Today News
’جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان بے گناہ ہے‘، کیس جیتنے کے بعد علی ظفر کا اظہار خیال
پاکستانی گلوکار اور اداکار علی ظفر نے اپنے طویل قانونی کیس کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجربے نے ان کے اندر صبر، استقامت اور انصاف کے تصور کو نئے انداز میں تشکیل دیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں علی ظفر نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اُن لوگوں کا شکر گزار ہوں جو آزمائش کے وقت میں میرے اور سچ کے ساتھ کھڑے رہے۔ جنہوں نے مجھ پر شک کیا، اُن سے کوئی گلہ نہیں، ہم سب سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ دنیا کو فیصلوں سے زیادہ ہمدردی کی ضرورت ہے۔
طویل عدالتی کارروائی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دوران سب سے بڑا سبق انہیں اپنی اندرونی طاقت کا احساس ہوا۔ صبر، اور ایک ایسی طاقت جس کا آپ کو اس وقت تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک آپ کو اس کی ضرورت نہ پڑے۔ جب ہر طرف سے فیصلے سنائے جا رہے ہوں تو انسان کو اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے۔ میں نے سیکھا کہ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی اور خود کو ثابت قدم رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔
علی ظفر کے مطابق عوامی دباؤ اور تنقید کے باوجود خود کو پُرسکون رکھنا اس آزمائش کا سب سے مشکل پہلو تھا، لیکن یہی خاموش استقامت انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیتی رہی۔
انہوں نے کہا، ’’آخرکار یہی استقامت آپ کو سنبھالتی ہے۔‘‘
اپنی موجودہ ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب وہ ایک طرح کے سکون کا احساس کر رہے ہیں۔
’’میرے لیے اب یہ سب صرف سکون ہے‘‘۔
تاہم انہوں نے جھوٹے الزامات کے وسیع تر اثرات پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس کے ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جھوٹا الزام کسی شخص کی ساکھ، تعلقات اور زندگی پر حقیقی اثرات ڈالتا ہے، اور انصاف کے تصور میں اس پہلو کو بھی شامل ہونا چاہیے۔‘‘
علی ظفر نے قانونی عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیشہ ورانہ طور پر انصاف کو ثبوت اور قانون پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ شور شرابے یا دباؤ پر۔ ’جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان بے گناہ ہے‘ یہ صرف قانونی اصول نہیں بلکہ انسانی اصول بھی ہے۔
انہوں نے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ تخلیقی کام کی جانب لوٹنے کے لیے پُرامید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’میں دوبارہ تخلیق اور اُن لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں جو ان اصولوں پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔
واضح رہے کہ سیشن عدالت نے گزشتہ ہفتے گلوکارہ میشا شفیع کو ہتکِ عزت کے مقدمے میں علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ یہ مقدمہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے کے بعد دائر کیا گیا تھا۔
Source link
Today News
اسٹیٹ بینک نے آئی ٹی ایکسپورٹرز، فری لانسرز کیلیے نئی سہولتیں متعارف کرادیں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئی ٹی کے برآمد کنندگان اور فری لانسرز کے لیے نئی سہولتیں متعارف کروا دیں۔
بینک دولت پاکستان (ایس بی پی) نے آئی ٹی کے برآمد کنندگان اور فری لانسرز کو سہولت دینے کے لیے اصلاحات کا ایک مجموعہ متعارف کرایا ہے۔
ان اصلاحات کا مقصد برآمدی وصولیوں کے طریقہ کار کو آسان، دستاویزی تقاضوں کو معیاری بنانا، ٹرانزیکشن کی پروسیسنگ کے اوقات مقرر کرنا اور شکایات کے ازالے کے نظام کو تقویت دینا ہے۔
اس ضمن میں کیے گئے اقدامات درج ذیل ہیں:
آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو اب ہر انفرادی برآمدی لین دین کے لیے فارم “R” جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے وہ اکاؤنٹ کھولتے وقت ایک بار اعلامیہ فراہم کریں گے جس میں بیرونِ ملک فراہم کی جانے والی خدمات کی نوعیت واضح کی جائے گی جبکہ موجودہ صارفین ضرورت پڑنے پر ایسا کریں گے۔ مجاز ڈیلر (بینک) برآمدی لین دین کی رپورٹنگ اور پروسیسنگ کی غرض سے برآمد کنندہ کے اکاؤنٹ کے ساتھ متعلقہ سروس اور مقصد کا کوڈ منسلک کریں گے، اگر برآمد کنندہ کی جانب سے کوئی اور ہدایت موجود نہ ہو۔
برآمد کنندگان کے اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس سے آنے والی برآمدی رقوم اور بیرونِ ملک ترسیلات کی پروسیسنگ کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک کاروباری دن کا وقت مقرر کر دیا گیا ہے۔
بیرونِ ملک سے خدمات حاصل کرنے میں برآمد کنندگان کے اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس سے کی جانے والی ادائیگیوں کے دستاویزی تقاضوں کو معیاری بنایا گیا ہے تاکہ بینکوں میں یکسانیت اور واضح پن کو فروغ دیا جا سکے۔
بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مؤثر داخلی نظام قائم کریں تاکہ آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کی جانب سے دائر کی گئی شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے، جس سے خدمات کے معیار اور ردِعمل میں بہتری آئے گی۔
مندرجہ بالا اقدامات کے علاوہ، خدمات کے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کے لیے رپورٹنگ کے تقاضوں کو بھی فارم“R”، ان ورڈ ریمی ٹینس واؤچر (IRV) اور فارم “M” میں ترامیم کے ذریعے آسان بنایا گیا ہے۔ فارم “R” حاصل کرنے کی حد بڑھا کر 25000 امریکی ڈالر (یا دیگر کرنسیوں میں مساوی رقم) سے زائد کر دی گئی ہے، جس سے مستفید ہونے والوں کو سہولت حاصل ہوگی۔
مزید برآں، بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فارم “R” اور فارم “M” کو ڈجیٹلائز کریں اور انہیں صارف کے بنیادی ڈیٹا کی آٹو پاپولیشن functionality سے ہم آہنگ کریں تاکہ کاروبار کرنے میں مزید آسانی پیدا ہو۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یقین ہے کہ یہ اقدامات آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری لائیں گے اور پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
Source link
Today News
پی ایچ ایف نے انڈر 18 نیشنل ہاکی چیمپئن شپ کا شیڈول جاری کر دیا
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے انڈر 18 نیشنل ہاکی چیمپئن شپ 2026 کے شیڈول کا باضابطہ اعلان کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایونٹ 9 اپریل سے 19 اپریل تک کھیلا جائے گا جس میں ملک بھر سے 16 ٹیمیں شرکت کریں گی۔
فیڈریشن کے مطابق ٹورنامنٹ کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ پول اے میں پاکستان کسٹمز، خیبر پختونخوا 2، پنجاب 4 اور گلگت بلتستان شامل ہیں جبکہ پول بی میں پنجاب 1، سندھ 2، بلوچستان اور خیبر پختونخوا 1 کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی۔
اسی طرح پول سی میں پولیس، پنجاب 2، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد شامل ہیں جبکہ پول ڈی میں پاکستان ایجوکیشن بورڈ، سندھ 1، پنجاب 3 اور پاکستان آرمی کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق اس 11 روزہ ایونٹ کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آ سکیں۔
Source link
Today News
ایران نے امریکی امن منصوبے پر اپنا جواب پاکستان کو پیش کردیا
ایران نے امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے پر اپنا باضابطہ جواب پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر وہ کسی بھی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرسکتے۔
ایران نے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی جیسے اقدامات وقتی ہوتے ہیں جس کے دوران فریق خود کو جنگ کے لیے دوبارہ متحرک اور منظم کرلیتا ہے جس سے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران کے جواب میں دس نکات شامل ہیں جن میں خطے میں جاری تمام تنازعات کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کے لیے باقاعدہ طریقہ کار، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو جیسے مطالبات شامل ہیں۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ ایران صرف اسی صورت کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا جب جنگ کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے اور مستقبل میں دوبارہ جنگ کا راستہ مکمل طور پر بند کردیا جائے۔
ایرامی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے اس بات پر بھی چور دیا ہے کہ خطے کے تمام تنازعات کو ایک جامع امن منصوبے کا حصہ بنانا ضروری ہے تاکہ دیرپا استحکام حاصل کیا جا سکے۔
تہران سے رپورٹنگ کرنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک واضح پروٹوکول چاہتا ہے، کیونکہ یہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے معاملے میں بیرونی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود مضبوط اقدامات کو ترجیح دے گا۔ اسی تناظر میں عارضی جنگ بندی کو غیر مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے اس ردعمل پر باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا البتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب سے کچھ دیر بعد پریس کانفرنس کریں گے۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start