شامل ہے، جس میں ٹول فیس کی وصولی شامل نہ ہو۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہے تھے، امریکی وفد میں جے ڈی وینس کے علاوہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف شامل تھے جبکہ ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی اور دیگر شامل تھے۔
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Today News2 weeks ago
امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار
-
Sports2 weeks ago
Lahore Qalandars imposes Rs1 million fine on captain Shaheen Afridi over security protocol breach
-
Today News2 weeks ago
خیبرپختونخوا میں بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات سامنے آ گئی
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka sinks Gauff to clinch second straight Miami Open title
-
Sports2 weeks ago
England Test captain Stokes sidelined as he recovers from injury