Today News
جرم بصارت کی جسارت (آخری حصہ)
نیٹ میٹرنگ کے معاہدوں کے مطابق متعلقہ تمام ڈسکو کو دیے گئے اضافی یونٹس کے بدلے صارفین کو اتنے یونٹ دیے جائیں۔ یونٹ کے بدلے یونٹ لینے کے بعد اگر صارف کا بیلنس رہ جائے تو 27.5 روپے کے حساب سے ادائیگی کی جائے گی اور اگر صارف نے ایکسپورٹ کیے گئے یونٹ سے زیادہ یونٹ استعمال کیے تو صارف 37 سے 55 روپے فی یونٹ ادا کریگا۔ چند دن پہلے بجلی اور توانائی کے وفاقی وزیر اویس احمد لغاری نے 4 لاکھ 60 ہزار صارفین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا، ماں اپنے بچوں سے کیے وعدے کبھی نہیں توڑتی، مگر ماں جیسی ریاست نے اپنے کیے گئے معاہدوں کو یک جنبش قلم منسوخ کر دیا، اور اعلان کیا کہ اب نیٹ میٹرنگ نہیں نیٹ بلنگ ہوگی۔
یعنی یونٹ کے بدلے یونٹ نہیں، دن کے وقت صارفین کے ایکسپورٹ کیے گئے یونٹس کو 11.50 روپے سے 11 اعشاریہ 33 روپے پر خرید کر وہی یونٹ سورج غروب ہونے کے بعد واپس اسی صارف کو 37 سے 55 روپے میں دیا جائے گا۔ اس فیصلے سے لگتا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کوئی عوامی منصوبہ نہیں بلکہ سولر پینلز اور انورٹرز کی امپورٹ میں اربوں روپے کمانے کا منصوبہ تھا جو نیٹ بلنگ کا پھندا صارفین کے گلے ڈالنے کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔
نیٹ بلنگ کے پھندے کے ساتھ سولر صارفین چیخ اٹھے، ویسے بھی یہ صرف 4 لاکھ 60 ہزار موجودہ صارفین کا معاملہ نہیں، یہ ان لوگوں کا مسئلہ بھی ہے جو سولر پینلز لگانے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ ایک طرف اشرف العوام قسم کے سرمایہ داروں نے بینکوں سے اربوں روپے کے آسان شرائط قرضے لے کر جو آئی پی پیز لگائے ہیں ان کو تو حکومتی ارباب عوام کی جبیوں سے اربوں روپے نکال کر بغیر بجلی پیدا کیے کیپیسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں اور اپنی حلال کمائی پر اپنے گھروں کے چھتوں پر ماحول دوست منی گرین آئی پی پیز لگانے والوں کو اپنی پیدا کردہ بجلی چار گنا قیمت پر بیچ رہے ہیں۔
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر جانے کے لیے جو جواز پیش کیے جارہے ہیں وہ مضحکہ خیز ہیں۔ وزیر موصوف فرماتے ہیں کہ ایک بلب اور پنکھا چلانے والوں نے ایک سولر پینل اور بیٹری لگا کر واپڈا سے جان چھڑائی، 4 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ منی گرین کے مالکان (عام عوام) نے سرکاری بجلی لینا بند کردی تو بلنگ کم ہوئی جس کی وجہ سے حکومت کو ادائیگیاں کرنا مشکل ہوگئی۔ تو نیٹ میٹرنگ کے بجائے نیٹ بلنگ کی آڑ میں عوام کی جیبوں سے رقم نکال کر اس نقصان کو پورا کیا گیا۔ ہر صارف پر فکسڈ چارجز لگائے گئے، سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین (جن سے مفت بجلی کا وعدہ تھا) کو بھی ہر ماہ فکسڈ چارجز دینے پڑیں گے چاہے بجلی استعمال کرے یا نہ کرے۔
دو سو اور دو سو سے زیادہ یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے دو سو روپے اور 600 یا 600سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر 675 روپے فکسڈ چارجز دینے پڑیں گے کیوں کہ حکومت نے انڈسٹری کے لیے جو بجلی 4سے 4 روپے 58پیسے فی یونٹ سستی کی تھی اس رعایت کا بوجھ بھی عام عوام کی جیبوں پر ڈال کر پورا کریں گے۔ یعنی مونچھوں کو تاؤ شہباز شریف اور حکومتی وزراء دیں گے اور مال غریب عوام کا بانٹا جائے گا۔ اسے عوام دشمن ترجیحات نہ کہیں تو اور کیا نام دیں گے؟
نیپرا کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے باعث بجلی کے نظام پر مالی دباؤ بڑھ رہا تھا۔ نیپرا کے مطابق گرڈ کے بنیادی اخراجات برقرار رہتے ہیں جب کہ سولر صارف کم بل ادا نہیں کرتے یا کم بل ادا کرتے ہیں جس کی وجہ سے ڈسکوز مالی بحران کا شکار ہو رہے تھے اس لیے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف جانا پڑا۔یہ منطق سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ سولر صارفین نے یہ منی آئی پی پیز ان کی ترغیبات اور نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کی وجہ سے ہی لگائے تھے یہ سولر صارفین کے لیے محض توانائی کا منصوبہ نہیں بلکہ اندھیروں اور ہوشربا بلوں سے نجات، عزتِ نفس کو بچانے، اپنی مدد آپ اور خود انحصاری کا منصوبہ تھا۔
عام عوام کی یہ خواب و خواہش کہ ان کے بچوں کی پڑھائی متاثر نہ ہو، کاروبار نہ رکے اور ہر ماہ آنے والا بل گھر کے بجٹ کو تباہ نہ کرے کوئی جرم نہیں۔ نیٹ میٹرنگ نے اس خواب و خواہش کو حقیقت کا روپ دیا کہ دن میں اضافی بجلی بنے گی تو وہ رات کے اندھیرے میں کام آئے گی جب یونٹ کے بدلے یونٹ ملے گے مگر نیٹ بلنگ کی نئی پالیسی نے اس توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا، سولر صارفین اور عام عوام یہ جسارت کرنے میں حق بجانب ہے کہ ان کے اربوں روپے خرچ کروانے کے بعد معاہدے توڑ کر نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی پالیسی پر کیوں چلے گئے؟
کیا نیٹ بلنگ کی پالیسی بناتے وقت ان گھروں کی کہانی بھی سامنے رکھی گئی جہاں بیٹی کی چوڑیاں بیچ کر سولر سسٹم لگایا گیا؟ کیا اس اعتماد کا بھی خیال رکھا گیا جو عوام نے حکومتی پالیسی پر کیا تھا؟
ریاستی اور حکومتی فیصلے تدبر و فراست سے معمور اور عوامی فلاح سے لبریز ہونے چاہیں اس میں دو رائے نہیں نہ صرف بجلی بلکہ ہر نظام اور پالیسی کو جامع، پائیدار ہونا چاہیے مگر یہ پائیداری صرف مالیاتی نہیں، عوامی فلاح سے لبریز پالیسیوں کے تسلسل اور عوامی اعتماد سے آتی ہے۔ اگر آج سرمایہ کاری ایک ماڈل کے تحت کی جائے اور کل وہ ماڈل بدل جائے تو نقصان صرف چند صارفین کا نہیں، ملک و ملت کا ہوگا کیونکہ پورا شعبہ غیر یقینی کا شکار اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا۔
بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ، آئی پی پیز کے معاہدے، گرڈ کے مالی مسائل، یہ سب اپنی جگہ حقیقت ہیں مگر کیا ان مسائل کا حل ان سولر صارفین جنھوں نے اپنا سرمایہ لگا کر ریاست کا بوجھ کم کیا کی جبیوں پر ڈاکہ ڈالنے کے علاوہ کوئی نہیں؟ سولر پالیسی بدلنے کا مقصد سولر صارفین کو خود انحصاری کے جرم کی سزا دینے کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے ؟
نیٹ بلنگ پالیسی سے جہاں پوری قوم میں اضطراب اور غصہ پایا جاتا ہے وہاں بہت سے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان کی اقتصادی حالت کو دیکھتے ہوئے درآمدی ایندھن پر انحصار ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں جس کے لیے تمام ملکی اور غیر ملکی آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدے کینسل کرنے اور ملک کو گرین سولر انرجی انقلاب کی طرف لے کر جانا، اور سولر صارفین کو شراکت دار سمجھ کر ان سے ہر ممکن تعاون کرنا پڑے گا اور انھیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ انھوں نے گرین منی آئی پی پیز لگا کر جرم نہیں ملک و ملت پر احسان کیا ہے۔ کیا ستم ظریفی ہے کہ دنیا جہاں سولر اور گرین انرجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہاں پاکستان میں اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے ماحولیاتی آلودگی سے لبریز متروک ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کو پروموٹ کیا جارہا ہے۔
سولر پالیسی میں ایسی ظالمانہ تبدیلی بہت سی انسانی کہانیوں سے جڑی ہیں جب اس قسم کی پالیسیاں بدلتی ہیں تو اس کی بازگشت صرف فائلوں میں نہیں، گھروں کے کمروں سے نکل کر بازاروں اور سڑکوں پر سنائی دیتی ہیں اور جب یہ بازگشت پھر بھی نہ سنی جائے تو پھر کبھی ملک سری لنکا اور کبھی بنگلہ دیش بن جاتا ہے اور بسا اوقات حکمرانوں کو بھاگنے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا۔ اگر چہ وزیراعظم صاحب نے موجودہ سولر صارفین کے معاملے پر نظر ثانی کے احکامات جاری کر دیے ہیں مگر پتہ نہیں یہ عام عوام کی گردن پر صرف تیل لگانے کے لیے پھندا ڈھیلا کیا گیا ہے یا اس سے کوئی خیر نکلے گی سولر صارفین اور عام عوام کے لیے؟
Today News
ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں، امریکی صدر
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ کئی جنگیں رکوائیں اور ٹیرف کے نفاذ کے باوجود مختلف ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی۔ خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی تاریخ میں سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے اور گزشتہ 9 ماہ میں کوئی بھی غیر قانونی تارکِ وطن امریکا میں داخل نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں۔
معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا آج پہلے سے زیادہ خوشحال اور مضبوط ہے اور صرف ایک سال میں بڑی تبدیلیاں ممکن بنائی گئی ہیں۔ ان کے بقول، امریکا غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک تباہی کے قریب تھا جبکہ اب امریکا دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک بن چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال انہوں نے کانگریس سے ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کیا جسے ریپبلکنز نے منظور کروایا، جبکہ تمام ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی کیونکہ وہ ٹیکس بڑھانا چاہتے تھے۔
تقریر کے دوران رکنِ کانگریس آل گرین، الہان عمر نے احتجاج کیا اور بینر لہرانے کی کوشش کی جس پر انہیں کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔
صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔
Today News
ہری پور، مسلح افراد نے گھر سے 65 لاکھ کا قیمتی سامان لوٹ لیا، مزاحمت پر ماں اور بیٹے پر تشدد
ہری پور:
تھانہ سرائے صالح کی حدود رتہ بنہ میں مسلح افراد نے گھر میں گھس کر ڈکیتی کی بڑی واردات کر ڈالی، جہاں نامعلوم ملزمان لاکھوں روپے مالیت کا سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق چھ مسلح افراد نے رات کے وقت گھر میں داخل ہو کر اہل خانہ کو یرغمال بنایا اور تقریباً 65 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات، موبائل فونز اور نقدی لے اڑے۔
واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر ملزمان نے خاتون اور اس کے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
واقعے کے بعد متاثرہ خاتون کی مدعیت میں تھانہ سرائے صالح میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے ملزمان کی تلاش کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔
Today News
سفارتکاری ناکام ہوئی تو ایران کے خلاف طاقت کا آپشن موجود ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس
واشنگٹن:
امریکہ نے ایران کے معاملے پر اپنے مؤقف کو مزید واضح کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں تو فوجی آپشن کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارتکاری رہی ہے، تاہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال کا فیصلہ بھی ان کے اختیار میں ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو آج کانگریس کی اہم قیادت کو ایران سے متعلق تازہ صورتحال پر بریفنگ دیں گے جہاں خطے میں بڑھتی کشیدگی اور جوہری پروگرام کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ پہلے ہی ایران کو معاہدے کے لیے محدود مہلت دے چکے ہیں جبکہ توقع ہے کہ وہ آئندہ خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ اقدامات کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف پیش کریں گے۔
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment2 days ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch