Connect with us

Today News

جارحیت

Published

on



طالبان نے پاکستان پر حملہ کیا اور امریکا اور اسرائیل نے ایران پر۔ اب اس جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اصل سوال تو یہی ہے لیکن اس میں بھٹکنے کی راہیں بہت ہیں۔ مجھے یہ بات کرنی ہے لیکن اس سے پہلے ایک بنیادی نکتے پر توجہ ضروری ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مئی کی پاک بھارت جنگ میں جو بازی پلٹی تھی اور اس کے نتیجے میں عالمی منظر نامہ تبدیل ہوا تھا، اب اس میں کچھ مزید تبدیلی آ گئی ہے اور دنیا میں ایک نئی دھڑے بندی تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ اس دھڑے بندی کے مقاصد کیا ہیں؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھ لیا تو یہ بھی سمجھ میں آ جائے گا کہ پاکستان طالبان جنگ کا انجام کیا ہوگا۔

مئی کے معرکے کے بعد بھارت تنہائی کا شکار ہو چکا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ نریندر مودی کی تضحیک کیا کرتے تھے(اب اسے گریٹ گائے قرار دیتے ہیں)۔ امریکا اُن دنوں بھارت پر تجارتی ٹیرف میں آئے روز اضافہ کرتا جاتا تھا لہٰذابھارت اور مودی دبک کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک نئی ڈیل ہو گئی۔

بھارت نے امریکا کے لیے ٹیرف صفر کر دیے اور امریکا جس نے اپنا ٹیرف پچاس فیصد تک بڑھا دیا تھا، اب اٹھارہ فیصد تک کم کر دیا ہے جو پاکستان سے بھی کم ہے۔ اس کے بعد یوں سمجھیے کہ دنیا بدل گئی۔ نریندر مودی بھاگے بھاگے اسرائیل جا پہنچے اور ادھر افغانستان پاکستان پر حملہ آور ہو گیا۔ افغانستان پاکستان پر حملہ آور کیوں ہوا اور اس حملے کا بھارت اور اسرائیل سے کیا تعلق ہے، یہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس معمے کے حل میں جتنی مدد نیتن یاہو کر سکتا ہے، کوئی اور نہیں کر سکتا۔

نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان ماتا پتا کا رشتہ دریافت کیا تو اس کی ایک وجہ تھی۔ یہ وجہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں بیان کی۔ اس نے ایک نئے اتحاد کا تصور پیش کیا۔ اسرائیل اور بھارت اس کے کلیدی ارکان ہیں۔ دیگر ارکان میں افغانستان اور صومالی لینڈ کے علاوہ عرب دنیا سے سعودی عرب کے مخالفین شامل ہیں۔

نئے اتحاد کے مقاصد کیا ہیں؟اس کے مقاصد واضح ہیں۔ یہ اتحاد دنیا کی نئی دھڑے بندی کو بنیاد فراہم کر رہا ہے جس میں پاکستان ، سعودی عرب ، ترکیہ ، چین اور روس کے مقابلے میں اسرائیل، بھارت اور ان کے حاشیہ بردار آ کھڑے ہوئے ہیں جن میں بدقسمتی سے افغانستان بھی شامل ہے جو کبھی غزوہ ہند کے نعرے بلند کیا کرتا تھا۔ ویسے تو نئی دھڑے بندی سے ہی اس تقسیم اور بھارت و اسرائیل کی قیادت میں بننے والے اتحاد کا مقصد واضح ہو جانا چاہیے لیکن ہمارے کچھ نسل پرست اور خام خیالی میں جینے والے نام نہاد نظریاتی لوگ اپنی دنیا میں مست رہتے ہیں اور وطن دشمنی یعنی پاکستان دشمنی تک سے گریز نہیں کرتے۔ شاید لوگوں کو جگانے کے لیے ہی قدرت نے اسرائیل میں امریکی سفیر کا انتخاب کیا ہے جس نے بڑھک ماری ہے کہ اسرائیل عرب سرزمینوں پر قبضے کا پورا حق رکھتا ہے۔

حماس اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے بعد اسرائیل کے سامنے مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت باقی نہیں بچی۔ یوں اسرائیل جہاں تک چاہیے، اپنی سرحدوں کو وسعت دے سکتا ہے۔ اسرائیل کی جوع الارض یعنی توسیع پسندی کے راستے میں اب صرف ایک ہی رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ وہی ہے جس کے ساتھ سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا ہے یعنی پاکستان۔ خطے میں ہونے والی تازہ کشمکش یعنی افغانستان کی طرف سے پاکستان میں برآمد کی جانے والی دہشت گردی اور اس کے بعد حملہ ان ہی نئی دھڑے بندیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس مقصد کے لیے طالبان کو اسرائیل نے بہ راستہ بھارت ڈرون بھی فراہم کر دیے ہیں۔

یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ بہت سادہ بات ہے۔ پاکستان کا گھیرا ؤکر کے اسے کمزور کرنا۔ منصوبے یہ ہیں کہ یہ گھیراؤ تین طرف سے ہونا چاہیے۔ ایک طرف بھارت ہمیشہ سے موجود ہے۔ مغربی جانب افغانستان کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔ تیسری طرف ایران ہے۔ اسرائیل اسی لیے بے چین تھا کہ امریکا ایران پر چڑھ دوڑے اور وہاں انقلابی حکومت کا خاتمہ کر کے کٹھ پتلی حکومت قائم کر دے۔ایسی صورت میں تہران میں رضا پہلوی کو بٹھایا جائے یا کسی اور کو، وہ جو کوئی بھی ہو گا، اسرائیل کا ممنون احسان ہو گا۔ یوں پاکستان کی تیسری سرحد بھی گرم ہو جائے گی اور اسے تین طرف سے گھیر لیا جائے گا۔ پاکستان میں 2018 میں جو تبدیلی آئی تھی، اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ اسے ایٹمی طاقت سے محروم کر کے بے دست و پا کر دیا جائے تاکہ اسرائیل کی توسیع پسندی کی راہ کا آخری کانٹا بھی نکل جائے۔ وہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔ اب پلان بی پر عمل ہو رہا ہے۔ کیا یہ پلان کامیاب ہو گا؟ مستقبل کی خبر تو صرف ذات باری ہی کو ہے لیکن اگر افغانستان میں حکومت بدل جائے تو ان منصوبوں پر اوس پڑ سکتی ہے۔ پاکستان اور اس کے اتحادیوں اور دوستوں کی کوشش یہی ہے۔

اس منظر نامے کا ایک اور پہلو خاصا حیران کن ہے۔ ایک طرف صدر ٹرمپ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، دوسری طرف شہباز شریف ماسکو جا رہے ہیں۔ وہ ماسکو جا کر کیا کریں گے؟ اس سوال کا جواب ملنا شروع ہو گیا ہے۔ خبریں تھیں کہ روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب اس کی رائے مختلف ہے۔ طالبان کے اسرائیل بھارت کیمپ میں جانے کے بعد روس نے حقیقت پسندانہ راستے کا انتخاب کر لیا ہے جس کی ایک جھلک روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ملتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد شہباز شریف کے دورہ ماسکو کی ضرورت اور افادیت سمجھ میں آ جانی چاہیے۔

اس تگڑم کا ایک پہلو اور بھی ہے جس سے جمعیت علمائے ہند کے مولانا اسد مدنی کی ایک گفتگو نے پردہ اٹھایا جو انھوں نے طالبان وزیر خارجہ ملا متقی کے دورۂ دیوبند کے موقع پر کی تھی۔ مولانا مدنی نے فرمایا تھا کہ طالبان کی طرف سے بھارت میں دہشت گردی ہوتی تھی لیکن اب ہم نے اس کے راستے بند کر دیے ہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ طالبان حکومت برقرار رہے۔ اب یہ کوئی کہنے کی بات ہے کہ طالبان اور بھارت کا اتحاد ہو گا تو اس کی ضرب کس پر پڑے گی۔ کانگریسی علما تحریک آزادی کے وقت بھی تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے تھے اور آج بھی بدقسمتی سے غلط سمت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

اب ایک آخری بات کہ اگر بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی نئی دھڑے بندی کے پس پشت امریکا کھڑا ہے تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ موقع بے موقع پاکستان کی تعریف کیوں کرتے رہتے ہیں؟ یہ سوال اہم ہے لیکن عالمی سیاست کے نشیب و فراز پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ناپسندیدہ قوت کو بھی انگیج رکھنا ضروری ہوتا ہے تا کہ زہر کے بجائے گڑ سے کام چل جائے۔ کچھ ایسی حکمت عملی فریق مخالف کی بھی ہوتی ہے۔ پاکستانی قیادت ماسکو جا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بدلے ہوئے حالات اور اس کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ ہے لہٰذا خاطر جمع رکھیں، یہ کشمکش طول پکڑے گی، اس دوران طالبان انتظامیہ تاریخ کے کوڑے دان میں کہیں گم ہو جائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان اور مسلم دنیا کی بھلائی اسی میں ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان مفاہمت کا امکان کم ہے۔ مفاہمت ہونی ہوتی تو ترکیہ اور برادر ملکوں کی کوششیں کام یاب ہو جاتیں لیکن طالبان پر چوں کہ کانگریسی علما اور نریندر مودی کا جادو چل چکا ہے، اس لیے اب وہ عقل کی کوئی بات سننے اور تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت، متعدد یونیورسٹیز میں تدریسی عمل آج معطل رہے گا

Published

on


کراچی کی موجودہ صورتحال اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر اظہارِ تعزیت کے طور پر وفاقی اردو یونیورسٹی نے آج طلبہ کے لیے جامعہ بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

رجسٹرار کے مطابق آج جامعہ کے تینوں کیمپسز میں تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے شہر کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر چھٹی کا باقاعدہ اعلان جاری کر دیا ہے۔

دوسری جانب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے موجودہ حالات کے پیش نظر آج تمام کلاسز آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق تمام لیکچرز گوگل میٹ کے ذریعے منعقد ہوں گے اور فیکلٹی ممبران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آن لائن کلاسز کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ڈینز، چیئرپرسنز اور انتظامی عملہ معمول کے مطابق کیمپس میں موجود رہے گا تاکہ دفتری امور جاری رہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر اظہارِ تعزیت اور سوگ کے طور پر آج کراچی اور حیدرآباد میں اقراء یونیورسٹی میں بھی تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر سلمان علی آغا کا کپتانی چھوڑنے سے متعلق اہم اعلان

Published

on



پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کپتانی سے متعلق اہم اعلان کر دیا۔

پاکستان سپر ایٹ مرحلے کے اپنے آخری میچ میں سری لنکا کو شکست دینے کے باوجود سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کر سکا جس کے بعد ٹیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے۔

میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ بطور کپتان ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے کوچ کے ساتھ مشاورت سے کیے گئے، سلیکشن میں بھی ہم شامل تھے اور پلیئنگ الیون بھی ہم نے ہی میدان میں اتاری۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹیم دباؤ میں اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔ سلمان آغا کے مطابق بیٹنگ لائن میں صاحبزادہ فرحان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔

کپتانی چھوڑنے سے متعلق سوال کے جواب میں سلمان علی آغا نے کہا کہ اس وقت جذبات میں آ کر کوئی فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وطن واپسی کے بعد دو سے چار روز میں مشاورت کے بعد کپتانی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایران پر امریکی حملوں میں بی ٹو بمبار طیارے استعمال ہوئے، امریکا کی تصدیق

Published

on



امریکی سینٹ کام نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران پر گزشتہ روز کیے جانے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں بی ٹو بمبار طیارے استعمال کیے گئے۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے گزشتہ رات ایران پر 2 ہزار پاؤنڈ بم گرائے اور ایران کی بیلسٹک میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

سینٹ کام کے مطابق یہ بمبار طیارے جون 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں میں بھی استعمال ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد ایران کے بھی جوابی حملے جاری ہیں جبکہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں جس کی ایرانی حکومت نے تصدیق کردی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے بدلا لینے کا اعلان کر دیا اور  مشرق وسطیٰ میں موجود 27 امریکی اڈوں پر حملے شروع کر دیے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ امریکی جنگی جہاز بردار ابراہم لنکن کو 4 بلیسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں اب تک 200 سے زائد شہری شہید ہوچکے ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending