Today News
جرائم پیشہ افراد کے خلاف مبینہ پولیس مقابلوں میں 8 ملزمان گرفتار
جرائم پیشہ افراد کے خلاف مختلف علاقوں میں پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں جس میں مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران زخمی سمیت 8 ملزمان گرفتار ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق صفورہ چورنگی کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران زخمی سمیت 3 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔
ترجمان ضلع ایسٹ پولیس کے مطابق رم جھم ٹاور کے قریب چار رکنی ڈکیت گینگ سے پولیس کا فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ دوطرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک زخمی سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ ایک ساتھی فرار ہوگیا۔
گرفتار ملزمان کی شناخت بشیر احمد ولد لال بخش، فرحان ولد نور محمد اور فیض اللہ ولد اسد اللہ کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے تین غیر قانونی پستول بمعہ ایمونیشن، موبائل فونز اور دو موٹر سائیکلیں برآمد ہوئیں۔
زخمی ملزم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب ضلع ملیر میں تھانہ اسٹیل ٹاؤن کی حدود میں حساس ادارے اور ملیر پولیس کے ساتھ مسلح ملزمان کا مںینہ مقابلہ ہوا۔ ایس ایس پی ملیر عبد الخالق پیرزادہ کے مطابق ایک زخمی ملزم صادق افغانی عرف شوٹر کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ اس کے ساتھی فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شہر میں متعدد سنگین جرائم میں مطلوب تھا اور اسٹریٹ کرائم کی سو سے زائد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔
ملزم کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ، موبائل فون اور نقدی برآمد کر کے اسلحہ فرانزک جانچ کے لیے روانہ کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم ماضی میں پولیس اور رینجرز پر فائرنگ اور ایک سب انسپکٹر کی شہادت کے واقعے میں بھی ملوث رہا ہے۔ ادھر شاہراہ نور جہاں تھانے کی حدود عبداللہ کالج کے قریب کے ڈی اے گراؤنڈ بلاک U میں موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان سے مقابلہ ہوا۔
پولیس نے دونوں ملزمان جاوید مگسی اور فیضان کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔ ملزمان کے قبضے سے دو ٹی ٹی پستول اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی۔ دریں اثنا ڈسٹرکٹ کیماڑی عابد آباد کے علاقے میں اتحاد ٹاؤن پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک زخمی سمیت دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
ایس ایس پی کیماڑی امجد احمد شیخ کے مطابق ملزمان سے دو پستول اور مسروقہ موٹر سائیکل برآمد ہوئی جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ اس سے قبل لیاقت آباد، تین ہٹی برج کے قریب پولیس مقابلے کے دوران ایک ملزم عامر قریشی زخمی حالت میں گرفتار ہوئے جبکہ اس کا ساتھی فرار ہوگیا۔ ملزم کے قبضے سے 30 بور پستول بمعہ لوڈ میگزین اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی۔ زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
Today News
میٹا کا ’میسنجر ایپ‘ مکمل طور پر بند کرنے فیصلہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے میسنجر کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا نے اعلان کیا ہے کہ 15 اپریل 2026 سے یہ ایپ مکمل طور پر غیر فعال کر دی جائے گی جس کے بعد اس پلیٹ فارم پر پیغامات، تصاویر، ویڈیوز، دستاویزات اور دیگر کوئی مواد بھی نہ بھیجا جاسکے گا اور نہ موصول ہوگا۔
اگر کوئی صارف میسینجر تک رسائی کرے گا تو اُسے فیس بُک اپنے بِلٹ-اِن میسیجز پر بھیج دے گا۔
کمپنی نے اس متعلق صارفین کو پہلے سے ہی آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ ایپلی کیشن کے بند ہونے سے قبل متبادل کا بندوبست کیا جا سکے۔
Today News
افغانستان دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بن گیا
طالبان رجیم کی شدت پسندی،غیرقانونی سرگرمیوں اوردہشتگردوں کی سرپرستی نے خطے کےامن کو داؤ پرلگا دیا۔
امریکی جریدے نےافغان طالبان کی دہشتگرد تنظیموں کی سرپرستی اورافغان سرزمین سے پھیلتی ہوئی دہشتگردی کو بےنقاب کردیا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی سے القاعدہ بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ افغان طالبان نےالقاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔
افغانستان میں طالبان اورالقاعدہ ایک دوسرےکوسپورٹ کرتےہیں۔ خطےکےدیگر ممالک بھی افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی،سرحد پارحملوں اورشدت پسندی سےشدیدمتاثر ہیں۔
افغان طالبان کی سرپرستی میں القاعدہ افغانستان میں فتنہ الخوارج سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کو تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کےزیرتسلط افغانستان اس وقت دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے جو خطےکےامن کے لیے خطرہ ہے۔
پاکستان افغانستان میں دہشتگردتنظیموں کی موجودگی کےحوالےسےعالمی برادری کوبارہا آگاہ کرچکا۔ وقت آگیاہےکہ دنیا ان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کےخاتمےکیلئے ٹھوس اقدامات کرے۔
Today News
’’شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں، بنیادی ضرورت ہے‘‘ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے حکم کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
جسٹس منیب اختر نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں بلکہ عام زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا عدالتیں کل کو رقم کی واپسی کے لیے بھی بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹنے کا حکم دیں گی؟ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا زندگی کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ۔ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے سی پی سی میں کی گئی ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون میں صریح حکم کے بغیر کوئی بھی عدالت کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کر سکتی۔
فیصلے کے مطابق 2016ء میں ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی تھی۔ رقم کی عدم ادائیگی پر ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا، جسے سندھ ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
واضح رہے کہ درخواست گزار کیخلاف پراپرٹی کیس میں ڈگری جاری کی گئی تھی اور درخواست گزار کو طے کردہ رقم جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech2 weeks ago
Apple iPhone 17e Release Date: Just Days Away, New Report Claims
-
Tech4 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch