Connect with us

Today News

جب قوانین مقصد کو کچل رہے ہوں

Published

on



جب دنیا میں ایڈز کی بیماری تیزی سے پھیل رہی تھی، ہزاروں لاچار مریض علاج کی راہ تک رہے تھے۔ اس دوران امید کی کرن دوا زیڈوویڈین پر تحقیق جاری تھی مگر اس وقت کلینیکل ٹرائلز اور منظوری کے ضابطے سخت اور سست رفتار تھے کہ منظوری کوسوں دور نظر آتی تھی۔ مریضوں کی بے چینی میں شدت کا پھیلنا اور ڈاکٹروں میں اضطراب و کوفت اپنے عروج پر تھا۔

تحقیقی اداروں کا مؤقف تھا کہ مکمل سائنسی ثبوت کے بغیر دوا کو عام استعمال کی اجازت دینا خطرناک ہوگا۔ دوسری طرف مریضوں کا سوال یہ تھا کہ جب بیماری مہلک ہے اور متبادل علاج موجود نہیں تو کیا ضابطوں کی سختی انسانوں کی فوری ضرورت سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟

اس کشمکش نے بالآخر ریگولیٹری نظام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا ہر صورتحال کے لیے ایک ہی قسم کا ضابطہ مناسب طریقہ ہے۔ بعد میں اسی دباؤ کے نتیجے میں فاسٹ ٹریک اور ہمدردانہ استعمال کی اجازت جیسے راستے تراشے گئے، جنہوں نے شدید بیماریوں کے علاج میں نئی ادویات تک رسائی کو نسبتاً تیز کیا۔

یہ ہمیں ایک قدیم استعارے کی یاد دلاتا ہے۔ یونانی دیومالا کا تصوراتی کردار کچھ یوں ہے کہ پروکرسٹس اپنی چارپائی کے سائز کے مطابق مسافروں کو زبردستی ڈھالنے کی کوشش کرتا تھا۔ جو مسافر چارپائی سے زیادہ لمبا ہوتا اس کے پاؤں کاٹ دیتا اور جو چارپائی سے چھوٹا ہو اسے کھینچ کر لمبا کرتا۔ اسی سے پروکرسٹین اپروچ کی اصطلاح پیدا ہوئی، یعنی حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اسے ایک پہلے سے طے شدہ سانچے میں سمونے کی کوشش۔

ادویاتی اور حیاتی علوم کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے یہ استعارہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دوا کی تیاری، کلینیکل ٹرائلز اور منظوری کا عمل یقیناً انتہائی احتیاط کا متقاضی ہے۔ انسانی صحت سے جڑے معاملات میں ذرا سی لاپرواہی سنگین اور ناقابل تلافی نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں سخت ریگولیٹری نظام مریضوں کے مفادات کے تحفظ کےلیے کام کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ضابطے مقصد کے بجائے خود مقصد بن جائیں۔

سائنس کی فطرت مسلسل تبدیلی اور دریافت پر مبنی ہے۔ نئی بائیولوجیکل تھراپیز، جین پر مبنی علاج اور ذاتی نوعیت کی ادویات پرسنالائنز میڈیسن جیسے میدان روایتی فریم ورک سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اگر ہر نئی تحقیق کو پرانے پیمانوں میں ناپنے پر اصرار کیا جائے تو بعض اوقات تحقیق کی رفتار غیر ضروری طور پر سست ہوجاتی ہے۔

ایک پیشہ ور کی حیثیت سے یہ احساس بار بار سامنے آتا ہے کہ ضابطوں کا اصل مقصد تحقیق کو روکنا نہیں بلکہ اسے محفوظ اور ذمے دار بنانا ہے اور یہی رہنا چاہیے۔ جب قوانین لچکدار ہوں، سائنسی فہم کے ساتھ ترقی کریں اور مختلف حالات کے مطابق ڈھل سکیں تو وہ علم کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بنتے بلکہ ترقی کی ضمانت کے محافظ بن جاتے ہیں۔

مشکل یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف ادویاتی علوم تک محدود نہیں۔ تعلیم، معیشت، شہری منصوبہ بندی اور انتظامی ڈھانچوں میں بھی اکثر یہی رجحان دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک ہی طریقہ ہر مسئلے پر نافذ کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نظام بظاہر منظم نظر آتا ہے مگر حقیقت کی پیچیدگیوں کو سنبھال نہیں پاتا۔ شاید اسی لیے پروکرسٹس کی کہانی آج بھی ہمارے لیے ایک تنبیہ ہے۔ 

ضابطے ضروری ہیں، مگر ان کا مقصد زندگی اور علم کو ایک تنگ بستر میں فٹ کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل حکمت یہی ہے کہ نظام، حقیقت کے مطابق ڈھلے، کیونکہ جب حقیقت کو نظام کے مطابق کاٹا چھانٹا جاتا ہے تو نہ صرف تحقیق متاثر ہوتی ہے بلکہ انسانی فلاح کا مقصد بھی کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔

اکیسویں صدی میں بیسویں صدی کے اوزار یا معیار استعمال نہ کریں۔ ہر ایک کی انفرادی خصوصیات کو دوسرے کی معیار میں گڈمڈ نہ کریں۔ پرندوں کی آنکھ سے اونچائی پر جاکر مشاہدہ کریں، مطالعہ کریں، گفت و شنید کریں، نکتے جوڑ کر بڑی تصویر کے مصور بنیں اور دانشمندانہ فیصلے میں شواہد و معقولیت کو جگہ دیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آدھا انسان آدھی مچھلی، جاپان سے پُر اسرار مخلوق کی باقیات دریافت

Published

on



جاپان میں ایک پرانے گھر سے دریافت ہونے والی نصف مچھلی اور نصف انسانی جل پری کی باقیات نے ایک نئی بحث شروع کر دی۔

تیز دھار دانت اور دم کے ساتھ ’قدیم بلا‘ کی دریافت اس جاپانی لیجنڈ کے حقیقت ہونے کا ایک ثبوت ہو سکتا ہے۔

یہ پُراسرار ڈھانچہ مبینہ طور پر جاپان کے شہر فُوکوشیما کے ایک پرانے گھر سے ملا ہے۔

اس ہیبت ناک دریافت میں ریزر کی طرح تیز دانت، بڑے بڑے ہاتھ اور جل پری کی دم واضح دیکھی جا سکتی ہے۔

اس حوالے سے یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ جاپانی دیو مالائی کہانیوں کی آبی بلا ’کَپّا‘ کا نمائشی ماڈل ہے۔

ان سے متعلق کہا جاتا ہے کہ جاپان کے تالابوں اور دریاؤں میں ان کا مسکن تھا اور یہ انسانوں اور مویشیوں کو کھینچ کر پانی میں ڈبو دیتی تھیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں ڈرائیو ان سینیما دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ

Published

on



سندھ حکومت نے شہر قائد میں ایک بار پھر شہریوں کی تفریح کیلیے ڈرائیو ان سینیما بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ ثقافت و سیاحت نوادرات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکریٹری ثقافت و سیاحت خیر محمد کلوڑ، ڈائریکٹر جنرل ثقافت، ڈائریکٹر جنرل لائبریریز، ڈائریکٹر جنرل گورکھ ہل اسٹیشن، ایم ڈی سیاحت، ڈائریکٹر ڈی ٹی ایس سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں صوبائی وزیر نے وزیراعلی سندھ کی جانب سے جاری کردہ کفایت شعاری ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی جبکہ صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ کو کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں طے کیا گیا کہ موجودہ کفایت شعاری مہم کے بعد محکمہ ثقافت و سیاحت کی جانب سے اہم اقدامات کیے جائیں گے، جس کے تحت کراچی میں ڈرائیو ان سینیما دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ کراچی سے سکھر تک ٹرین سفاری کا تیسرا مرحلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد آرٹس کونسلز فعال کرنے پر غور کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق اجلاس میں طے کیا گیا کہ وفا ناتھن شاہی لائبریری خیرپور ناتھن شاہ، مورو کلچر سینٹر اینڈ لائبریری، پبلک لائبریری کشمور جلد عوام کیلئے کھول دی جائیں گی جبکہ سندھ حکومت نے گورکھ ہل اسٹیشن پر گورکھ فیسٹیول منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ کینجھر جھیل پر فیری سروس، واٹر اسپورٹس سروسز شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اضلاع کی سطح پر ثقافتی تقاریب سمیت نمائش کے پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اجلاس میں طے پایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے کفایت شعاری مہم کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام فیصلوں پر عمل کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ ڈرائیو ان سئنیما کو فعال کرنے کا پلان بنایا ہے جبکہ سیاحتی و ثقافتی مراکز کو مزید بہتر بناکر عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے مزید آسان نظام لایا جارہا ہے، سندھ کے سیاحتی مرکز گورکھ ہل اسٹیشنز پر ترقیاتی کام سے سیاحوں کو سہولت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حالات بہتر ہونے کے بعد گورکھ فیسٹیول منعقد کیا جائے گا۔وزیراعلی سندھ کی ہدایات پر محکمے میں سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

’’رنگ نہیں صلاحیت اہم ہے‘‘؛ فہد مصطفیٰ کا سانولی رنگت والوں کے لیے پیغام

Published

on



پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار، پروڈیوسر اور میزبان فہد مصطفیٰ نے رنگت کے حوالے سے پائے جانے والے تاثر پر کھل کر بات کرتے ہوئے ایک حوصلہ افزا پیغام دیا ہے، جو سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔

فہد مصطفیٰ، جو ’’جیتو پاکستان‘‘ پر اپنی کامیاب میزبانی اور متعدد ڈراموں و فلموں کے باعث شہرت رکھتے ہیں، حال ہی میں وسیم بادامی کے شو میں بطور مہمان شریک ہوئے۔ اس موقع پر وہ اپنی نئی فلم ’’آگ لگے بستی میں‘‘ کی تشہیر بھی کر رہے تھے اور ساتھ ہی اپنے کیریئر اور انڈسٹری سے متعلق مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔

پروگرام کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ کیا شوبز انڈسٹری میں ہیرو یا ہیروئن بننے کے لیے گوری رنگت ضروری ہے؟ اس پر فہد مصطفیٰ نے واضح انداز میں کہا کہ وہ خود گورے نہیں ہیں، اس کے باوجود انہوں نے انڈسٹری میں کامیابی حاصل کی، اس لیے رنگت اب کوئی معنی نہیں رکھتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں صلاحیت اور محنت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے صنم سعید، صبا قمر، احمد علی اکبر اور سجل علی جیسے جیسے بڑے ناموں کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ سب کامیاب فنکار ہیں اور ان کی پہچان ان کا ٹیلنٹ ہے، نہ کہ رنگت۔

فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں دنیا بھر میں ہر طرح کے چہروں اور رنگت کے حامل افراد اداکاری کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ خود سانولی رنگت رکھتے ہیں لیکن اپنی محنت اور صلاحیت کے باعث کامیاب ہوئے۔

ان کا یہ بیان نہ صرف شوبز انڈسٹری میں موجود رنگت کے تعصب کے خلاف ایک مضبوط پیغام سمجھا جا رہا ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال بن گیا ہے کہ کامیابی کا دارومدار ظاہری رنگت نہیں بلکہ قابلیت پر ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ فہد مصطفیٰ پر گوری رنگت حاصل کرنے کےلیے وائٹننگ انجیکشن لگانے پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending