Today News
تعصب ایک عالمی ورثہ ہے
امریکی ریاست منی سوٹا میں صومالی تارکینِ وطن کی آبادی دو فیصد ہے۔یہاں سے ایک صومالی نژاد رکنِ کانگریس الہان عمر صدر ٹرمپ کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ٹرمپ منی سوٹا کے صومالی نژاد ووٹروں کو ایسا کچرہ کہتے ہیں جو کسی کام کا نہیں اور اس کچرے کی صفائی کے بغیر امریکا عظیم نہیں بن سکتا۔بقول ٹرمپ یہ لوگ امریکا چھوڑ کر اپنے بدترین غلیظ اصل ملک کیوں نہیں لوٹ جاتے۔
ہو سکتا ہے بہت سوں کو ٹرمپ کا یہ تبصرہ بھی کچرے جیسا لگے مگر ان دنوں عمومی ماحول ایسا ہے کہ کسی میں ہمت نہیں کہ اپنے ہی شہریوں کے خلاف ایسے کھلم کھلا نسل پرستانہ تبصروں کو کسی امریکی عدالت میں چیلنج کرے اور عدالت اس کا سختی سے نوٹس لے کر اور کچھ نہیں تو ہلکی پھلکی سرزنش ہی کر دے۔
بالخصوص ڈھائی ماہ قبل ایک افغان پناہ گزین کے ہاتھوں واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کی ایک افسر کے قتل اور ایک کے شدید زخمی ہونے کے بعد تو گویا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا۔اس واردات کی آڑ میں تیسری دنیا کے کم ازکم سولہ ممالک کے شہریوں کا امریکا میں داخلہ ممنوع قرار پایا اور تیس دیگر ممالک کے شہریوں کے لیے امریکی ویزہ کا حصول مزید مشکل ہو گیا۔ویزہ مل بھی جائے تو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اسکریننگ ملک میں داخلے سے پہلے لازمی قرار پائی ۔ٹرمپ کے حامیوں کے منہ کی کڑواہٹ اب تک دور نہیں ہوئی کہ سانولے رنگ کا زہران ممدانی نیویارک کا مئیر کیوں بن گیا اور اس کی شہریت منسوخ ہونے سے کیسے بچ گئی۔
اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایک پوسٹ بھی شئیر کی جس میں سابق صدر اوباما اور ان کی اہلیہ کی بندر جیسی میم بنائی گئی ہے۔مگر اس حرکت کا صدمہ یوں نہیں ہونا چاہئیے کہ لگ بھگ بارہ برس پہلے جب ٹرمپ نے پہلی بار صدر اوباما کی امریکی شہریت پر سوال اٹھائے تھے تب سے اب تک تعصب اور نسل پرستی کے پلوں تلے سے نفرت کا اتنا پانی گذر چکا ہے کہ امریکا میں اب کسی کے لیے بھی کسی نسل پرست ریمارک کے کوئی معنی نہیں رہے۔ انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی تک کی سفید فام امریکی نسل پرستی جو بظاہر کچھ عرصے کے لیے مدہم دکھائی پڑتی تھی، ایک انگڑائی لے کر امریکی ریاستی سوچ پر دوگنی شدت سے ٹوٹ پڑی ہے۔
امریکا کے علاوہ اس لہر کی لپیٹ میں ایسے ایسے ممالک آ رہے ہیں کہ جنھیں چند برس پہلے تک درگذر ، روشن خیالی اور کھلے پن کا امام سمجھا جاتا تھا۔مثلاً ڈنمارک میں نسل پرستی کی لہر کے خلاف ایک موثر روشن خیال اتحاد تشکیل دینے کے بجائے امیگریشن قوانین اتنے سخت کر دیے گئے ہیں کہ اب دوسرے یورپی ممالک بھی ان کی بتدریج تقلید کر رہے ہیں۔
جو برطانوی لیبر پارٹی کچھ عرصے پہلے تک کنزرویٹو پارٹی کو تعصب کا طعنہ دیتی آ رہی تھی اب اپنی امیگریشن پالیسیوں میں روایتی نسل پرستوں سے بھی اوپر جاتی دکھائی دے رہی ہے۔وزیراعظم کئر اسٹارمر کھل کے کہہ رہے ہیں کہ ان کی سرکار یقینی بنائے گی کہ یہ جزیرہ ( برطانیہ ) اجنبیوں کی پناہ گاہ نہ بن جائے۔
یہ وہی برطانیہ ہے جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد تباہ حال معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے برصغیر اور سابق افریقی نوآبادیات کے مزدوروں کے لیے امیگریشن کے دروازے ایسے کھولے تھے کہ سن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں برطانیہ پہنچنے کے صرف پندرہ دن کے اندر اندر سابق نوآبادیاتی باشندے برطانوی شہریت کے لیے اپلائی کر سکتے تھے۔اب یہ مدت دس برس کر دی گئی ہے اور دس برس بعد بھی درخواست گذار کے رہائشی و سماجی ریکارڈ کا جائزہ لے کر ہی اسے شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔مگر یہ سخت گیر پالیسی کم ازکم ان امیر مسلمان ممالک کی پالیسی سے تو پھر بھی بہتر ہے جہاں تارکینِ وطن کی تین تین نسلیں بھی شہریت کی اہل نہیں سمجھی جاتیں۔وہاں شہریت بنیادی حق نہیں بلکہ ’’ احسان ‘‘ ہے۔
غیر مغربی ممالک میں بھی اجنبیوں کے لیے برداشت ختم ہو رہی ہے۔مثلاً جو تارکینِ وطن یورپ جانے کی غرض سے لیبیا میں عارضی طور پر داخل ہوتے ہیں۔وہ سرسری گرفتاریوں ، گمشدگی ، تشدد ، ریپ ، قتل ، بھتہ خوری اور جبری مشقت کروانے والے گروہوں کے نشانے پر ہیں۔یورپی یونین لیبیائی کوسٹ گارڈز کی مسلح تربیت کے لیے بھاری رقم دیتی ہے تاکہ تارکینِ وطن کو یورپ جانے سے روکا جا سکے۔مگر لیبیا میں تارکینِ وطن سے ہونے والے سلوک سے یورپی یونین کو کوئی مطلب نہیں۔انسانی حقوق کا کوڑا صرف ان ممالک کی پیٹھ پر برسانے کے لیے ہے جو مغرب کو کسی نہ کسی وجہ سے پسند نہیں۔
کہنے کو لیبیا کا ہمسایہ تیونس بھی ایک عرب و بربر اکثریتی مگر افریقی ملک ہے۔تاہم وہاں بھی سیاہ فام تارکینِ وطن ایک مدت سے اپنی رنگت کا جرمانہ دے رہے ہیں۔لگ بھگ ڈھائی برس پہلے تیونس کے صدر قیس سعید نے بیان دیا کہ افریقی تارکینِ وطن کا اس ملک میں اکثریت بننے کا خدشہ حقیقی ہے۔ایسا ہوا تو تیونس کا ثقافتی و تاریخی رشتہ عرب ثقافت سے کٹ جائے گا۔اس بیان کے بعد ملک میں سیاہ فام طلبا اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے خلاف حملوں کی لہر اور گرفتاریوں کا سلسلہ چل نکلا۔
جنوبی افریقہ کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ کس طرح چالیس لاکھ سفید فاموں نے ڈھائی کروڑ سیاہ فام شہریوں کو اپارتھائیڈ پالیسی کے ذریعے انیس سو چورانوے تک ایک نسل پرست نظام میں جکڑے رکھا ۔مگر آج اپارتھائیڈ سے پاک اسی جنوبی افریقہ میں آس پڑوس سے روزگار کی خاطر آنے والے سیاہ فام تارکینِ وطن کو انہی حقارت بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے جس نظر سے گورے افریکانر جنوبی افریقی سیاہ فاموں کو دیکھتے تھے۔
انیس سو چورانوے میں آزادی ملنے کے بعد سے اب تک جنوبی افریقہ میں غیرملکی سیاہ فام تارکینِ وطن کے خلاف لگ بھگ ڈیڑھ ہزار پرتشدد وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ان وارداتوں میں تذلیل ، لوٹ مار ، اغوا اور قتل سمیت ہر طرح کے قصے شامل ہیں۔کوویڈ کے دوران بھی تارکینِ وطن امتیازی سلوک سے گذرے۔جنوبی افریقہ کی سول سوسائٹی کے کئی گروپ نائجیریا ، موزمبیق ، زیمبیا اور زمبابوے سے تلاشِ روزگار کے لیے آنے والے ہم نسلوں کے خلاف ریلیاں منظم کرتے رہے۔
لاطینی امریکی ممالک کولمبیا ، پیرو ، چلی اور ایکویڈور میں وینزویلا سے آنے والے تارکینِ وطن کے خلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔بھارتی حکومت بنگالی نژاد مسلمانوں اور میانمار کے روہنگیا پناہ گزینوں کو جب کہ ایران و پاکستان کی حکومتیں افغان پناہ گزینوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں اور تارکینِ وطن مخالف ریاستی بیانیہ مقامی شہریوں کو بھی انتہاپسند بنا رہا ہے۔
جب ریاست روزگار ، معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی طبقاتی عدم مساوات کے تناظر میں اپنے شہریوں کی توقعات پوری نہیں کر پاتی تو اس کا ذمے دار تارکینِ وطن کو ٹھہرانا مقامی ووٹروں کی توجہ بٹانے کا نہایت مجرب نسخہ ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
سندھ اسمبلی میں ایم پی اے کو دھمکی کا ڈراپ سین، ایم کیو ایم اراکین میں صلح بھی ہوگئی
ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی شوکت راجپوت نے اجلاس کے دوران ایوان میں انکشاف کیا کہ انہیں اپنی ہی پارٹی کے ایم پی اے کی جانب سے دھمکی دی جارہی ہے تاہم بعد میں دونوں اراکین کے درمیان صلح صفائی ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت صورتحال بڑی ڈرامائی اورحیران کن ہوگئی جب ایم کیو ایم کے ایک رکن شوکت راجپوت نے پوائنٹ آ ف آرڈر پر کھڑے ہوکر شکایت کی کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ دھمکی انہی کی جماعت کے ایم پی اے شارق جمال نے دی اور کہا کہ آپ باہر نکلیں آپکو دیکھتا ہوں۔ شوکت راجپوت نے استدعا کی کہ میری درخواست ہے کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کو کہا جائے کہ میرا مقدمہ درج کیا جائے اور میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مجھے تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو دوسری صورت میں میرے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ جس کے بعد میں دوبارہ وکالت شروع کروں گا اور پھر دیکھتا ہوں کون دھمکی دے گا۔
اس پر ایوان میں بیٹھے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اس قسم کی بات کرنا مناسب نہیں ہے، اسپیکر اسمبلی ہاﺅس کے کسٹوڈین ہے لہذا آپ رولنگ دیں۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر ایس ایچ او کو بھی کال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے معزز ممبر کو بھی نہ بچا سکے تو پھر کیا ہوگا۔ اس قسم کی شکایت بہت شرمناک بات ہے ۔
اسپیکر اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی سے کہا کہ آپ اجلا س ختم ہونے سے پہلے یہ معاملہ حل کریںم بصورت ودیگر میں ان کی ممبر شپ معطل کروں گا۔
سینئر وزیرشرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ ان کی پارٹی گروپنگ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ اگرکسی ممبر کو جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کے بعد بھی نہ بچا سکیں تو کیا ہوگا۔ ہمیں ممبران کی حفاظت کرنا ہوگی۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ میں فاضل ممبر کی سیکیورٹی کا بندوبست کرتا ہوںم اگر رانا شوکت کی جان یا مال کو کوئی بھی نقصان ہوا تو جن کا انہوں نے نام لیا میں ان کے خلاف کارروائی کروں گا۔
ضیا لنجار نے کہا کہ شوکت راجپوت اگر اپنا بیان پولیس کے سامنے ریکارڈ کروانا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔
قبل ازیں شوکت راجپوت نے ایوان میں بتایا کہ پیر والے دن ایم کیو ایم کے ایم این اے اقبالُ محسود مسلح افراد کے ساتھ ان دفتر میں آئے اور تالے توڑے اور آج ہاﺅس میں انہیں پی ایس پی گروپ کے ایم پی اے شارق جمال نے دھمکی دی۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ اسپیکر سے کہا کہ میری درخواست ہے کہ بزنس چلا لیں۔ اس مسئلے کو حل کر لیتے ہیں۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ پہلے قوانین پڑھیں پھر بات کریں۔ اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ معاملہ حل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ میری درخواست ہے کے کہ دھمکی دینے والے رکن کی ایک یا دو گھنٹے کے لیے ممبرشپ معطل کریں۔
شوکت راجپوت نے ایوان کو بتایا کہ ایم این اے اقبال محسود پیر کے دن مسلح افراد لیکر میرے دفتر میں آئے اورآئے، اسی سلسلے میں آج مجھے ایوان کے اندر دھمکی دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی کے اندورنی معاملات ہیں، میں خالد مقبول صدیقی گروپ سے ہوں اور دھمکی دینے والے پرانی پی ایس پی گروپ کے ہیں۔
ایوان میں شور شرابہ کرنے اور اپنے ارکان کو جواب دینے پر اکسانے کی ترغیب دینے پر اسپیکر نے ایم کیو ایم کے رکن انجینئر عثمان کی رکنیت معطل کردی اور ان کے سندھ اسمبلی میں داخلے پر پابندی لگادی۔
اسپیکر نے رولنگ دی ہے کہ انجنیئر عثمان کی رکنیت اس وقت تک معطل رہے گی جب تک وہ معافی نامہ نہیں جمع کروائیں گے۔
اسی اثنا ایم کیو ایم کے دو ارکان کے درمیان تنازع کے باعث متعلقہ ایس ایس پی اور ایس ایچ او بھی سندھ اسمبلی پہنچ گئے تھے ۔
آخری تاہم اطلاعات کے مطابق بعد میں ان دونوں ارکان کے درمیان صلح صفائی ہوگئی اور پولیس افسران سندھ اسمبلی سے واپس چلے گئے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے گروپوں میں ہونے والے تنازعے کا تصفیہ اسپیکر سندھ اسمبلی کے چیمبر میں ہوا اور دونوں اراکین نے ایک دوسرے سے صلح صفائی کرلی۔
ذرائع کے مطابق کل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں رانا شوکت، شارق جمال کو معاف کردیں گے جبکہ انجینئر عثمان کی معطلی کو بھی کل ختم کردیا جائے گا۔
Source link
Today News
غزہ امن بورڈ اجلاس، ایران کشیدگی اور خطہ
غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے روشن مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے غزہ کے لیے 7 بلین ڈالر کا امدادی پیکیج دیا جاچکا ہے جس کا ہر ڈالر امن، استحکام اور ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔
غزہ میں تعمیر نو کے لیے امریکا دس ارب ڈالر دے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشاروں کے بعد وائٹ ہاؤس نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کر لے، جب کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ آیندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے امریکی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے۔
واشنگٹن میں منعقد ہونے والا غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس ایک ایسے عہد میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاست ایک بار پھر غیر یقینی، طاقت کے توازن اور بیانیوں کی جنگ کے بیچ کھڑی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس کو نہ صرف ایک سفارتی سنگ میل کے طور پر پیش کیا بلکہ اسے اپنی عالمی قیادت کے بیانیے کا مرکزی ستون بنانے کی کوشش بھی کی۔ دنیا بھر سے آئے سفارتی وفود، کیمروں کی چمک دمک، اور اربوں ڈالر کے امدادی وعدے ایک ایسے منظرنامے کی تشکیل کر رہے تھے جس میں امید اور خدشہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایک اجلاس ہوا۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ اقدام مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں کوئی نیا باب کھولے گا یا پھر یہ بھی ان بے شمار سفارتی تقریبات کی طرح ہوگا جو الفاظ اور اعلانات سے آگے نہ بڑھ سکیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے بڑے مالی پیکیجز کا اعلان کیا، یہ دعویٰ کیا کہ وہ متعدد عالمی تنازعات رکوا چکے ہیں، اور اس یقین کا اظہار کیا کہ خطہ ایک ہم آہنگ مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ ان کا لہجہ پر اعتماد تھا، بلکہ کسی حد تک جارحانہ اعتماد سے بھرپور۔ انھوں نے خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کیا جو محض مذاکرات نہیں کرتا بلکہ نتائج لاتا ہے۔
تاہم عالمی سیاست میں دعوؤں اور حقائق کے درمیان فاصلہ اکثر بہت وسیع ہوتا ہے۔ امن کے لیے مالی وسائل ضروری ہیں، مگر امن صرف پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا۔ غزہ کی سرزمین پر دہائیوں سے جاری تنازع، انسانی المیے، سیاسی تقسیم اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت ایک ایسی پیچیدہ گتھی ہے جسے کھولنے کے لیے محض سرمایہ کاری کافی نہیں۔
غزہ کی صورتحال بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کی جڑیں تاریخی ناانصافیوں، علاقائی رقابتوں اور بین الاقوامی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ وہاں کی آبادی کئی دہائیوں سے محاصرے، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی اور مسلسل عسکری کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے۔ تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر مختص کرنے کا اعلان بلاشبہ ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اگر سیاسی نمائندگی، خود مختاری اور مقامی قیادت کی شمولیت کو یقینی نہ بنایا جائے تو یہ وسائل وقتی سکون تو فراہم کر سکتے ہیں مگر دیرپا استحکام نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے کئی منصوبے شروع ہوئے جنہوں نے ابتدا میں امید پیدا کی مگر چند برسوں بعد وہی مسائل دوبارہ سر اٹھانے لگے۔
صدر ٹرمپ نے حماس کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دیا اور امید ظاہر کی کہ ایک معاہدے کے تحت عسکری سرگرمیاں ختم ہو جائیں گی۔ یہ مطالبہ اپنی جگہ قابل فہم ہو سکتا ہے، مگر کسی بھی مزاحمتی یا سیاسی گروہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے پائیدار امن حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب تک تنازع کے تمام فریقوں کو کسی نہ کسی شکل میں سیاسی عمل میں شامل نہ کیا جائے، امن کا ڈھانچہ کمزور رہتا ہے۔ غزہ کے مسئلے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے، اگر امن بورڈ واقعی مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے طاقت کے استعمال کے بجائے شمولیت اور مکالمے کی راہ اپنانا ہوگی۔
اس پورے منظر نامے کا دوسرا اہم پہلو ایران سے متعلق امریکی پالیسی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی تنبیہات، ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے اور ساتھ ہی مذاکرات کی پیشکش ایک دہری حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، دوسری طرف بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ ایران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتی، مگر دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔ یہ بیانیہ خطے میں طاقت کے توازن کی حساسیت کو ظاہرکرتا ہے، اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ، خلیجی ریاستیں اور عالمی توانائی منڈیاں اس سے متاثر ہوں گی۔
آبنائے ہرمز میں کسی بھی عسکری تناؤ کا مطلب عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور معیشتوں میں ہلچل ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجزکا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں ایک اور بڑی جنگ اسے مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں عمومی طور پر کشیدگی میں اضافے کی حامی نہیں دکھائی دیتیں۔ وہ ایک ایسے ماحول کی خواہاں ہیں جس میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری جاری رہ سکے، اگر بڑی طاقتیں اپنی اسٹرٹیجک ترجیحات کو فوقیت دیتی رہیں تو علاقائی امن کی خواہش پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
روس کی جانب سے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خلاف انتباہ بھی اس پیچیدہ بساط کا حصہ ہے۔ عالمی سیاست اب دو یا تین واضح بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ہر طاقت اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یوکرین کے بعد روس اور مغرب کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، اگر ایران کے معاملے پر بھی براہ راست یا بالواسطہ محاذ آرائی بڑھتی ہے تو عالمی نظام مزید قطبیت کی طرف جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال سرد جنگ کے کسی نئے ورژن کی یاد دلاتی ہے، جہاں علاقائی تنازعات بڑی طاقتوں کے درمیان پراکسی مقابلے کا میدان بن جاتے تھے۔
ایران کے ساتھ طویل سرحد، مذہبی و ثقافتی روابط اور علاقائی جغرافیہ پاکستان کو ایک حساس پوزیشن میں رکھتے ہیں، اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو انتہائی محتاط سفارت کاری کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ کسی بلاک سیاست کا حصہ بنے بغیر توازن قائم رکھ سکے۔ٹرمپ کا انداز سیاست طاقت اور معاہدے کے امتزاج پر مبنی ہے۔ وہ ایک طرف سخت بیانات دیتے ہیں، دوسری طرف مالی امداد اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی بعض اوقات فوری نتائج دے سکتی ہے، مگر طویل المدتی امن کے لیے ایک مستقل اور قابل پیش گوئی پالیسی ضروری ہوتی ہے، اگر ہر چند برس بعد پالیسی میں بنیادی تبدیلی آ جائے تو اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ جیسے حساس خطے میں تسلسل اور سنجیدگی بنیادی تقاضے ہیں۔
موجودہ عالمی ماحول میں اطلاعات کی رفتار اور بیانیوں کی جنگ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر بیان، ہر دھمکی اور ہر اعلان فوری طور پر عالمی میڈیا کا حصہ بن جاتا ہے اور مالی منڈیوں سے لے کر عوامی رائے تک سب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ذمے دارانہ سفارت کاری پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ جذباتی یا جلد بازی میں دیے گئے بیانات کبھی کبھار غیر متوقع نتائج پیدا کر دیتے ہیں۔
اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ تمام پیش رفت عالمی نظام کے ایک عبوری مرحلے کی علامت ہے۔ امریکا اپنی عالمی قیادت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، روس اور چین متبادل اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں، اور علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے نئی صف بندیاں تشکیل دے رہی ہیں۔ اس پس منظر میں غزہ بورڈ آف پیس ایک علامتی اور عملی دونوں حیثیت رکھتا ہے۔
یہ یا تو ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے یا پھر طاقت کی سیاست کا ایک اور باب۔ امن کبھی یکطرفہ فیصلوں کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ مشترکہ ذمے داری کا تقاضا کرتا ہے، اگر عالمی قیادت واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اعتماد سازی پر توجہ دینا ہوگی۔ غزہ کے عوام، ایران کے شہری اور پورے خطے کے باشندے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی سکون چاہتے ہیں۔ واشنگٹن کے اس اجلاس نے ایک دروازہ ضرور کھولا ہے، مگر اس دروازے سے گزر کر منزل تک پہنچنے کے لیے مستقل مزاجی، دیانت داری اور وسیع تر شمولیت کی ضرورت ہوگی۔ آنے والا وقت طے کرے گا کہ یہ پیش رفت تاریخ میں ایک مثبت موڑ کے طور پر یاد رکھی جائے گی یا ایک اور ادھوری کوشش کے طور پر۔
Today News
لینن، مارکس، میڈیا اور صہیونی اسرائیل!
لینن کا کہنا تھا کہ جن ملکوں میں چھاپے خانے اورکاغذ کے ذخیرے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہیں وہاں آزادی صحافت کا مطلب صرف یہ ہے کہ سرمایہ داروں کو اپنے نظام کے حق میں پروپیگنڈے کی آزادی ہے۔ جہاں تک غریبوں، مزدوروں اورکسانوں کا تعلق ہے وہ اپنی آواز دوسروں تک نہیں پہنچا سکتے کیونکہ ان کے پاس نہ چھاپے خانے ہیں، نہ کاغذ کے ذخیرے اور نہ اتنا پیسہ موجود ہے کہ یہ چیزیں سرمایہ داروں سے خرید سکیں۔
کارل مارکس نے بھی کچھ اسی قسم کے حقائق سے آگہی کے بعد میڈیا کے اس پہلو پر سخت تنقید کی، کارل مارکس کے یہ خیالات ’’ ذرائع ابلاغ کا مارکسی نظریہ‘‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔کارل مارکس کا کہنا ہے کہ دنیا میں سرمایہ داری کا نظام ایک ظالمانہ نظام ہے جس میں سرمایہ دار طبقہ، عام طبقے کا استحصال کرتا ہے اور میڈیا اس کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔ کارل مارکس کا خیال ہے کہ سرمایہ دار اس قدر مضبوط ہیں کہ میڈیا ان کے خلاف کچھ نہیں کرتا اور نہ ہی کچھ کرسکتا ہے بلکہ وہ سرمایہ داروں کی فرماں برداری کرتا ہے۔
کارل مارکس کا یہ بھی کہنا ہے کہ میڈیا کے مشتملات (contents) کو سرمایہ دار طبقہ اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے، میڈیا اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے مگر حقیقت میں میڈیا سیاسی، معاشی اور معاشرتی مشتملات میں سرمایہ دارانہ طبقے کے زیر اثر ہے، چنانچہ میڈیا ایک ایسی سوچ کو بڑھاتا ہے جس سے استحصالی نظام کو تقویت ملتی ہے۔ مارکس کے ان نظریات کے بعد جدیدی مارکسی (Neo-Marxist) نے بھی میڈیا پر تنقید کی اور میڈیا کے بعض پہلوؤں پر اور بھی سخت تنقید کی ہے۔ جدید مارکسی گروپ نے برطانیہ میں ٹریڈیونین کی عوام میں مقبولیت کم ہوجانے کی وجہ جاننے کے لیے ایک تحقیق کی۔ اس تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ٹریڈ یونین کی عوام میں مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ میڈیا پر جانبدارانہ انداز میں پیش کی جانے والی خبریں تھیں۔
اسی طرح Therodore adnono اور Max Horkheimer کے مطابق دنیا میں جو روشن خیالی پیدا ہونی تھی، اس کو ذرائع ابلاغ نے اپنی روش سے یک طرفہ بربریت میں بدل ڈالا۔ ان کے خیال کے مطابق ذرائع ابلاغ مخالفانہ رائے کو دبا دیتے ہیں، مارشل میکلو ہنی میڈیا کے کردار کے متعلق اپنی کتاب ’’انڈراسٹینڈنگ میڈیا، دی ایکسٹینشن آف مین‘‘ میں لکھتا ہے کہ آج کی دنیا میں لسانی اور سماجی جبریت سے بھی بڑا جبر یہ ٹیکنالوجی ہے، مزید آگے وہ لکھتا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر جو خیالات اور طریقے ہائے وغیرہ نمایاں جگہ پالیتے وہی افراد اور معاشرے پر غلبہ بھی حاصل کر لیتے ہیں، یوں میڈیا جس نظر سے دنیا کو دکھانا چاہتا ہے لوگ اسی نظر سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔
یہ خیالات ماضی کی نامور شخصیتوں کے تھے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ میڈیا کی آج کیا صورتحال ہے؟ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں نہ صرف میڈیا کی آزادی کی بات بھی کی جاتی ہے اور ہیومن رائٹس کی بھی بات کی جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب موجودہ دورکا ’’ غزہ‘‘ اور اسرائیل ہے۔
غزہ میں جوکچھ ہورہا ہے۔ اس کی تمام تر خبریں میڈیا پر نہیں آرہی ہیں اور دنیا بھرکا ’’مین اسٹریم میڈیا‘‘ جس طرح اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ ماضی کی مذکورہ بالا شخصیات کے میڈیا کے بارے میں جو خیالات تھے، اب بات اس سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ محض ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل نے سی این این، بی بی سی جیسے بڑے میڈیا اداروں کو بھی اپنی مٹھی میں لیا ہوا ہے، دنیا بھر کا میڈیا غزہ میں ہونے والے مظالم کی آدھی تصویر بھی پیش نہیں کر رہا ہے۔
چنانچہ غزہ کے لوگوں نے از خود میڈیا کا یہ محاذ سنبھال لیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں اسرائیل کے ظلم و ستم کو پہنچایا جس سے عالمی سطح پر اسرائیل اور اس کے دوستوں کی نہ صرف سخت بدنامی ہوئی بلکہ سخت عوامی ردعمل بھی سامنے آیا، مغربی ممالک میں عوام کا سمندر سڑکوں پر نظر آتا ہے، جو اپنی اپنی حکومتوں پر زور ڈال رہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون فورا ختم کیا جائے۔حالیہ خبروں کے مطابق برطانوی صحافی اور کارکن سمیع حمدی نے الجزیرہ نیٹ ورک (قطر) پر 7 فروری 2026 کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ صہیونی ادارہ‘‘ کو سوشل میڈیاخریدنے پر مجبورکیا گیا کیونکہ سوشل میڈیا پر فلسطین کے حامی صارفین نے، فلسطینی مقبولیت کو اسرائیل سے کہیں زیادہ کردیا تھا۔
امریکی اب مین اسٹریم ذرائع ابلاغ جیسے CNN یا The New York Times پر انحصار نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو خریدا اور صہیونی خاتون باری ویسbari weiss،کو CBS کے سربراہ پر رکھا گیا تاکہ امریکی عوام تک معلومات کے بہاؤکوکنٹرول کیا جاسکے ،اور غزہ سے متعلق خبروں کو روکا جا سکے۔ ان اقدامات کی وجہ سے 2 سے 30 لاکھ امریکیوں کو نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم UpScrolled پر منتقل ہونا پڑا۔‘‘
درحقیقت اسرائیل عالمی میڈیا کو اپنے نہ نظر آنے والے دباؤ میں لے چکا ہے۔ بظاہر میڈیا آزاد نظر آتا ہے مگر وہ اسرائیل کے لیے ہر قسم کے پروپیگنڈے کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ مثلاً جنسی مجرم جیفری اپسٹین کہانی لے لیجیے، دنیا بھرکے مین اسٹریم میڈیا میں اس نے طوفان اٹھا دیا، ایک کے بعد ایک شخصیت بے نقاب کی جا رہی ہے، مگر اسرائیل کے سیاسی اور انٹیلی جنس حلقوں کی تمام شخصیات محفوظ ہیں حالانکہ اس جنسی مجرم کے ان سے بھی روابط تھے۔
ایک وقت تھا کہ جب عراق کے صدام حسین کو کچلنے کے لیے مین اسٹریم میڈیا میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ عراق میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور موجود ہیں بعد میں یہ بات غلط بھی ثابت ہوئی لیکن آج اسرائیل میں تھرمو بریک ہتھیاروں کو استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے انسانی جسم پگھل کر ہوا میں ہی تحلیل ہو رہے ہیں۔
ایسے گھناؤ نے جرم پر عالمی مین اسٹریم میڈیا خاموش بیٹھا ہے جو ایران کے ایٹمی پروگرام پر بھی اس طرح پروپیگنڈا کرتا ہے جیسے اس پروگرام سے نہ جانے کتنی ہلاکتیں ہوگئی ہوں۔ یوں دیکھا جائے تو امریکا کے بعد اسرائیل بھی صرف مین اسٹریم میڈیا ہی نہیں، سوشل میڈیا کو بھی اپنی سخت گرفت میں لے چکا ہے اور اس پلیٹ فارم پر ایسا خودکار نظام لاگوکردیا گیا ہے کہ جس کی موجودگی میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے جو بھی خبر یا آواز بلند ہوتی ہے، بلاک ہوجاتی ہے۔
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Tech4 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch