Today News
جزیرہ خرگ خلیج کا سب سے خطرناک مقام ہے
جس طرح آبنائے ہرمز عالمی معیشت رواں رکھنے والی توانائی کی شہہ رگ ہے اسی طرح خلیج میں ساحل سے اٹھائیس کیلومیٹر پر واقع جزیرہ خرگ ایران کی اقتصادی شہہ رگ ہے (ایران مشرقِ وسطی کا پہلا ملک ہے جہاں انیس سو آٹھ سے تیل کی پیداوار حاصل ہو رہی ہے جب برٹش پٹرولیم نے یہاں پہلا کنواں دریافت کیا تھا۔جزیرہ نما عرب میں انیس سو تیس کے عشرے میں تیل نکلا)۔
موجودہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ایران یومیہ تینتیس لاکھ بیرل خام تیل پیدا کر رہا تھا۔سب سے زیادہ پیداوار صوبہ اہواز کے تین بڑے آئل فیلڈز ( ابو زر ، فیروزاں ، درود ) سے نکلتی ہے۔ان آئل فیلڈز سے تیل پائپ لائنوں کے ایک گنجلک نظام کے ذریعے جزیرہ خرگ پہنچایا جاتا ہے۔یہاں سمندری گہرائی اتنی اچھی ہے کہ سپر ٹینکرز بھی باآسانی لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔یہاں سے ہی نوے فیصد ایرانی تیل ٹینکرز میں بھر کے باقی دنیا کو بھیجا جاتا ہے۔
اس جزیرے پر تیل ذخیرہ کرنے کے تیس ٹینکوں کی گنجائش تین کروڑ بیرل ہے۔ عموماً یہاں دس سے بارہ دنوں کی ایکسپورٹ کا تیل (اٹھارہ ملین بیرل) ہی ذخیرہ ہوتا ہے۔یعنی سالانہ ساڑھے نو سو ملین بیرل تیل اس جزیرے سے گذر کے دنیا تک پہنچتا ہے۔ذرا سوچئے اگر اس ذخیرے پر براہِ راست بمباری ہو جائے تو خلیج کے دونوں طرف کا کم ازکم آدھا ساحل کیا انسانی رہائش کے قابل رہے گا ؟
جزیرہ خرگ کو کوئی بڑا نقصان پہنچانا اتنا حساس معاملہ ہے کہ جب انیس سو اناسی میں صدر جمی کارٹر نے تہران میں یرغمال بنائے گئے باون امریکی سفارت کاروں کی رہائی کے آپریشن کی منظوری دی تو اس وقت بھی جزیرہ خرگ کی تیل تنصیبات پر حملے کا خیال مسترد کر دیا گیا۔کارٹر کے بعد آنے والے امریکی صدر رونالڈ ریگن نے آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گذرنے والے آئل ٹینکرز کو مسلح بحری تحفظ ضرور فراہم کیا مگر جزیرہ خرگ پر قبضے کا انھیں بھی خیال نہ آیا۔
عراقیوں نے انیس سو اسی تا اٹھاسی جاری رہنے والی جنگ میں ایران کی ہر بندرگاہ اور جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر خرگ پر آٹھ برس میں صرف ایک بار بمباری ہوئی۔تاہم اس حملے سے ہونے والے نقصان کی فوری بھرپائی کے سبب ایرانی تیل کی برآمد بہت زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔
مگر مسٹر ٹرمپ اور ان کی کچن کیبنٹ کو شائد کسی نے نہیں بتایا کہ جزیرہ خرگ تیل پیدا کرنے والے تیسرے بڑے عالمی ملک کے لیے کیا اقتصادی معنی رکھتا ہے اور اگر اس جگہ کوئی مہم جوئی ہوتی ہے تو ساحل کے دوسری جانب واقع خلیجی تیل تنصیبات کے ساتھ جوابی کارروائی میں ایسا کیا کیا نہیں ہو سکتا جس کے بعد پوری دنیا توانائی کے عظیم بحران کی لپیٹ میں آنے سے بچی رہے۔ان تمام نزاکتوں سے بے نیاز ٹرمپ ٹیم نے بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی خرگ کو ناکارہ بنانے یا اس پر قبضہ کرنے کے امکان پر غور شروع کر دیا اور ٹھیک ایک ہفتے بعد خرگ میں موجود ایرانی فوجی تنصیبات پر بمباری کر دی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ انھوں نے اس بار تو تیل تنصیبات کو چھوڑ دیا مگر ایران نے اگر جلد آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم نہ کیا تو اگلے حملے میں جزیرہ خرگ پر کوئی مہربانی نہیں ہو گی۔ویسے بھی بقول ٹرمپ اس جزیرے پر کارروائی ایک مزیدار تجربہ ہو گا۔اس سے قبل ایک اور سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی قیمت جتنی بڑھے گی امریکا کا منافع بھی بڑھے گا کیونکہ امریکا اس وقت تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔( اب تو دنیا کا سب سے بڑا تیل ذخیرہ وینزویلا بھی امریکا کے ہتھے چڑھ چکا ہے )۔
خرگ ایک تاریخی جزیرہ ہے۔معروف ایرانی ادیب جلال آلِ احمد کی ایک سطر ہے کہ ’’ خرگ خلیجِ فارس کا یتیم موتی ہے ‘‘۔ایرانی صوبہ بوشہر کے بالمقابل واقع ایرانی معیشت کے اس بائیس مربع کیلومیٹر کے دھڑکتے دل میں اس وقت سوائے تیل کی صنعت سے وابستہ کارکنوں اور ان کے محافظوں کے کوئی نہیں رہتا۔
اس جزیرے میں قدرتی میٹھا پانی بھی ہے۔ یہاں انسانی آبادی کے دو ہزار برس قدیم آثار پائے گئے ہیں۔یہاں ساتویں صدی کے دو بزرگوں میر آرام اور میر محمد کے مزارات بھی ہیں۔آس پاس زرتشتی ، مسیحی اور ساسانی ادوار کی نشانیاں اور قبروں کے آثار بھی بکھرے پڑے ہیں۔تیل کی صنعت سے پہلے خرگ خلیج کے تقریباً وسط میں واقع ہونے کے سبب چھوٹی سی زرعی و تجارتی منڈی بھی رہا اور تاجر و ملاح یہاں کچھ دیر رک کے تازہ دم بھی ہوتے تھے۔
یورپی سامراج نے سولہویں صدی میں پر پرزے نکالنے شروع کیے تو پرتگیزیوں نے خرگ اور اس کے قریب واقع دو دیگر چھوٹے جزیروں تمب ِ اکبر اور تمبِ اصغر پر بھی جھنڈا گاڑ دیا۔مگر اٹھارہویں صدی کے وسط میں ( سترہ سو سینتالیس ) ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس جزیرے پر قلعہ بندی کر دی۔اس قلعے اور اس سے متصل باغ کے آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سترہ سو چھیاسٹھ میں ایرانیوں نے تجارتی معاہدہ منسوخ کر کے ڈچ کمپنی کو یہاں سے نکال باہر کیا۔
جب انیس سو بیس کے عشرے میں کرنل رضا خان نے رضا شاہ پہلوی اول کا لقب اختیار کر کے ایران پر اپنی بادشاہت قائم کی تو انھوں نے سیاسی قیدیوں کو جزیرہ خرگ میں رکھنا شروع کیا۔مگر ان کے بیٹے رضا شاہ دوم کے زمانے میں انیس سو اٹھاون سے اس جزیرے کو تیل کی برآمد کے لیے وقف کر دیا گیا۔خرگ سے پہلا تیل بردار جہاز اگست انیس سو ساٹھ میں روانہ ہوا۔اس سے پہلے ایرانی تیل کی ایکسپورٹ آبادان کی بندرگاہ سے ہوتی تھی۔مگر آبادان کے مقابلے میں خرگ کا ساحل بڑے اور وزنی آئل ٹینکرز کے لیے زیادہ موزوں تھا۔
جزیرہ خرگ ہزاروں برس سے آتی جاتی سلطنتوں کا عروجِ زوال دیکھ رہا ہے۔اس کے ساحل پر جانے کون کون کب کب اترا اور تاریخ کی دھند میں گم ہو گیا۔مگر آج جزیرہ خرگ کو غالباً اپنی بقا کا سب سے سنگین چیلنج درپیش ہے۔ اس بار اگر یہ جزیرہ جل گیا تو بہت کچھ اپنے ساتھ لے جائے گا۔البتہ اس کا وجود سیاہ ہو کر بھی یہیں رہے گا اور اس سے ٹکرانے والی موجیں بدستور مونگے کی کھردری چٹانوں سے سر مارتی رہیں گی۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
مالی سال کے 8 ماہ میں 700 ملین ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ
کراچی:
پاکستان کے بیرونی شعبے پر ایک بار پھر دباؤ کے آثار سامنے آئے ہیں، کیونکہ فروری میں بہتر کارکردگی کے باوجود مالی سال 2026 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا، جو حالیہ معاشی استحکام کی کمزوری کو ظاہرکرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیلنس آف پیمنٹس کے تازہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی تا فروری 2026 کے دوران پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ 700 ملین ڈالر خسارے میں رہا،جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 479 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔
تاہم فروری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 427 ملین ڈالرکاسرپلس ریکارڈکیاگیا،جو فروری 2025 کے 85 ملین ڈالر خسارے اور جنوری 2026 کے 68 ملین ڈالر سرپلس کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مارچ 2025 کے بعد سب سے بڑاماہانہ سرپلس ہے۔ اعداد وشمارکے مطابق پاکستان کے بیرونی کھاتے پر سب سے بڑادباؤاشیاء کی تجارت کے خسارے کی وجہ سے ہے۔
فروری میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 2.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،کیونکہ برآمدات 2.48 ارب ڈالررہیں، جبکہ درآمدات 5.15 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی تجارتی خسارہ بڑھ کر 21.08 ارب ڈالر ہوگیا،جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 16.49 ارب ڈالر تھا۔
اس عرصے میں برآمدات 20.74 ارب ڈالر رہیں،جبکہ ایک سال پہلے یہ 21.94 ارب ڈالر تھیں، دوسری جانب درآمدات بڑھ کر 41.82 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
جولائی تا فروری کے دوران ترسیلاتِ زر 26.49 ارب ڈالر رہیں، جو پاکستان کے بیرونی کھاتے کیلیے بڑاسہارا ثابت ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترسیلات نہ ہوتیں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کہیں زیادہ ہوسکتا تھا، صرف ترسیلاتِ زر اور بیرونی قرضوں پر انحصار معیشت کے دیرپااستحکام کیلیے کافی نہیں، پاکستان کی برآمدات اب بھی زیادہ ترکم ویلیو ایڈڈ شعبوں خصوصاً ٹیکسٹائل تک محدود ہیں،جہاں علاقائی ممالک سے سخت مقابلہ ہے۔
اسی طرح پرائمری انکم اکاؤنٹ میں بھی دباؤ برقراررہا، جولائی تافروری کے دوران اس کھاتے میں 5.64 ارب ڈالرکاخسارہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع کی منتقلی اور بیرونی قرضوں پر ادائیگیاں ہیں۔
مالیاتی کھاتے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی محدود رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب تک برآمدات میں تنوع، صنعتی پیداوار میں بہتری اور توانائی کے مؤثر استعمال کیلیے بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، پاکستان کا بیرونی کھاتہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی دباؤ کے باعث غیر مستحکم ہی رہے گا۔
Today News
بادشاہی مسجد میں لیلتہ القدر کی روح پرور محفل، ملکی سلامتی اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں
لاہور:
بادشاہی مسجد میں لیلتہ القدر کی بابرکت رات کے موقع پر اجتماعی دعا کا روح پرور اہتمام کیا گیا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
تقریب میں صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور شافع حسین نے خصوصی شرکت کی جبکہ مولانا عبد الخبیر آزاد، امام و خطیب بادشاہی مسجد نے اجتماعی دعا کروائی۔
اجتماعی دعا کے دوران پاکستان کی ترقی، امن و استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
اس موقع پر ملک میں امن، خوشحالی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے بھی دعا کی گئی۔
لیلتہ القدر کی بابرکت ساعتوں میں شہریوں کی بڑی تعداد نے تاریخی بادشاہی مسجد کا رخ کیا اور عبادات کے ساتھ اجتماعی دعا میں شرکت کی، جس سے مسجد کا ماحول انتہائی روحانی اور پُرکیف ہوگیا۔
Today News
کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کب ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
کراچی:
شہر قائد میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کے حوالے سے محمکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آ گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق بدھ کو شہر میں گرج چمک کے ساتھ بارش اورژالہ باری کا امکان ہے۔
پیشگوئی کے تحت مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ آج سے ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہوگا،جس کے اثرات سندھ کے مختلف اضلاع میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق جامشورو، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، عمرکوٹ، تھرپارکر، سانگھڑ، میرپورخاص، نوشہروفیروز، شہید بینظیرآباد، دادو میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔
اسی طرح لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور، گھوٹکی اور سکھر میں 18 اور 19 مارچ کے دوران وقفے وقفے سے آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران بعض علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آسکتے ہیں۔
کسانوں کو موجودہ موسمی صورتحال کے مطابق اپنی فصلوں کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو شہر میں بلوچستان کی شمال مغربی سمت کی ہوائیں چلنے کے سبب گرم وخشک موسم ریکارڈ ہوا،دوپہر کے وقت گرم ہواوں کے تھپیڑے چلے،جس کے نتیجے میں گرمی محسوس کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 17 فیصد رہا۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Sadaf, Fatima star as Pakistan thrash South Africa for consolation victory – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income