Today News
تاش کا پتہ، آبنائے ہرمز
اس جنگ میں ہم نے ابھی قدم رکھا ہی نہیں، ہمارے فیض احمد فیض کی ان سطروں کی مانند۔
تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی
جس میںرکھا نہیں ہے کسی نے قدم
کوئی اترا نہ میدان میں دشمن نہ ہم
کوئی صف بن پائی، نہ کوئی الم
منتشر دوستوں کو صدا دے سکا
اجنبی دشمنوں کا پتہ دے سکا
یہ ہیں اکیسویں صدی کی جنگیں، فضاؤں میں فیصلے ہوجاتے ہیں۔ نہ توپوں کی گرج ، نہ ٹینکوں کے جتھے، ابھی زمینوں پر یہ جنگ اتری نہ ہو، کوئی انفینٹری، کوئی کیولری ترتیب لے رہی ہو، تو اس سے پہلے فیصلے ہوجاتے ہیں۔
پوری دنیا ایک دم سے براہ راست یا بلواسطہ جنگ سے متاثر ہوئی ہے۔ اہل وطن سے زیادہ کون سمجھے گا یہ حقیقت جن کو تیل کی اب وہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے جو کسی بھیانک خواب سے کم نہیں۔
پہلا کام جو اس بار ہوا ہے وہ آپ کو سمجھانے کے لیے ایک حوالہ دیتا چلوں،جب چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ضد پکڑ لی تھی کہ وزیر اعظم نوازشریف کے ساتھ دو دو ہاتھ ہوجائیں تو خود ان کے باقی ججوں کی اکثریت نے بغاوت کردی۔ یہ جو اتھارٹی ہوتی ہے، اس کے پیچھے بھی کہیں نہ کہیں مینڈیٹ ہونا لازمی ہوتا ہے۔
یہ وہ مینڈیٹ نہیں جو عوام دیتے ہیں ۔ یقینا اس کا بھی بلواسطہ کردار ہوتا ہے، لیکن اس اتھارٹی کے گرد جو باقی اہم لوگ ، ادارے یا قوتیں ہوتی ہیں جس کی مرضی سے جو سربراہ ہوتا ہے وہ اتھارٹی بناتا ہے، اس کا زبردستی پن اس اتھارٹی کو dejure اور defacto میں تبدیل کرتا ہے۔
یعنی اتھارٹی تو وہ ہوتا ہے لیکن بظاہر اندر ایک اور طاقت جنم لے لیتی ہے۔ یہ ماجرہ اب صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے جارہا ہے اور نائب صدر جے ڈی وینس اب ڈی فیکٹو اتھارٹی بن کے ابھر رہا ہے۔ خود ایران کے اندر وہ لوگ جو بات چیت کو اہمیت دیتے تھے، ان کی آواز زور پکڑنا شروع کرے گی۔
ویتنام کی جنگ میں جنرل گیاپ نے امریکا کی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے، بارہ برس تک جاری رہنے والی اس جنگ میں باون ہزار امریکی فوجی مارے گئے اور لاکھ سے زیادہ ایسے شدید زخمی ہوئے کہ باقی ماندہ زندگی اپاہج ہی رہے۔
اسرائیل نے ایران کے روحانی سربراہ کو نشانہ بنایا اور ان کے ساتھ سینئر قیادت کو بھی اڑا دیا، یہ جنگ کا پہلا دن تھا۔ مگر ایران کی حکومت گری نہیں، وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ لوگ سڑکوں پر نکلیں گی، بغاوت ہوگی۔
مگر تاحال ایسا نہیں ہوا۔ نیتن یاہو یہ گمان کررہے تھے کہ ایران کے میزائلوں کو ان کے انٹر سپٹر روک لیں گے، مگر کتنے؟ اور خود جو عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈے تھے، ایران کے میزائلوں نے ان کو نشانہ بنایا۔
ایران کے ساتھ انفارمیشن میں روس مدد کررہا تھا اور اس طرح یہ عین نشانے پر جاکر لگے۔اور اب رضا شاہ پہلوی والا پراجیکٹ خاک بسر ہوا، اب ٹرمپ پورے ایران کو تباہ کرنے کے چکر میں ہے تو اب پورا ایران متحدہوگا کیونکہ دشمن سب ایرانیوں میں اب تفریق کرنا نہیں چاہتا۔
اگر یہ جنگ نہ ہوتی تو آبنائے ہرمز بھی اس طرح چلتا رہتا اور اگر جنگ نیتن یاہو جیت جاتے یا امریکا جیت جائے، رضا شاہ پہلوی کو تو ضرور لاتے لیکن خارگ جزیرہ جہاں سے نوے فیصد ایران کا تیل نکلتا ہے وہ اپنے قبضے میں لیتے۔
آبنائے ہرمز پر امریکا چوکیدار بن جاتا، جس طرح کیوبا کی تیل کی رسد کو روکا ہے جس طرح وینزویلا سے چین کے تیل کی رسد کو روکا ہے۔ یہاں سے بھی یہی کچھ کرسکتا تھا، تو کیا چین یہ سب کچھ ہونے دے گا؟ اور اب نیتن یاہو کو بھی اسرائیل کے اندر مخالفت کا سامنا ہے۔
آبنائے ہرمز وہ تاش کا پتہ ہے جو جس کے پاس ہوگا جنگ وہی جیتے گا۔ ایران وہاں ٹول ٹیکس نہ لے سکتا اگر یہ جنگ اس پر مسلط نہ کی جاتی اور اب اس نے اس پتے کو کچھ اس طرح اپنے ہاتھ میں پکڑا ہے کہ پوری دنیا کی چیخیں نکل رہی ہیں۔
بنگلادیش اور ہندوستان کے اکثر پٹرول پمپوں پر تیل ہی نہیں اور اگر کہیں ہے تو لمبی قطاریں ہیں ۔ چلو ہمارے پاس صرف مہنگا ہوا ہے اور یہ بھی ایک طرح کی راشننگ ہے۔ پوری دنیا آبنائے ہرمز کی وجہ سے جنگ کی لپیٹ میں ہے اور اس طرح ایران کو جنگ میں فوقیت ہے۔
ہمارا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے۔ ہمیں اس جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ہماری قیادت انتہائی بردباری سے زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی مفادات کی بھرپور حفاظت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
امریکا یہ سمجھتا ہے کہ ایران ٹوٹ پھوٹ چکا ہے اب وہاں فوجیں اتاری جائیں، وہ جو اسلام آباد مفاہمت کی کوشش کرتا رہا وہ شاید کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔ صدر ٹرمپ آخری بازی لگا کر امریکا میں اپنی گرتی ہوئی مقبولیت واپس بہتر کرنے کے لیے جنگ کو اور تیز کرنا چاہتا ہے۔
بغیر یہ جانے کے ایران کوروس کبھی بھی ہارتا دیکھنا نہیں چاہتا اور خود چین بھی۔ ہندوستان جو مہینہ پہلے بھڑکیں مار رہا تھا ، اب تھوڑا خاموش نظر آرہا ہے۔ یورپ کے اندر بہت ہلچل مچی ہوئی ہے خود نیٹو سے امریکا الگ ہونا چاہتا ہے۔
دو دن پہلے سعودی عرب کے ولی عہد کو ٹرمپ نے اپنے نشانے پر رکھا، اور اب فرانس کے صدر میکرون کو وہ کسی بھی وقت کسی کی بھی پگڑی اچھال سکتا ہے۔ امریکا دنیا میں تنہا ہوتا جارہا ہے۔
مشرق وسطیٰ غیر فطری ترتیب سے بنا ہوا ہے اور اوپر سے وہ تیل سے مالا مال ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک مصنوعی ریاست اسرائیل کے نام سے مغربی طاقتوں نے ترتیب دی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں ریاستوں کو لکیر سے بنایا، نہ کوئی تاریخ کا تناظر تھا ، نہ تہذیب کے خدو خال دیکھے، نہ زبان دیکھی نہ بیان دیکھا۔
پورے خطے کو درجنوں ریاستوں میں بانٹ دیا۔ سلطنت عثمانیہ نے کیا غلطی کی، پہلی جنگ عظیم کے ایک غلط اور کمزور اتحاد میں شمولیت کی، جب ہارے تو یورپی طاقتوں نے پوری سلطنت کا بٹوارہ کردیا اور مسلمانوں کی طاقت کو بکھیر دیا۔ عرب ریاستیں امیر ہیں لیکن اپنا دفاع نہیں کرسکتیںاور اب یہ عرب ریاستیں اپنی حقیقی دفاع کے لیے سوچیں گی۔
ایک نیا معاہدہ مجھے نظر آرہا ہے ۔ جس میں خود یوکرین اور روس کی جنگ کا خاتمہ بھی ہے۔ میرے ان کالموں کو اگر آپ دیکھیں گے تو کئی ماہ پہلے میں نے لکھا تھا کہ سات اکتوبر والا حماس کا اسرائیل پر حملہ اور اس کی کڑیاں یوکرین سے جڑیں ہوئی تھیں۔
اب یا تو ایسی باتیں نیوریاک ٹائمز بھی لکھ رہا ہے، یہ الگ بات ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کا اپنا ایک تاریخی پس منظر ہے لیکن ایران کا سب سے بڑا اتحادی روس ہے ، امریکا اور اسرائیل کی چال الٹی ہوگئی جس میں سب سے بڑا ہتھیار ایران کے پاس آبنائے ہرمز وہ بھی اس لیے بن پایا کہ اس کے پاس مضبوط دفاعی ہتھیار اور اس کو مضبوط روس کے دفاعی صنعت و حکمت نے کیا ہے، خود چین نے کیا ہے۔
جو نیا معاہدہ ہے، وہ یہ ہے کہ اب امریکا دنیا کی سپر طاقت نہیں رہا۔ اب چین ، روس ، امریکا اور یورپی یونین ایک مشترکہ نظام بنائیں گے کہ دنیا پھر سے امن کا گہوارہ بنے۔ ہندوستان نریندر مودی کی سطحی سوچ اور تنگ نظری کی وجہ سے یہ تاریخی موقع گنوا بیٹھا۔
ٓٓآہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
Today News
ایران جنگ اور ملکی نقصان
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے ایک مہینے میں عرب ملکوں کو 186ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔ یہ نقصان ائیر لائن یا رئیل اسٹیٹ کا نہیں ، نہ ہوٹلنگ کا ہے اور نہ سرمایہ کاری کا ہے یہ تمام نقصانات بھی سیکڑوں ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ نقصان عرب ممالک کے توانائی اثاثوں کا ہے ۔ اور انھیں اس نقصان کو پورا کرنے میں دس سال لگ جائیں گے اور ایران کو بھی سنبھالنے میں کافی عرصہ لگے گا۔
اس جنگ کے نتیجے میں عرب ملکوں میں 37لاکھ لوگ بیروزگار ہونے والے ہیں ۔ ذرا سوچیں پاکستان کی افراد ی قوت بھی کئی ملین کی تعداد میں عرب ملکوں میں موجود ہے ۔ ذرا سوچیں اگر ان عرب ملکوں سے لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی واپس آگئے تو ان کا کیا بنے گا۔ ایک طرف بیروزگاری میں اضافہ ہو گا دوسری طرف غربت اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ 40لاکھ لوگ عرب ملکوں کے اس جنگ کے نتیجے میں غریب ہونے والے ہیں۔
جب کہ امریکا اور اسرائیل کا روزانہ جنگی خرچہ پونے چار ارب ڈالر ہے ۔ جنگ کے نقصانات وسیع پیمانے پر ہوئے ہیں، ہورہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جنگ جاری رہنے کی صورت میں ۔ عرب ممالک کی مجموعی پیداوار میں 6فیصد کمی آچکی ہے ۔ 12ملین بیرل تیل روزانہ ضایع ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ بدترین صورت حال ہے ۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ایران نے پہلے خطے کی جنگ بنا دیا ، پھر دنیا کی جنگ بنا دیا ۔ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کے اب ایران اگر ڈٹا رہتا ہے تو آخر کار امریکا میں رجیم چینج ہوگا ۔ امریکا بھر میں 70لاکھ لوگوں کی تعداد نے 3200مقامات پر احتجاج کیا ۔
ایران کے خلاف اس ننگی جارحیت کو 35دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ صاحب کا خطاب جو 20منٹ کا تھا لیکن اس خطاب میں کچھ بھی نہ تھا۔ دنیا کو یہ خوش فہمی تھی کہ وہ اپنے خطاب میں جنگ بندی کا اعلان کردیں گے اس وقت امریکی صدر پر امریکی عوام بھی اعتبار نہیں کرتے ۔ ایران میں امریکا اور اسرائیل نے 12000سے زائد جنگی حملے کیے اس میں 2000سے 5000پاؤنڈ وزنی بم برسائے گئے ۔
اس کے باوجود ایران ڈٹا ہوا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ایران کی آزادی ، خود مختاری اور بقاء کی جنگ ہے ۔ ایرانی صدر نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے کہ ہماری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ۔ کیونکہ ہم پر حملے ہو رہے ہیں اس لیے ہم بھی اپنے دفاع میں جوابی حملے کر رہے ہیں ۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایک دن میں اوسطاً 14/15بار جھوٹ بولتے ہیں۔
ایک چشم دید گواہ کے مطابق جب خامنائی شہید ہوئے تو اس نے بتایا کہ صبح کے سوا نو بجے تھے کہ ایک زبردست دھماکہ ہوا یہ اتنا شدید تھا کہ میں سوتے ہوئے اپنے بیڈ سے دو فٹ اوپر اُچھل گیا، گھر لرز رہا تھا سوتے ہوئے اچھلا اور زمین پر بچھے قالین پر گر گیا۔روس نے آیت اﷲ خامنائی کو پیشکش کی کہ وہ اپنی جان کے تحفظ کے لیے روس چلے آئیں لیکن آیت اﷲ خامنائی نے صاف انکار کردیا کہ میں اپنے عوام کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤنگا۔ خامنائی پاکستان سے بہت محبت کرتے تھے یہی حال امام خمینی کا تھا اور موجودہ مجتبی خامنائی بھی پاکستان کی محبت میں اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
آیت اﷲ خامنائی جب ایران کے صدر بنے تو وہ پاکستان کے دورے پر آئے جہاں ان کا فقیدالمثال استقبال ہوا شالیمار باغ میں اپنی تقریر میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں محمد علی جناح کا مداح ہوں اور اقبال لاہوری کا مرید ہوں ۔ اور میں لاہور شہر کو اقبال کی وجہ سے جانتا ہوں ۔ آیت اﷲ خامنائی کو اقبال کے 2000اشعار زبانی یاد تھے ۔ وہ علامہ اقبال کو اپنا مرشد کہتے تھے ۔تہران یونیورسٹی کے فردوسی ہال میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر آج اقبال زندہ ہوتے اور آج کے تہران کو دیکھتے تو ایران کو دیکھ کر فخر کرتے کہ یہ میرے خواب کی تعبیر ہے ۔ یہ ملت اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے ۔
امام خمینی نے جب سلمان رشدی کے خلاف فتوی دیا تو ایرانی علماء ان کے پاس آئے اور کہا کہ اس فتوی کو واپس لیں ۔ تو انھوں نے سوال کیا کیوں ؟انھوں نے کہا کہ اگر آپ فتوی واپس نہیں لیں گے تو اقوام متحدہ اورامریکا ہمارے خلاف ہو جائیں گے ۔ معاشی پابندیاں لگ جائیں گی اور ایران کے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ تو اس موقعہ پر ایرانی علماء سے امام خمینی نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ایران کو بچانے کے لیے ہم نے یہ انقلاب برپا نہیں کیا ہے ۔ ہم نے اسلام کو بچانے کے لیے یہ انقلاب برپا کیا ہے ۔
اس بدبخت نے ہماری سب سے مقدس ترین ہستی کی شان میں گستاخی کی ہے اور یہ کہہ کر انھوں نے اپنا فتوی لینے سے انکار کردیا کہ ایران بچے نہ بچے ، اسلام کو بچنا چاہیے۔ ایرانی فضائیہ کے چیف جنرل حاجی زادہ شہید نے دوسال پہلے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران نے 1996سے انڈر گراؤنڈ میزائل بنانے شروع کردیے تھے ۔ ان کی تعداد 351ہے اور یہ میزائل بنانے کی فیکٹریاں پہاڑوں کے اندر مختلف جگہوں پر ہیں ۔ انھوں نے کہا ہماری تیاریاں مہینوں بلکہ سالوں کی ہیں کیونکہ ہمارے پاس اسلحہ سالوں کے حساب سے موجود ہے ۔2کروڑ بسیج یعنی عوامی ملیشیاء بھی جنگ کے لیے تیار ہے ۔ 10لاکھ ایرانی فوج کے علاوہ۔
Today News
ہری پور، سٹی پولیس کی کارروائی، نازیبا ویڈیوز بنانے والا شی میل ملزم گرفتار
پشاور:
ہری پور میں سٹی پولیس نے سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی اور نازیبا ویڈیوز بنا کر عوامی اخلاقیات کو متاثر کرنے کے الزام میں ایک شی میل ملزم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس حکام کے مطابق شی میل ملزم محمد عارف عرف روشنی ولد شیر افضل خان کو کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔
ایس ایچ او سٹی صدیق شاہ کا کہنا ہے کہ شی میل ملزم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر قابل اعتراض مواد شیئر کر رہا تھا جس کے خلاف شکایات موصول ہو رہی تھیں۔
پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
Today News
ٹرمپ کی ایران کو ڈیڈ لائن، عالمی تیل مارکیٹ میں بھونچال آ گیا، قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 48 گھنٹے کی دی گئی سخت ڈیڈ لائن کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اُچھال دیکھنے میں آیا ہے، جس نے توانائی کے عالمی بحران کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت 2.35 فیصد اضافے کے ساتھ 114.16 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ عالمی معیار برینٹ کروڈ 1.72 فیصد بڑھ کر 110.91 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت الفاظ میں ایران کو خبردار کیا کہ اگر منگل تک آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو اسے جہنم کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں کے باعث اس اہم سمندری گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
یہ راستہ خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس بندش نے تاریخ کا سب سے بڑا تیل سپلائی بحران پیدا کر دیا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل، جیٹ فیول، ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی صدر پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ یہ جنگ مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہے جبکہ مالیاتی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ ماہ کے اختتام تک تقریباً ایک ارب بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس میں کروڈ آئل اور ریفائنڈ مصنوعات دونوں شامل ہیں۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports1 week ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final