Today News
تفتان بارڈر پر ایف آئی اے کے مؤثر انتظامات، 10 ہزار سے زائد مسافروں کی آمد ریکارڈ
ایران میں جاری علاقائی صورتحال کے پیش نظر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے تفتان بارڈر پر امیگریشن اور بارڈر مینجمنٹ کے انتظامات مؤثر اور فعال رکھے ہیں تاکہ ایران سے واپس آنے والے پاکستانی شہریوں، طلباء، زائرین اور دیگر مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تفتان بارڈر پر آنے والے مسافروں کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے تمام تقاضے بھی پورے کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ 28 فروری 2026 سے 08 اپریل 2026 تک تفتان بارڈر پر 10 ہزار 619 مسافروں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
ترجمان کے مطابق ایران سے پاکستان واپس آنے والے مسافروں کی بڑی تعداد موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث تفتان بارڈر پہنچی، جن میں پاکستانی شہریوں کے علاوہ طلباء، زائرین اور دیگر افراد بھی شامل ہیں۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد بہرام خان نے کہا کہ ایف آئی اے امیگریشن عملہ تفتان بارڈر پر 24 گھنٹے خدمات سرانجام دے رہا ہے اور تمام آنے والے مسافروں کی بروقت امیگریشن کلیئرنس اور دستاویزات کی جانچ پڑتال یقینی بنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تفتان بارڈر پر مسافروں کو ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں جبکہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ بھی برقرار رکھا گیا ہے تاکہ مسافروں کی آمد و رفت کو منظم اور محفوظ بنایا جا سکے۔
محمد بہرام خان مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے بارڈر مینجمنٹ کو محفوظ، منظم اور مؤثر انداز میں جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے اور ملک میں داخل ہونے والے تمام مسافروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
Source link
Today News
کراچی؛ مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلے، زخمی سمیت 8 ملزمان گرفتار
مختلف علاقوں میں پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان مبینہ مقابلوں کے دوران 8 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ سرسید کی حدود محمد شاہ قبرستان، سیکٹر 7-B نارتھ کراچی میں پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت عبداللہ ولد سعید علی اور آصف علی ولد ارشد علی کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزمان کے قبضے سے دو ٹی ٹی پستول 30 بور، موبائل فونز، نقدی اور ایک موٹر سائیکل برآمد ہوئی۔ زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
تھانہ خواجہ اجمیر نگری کی حدود سیکٹر 5/A-4 نارتھ کراچی میں پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران زخمی سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق زخمی ملزم کی شناخت یوسف ولد آصف جبکہ ساتھی کی ملزم عبید ولد اجمل کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موٹر سائیکل اور نقدی برآمد ہوئی۔ زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ادھر تھانہ حیدری مارکیٹ کی حدود بلاک G نارتھ ناظم آباد میں پولیس مقابلے کے دوران ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت محمد علی ولد مظہر علی کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم سے اسلحہ، موبائل فون اور نقدی برآمد ہوئی ہے۔ اس ہی طرح ضلع ملیر کے تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن کی حدود میں پولیس اور مسلح ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں زخمی سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق زخمی ملزم کی شناخت محمد عرف سمیر جبکہ دوسرے کی شناخت علی رضا کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فونز اور نقدی برآمد کر کے اسلحہ فرانزک کے لیے روانہ کر دیا ہے جبکہ فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
علاوہ ازیں چاکیواڑہ پولیس نے بھی مقابلے کے بعد ایک ملزم انیس عرف سنگھم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جس کے قبضے سے پستول اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔
Source link
Today News
قابل تحسین سفارتی کامیابی – ایکسپریس اردو
اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کو خطے میں امن کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملاقات کی، ملاقات میں خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا،سول عسکری قیادت نے تمام فریقوں کی جانب سے تحمل کے مظاہرے کو سراہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب ہو سکتا ہے اور پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے جب کہ اسرائیل بھی اپنے حملے کم کر دے گا۔مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے تاہم اس کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کر دی ہیں۔ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے عبوری جنگ بندی ممکن بنانے پر پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ہے۔اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں فعال طور پر شرکت کرے گا ۔
دنیا کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب جغرافیہ محض سرحدوں کا نام نہیں رہتا بلکہ وہ انسانی شعور، عالمی ضمیر اور طاقت کے توازن کی نئی تعریف بن جاتا ہے۔ آج کا لمحہ بھی اسی نوعیت کا ہے، جہاں ایک طرف مشرق وسطیٰ کی زمین بارود، خوف اور غیر یقینی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور دوسری طرف اسلام آباد ایک ایسے سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جس کی طرف دنیا کی نظریں امید کے ساتھ اٹھ رہی ہیں۔ یہ محض ایک جنگ بندی یا مذاکراتی عمل نہیں بلکہ عالمی سیاست کے اس موڑ کی نمائندگی ہے جہاں پرانی صف بندیاں ٹوٹ رہی ہیں اور نئی ترجیحات جنم لے رہی ہیں۔پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک غیر معمولی ارتقاء کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ایک ایسا ملک جو کئی دہائیوں تک داخلی چیلنجز، علاقائی کشیدگی اور عالمی دباؤ کا شکار رہا، آج نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کے طور پر خود کو منوانے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ ایک ایسے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جس پر متحارب قوتیں بھی اعتماد کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل سفارتی ارتقاء، علاقائی حالات کی نزاکت کا ادراک اور عالمی نظام میں اپنی جگہ بنانے کی مسلسل کوشش شامل ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ اس میں براہ راست عسکری تصادم کا عنصر شامل ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ اسرائیل کی فعال شمولیت نے اسے ایک ہمہ گیر بحران میں بدل دیا ہے۔یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسرائیل کی سیکیورٹی پالیسی ہمیشہ پیشگی اقدامات پر مبنی رہی ہے۔
اس کے نزدیک خطرے کا انتظار کرنے کے بجائے اسے ابتدا میں ہی ختم کرنا زیادہ موثر حکمت عملی ہے۔ یہی سوچ اسے ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کی طرف لے جاتی ہے، خاص طور پر اس خدشے کے پیش نظر کہ ایران خطے میں اپنی عسکری اور جوہری صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے۔ اس تناظر میں بینجمن نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی پالیسی مزید سخت اور غیر لچکدار دکھائی دیتی ہے، جو کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو اپنی سیکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔
دوسری طرف امریکا، جو طویل عرصے تک مشرقِ وسطیٰ میں ایک غالب طاقت رہا، اب ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ افغانستان اور عراق کی جنگوں نے نہ صرف اس کے وسائل کو متاثر کیا بلکہ اس کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاکرات کے حوالے سے مثبت رویہ محض ایک سفارتی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک ضرورت بھی ہے۔
امریکا اب براہ راست جنگ کے بجائے محدود مداخلت اور سفارتی حل کو ترجیح دینا چاہتا ہے، کیونکہ ایک نئی بڑی جنگ اس کے لیے سیاسی، معاشی اور عسکری لحاظ سے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ایران کی پوزیشن بھی کم پیچیدہ نہیں۔ ایک طرف وہ خطے میں اپنی عسکری برتری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، اور دوسری طرف اسے اپنی معیشت کو بھی سنبھالنا ہے جو طویل پابندیوں کی وجہ سے کمزور ہو چکی ہے۔ اس لیے وہ ایک ایسے معاہدے کی تلاش میں ہے جو اسے عالمی نظام میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع دے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی خودمختاری اور اثر و رسوخ پر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں کرنا چاہتا، یہی تضاد مذاکرات کو پیچیدہ بناتا ہے۔
ان تمام پیچیدگیوں کے درمیان پاکستان کا کردار ایک نازک توازن پر مبنی ہے۔ ایک طرف اسے امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنا ہے، جو کہ معاشی اور عسکری لحاظ سے اہم ہیں اور دوسری طرف اسے ایران کے ساتھ اپنے ہمسایہ تعلقات اور مذہبی و ثقافتی روابط کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات بھی اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وہ کثیر جہتی دباؤ ہے جس میں پاکستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی ترتیب دینی پڑتی ہے۔
تاہم اس تمام سفارتی سرگرمی کے پیچھے جو انسانی المیہ چھپا ہوا ہے، وہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ لبنان کے لاکھوں بے گھر افراد، جن کے گھر تباہ ہو چکے ہیں، جو بار بار اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے پر مجبور ہیں، وہ اس جنگ کی اصل قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ مذاکرات محض سیاسی عمل نہیں بلکہ بقا کا سوال ہیں۔ جب ایک بچہ بارود کی آواز میں پروان چڑھتا ہے تو اس کی نفسیات پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ یہی وہ خاموش تباہی ہے جو کسی بھی جنگ کو صرف ایک جغرافیائی تنازعے سے بڑھا کر ایک انسانی بحران بنا دیتی ہے۔آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی اس بحران کا ایک اہم پہلو ہے۔
یہ محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ ایران کی جانب سے اس پر جزوی کنٹرول اور محدود رسائی کی پالیسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنی اسٹریٹجک حیثیت کو کمزور نہیں کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل، اور عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کا اثر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ممالک پر پڑے گا۔ مستقبل کے منظرناموں کا جائزہ لیا جائے تو کئی امکانات سامنے آتے ہیں۔ ایک مثبت منظرنامہ یہ ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں اور ایک جامع معاہدہ طے پا جائے جس میں نہ صرف جنگ بندی بلکہ اعتماد سازی کے اقدامات، اقتصادی تعاون، اور سیکیورٹی انتظامات شامل ہوں۔
اس صورت میں مشرقِ وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے جہاں تنازعات کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جائے۔ایک درمیانی نوعیت کا منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ مذاکرات جزوی کامیابی حاصل کریں۔ یعنی جنگ بندی برقرار رہے لیکن بنیادی مسائل حل نہ ہوں۔ اس صورت میں ایک نازک امن قائم ہوگا جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔ یہ صورتحال بظاہر مستحکم نظر آئے گی لیکن اس کے اندر مسلسل تناؤ موجود رہے گا۔ سب سے خطرناک منظرنامہ یہ ہے کہ مذاکرات ناکام ہو جائیں اور جنگ ایک نئے اور زیادہ شدید مرحلے میں داخل ہو جائے۔ اس صورت میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں، عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے، اور بڑی طاقتوں کے درمیان براہ راست تصادم کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تمام امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے۔ اسے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ داخلی سطح پر بھی خود کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ایک مستحکم معیشت، مضبوط ادارے، اور قومی یکجہتی ہی اسے اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ عالمی سطح پر ایک مؤثر کردار ادا کر سکے۔ عوامی حمایت بھی اس عمل میں ایک اہم عنصر ہے۔ جب عوام کی اکثریت امن کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے تو یہ حکومت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستانی معاشرہ جنگ کی تباہ کاریوں کو سمجھتا ہے اور ایک پرامن دنیا کا خواہاں ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات محض ایک سفارتی عمل نہیں بلکہ ایک تاریخی موقع ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سمت تبدیل ہو سکتی ہے، یہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ آیا انسانیت اب بھی مکالمے، برداشت اور تعاون پر یقین رکھتی ہے یا نہیں۔اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگی کہ دنیا اب بھی عقل اور دانش کی بنیاد پر فیصلے کر سکتی ہے، لیکن اگر یہ ناکام ہوتی ہے تو یہ ایک ایسی تنبیہ ہوگی جو آنے والی نسلوں کو یہ یاد دلائے گی کہ طاقت کے اندھے استعمال کا انجام ہمیشہ تباہی ہی ہوتا ہے۔ پاکستان اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے فیصلے نہ صرف اس کے اپنے مستقبل بلکہ عالمی تاریخ پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہی اس لمحے کی اصل اہمیت ہے، اور یہی وہ ذمے داری ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
Today News
پرویز حمید ، لاہور کا البیلا صحافی
نام تو ان کا عبدالحمید تھا، مگرکہلاتے پرویز حمید تھے۔ وہ پہلے باقاعدہ صحافی تھے، جن سے صحافت میں ورود کے بعد لاہور میں میری جان پہچان پیدا ہوئی۔ وہ ان دنوں ہفت روزہ ’ندا‘ میں جز وقتی کام کرتے تھے۔ بھاری جسم، گورا چٹا رنگ، موٹے موٹے گال، صفا چٹ چہرہ، پھیلی ہوئی گول ناک، خوابیدہ آنکھیں، جن پر نظر کے شیشے چڑھے ہوتے، مگر ’ندا‘ کے زمانے میں وہ صرف لکھتے اور پڑھتے وقت ہی عینک لگاتے تھے، درمیانہ قد، سر کے بال تقریباً سفید، جب کہ بیچ میں خال خال ہی کوئی بال نظر آتا تھا۔ سردیوں میں گرم افغانی ٹوپی پہنے ہوتے، تو پہلی نظر میں’علاقہ غیر‘ سے خشک میوہ جات کا ٹرک لے کر لاہور پہنچنے والے کوئی پٹھان بیوپاری معلوم ہوتے تھے۔ صحافت میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے تھے۔ جوانی میں رسالہ’’ دھنک‘‘ کی ’رنگین صحافت‘ کے مزے بھی کر چکے تھے، بلکہ شاید اسی رسالے سے بطور فیچر رائٹر صحافتی سفر کا آغاز کیا تھا۔ لیکن، دیکھنے میں اب بھی ویسے ہی سیدھے سادھے، بھولے بھالے دکھائی دیتے، جیسے کوئی نووارد صحافی نظر آتا ہے۔
معمول یہ تھا کہ روزانہ صبح سر پر قلم رکھ کر سلورکلر کی پرانی ویسپا اسکوٹر پرگھر سے نکلتے، تو رات گئے شہر کی تمام سیاسی، غیر سیاسی محفلیں بھگتا ہی کے واپس لوٹتے۔ وہ اور ان کی ویسپا ہر وقت ہوا کے دوش پر نظر آتے، دفتر اورگھر کے آس پاس سمن آباد کی سڑکوں پر، گلبرگ علی زیب روڈ پر، ’نوائے وقت‘ کے مقابل کوئنز روڈ سے گزرتے ہوئے، مال روڈ پر رواں دواں، اورکبھی اس حال میں کہ سڑک کنارے کھڑے ہیں، پسینہ سے شرابور، اسکوٹر کو کک پرکک مار رہے ہیں، اس مشق کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا، تو اسکوٹر کی بغل سے کٹ نکال کر پلگ کا کچرا صاف کرتے، اسے دوبارہ فٹ کرتے، چہرے سے پسینہ پونچھتے، اور فیضؔ صاحب کا کوئی شعرگنگناتے ہوئے پھر سے عازم سفر ہو جاتے۔ وہ اپنے محبوب شاعر کی اداکار محمد علی کے گھر کی چھت پر ہونے والی مسحورکن شبانہ محفلوں سے بھی فیض یاب ہو چکے تھے، بلکہ ان کے خوابناک اثرات اب تک ان کی شخصیت پر موجود تھے، وہی ٹھیرا ٹھیرا لہجہ، سوئی سوئی مخمور دھیمی آواز اور رومانی طبع،’ زندگی جزوِ خواب ہے گویا، ساری دنیا سراب ہے گویا‘۔ منیرؔ نیازی سے بھی ان کا ملنا جلنا تھا۔ ایک بار ان کے گھر گئے، تو مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ اس خوب صورت ملاقات کی اب صرف ایک دھندلی سی یاد باقی رہ گئی ہے۔
پرویز حمید صاحب ایسے باغ و بہار آدمی تھے کہ ان کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ہر طرف خوشگوار ہلچل مچ جاتی۔ چپڑاسی سے لے کر چیف ایڈیٹر تک سبھی سے ان کا دوستانہ تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے، جب جنرل ضیاء کی موت کے بعد بے نظیر بھٹو پہلی بار وزیراعظم بنی تھیں۔ پرویز حمید، بھٹو صاحب کے پرستار، بلکہ دیوانے تھے۔ اس نسبت سے پیپلزپارٹی کے راہنماؤں اور وزیروں سے ان کی کافی شناسائی تھی۔ چنانچہ، دفتر میں جس کسی کو سرکاری دفتر میں کوئی کام ہوتا، تو انھی سے رجوع کرتا تھا۔ کچھ دنوں میں، مجھے بھی ان کی برادرانہ شفقت حاصل ہو گئی۔
ایک روز مجھے اپنے ساتھ گھر لے گئے، جو دفتر کے قریب ہی تھا، اور شاید ان کے بچوں کا ننھیال بھی تھا۔ مجھ سے اپنے بچوں ارشد، عادل اور شائستہ کا تعارف کرانے کے بعد، جو ان دنوں اسکول میں پڑھتے تھے،کہا،’’ آج سے یہ تینوں آپ کے شاگرد ہیں۔‘‘ چنانچہ، اس کے بعد روزانہ دفتر سے چھٹی کے بعد ان کے گھر جانا ہوتا تھا۔ معلوم ہوا کہ ان کے اہل خانہ بھی انھی کی طرح خوش اخلاق، خوش گفتار اور مہمان نواز ہیں۔ ایک روز ان سے ملنے گیا، تو دیکھا کہ نیوز روم میں سرجھکائے خبروں کی ایڈیٹنگ میں مصروف ہیں۔ چائے کا آرڈر دے کر انھوں نے رسیور رکھا ہی تھا کہ چار پانچ بپھرے ہوئے سب ایڈیٹر اندر داخل ہوئے اور آتے ہی پھٹ پڑے، ’’ پرویز صاحب، یہ ناانصافی ہے، فلاں فلاں کو کب کی تنخواہ مل چکی، جب کہ ہمیں مسلسل ٹرخایا جا رہا ہے۔
جب ہمیں نہیں ملی تو ان کو کیوں ملی؟ ‘ مجھے یاد ہے، اس آخری جملہ پر انھوں نے سر اٹھایا، عینک اتار کے میز پر رکھی، اور قدرے سرزنش کے انداز میں کہا، ’’بندہ پرور، تنخواہ تو مجھے بھی نہیں ملی، مگر دیکھو، یہ مت کہو کہ فلاں کو کیوں ملی، یہ کہو کہ ہمیں بھی ملنی چاہیے۔‘‘ ’بندہ پرور‘ ان کا تکیہ کلام تھا۔ یہ تھے پرویز حمید، تسلیم ورضا کے پیکر، سب کا بھلا، سب کی خیر چاہنے والے۔ان کی صحافت کا آخری دور ’نوائے وقت‘ میں گزرا، بلکہ کچھ عرصہ وہ میرے ساتھ ہی میگزین روم میں بیٹھتے رہے، اور سنڈے میگزین کے لیے باقاعدگی سے لکھتے بھی رہے۔ اس زمانے میں، انھی کے ہمراہ اداکار محمد علی سے پہلی ملاقات ہوئی۔
ان کے گھر جاتے ہوئے اچھی خاصی’ فلمی صورتحال‘ پیدا ہوگئی۔ سخت گرمی، دو سوا دو بجے کا عمل، ان کے اسکوٹر پر ہم دفتر سے روانہ ہوئے۔ تھوڑا آگے جا کر، جب انھوں نے ایک دوبار سرکو زور سے جھٹکا، تو میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بج اٹھی۔ نیندکے ساتھ ان کی آنکھ مچولی شروع ہو چکی تھی۔ مین مارکیٹ کے پاس سڑک پر مجھے موبل آئیل گرا ہوا نظر آیا۔ میں نے چیخ کر کہا، پرویز صاحب، آگے، موبل آئیل، مگر اس وقت تک دیر ہو چکی تھی۔ انھوں نے بریک لگائی تو اسکوٹر موبل آئیل کے عین اوپر تھا۔ یکدم بریک لگنے سے اسکوٹر کے پہیے جو پھسلے، تو وہ ہمارے نیچے سے نکل کر گھسٹتا ہوا فٹ پاتھ کی طرف جا رہا تھا، اور پیچھے پیچھے پرویز حمید اور میں بھی۔ قسمت اچھی تھی کہ عقب سے کوئی تیز رفتارگاڑی نہیں آ رہی تھی۔
گرنے سے چوٹیں تو آئیں اور کچھ راہگیر ہماری مدد کو بھی لپکے، مگرہم فلمی انداز میںکپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔’بندہ پرور، بریک تو لگائی تھی‘، انھوں نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔ مجھے لگا، علی بھائی کے گھر پہنچنا اب مشکل ہے، مگر ان کے جی میں نجانے کیا آیا کہ ایک دم اسکوٹر اٹھایا، اورکک لگاتے ہوئے کہا،علی بھائی کا گھر زیادہ دور نہیں، چلتے ہیں‘ ، اورکچھ ہی دیر میں ہم علی بھائی کے عالی شان ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ انھیں پتا چلا کہ ہم ایک حادثہ سے بال بال بچے ہیں، تو کہا کہ’ آج یہ انٹرویو رہنے دیتے ہیں۔‘ پرویز حمید مسکرائے، مگرکچھ بولے نہیں، بس ان کی طرف ایک ٹک دیکھتے رہے۔ اس پر علی بھائی کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں، ’’زمانہ بدل گیا، مگرآپ نہیں بدلے حمید صاحب۔‘‘
آج پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں، تو سوچتا ہوں کہ یہ سارا وقت کتنی خاموشی سے گزر گیا۔ انھیں آخری بار اس طرح دیکھا کہ پریس کلب کے باہر انتخابی پنڈال میں ایک کرسی پرگم صم بیٹھے ہیں۔ کہنے لگے، فالج کے حملہ کے بعد گھر سے کم ہی نکلتا ہوں۔ ادھر ادھر گھوم کے دوبارہ انھیں دیکھنے کو جی چاہا، مگر واپس آیا تو ان کی کرسی خالی تھی۔ پھر خبر ملی کہ گھر میں پھسلے ہیں اور ریڑھ کی ہڈی پر زخم آیا ہے۔ چند روز بعد ارشد کا دوسرا ایس ایم ایس آیا، تو اس میں ان کے جنازے کا وقت اور مقام درج تھا۔ـ یہ علامہ اقبال ٹاؤن میں ان کے کسی عزیز کا گھر تھا، جس کے بیرونی صحن میں ایک چارپائی پر پڑے ابدی نیند سو رہے تھے۔ ایک لحظہ کے لیے لگا کہ ابھی کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے، مگر نہیں ۔ اس روز ان کو الوداع کہنے کے لیے سبھی آئے تھے، سوائے ان کے، جن کے مسخ شدہ سیاسی چہرے صاف کرنے، تراشنے، سنوارنے اور نکھارنے کے لیے وہ عمر بھر قلم کی مزدوری کرتے رہے۔ شاعر نے کہا تھا،
حافظؔ ابنای زمان را غم مسکینان نیست
زین میان گر بتوان بہ کہ کناری گیرند
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Magazines2 weeks ago
Story time: An iftar party to remember
-
Today News2 weeks ago
امریکا-ایران کا پاکستان پر اعمتاد، آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہیں، اسحاق ڈار