Connect with us

Today News

تیل کی ہتھکڑیاں توڑو۔۔۔۔ سورج سے ناتا جوڑو

Published

on


تاریخ کا پہیہ جب بھی مشرق وسطیٰ کی ریت پرگھومتا ہے، اس کے نشانات پاکستان کے غریب گھرانوں کے باورچی خانوں تک گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ آج آبنائے ہرمزکے سمندر سے اٹھنے والا دھواں ایک عالمی معاشی زلزلے کا نقطہ آغاز معلوم دے رہا ہے اور ہمیں یہ باورکرایا جا رہا ہے کہ ہماری معیشت کی نبضیں ان پائپ لائنوں سے جڑی ہیں اور اب یہ موقع آ گیا ہے کہ ہماری معیشت اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے باہر آ کر پاکستان کی عوام کی اکثریت کے کرب کے ساتھ جڑ گئی ہے کیونکہ میرے نزدیک معاشیات صرف اعداد و شمار، معاشی اصولوں اور بہت سے معاشی بحث ومباحثے کا نام نہیں، یہ تو انسانی زندگی کے اس کرب کا نام ہے جو ایک باپ کی پیشانی پر اس وقت ابھرتا ہے جب پٹرول کی قیمت اس کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے اور ایک ماں کے حساب کتاب سے ظاہر ہو جاتا ہے جب وہ ایک روٹی اپنے چار بچوں میں برابر تقسیم کر دیتی ہے اور خود پانی کا ایک گلاس پی کر مطمئن ہو جاتی ہے کہ آج میرے بچوں کا پیٹ بھرگیا ہے۔

پاکستان کی معیشت اسی درد و کرب سے دوچار ہو کر حیران و پریشان کھڑی ہے کہ بظاہر 2 یا 3 ہفتوں کا پٹرول کا ذخیرہ اور جنگ کے آغاز کا تو سب کو پتا ہے انجام کی خبر نہیں ہے، کیونکہ امریکا، ایران جنگ میں پاکستانی معیشت ’’تیل زدہ جال‘‘ میں پھنسی ہوئی ہے،کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 80 فی صد سے زائد حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ ان دنوں تیل کی قیمت میں جس طرح سے اضافہ ہوئے چلا جا رہا ہے اس سے پاکستان کا ماہانہ توانائی کا درآمدی بوجھ دو ارب ڈالر سے بھی زائد پہنچ چکا ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔ اس میں سب سے اہم کردار آبنائے ہرمز کا ہے، کیونکہ پاکستان اپنے درآمدی تیل کا 90 فی صد حصہ اسی آبنائے ہرمز کے تنگ راستے سے لے کر آتا ہے۔

پاکستان کے لیے تیل صرف ایندھن نہیں بلکہ یہ معیشت کا خون ہے جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو جیساکہ گزشتہ دنوں پٹرول کی قیمت اور ڈیزل کی قیمت میں اچانک راتوں رات ہی 55 روپے کا اضافہ کر دیا گیا جس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات، اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے، کیونکہ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہی ترسیلات زر کا 80 فی صد سے زائد حصہ آتا ہے، جنگ کے باعث ان ملکوں کی معیشت خطرات سے دوچار ہو چکی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ ان کے کھاتے میں ڈال رکھا ہے تو دیگر ملکوں کی طرف پہلے دھیان کیوں نہیں گیا؟ ہر حکومت کو اپنے اپنے وقت پر یہ احساس کرنا چاہیے تھا کہ اپنے زیادہ سے زیادہ افرادی قوت کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ دیگر ملکوں کو بھی اولیت دی جانی چاہیے تھی، لیکن اب اس جانب توجہ دینی ہوگی۔

وقت آگیا ہے کہ پاکستان توانائی کی خود مختاری کے حصول کے لیے فوری قدم اٹھائے، شمسی انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔ سولر پینلز کے کاروبار کو ہر طرح کی سہولیات مراعات دی جائیں تاکہ غریب کی چھت پر بھی سولر پینلز کی بہار اتر سکے، کیونکہ شمسی توانائی قدرت کی طرف سے پاکستان کے لیے ایک قیمتی لیکن مفت تحفہ ہے۔ پاکستان کے منصوبہ سازوں کو اس بات کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ بھارت ’’جموں‘‘ میں نئے پن بجلی منصوبوں کی تیاری کر رہا ہے ایسے منصوبے بنا رہا ہے جس سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ پہلے ہی وہ کئی بڑے ڈیمز بنا چکا ہے اور ہم 1974 میں تربیلا ڈیم کے بعد کوئی قابل ذکر بڑا ڈیم نہیں بنا سکے۔ لہٰذا اب شمسی توانائی کے اس عظیم خزانے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ جہاں جہاں پانی کی ضرورت پڑے تو ٹیوب ویلوں کو سولر پینلز کا سہارا دیا جاسکے اور ایسا کرنا زرعی خودکفالت کے لیے ضروری ہے۔

مشرق وسطیٰ کے افق پر اٹھتا ہوا دھواں ہمیں ایک آخری مہلت دے رہا ہے کہ ہم ایک ایسی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں اب خاموشی اور تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ کسان جو ہزاروں سال سے بادلوں کی طرف دیکھتا تھا اب اسے اپنی بنجر امیدوں کو سیراب کرنے کے لیے تیل کے ٹینکروں کے بجائے آسمان سے برستی ہوئی کرنوں کی ضرورت ہے۔ زرعی خود کفالت اب محض ایک خواب نہیں بلکہ ہماری بقا کا واحد راستہ بن چکی ہے، جب تک ہم اپنے کھیتوں کو شمسی حصار میں نہیں لائیں گے، اس وقت تک دوسروں کے ہی محتاج رہیں گے، لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رزق کو سورج کی سنہری کرنوں سے محفوظ سنہری دور کے ساتھ جڑ جائیں کیونکہ جو قوم سورج سے ناتا جوڑ لیتی ہے اسے کوئی بحران اندھیروں میں نہیں دھکیل سکتا۔حکومت کو چاہیے کہ سولر پینلز سے وابستہ تاجروں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کرے۔ ان کی راہ میں حائل سرخ فیتہ شاہی اور غیر ضروری نامناسب ٹیکسز دراصل سورج کی روشنی پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔ سولر پینلز کے تاجروں کو اہمیت دینا محض ایک توانائی پالیسی نہیں بلکہ سستی توانائی کی طرف ہجرت کا پہلا قدم ہوگا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

نیتن یاہو منظرعام پر آگئے؛ براہ راست پریس کانفرنس میں بڑا اعتراف کرلیا

Published

on


اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے لائیو پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ جنگ میں اہداف، مقاصد اور حکمت عملی پر کھل کر گفتگو کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بقول اسرائیل اور امریکا مل کر پورے مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کا تحفظ کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ 20 دن کی لڑائی کے بعد ہم جیت رہے ہیں اور ایران کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 

انھوں نے دعویٰ کیا کہ تہران کی فوجی صلاحیت، خاص طور پر اس کے ایٹمی اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون ہتھیاروں کے ذخائر کو بڑی حد تک تباہ کیا جا رہا ہے اور انھیں مکمل طور پر ختم کرکے دم لیا جائے۔

اس کے بعد انھوں نے اعلان کیا کہ اس جنگ میں ایران اب یورینیم افزودگی اور بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت سے محروم ہوچکا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے اندر ممکنہ عوامی ردعمل کے بارے میں کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے یا نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران میں حکومت یا کسی بھی تبدیلی کے لیے صرف فضائی کارروائیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ زمینی سطح پر بھی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ زمینی کارروائی کے کئی امکانات موجود ہیں لیکن اس حوالے سے وہ تفصیلات ظاہر نہیں کریں گے۔

ان کے اس بیان کو ماہرین خطے میں ممکنہ طور پر کسی بڑی حکمت عملی یا آئندہ اقدامات کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

pmln bashir memon clarification – ایکسپریس اردو

Published

on


گورنر سندھ نہال ہاشمی کے مسلم لیگ ن سندھ بشیر میمن کی رہائش گاہ کے دوران کئی لیگی رہنماؤں کے دوران تنظیمی امور پر بحث ہوئی اور گورنر سندھ کے قریبی ساتھی کو صوبائی صدر نے مبینہ طور پر تھپڑ بھی مارا۔

بشیر میمن کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کی کچھ باتیں سوشل میڈیا پر سامنے آئیں اور دعویٰ کیا گیا کہ بشیر میمن نے گورنر سندھ کی موجودگی میں پارٹی کے سینئر رہنما خرم بھٹی کو مبینہ طور تھپڑ مارا ہے۔

اس حوالے سے یہ تاثر  سامنے  آرہا ہے کہ ن لیگ سندھ کے رہنماؤں مبینہ طور پراختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کی جانب سے رابطہ کرنے پر مسلم لیگ ن سندھ کے صدر بشیر میمن نے بتایا کہ مسلم لیگ ن میں کوئی اختلاف نہیں ہے، گورنر سندھ نہال ہاشمی میرے گھر آئے اور میں نے انہیں خوش آمدید کہا۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر پارٹی رہنما خرم بھٹی بھی موجود تھے، جس میں مختلف امور پر بات ہوئی، یہ جمہوری عمل کا حصہ یے، میرا ہاتھ  محبت والے انداز میں خرم بھٹی کے چہرے پر لگ گیا تھا۔

بشیر میمن کے مطابق ’میں نے خرم بھٹی کے چہرے پر ہاتھ لگا کر کہا کہ کیا بات ہے آجکل آپ شیو نہیں کررہے ہیں، جس  پر یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ میں نے خرم بھٹی کو تھپڑ مارا ہے، یہ الزام غلط ہے۔

بشیر میمن نے کہا کہ خرم بھٹی میرے بچوں جیسا اور پارٹی کا رہنما ہے، میڈیا پر کیے جانے والے دعوے غلط ہیں۔ 





Source link

Continue Reading

Today News

 ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور

Published

on


ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا.

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ میں حکومتی نمائندہ سمعیہ رفیعی نے اس تجویز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قانون ساز اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

تہران کے معروف مقام والیاسر اسکوائر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل اختیار حاصل ہے۔

سمیعہ رفیعی نے کہا کہ ایران نے اپنے مخالفین کو انھیں فراہم کردہ سہولتوں سے محروم کر دیا ہے جس پر دشمن ممالک اس نئی صورتحال کو قبول کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

ایرانی رکن پارلیمان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اس جنگ کا خاتمہ بالآخر ایران کی فیصلہ کن فتح پر ختم ہوگا جس کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنا مخالف ممالک کے لیے مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی اس آبی گزرگاہ پر کسی بھی قسم کی پابندی، ٹیکس یا رکاوٹ عالمی توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

تاحال اس تجویز پر مغربی ممالک یا خلیجی ریاستوں کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین نے اسے بین الاقوامی قوانین خصوصاً سمندری راستوں کی آزادی سے متعلق اصولوں کے منافی قرار دیا۔

 





Source link

Continue Reading

Trending