Today News
توانائی بحران اور معاشی استحکام کی منزل
امریکا و اسرائیل نے بے بنیاد الزامات لگا کر محض اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لیے ایران پر حملہ کرکے مشرق وسطیٰ کے پورے خطے کو جنگ کے بھڑکتے شعلوں کی نذر کر دیا ہے۔ ایران میں قیادت کی تبدیلی، عوام کو اکسانے اور اقتدار پر قبضہ کرکے اپنی من پسند کٹھ پتلی حکومت قائم کرکے ایران کے تیل کی دولت پر قابض ہونے کی صدر ٹرمپ کی خواہش کو ایران کی عوام نے اپنے اتحاد، ایمانی قوت اور یکجہتی سے پامال کر دیا۔ اپنے عظیم لیڈر اور رہنما علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنا نیا سپریم لیڈر منتخب کرکے امریکا کو یہ پیغام دیا کہ ایرانی قوم اپنی تاریخ اور روایات کے مطابق باطل قوتوں سے مزاحمت کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ کے بقول امریکا نے ایران میں اپنے بیش تر اہداف حاصل کر لیے ہیں اور جلد اپنی فتح کا اعلان کر دیں گے، لیکن انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ جنگ آیندہ کتنے دنوں اور ہفتوں تک جاری رہے گی اور اس کے تاثرات سے عالمی سطح پر تیل کے بحران سے نمٹنے کے لیے امریکا کیا اقدامات اٹھائے گا۔ بالخصوص آبنائے ہرمز کی بندش سے پوری دنیا میں تیل کا بحران جس تیزی سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور عالمی مارکیٹوں اور معیشت کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کا ازالہ کیسے اور کیوں کر ممکن ہے۔ البتہ صدر ٹرمپ نے اپنے حکومتی آفس میں مسیحی پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کو جمع کرکے جنگ میں کامیابی کے لیے جس خصوصی دعا کا اہتمام کیا۔ اس پر عالمی ذرائع ابلاغ میں ایک بحث کا آغاز ہو گیا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں ’’مذہبی کارڈ‘‘ استعمال کرکے جنگ کو نیا رخ دینا چاہتے ہیں جو مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔
خلیج کے مسلم ممالک کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ انھوں نے اپنے ملک میں امریکا کو فوجی اڈے مہیا کرکے اپنی بقا اور سلامتی کی جو حمایت اور ضمانت حاصل کی تھی، ایرانی حملوں کے بعد اس کا کیا جواز باقی رہ گیا ہے۔ الٹا اس سے مسلم ملکوں کے درمیان اختلافات اور تنازعات نے جنم لیا اور غلط فہمیاں پیدا ہونے سے تعلقات میں کشیدگی اور مسلم امہ کا اتحاد کمزور پڑ گیا ہے جو امریکا و اسرائیل کی کامیابی ہے کہ ان کی تو یہی خواہش ہے کہ مسلم ممالک آپس میں دست و گریباں ہو جائیں اور ان کے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ منصوبے کی راہ ہموار ہو جائے۔ بعینہ مسلم دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان کو اس کی جوہری صلاحیت سے محروم کر دیا جائے۔
پاکستان کے عوام اور قیادت صیہونی سازشوں سے پوری طرح باخبر اور اپنے مشرقی دشمن بھارت کی چال بازیوں سے کماحقہ آگاہ ہے۔ مودی سرکار نے اسرائیلی گٹھ جوڑ سے افغانستان کی طالبان حکومت کی ساز باز کے ذریعے جس طرح مغربی سرحدوں پر جو فساد برپا کر رکھا ہے پاکستان کی افواج اس سے نمٹنے کے لیے پوری طرح کمربستہ ہے۔ آپریشن غضب للحق کے ذریعے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو پاک فوج پوری قوت سے کچل رہی ہے تاکہ یہ فتنہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔ پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت باہمی اشتراک و تعاون سے امریکا ایران جنگ سے پیدا ہونے والی صورت حال اور اس کے منفی اثرات پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے قوم سے اپنے خطاب میں بتایا کہ پاکستان خطے کی کشیدہ صورت حال میں حتی المقدور کوشش کر رہا ہے کہ معاملات افہام و تفہیم، تدبر اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جائیں۔
انھوں نے اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ و رفقا کی شہادت پر حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حملوں کی شدید مذمت کی اور ایران کی نئی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کو دہرایا۔ وزیر اعظم نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے علاوہ یو اے ای، قطر، بحرین، کویت، اردن، لبنان، عمان اور ترکیہ پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی۔ وزیر اعظم نے افغانستان میں دہشت گردوں سے قومی سلامتی کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں اپنی مغربی سرحدوں پر افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی جانب سے دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے ، جواب میں پاک فوج وطن عزیز کی سلامتی و خودمختاری اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔
وزیر اعظم نے جنگ کی صورت حال سے پیش آمدہ سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ تیل کی قیمتوں میں 55 روپے کا حالیہ اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا۔ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے انھوں نے 14 نکاتی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے قوم کو بتایا کہ معیشت کے استحکام، کفایت شعاری اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اشرافیہ کے لیے مراعات کو محدود اور سرکاری اخراجات میں کمی اور بچت کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے حکومتی فیصلوں کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2 ماہ کے لیے سرکاری گاڑیوں کے پٹرول میں 50 فی صد کمی کر دی گئی ہے۔ دفاتر میں ہفتے میں 4 دن کام اور تین دن چھٹی ہوگی، تعلیمی ادارے 31 مارچ تک بند رہیں گے، 50 فی صد ملازمین ورک فراہم ہوم کریں گے، وزرا اور مشیران 2 ماہ تک تنخواہیں نہیں لیں گے، اراکین اسمبلی کی تنخواہیں 25 فی صد کم اور غیر ملکی دوروں و سرکاری عشائیوں پر پابندی ہوگی۔
توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کے اعلانات اور اقدامات ایک محدود حد تک ہی قابل ذکر ہیں جن سے براہ راست عوام الناس کو کوئی قابل ذکر ریلیف نہیں ملے گا، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر بھاری اضافے سے گرانی کا جو سونامی آئے گا اس سے براہ راست عوام متاثر ہوں گے۔ معاشی ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ پرانی قیمتوں پر خریدے گئے تیل پر 55 روپے اضافے سے 80 ارب روپے کا منافع کس کی جیب میں جائے گا؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ سرکاری اخراجات میں کٹوتیاں اپنی جگہ درست لیکن 55 روپے کا اضافہ فوراً واپس لیا جائے تب ہی غریب عوام کو ریلیف ملے گا۔ سرکاری ملازمین کو مفت بجلی، گیس، تیل کی فراہمی کو ختم کیا جائے اور سادگی و کفایت شعاری کی پالیسی کو مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جائے تب ہی پاکستان معاشی استحکام کی منزل حاصل کر سکتا ہے۔
Today News
روس انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایران امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا
روس حالیہ علاقائی جنگ کے دوران ایران کو انسانی امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کی جانب سے بھیجی گئی امداد کھیپ ایک Il-76 کارگو طیارہ 13 ٹن سے زائد طبی سامان لے کر آذربائیجان پہنچا ہے جہاں سے یہ امداد ٹرکوں کے ذریعے سرحد پار کر کے ایرانی حکام کے حوالے کی جائے گی۔
اس امدادی کھیپ میں ہنگامی طبّی سامان، آلات اور ادویات شامل ہیں۔ جس کا مقصد حالیہ کشیدگی کے دوران ایران میں متاثرہ افراد کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
روسی وزارت ہنگامی حالات نے بتایا کہ یہ امدادی مشن روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ روس خطے میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے امدادی اقدامات جاری رکھے گا۔
روس کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور خطے میں متعدد مقامات پر حملوں اور فوجی کارروائیوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ مجھے معلوم ہے، روس تھوڑی بہت ایران کی مدد کر رہا ہے جیسے ہم یوکرین کو کرتے ہیں۔
Today News
عالمی یوم القدس، مزاحمت کا استعارہ ہے
دنیا بھر میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔
دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیں ہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔
اس دن کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لیے متحد ہوکر ہم آواز ہوجائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلمان دنیا بھر میں متحد ہیں۔
امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔
یہ دن مسلمانوں کے لیے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھرکے حریت پسندوں کے لیے ایک مرکزی دن کی حیثیت اختیارکرچکا ہے۔
اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لیے اپنی آواز بلندکریں۔
امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں۔ انھوں نے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انھوںنے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیا اورکہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اورکانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کارروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔
اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔
غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جوکہ 23رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا گیا۔ ایسے حالات میں آیا کہ جب امریکا و اسرائیل اور مغربی دنیا نے فلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔
ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکا و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں، اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہوجائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔
یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔
غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔
حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے رفقاء اور اہل و عیال نے بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کرلیا ہے۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔
یورپ، امریکا، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔
عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لیے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیرکو بیدار رکھنا بھی ہے۔
جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرارکی ہے کہ حق کی آوازکو دبایا نہیں جا سکتا۔
آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدارکرنے کا کام کر رہی ہے، اگرچہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجود ہیں۔
ان کا راستہ ہمارے لیے واضح ہے، اگر آج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنماؤںنے اپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی۔
یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیرکی بیداری کا دن بن چکا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔
ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لیے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے غیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔
Today News
پشاور، عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے انکلوژرز 1992 ورلڈ کپ کے ہیروز کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری
پشاور:
خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے انکلوژرز کو 1992 کے عالمی کپ میں پاکستان کو تاریخی فتح دلانے والی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
محکمہ کھیل کی جانب سے اس سلسلے میں سمری صوبائی حکومت کو ارسال کی گئی تھی جسے باقاعدہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹی ٹوئنٹی کپ کے اختتام کے بعد اسٹیڈیم کے مختلف انکلوژرز کو قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ناموں سے منسوب کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 1992 کے عالمی کپ میں پاکستان کی قیادت کپتان عمران خان نے کی تھی جبکہ فاتح ٹیم میں جاوید میانداد، وسیم اکرم، عاقب جاوید، انضمام الحق، سلیم ملک، اعجاز احمد، عامر سہیل، رمیز راجہ، مشتاق احمد، اقبال سکندر، معین خان، زاہد فضل اور وسیم حیدر شامل تھے۔
ڈائریکٹر جنرل کھیل تاشفین حیدر کے مطابق عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے انکلوژرز کو 1992 کے عالمی کپ کی فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کے ناموں سے منسوب کیا جا رہا ہے جس کی صوبائی حکومت سے منظوری مل چکی ہے اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے بعد اس منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کر دیا جائے گا۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper