Connect with us

Today News

ترقی کا فریب – ایکسپریس اردو

Published

on


یہ کیسی ترقی ہے کہ انسان جتنا آگے بڑھتا جا رہا ہے،اتنا ہی اپنے اندر سے خالی ہوتا جا رہا ہے؟ یہ کیسا زمانہ ہے جہاں مشینیں بولنے لگی ہیں اور انسان خاموش ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم نے صدیوں کا سفر تو طے کر لیا مگر اپنے ہی دل تک پہنچنے کا راستہ کھو دیا۔آج جب ہم مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل دنیا اور تیز رفتار ٹیکنالوجی کے عروج کا جشن منا رہے ہیں،تو کیا ہم نے ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچا ہے کہ اس ترقی کی قیمت کیا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو اس چمکتے ہوئے منظرنامے کے پیچھے اندھیرے میں کھڑے ہیں؟ وہ مزدور، وہ کسان، وہ چھوٹے ہنر مند جن کی محنت اس ترقی کی بنیاد ہے مگر جن کا ذکر کسی رپورٹ ،کسی سیمینار،کسی تقریر میں نہیں آتا۔

یہ ترقی ہمیں سہولت تو دیتی ہے مگر سکون نہیں دیتی۔ ہم ایک بٹن دباکر دنیا کے کسی بھی کونے میں بات کر سکتے ہیں مگر اپنے گھر کے ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جانے کی فرصت نہیں رکھتے۔ ہم ہزاروں میل دور کے لوگوں کے دکھ سن لیتے ہیں مگر اپنے قریب بیٹھے انسان کی خاموشی نہیں سن پاتے۔کہا جاتا ہے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے مگر اس گاؤں میں رشتے کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟ کیوں ایک ماں اپنے بیٹے سے بات کرنے کے لیے اس کے موبائل کا انتظار کرتی ہے؟ کیوں ایک باپ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے اس کے سوشل میڈیا پروفائل کو دیکھ کر اس کی زندگی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

ترقی دراصل ایک فریب ہے، ایسا فریب جس میں روشنی زیادہ ہے اور بصیرت کم۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔ ترقی کا پیمانہ اب انسان کی خوشی نہیں بلکہ اس کی پیداوار اس کی رفتار اور اس کی کارکردگی بن چکا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب ترقی کا مطلب یہ تھا کہ انسان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں، اس کے دکھ کم ہوں اس کے خواب پورے ہوں۔ ہمیں اپنی ترجیحات پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف تیز رفتاری ہی کامیابی نہیں بلکہ ٹھہراؤ بھی ایک نعمت ہے، اگر ہم ہر وقت دوڑتے رہیں گے تو شاید ہم اپنی زندگی کے خوبصورت لمحوں کو محسوس ہی نہ کر پائیں۔ ہمیں بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا، بزرگوں کی باتیں سننی ہوں گی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھنا ہوگا یہی وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو انسان کو مکمل بناتی ہیں اور یہی اصل ترقی کی بنیاد ہے، مگر اب ترقی کا مطلب یہ رہ گیا ہے کہ مشینیں زیادہ تیز ہو جائیں منافع زیادہ بڑھ جائے اور وقت کو اس حد تک نچوڑ لیا جائے کہ انسان خود ایک مشین بن کر رہ جائے۔

ہماری دنیا میں اب سب کچھ ڈیٹا ہے انسان بھی، اس کے جذبات بھی، اس کے خواب بھی۔ بڑی بڑی کمپنیاں ہمارے احساسات کو بھی گراف اور چارٹس میں بدل دیتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب ہماری بہتری کے لیے ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنی زندگی کے تماشائی بنتے جا رہے ہیں۔اب اسی مصنوعی ذہانت نے ایک اور خوفناک راستہ بھی اختیار کر لیا ہے، جنگوں کا راستہ۔ کبھی جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی تھیں جہاں سپاہی ایک دوسرے کے سامنے ہوتے تھے جہاں انسانی آنکھوں میں خوف اور ہمت دونوں نظر آتے تھے، مگر آج جنگیں اسکرینوں پر لڑی جا رہی ہیں، بٹن دبانے والے ہاتھ دور بیٹھے ہوتے ہیں اور مرنے والے اکثر وہ ہوتے ہیں جن کا اس جنگ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ڈرونز خودکار ہتھیار اوراسمارٹ میزائل یہ سب اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ فیصلے انسان کم اور الگورتھم زیادہ کر رہے ہیں۔ ایک مشین طے کرتی ہے کہ کون ہدف ہے اور کون نہیں۔ مگر کیا ایک مشین انسان کی جان کی قیمت سمجھ سکتی ہے؟ کیا وہ یہ جان سکتی ہے کہ جس گھر کو وہ نشانہ بنا رہی ہے وہاں ایک ماں اپنے بچے کو کہانی سنا رہی ہے، اس نے اپنے بچے کے لیے کچھ خواب دیکھے ہیں اور وہ مشین نہیں جان سکتی کہ اولاد کو کھو دینے کا دکھ کیا ہوتا ہے۔

دنیا کے مختلف خطوں میں چاہے وہ غزہ ہو یا یوکرین جنگوں کا چہرہ بدل چکا ہے۔ اب یہ صرف بارود اور گولیوں کی جنگ نہیں رہی بلکہ ڈیٹا نگرانی اور مصنوعی ذہانت کی جنگ بن چکی ہے۔ چہرے پہچاننے والے نظام نگرانی کے کیمرے اور ڈیجیٹل نقشے یہ سب مل کر ایک ایسی دنیا بنا رہے ہیں جہاں انسان ہر وقت ایک ٹارگٹ بن سکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی جنگوں میں اہداف کو آسان بناتی ہے اور اس سے غلطی کی گنجائش کم سے کم ہو جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب قتل کا عمل آسان ہو جائے جب فیصلہ کرنے والا میدان میں موجود نہ ہو تو جنگ اور بھی بے رحم ہو جاتی ہے، کیونکہ فاصلے انسان کے ضمیر کو کمزور کر دیتے ہیں۔یہ ترقی ہمیں تیز تو بنا رہی ہے مگر گہرا نہیں بنا رہی۔ ہم معلومات کے سمندر میں تیر رہے ہیں مگر حکمت کے ایک قطرے کو ترس رہے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں مگر خود کو نہیں جانتے۔کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ترقی کے نام پر ایک ایسا جال بُن لیا ہے جس میں ہم خود ہی پھنس گئے ہیں۔ ہم نے اپنی سہولت کے لیے مشینیں بنائیں اور اب وہی مشینیں ہمیں اپنی رفتار پر چلنے پر مجبور کر رہی ہیں حتیٰ کہ جنگ جیسے فیصلے بھی اب ہمارے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔مگر کیا اس کا کوئی متبادل نہیں؟ کیا ہم اس دوڑ کو تھام نہیں سکتے ،کیا ہم ترقی کی تعریف کو بدل نہیں سکتے۔ شاید ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنا ہوگا کہ ترقی کا اصل مقصد کیا ہے۔ کیا یہ صرف زیادہ پیداوار زیادہ منافع اور زیادہ رفتار ہے یا یہ ایک ایسا سماج ہے جہاں ہر انسان کو عزت ملے جہاں ہر بچے کو خواب دیکھنے کا حق ہو جہاں ہر مزدور کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ترقی انسان کو انسان سے دور کر دے، اگر یہ اسے اس کی جڑوں سے کاٹ دے، اگر یہ اسے ایک عدد ایک ڈیٹا پوائنٹ یا ایک ٹارگٹ بنا دے تو ایسی ترقی دراصل تنزلی ہے نہ کہ عروج۔ آج ہمیں مشینوں سے نہیں اپنے دل سے سوال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے کیا کھویا ہے نہ کہ صرف یہ کہ ہم نے کیا پایا ہے، کیونکہ آخر میں، ترقی کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ انسان کتنا انسان رہا اور اگر اس تمام ترقی کے باوجود انسان ہی کھو جائے تو پھر یہ سارا سفر ساری محنت ساری چمک سب کچھ ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

یہ فیصلہ پہلے ہونا چاہیے تھا

Published

on


ہماری تمام حکومتیں آئی ایم ایف سے قرض ملنے پر خوش ہوتی ہیں ، یہاں تک کہ قوم کو قرض ملنے کی مبارک باد دیتے ہیں، جیسے حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے پاؤں پڑ کر اور اس کی ہر شرط مان کر بڑا تیر مارا ہو یا بہترین کارکردگی دکھائی ہو جب کہ قرضوں پر مزید قرض لینا باعث ندامت عمل ہوتا ہے مگر قرضے لینے والے موجودہ اور ماضی کے حکمران اعزاز سمجھتے ہیں کہ چلو انھیں موج کرنے، وی وی آئی پی سہولیات لینے، کمیشن کے حصول، اپنوں کو نوازنے اور سرکاری مراعات کے حصول کا مزید موقع ملے گا، مگر انھیں یہ فکر نہیں ہوتی کہ مزید قرض مانگنا ہی بے عزتی ہوتی ہے اور ملک و قوم مزید مقروض ہوجاتے ہیں۔

قرضے مانگنے والے حکمران قیمتی سوٹ پہن کر جاتے تو ایسے ہیں جیسے وہ کوئی معرکہ سر کرنے جارہے ہوں حالاں کہ یہ ان کے لیے پریشانی کا مقام ہونا چاہیے مگر انھیں اپنے اقتدار کی وجہ سے کوئی شرمندگی محسوس ہی نہیں ہوتی اور قرض دینے والے مسلم یا دوست ممالک اس لیے قرض دے دیتے ہیں کہ انھیں یہ قرضہ بمع سود واپس ملے گا اور قرضہ لینے والے ملک کے حکمران ان کے احسان مند رہیں گے اور ان کی ہر بات ماننے پر مجبور ہوں گے ۔

 دوست ممالک ایسی شرائط عائد نہیں کرتے، جیسی آئی ایم ایف کرتا ہے بلکہ اپنے مفاد کے لیے مزید قرض دے دیتے ہیں کہ مقروض ملک ان سے دبا رہے گا۔ قرض دینا مسلم ممالک نے بھی کاروبار بنا رکھا ہے جس پر انھیں سود بھی ملتا ہے اور مقروض ملک ان کی باتیں ماننے سے انکار کی جرات نہیں کرے گا۔

 عام آدمی اگر دوست یا عزیز کے پاس کسی مجبوری میں قرض مانگنے جاتا ہے تو مفلوک حالت میں جاتا ہے تاکہ اس کی حالت اور بے بسی دیکھ کر قرض دینے والے کو رحم آجائے اور وہ انکار نہ کرے ۔ عام آدمی اگر مقروض ہوجائے تو کوشش کرتا ہے کہ اسے اسی کے پاس نہ جانا پڑے کیونکہ وہ مزید قرض دینے کی بجائے پہلا قرض نہ واپس مانگ لے، اس لیے وہ کسی اور کے پاس جانے کو ترجیح دیتا ہے مگر قرضے مانگنے کے عادی ہمارے حکمران قیمتی سوٹوں میں اس طرح بن ٹھن کر جاتے ہیں جیسے وہ قرض مانگنے نہیں لوٹانے آئے ہوں۔ قرض دینے والا اپنے قومی لباس اور پیروں میں چپل پہنے ہوئے ہوتا ہے ۔ ہمارے حکمران قرض لینا، اس لیے برا نہیں سمجھتے کہ یہ قرض انھوں نے نہیں بلکہ قوم نے واپس کرنا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے لیے قرض نہیں لے رہے بلکہ قرض لے کر ملک و قوم پر احسان کررہے ہیں۔

ہمارے تمام حکمران مجموعی طور پر ملک و قوم کو 81 ہزار ارب روپے کا مقروض کرچکے ہیں اور ہر پاکستانی تقریباً سوا تین لاکھ روپے کا مقروض ہوچکا ہے اور یہ قرض کسی شہری نے نہیں لیا بلکہ ان کی تو آنے والی نسل بھی مقروض پیدا ہورہی ہے بلکہ ہر حکمران کی اولادیں ملک سے باہر بھی اربوں روپے کی جائیدادوں کی مالک ہیں، ان کے اثاثے بھی باہر ہیں اور ملک میں بھی وہ عیش و عشرت کی زندگی اپنے بڑوں کی طرح گزار رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بڑے لوگ اپنے کاروبار کے لیے اکثر واپس نہ کرنے کی نیت سے بینکوں سے قرض لیتے ہیں اور اثر و رسوخ استعمال کرکے لیے گئے قرضے معاف کرالیتے ہیں جب کہ ان کا ملک قرض پرقرض لے کر اس قدر مقروض ہوچکا ہے کہ سزا عوام بھگت رہے ہیں جس پر مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک کا غریب آدمی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرتے کرتے مرجائے گا جب کہ متوسط طبقہ بھی غربت کی سطح سے نیچے جاچکا ہے۔

سینیٹ میں ایک سینیٹر نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ قرضے لینا بس کردے کیونکہ ملک و قوم بہت زیادہ مقروض ہوچکے ہیں اور مزید قرض لینا بند کردیا جائے مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ قرضے لینے کا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں آئی ایم ایف سے قرض لینا بند کردیا گیا تھا۔حکومت اب امارات کا قرضہ بمع سود واپس کرنے جا رہی ہے جو پہلے ہی ادا ہوجانا چاہیے تھا کیونکہ 32 سال بعد یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اب حکومت کو مزید قرضے لینے کی بجائے حکومتی اخراجات کم کرکے کسی بھی طرح باقی قرضے واپس کرنے پر توجہ دے، اسی میں عزت ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسحاق ڈار کے سعودی، مصری اور ترک وزرائے خارجہ سے اہم رابطے

Published

on



اسلام آباد:

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں اہم سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق محمد اسحاق ڈار اور سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان ہونے والی گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے سفارتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا اور مکالمے و سفارتکاری کے فروغ پر زور دیا۔

علاوہ ازیں محمد اسحاق ڈار نے مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید برآں ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان سے بھی اہم رابطہ ہوا جس میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان خطے کی تازہ صورتحال پر مشاورت کی گئی۔





Source link

Continue Reading

Today News

یو این کو تالا لگاکرٹرمپ کا مواخذہ کریں

Published

on


گالیوں والی ٹویٹ ٹرمپ کی ناکامی اور فرسٹریشن کا اظہار ہے۔ کیا اس مینٹلٹی کا حامل صدر اپنی دھمکیوں پر عمل کرکے دنیا کو عالمی جنگ کے جہنّم میں جھونک دے گا یا مواخذے کا سامنا کرے گا؟ ایران کب تک تباہی برداشت کرسکے گا؟ پاکستان کی کوششوں سے جنگ بند ہوگی یا اس کی شدّت میں اضافہ ہوگا؟ ہر شخص اپنی زبان پر یہی سوالات لیے پھرتا ہے۔

 علامہ اقبال کونسل کی میٹنگز میں کبھی کسی شعبے کے ماہر (expert)کو گفتگو کے لیے مدعو کرلیا جاتا ہے۔ پرسوں ماہانہ میٹنگ تھی جس میں معروف سفارت کار میڈم رفعت مسعود کو مدعو کیا گیا۔ موصوفہ ایران میں پاکستان کی سفیر بھی رہ چکی ہیں، فارسی روانی سے بولتی ہیں ، ایران اور ایرانی سوسائٹی کو بخوبی سمجھتی ہیں۔

انھوں نے حالیہ جنگ کے عوامل، ایران کی صلاحیّت اور اس خطے اور ملک پر جنگ کے اثرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ سوال وجواب اور تبادلۂ خیالات کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ شرکاء میں اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ امریکا کو ایران کے راہبر یا ان کی نیوکلیئر صلاحیت سے اتنا مسئلہ نہیں تھا، ان کا اصل ہدف ایران میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے، جو صدر ٹرمپ کا وطیرہ بن چکا ہے۔

عالمی قبضہ گروپ کا یہ سرغنہ، جہاں کسی کمزور ملک میں انرجی کے ذخائر دیکھتا ہے، اس کی رال ٹپک پڑتی ہے اور وہ کوئی بے بنیاد اور بوگس جواز تراش کر اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔ اِسی طرح امریکا نے صدام حسین پر WMD کا بے بنیاد الزام لگا کر عراق کو تباہ کیا، صدام حسین کو قتل کردیا اور عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرلیا۔ یہی کام چنگیز خان اور ہلاکو خان کیا کرتے تھے اور اسی نظرئیے کا جھنڈا اٹھا کر ہٹلر پوری دنیا کو فتح کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے۔ بلاشبہ آج کے ہلاکو خان اور ہٹلر ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں، اس لیے وہ کسی عزت و تکریم کے مستحق نہیں۔ سفیر صاحبہ نے بتایا کہ ایک بار عمران خان وزیراعظم کی حیثیّت سے ایران آئے تو راہبر سیّد علی خامینائی سے ملنے گئے، سفیر کی حیثیّت سے میں بھی ساتھ تھی۔

عمران خان نے راہبر سے پوچھا کہ ایران پر اس قدر پابندیاں ہیں کہ آپ تیل نہیں بیچ سکتے، بینک کے ذریعے کاروبار نہیں کرسکتے۔ مگر پھر بھی آپ کے ملک کا کاروبار بہت اچھا چل رہا ہے۔ یہ حوصلہ اور یہ استقامت آپ نے کہاں سے سیکھی ہے؟ اس پر سید علی خامینائی نے کہا ’’کشورِ اقبالؒ کے وزیراعظم کو یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔ آپ اقبالؒ سے رجوع کریں، آپ کو اقبالؒ کے کلام سے حوصلہ بھی ملے گااور امید بھی، ہم نے بھی وہیں سے لیا ہے۔‘‘ 

شرکاء میں اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ ایران نے جس حوصلے، جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ غیر معمولی اور بے مثال ہے، ان کی پوری قیادت ختم ہوگئی، سیکڑوں کمانڈر اور سائنسدان شہید ہوگئے مگر ان کا حوصلہ نہیں ٹوٹا، بے تحاشا قربانیوں اور بے اندازہ نقصانات کے باوجود ایرانی قیادت جنگ بندی کی بھیک نہیں مانگ رہی، ایران نے کسی ملک سے مدد نہیں مانگی۔ ایران میں اشیائے خوردونوش کی کمی واقع نہیں ہوئی۔ روزمرہ کی اشیاء مہنگی نہیں ہوئیں، دکاندار اور تاجر بے مثال ایثار کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ کوئی ایرانی ملک چھوڑ کر نہیں گیا بلکہ بیرونِ ملک گئے ہوئے ایرانی بھی واپس آکر اپنے ملک کا دفاع کرنا چاہتے ہیں، یہ سب حقائق ایک بہادر اور حوصلہ مند قوم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس بات پر بھی اتفاق تھا کہ پورے عرب ممالک تو اسرائیل کے آگے لیٹے ہوئے ہی، لیکن اگر کوئی ملک صیہونی عزائم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے تو وہ ایران ہے۔ ایرانی حکمران اگرچہ شیعہ مسلک سے رکھتے ہیں مگر ہمارے ملک کی 95% سنی آبادی کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں۔

ایران کی جرأت واستقامت سے پاکستان میں سنی شیعہ اختلافات کی شدّت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور دونوں فرقوں کے لوگ بھی اور ان کے علماء بھی ایران کے حق میں دعائیں کررہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیّد علی خامینائی سمیت ایران کے مذہبی علماء بہت پڑھے لکھے ہیں۔ وہ اپنی تقاریر میں اللہ، رسول اللہ اور قرآن کا ہی ذکر کرتے ہیں اور اپنے جلوسوں میں اللہ اکبر کے نعرے لگاکر خالقِ کائنات کی عظمت کا اعلان کرتے اور خالق سے ہی مدد مانگتے ہیں، وہ دین پر مسلک کو حاوی نہیں ہونے دیتے اور متنازعہ باتیں نہیں کرتے اس لیے یہاں بھی خواص و عام کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی اور عقیدت کے جذبات موجزن ہیں۔

اس بات پر سب نے حیرانی اور تشویش کا اظہار کیا کہ اکیسویں صدی کی مہذّب اور ترقی یافتہ دنیا کے سر پنچ اور چوہدری ریاست ہائے متحدہ امریکا کا منتخب صدر ہزاروں میل دور ایک آزاد اور خودمختار ملک پر بلا جواز اور بلااشتعال حملہ کردیتا ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں، وہ ایران کی سیاسی قیادت اور چوٹی کے سائینسدانوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کردیتا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ نہیں روکتا۔ وہ علاقے کے بدمعاش کی طرح اپنے سے کمزور مگر ایک آزاد ملک کے عوام کو گالیاں بھی دے رہا ہے اور ساتھ دھمکیاں بھی دے رہا ہے کہ تمہارے ملک میں بجلی پیدا کرنے والے پاور اسٹیشن تباہ کردوںگا، پل تباہ کردوںگا اور تمہارے ملک کو جہنم بنادوںگا۔مگر پھر بھی اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ ٹرمپ نے پوری دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم عملی طور پر آج بھی بارہویں اور تیرہویں صدی میں رہ رہے ہیں ۔

 اس نے بتادیا ہے کہ آج بھی دنیا پرMight is Right  ہی کا اصول چلتا ہے، میرے پاس طاقت ہے اس لیے جسے چاہوں قتل کردوں اور جس ملک پر چاہوں قبضہ کرلوں۔ ہے تو تلخ مگر حقیقت یہی ہے کہ ٹرمپ ہر روز ایسے جرائم کا ارتکاب کررہا ہے جو جنگ کے دوران بھی جرائم سمجھے جاتے ہیں اور ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کا ہیگ میں واقع ٹریبونل فاروار کریمنلز کے سامنے ٹرائل ہوتا ہے اور بہت سوں کو سزا بھی ہوچکی ہے۔ مگر کیا ڈونلڈ ٹرمپ اورنیتن یاہوکو بھی وار کرائم ٹریبونل میں پیش کیا جائے گا؟ فی الحال تو اس کے امکانات نظر نہیں آتے۔ مگر کچھ حقائق کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ایک یہ کہ امریکا میں کانگریس بھی موجود ہے، ایک طاقتور سینیٹ بھی ہے، سپریم کورٹ بھی ہے، مگر پورے سسٹم میں اتنی جان نہیں، کہ صدر کو تباہی کے راستے سے روک سکے۔

امریکی عوام کی واضح اکثریّت ٹرمپ کی ایران کے خلاف شروع کی جانے والی بلاوجہ اور بلا ضرورت جنگ کے خلاف ہے، ملک کے قومی سطح کے قائدین صدر کی ذہنی حالت پر شکوک و شہبات کا اظہار کررہے ہیں۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ’’ ٹرمپ دماغی طور پر غیر متوازن معلوم ہوتا ہے، ہمارا صدر اس طرح کے خطرناک بیان دے رہا ہے کہ کانگریس کو ان کے خلاف کاروائی کرنی ہوگی۔‘‘ سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسٹر کے موقع پر امریکی صدر بے قابو ہوکر چیخ رہا ہے۔‘‘ سینیٹر مرفی نے کہا ہے کہ ’’میں کابینہ میں ہوتا تو ایسٹر کا دن ٹرمپ کو نااہل کروانے کے لیے 25ویں ترمیم پر مشاورت میں گزارتا۔‘‘ سینیٹر ٹم کین نے کہا ہے کہ ’’ٹرمپ کی طرف سے ایران کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکیاں اور گالیاں شرمناک اور بچگانہ ہیں۔‘‘ تمام سیاسی لیڈروں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس جنگ میں جو چیز ہمیں واضح طور پر نظر آرہی ہے ،وہ کسی منصوبے اور دلیل کا فقدان ہے۔‘‘

صدر ٹرمپ جھنجھلاہٹ اور فرسٹریشن میں اپنے فوجیوں کو لڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے مذہبی ٹچ دینے کی بھی کوشش کررہا ہے ، اسے عیسائیوں اور مسلمانوں کی جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، نہ صرف ایران گرا نہیں بلکہ ایران نہ ڈرا ہے اور نہ جھکا ہے۔ امریکا بے پناہ نقصان اُٹھا رہا ہے، اس کا دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کا mylth  ٹوٹ چکا ہے۔ تنگ آئے ہوئے اسرائیلی عوام جنگ کے خالف مظاہرے کررہے ہیں، امریکا میں صدر کے مواخدے کی باتیں ہورہی ہیں۔ یورپی یونین امریکا کو چھوڑ چکی ہے۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ایک فرسٹریٹڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کرتے کرتے پوری دنیا کو جہنم میں نہ جھونک دے۔ اس کا خطرہ پوری طرح موجود ہے۔

یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ یو این او سمیت تمام عالمی ادارے حملہ آور کا ہاتھ روکنے اور کمزور ملکوں کی سرحدی خودمختاری کا دفاع کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، اس لیے تیسری دنیا کے تجزیہ کار یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یو این او کو تالا لگا کر اس طرح کے غیر موثر اداروں کو ختم ہی کردیا جائے۔ ہماری میٹنگ میں بھی اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ یو این او سے نکل کر پاکستان ترکی اور چند دیگر ممالک عالمی سطح کی تنظیم بنائیں جس میں چین اور روس کوبھی شامل کیا جائے اور امریکا کے عوام اور ادارے اپنے جنونی صدر کا ہاتھ روکیں اور مواخذے کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔





Source link

Continue Reading

Trending