Connect with us

Today News

جمہوریت کا پہلا زینہ – ایکسپریس اردو

Published

on


طلبہ یونین پر پابندی کو 42 سال گزر گئے۔ ایک آمر نے طلبہ یونین کے ادارے پر پابندی لگائی۔ جمہوری حکومتیں اپنے منشور کے مطابق طلبہ یونین پر سے پابندی ختم نہ کرسکیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں طلبہ یونین پر سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ اور پاکستانی طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی کے 42 سال پورے ہونے کے موقع پر ایک بیان میں اس مؤقف کا اظہار کیا ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی سے لاکھوں طلبہ کے حقوق معطل ہیں۔ طلبہ یونین پر پابندی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل نمبر 23 کی خلاف ورزی ہے اور یہ اس منشور کی اظہارِ رائے سے متعلق شق 19 کی بھی خلاف ورزی ہے۔

 جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977 کو اقتدار سنبھالا اور 1973 کے آئین کو معطل کردیا، یوں آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق بھی غضب ہوگئے۔ جنرل ضیاء الحق کے سامنے سب سے بڑا چیلنج پیپلز پارٹی، بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ مزدور انجمن، طلبہ یونین اور صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں کی سبھائیں تھیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا۔ پیپلز پارٹی اور بائیں بازو کی تنظیموں کے کارکنوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔ جب طلبہ یونین پر پابندی لگی تو دائیں اور بائیں بازو کی تمام طلبہ تنظیموں نے ایک مؤثر مہم چلائی۔ یہ تحریک عروج پر تھی کہ اس دوران اسلامی جمعیت تحریک سے علیحدہ ہوگئی۔

1988 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت بے نظیر بھٹو کی سربراہی میں قائم ہوئی مگر یہ حکومت اپنے منشور پر عملدرآمد نہیں کرسکی۔ اس دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک رہنما نے سپریم کورٹ میں طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف عرضداشت دار کی۔مگر عدلیہ کے ایک عبوری حکم میں طلبہ یونین پر پابندی برقرار رکھی گئی۔ جب 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت وفاق میں قائم ہوئی تو یوسف رضا گیلانی وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا مگر اس اعلان پر عملدرآمد کبھی نہیں ہوا۔

2013 میں پیپلز پارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی سینیٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے اور نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاصل بزنجو بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ میر حاصل بزنجو نے طلبہ یونین پر پابندی کے خاتمے کی قرارداد پیش کی۔ اس وقت کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افضل طحہٰ کے طلبہ یونین پر پابندی کے بارے میں مفصل فیصلے کو ایوان میں پڑھ کر سنایا تو پتہ چلا کہ معزز عدالت نے 1990 میں طلبہ یونین پر پابندی بعض شرائط کے ساتھ ختم کردی تھی۔ سینیٹ نے حاصل بزنجو کی طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کی قرارداد منظور کر لی تھی۔

ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانی ایکٹیوسٹ اور بائیں بازو کی تنظیم پرو گریسو فرنٹ کے رہنما بصیر نوید نے اس وقت کے صدر ممنون حسین کو ایک عرضداشت بھیجی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ طلبہ یونین پر پابندی ختم کی جائے۔ ایوانِ صدر نے یہ عرضداشت وزارت قانون کو بھجوا دی۔ وزارت قانون کے ایک اعلیٰ افسر نے یہ فیصلہ دیا کہ طلبہ یونین پر پابندی مارشل لاء ریگولیشن کے تحت عائد کی گئی تھی۔ اب مارشل لاء ختم ہونے کے بعد طلبہ یونین پر پابندی ختم ہوچکی ہے۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف تحریک مسلسل جاری رکھی۔

بائیں بازو کے طلبہ نے 2017 میں طلبہ کی ایک تنظیم پروگریسو اسٹوڈنٹس کلیکٹو کے بائیں بازو کی دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ ایک متحدہ محاذ قائم کیا۔ اس متحدہ محاذ نے پورے ملک میں طلبہ یونین کی سرگرمیوں کو بحال کرانے کے لیے ایک مہم شروع کی۔ یکم مارچ 2018 کو ملتان میں طلبہ نے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے ایک پرامن مارچ کیا۔ یکم مارچ 2019 کو پورے پاکستان میں طلبہ نے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے احتجاجی جلوس نکالا۔ یہ احتجاج اتنا پرزور تھا کہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں طلبہ یونین کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقعے پر اعلان کیا کہ سندھ اسمبلی میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔

بلاول بھٹو کے اس وعدہ کے تحت سندھ اسمبلی میں طلبہ یونین کی بحالی کا مسودہ پیش ہوا۔ سندھ اسمبلی میں تعلیم کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کے علاوہ سول سوسائٹی کی تنظیموں، اساتذہ اور صحافی نمائندوں کی مشاورت سے ایک جامع قانون تیار کیا۔ سندھ اسمبلی نے اس قانون کی منظوری دیدی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور دیگر تینوں صوبائی اسمبلیوں نے اس بارے میں کوئی قانون منظور نہیں کیا مگر سندھ میں قانون کے نفاذ ہونے کے باوجود ابھی تک کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انتخابات منعقد نہیں ہوسکے۔ جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان مقرر ہوئے تو وہ قائد اعظم یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے بلحاظِ عہدہ رکن بن گئے۔

ان کے ایماء پر قائد اعظم یونیورسٹی نے یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا، مگر یہ فیصلہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (N.S.F) کے سابق رہنما اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر مسرور احسن نے سینیٹ میں بار بار طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کیا مگر حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود کچھ نہ ہوا۔ لاہور میں ترقی پسند طلبہ نے پنجاب اسمبلی کے سامنے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے زبردست مظاہرہ کیا۔انگریز حکومت نے جب ہندوستان میں یونیورسٹیاں قائم کیں تو ان یونیورسٹیوں میں طلبہ کو اپنی یونین منتخب کرنے کا موقع دیا گیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہر سال طلبہ یونین کے انتخابات منعقد ہوتے تھے۔

اس یونین کے عہدیداروں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پاکستان بنانے کے پیغام کو مسلمانوں میں عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ یونین کے باقاعدہ انتخابات ہوتے تھے۔ 1953 میں کراچی کے تعلیمی اداروں میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے نامزد کردہ امیدوار کامیاب ہوئے، یوں ان طلبہ یونینز نے انٹرکالجیٹ باڈی کے پلیٹ فارم سے تعلیم کو عام کرنے اور فیسوں میں کمی کے لیے 8 جنوری 1953 کو تاریخی جدوجہد کی۔ خواجہ ناظم الدین کی حکومت نے اس تحریک کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ، یوں کراچی میں نئے کالج قائم ہوئے، فیسوں میں کمی ہوئی اور طلبہ کو بسوں کے کرایہ میں رعایت ملی۔

یہ رعایت 80 کی دہائی تک جاری رہی۔ اس وقت طلبہ کو اپنے نمائندوں کو براہِ راست منتخب کرنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ 1963 میں طلبہ کو اپنے نمائندوں کو براہِ راست منتخب کرنے کا حق حاصل ہوا۔ معروف صحافی حسین نقی کراچی یونیورسٹی کے طلبہ کے براہِ راست ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے بلوچ طلبہ سے یکجہتی کرنے پر یونیورسٹی سے انھیں برطرف کیا۔

ابلاغیات کے استاد اور دائیں بازو کی طلبہ تنظیم کے سابق رہنما ڈاکٹر سعید مسعود عثمانی کا کہنا ہے کہ نوجوان طلبہ کی تربیت کے لیے طلبہ یونین انتہائی ضروری ہے۔ طلبہ یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے طالب علم فتح اور شکست کو برداشت کرنے کے جذبہ سے آراستہ ہوتے ہیں اور انھیں قانون کے تحت پہلی دفعہ اپنی سرگرمیوں کو مرتب کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہے، یوں طلبہ میں سیاسی شعور پیدا ہوتا ہے۔ طلبہ یونین جمہوری نظام کا پہلا زینہ ہے۔ ملک کی قیادت میں بہت سے رہنما آئے ہیں جو منتخب طلبہ یونین کے تجربہ سے گزرے ہیں۔ یہ رہنما زیادہ بہتر انداز میں جمہوری روایات کی پیروی کرتے ہیں۔ طلبہ یونین کی بحالی سے جمہوری نظام مستحکم ہوگا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا نجی شعبے پر مشتمل بورڈ قائم، 22 رکنی بورڈ میں 6 سرکاری ارکان شامل

Published

on



حکومت نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ(ای ڈی ایف) کے انتظامی امور میں شفافیت اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لیے 22 رکنی نیابورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز تشکیل دیدیاہے، جس میں اکثریت نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹوآفیسر عمرسعید کوبورڈ کا نیا چیئرمین مقررکیاگیا ہے۔ اس سے قبل یہ عہدہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے پاس تھا ،جبکہ سیکریٹری تجارت بورڈکے وائس چیئرمین تھے، حالیہ قانونی ترامیم کے بعددونوں عہدے ختم کر دیے گئے ہیں۔

حکومت نے گزشتہ ماہ ای ڈی ایف ایکٹ میں وزیراعظم کی جانب سے قائم پینل کی سفارشات کی روشنی میں ترامیم کی تھیں،جن کامقصد فنڈکے استعمال کی نگرانی سخت کرنا اور بیوروکریسی کاکردارمحدودکرنا ہے۔

 ای ڈی ایف میں تقریباً 52 ارب روپے کی رقم موجودہے،جو برآمدکنندگان پر عائد 0.25 فیصدسرچارج کے ذریعے جمع کی جاتی تھی۔ حکومت پہلے ہی اس سرچارج کو ختم کر چکی ہے اور وزیراعظم نے فنڈکابین الاقوامی معیارکے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

گزشتہ ماہ بورڈ نے چاول برآمدکنندگان کوعالمی مسابقت اور برآمدی حجم میں کمی کے پیش نظر 15 ارب روپے کی منظوری دی تھی اور جون تک 3 سے 9 فیصد ریبیٹ دینے کافیصلہ کیاتھا،تاہم اس اقدام پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے تھے۔

 نئے بورڈ میں 22 ارکان میں سے صرف 6 سرکاری افسران شامل ہیں،نجی شعبے کے ارکان میں ملک کے نمایاں برآمد کنندگان اور صنعتی نمائندے شامل کیے گئے ہیں،جبکہ پاکستان بزنس کونسل،فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری،رائس ایکسپورٹرز ، سرجیکل گڈز، اسپورٹس گڈز مینوفیکچررز،میٹ ایکسپورٹرز اور فارماسیوٹیکل مینوفیکچررزکے نمائندگان بھی بورڈکاحصہ ہونگے۔

قانونی ترامیم کے تحت گزشتہ تین برسوں کی بنیاد پر چار بڑے برآمدکنندگان، بڑا نان ٹیکسٹائل برآمد کنندہ اور زراعت، آئی ٹی اور صنعت کے شعبوں سے ایک، ایک رکن کی تقرری لازمی قرار دی گئی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

امریکی بحری بیڑہ قریب تر پہنچ گیا؛ ایران میں لڑاکا طیارہ پُراسرار طور پر گر کر تباہ

Published

on


ایران کے مغربی صوبے ہمدان میں ایک لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا اور اس میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق لڑاکا طیارے نے دو پائلٹس کے ہمراہ پرواز بھری تھی۔

یہ طیارہ 31 ویں ٹیکٹیکل فائٹر اسکواڈرن سے تعلق رکھتا تھا۔ دوران پرواز مشکوک صورت حال کو دیکھتے ہوئے پائلٹس سے واپسی کا فیصلہ کیا۔

ہوا بازی کے ماہر نے العربیہ کو بتایا کہ پائلٹس کسی حد تک طیارے کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ہمدان کے ایئربیس تک واپس لانے میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے جب گیئر کھولے گئے تو اچانک طیارہ ہچکولے کھاتے ہوئے زمین بوس ہوگیا۔

ترجمان ایرانی فوج نے بتایا کہ طیارے میں سوار دو پائلٹس میں سے ایک جان کی بازی ہار گیا جب کہ دوسرا پائلٹ محفوظ رہا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑاکا طیارے نے معمول کی تربیتی پرواز بھری تھی اور تاحال حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔ 

ایرانی فضائیہ کے دفتر برائے تعلقاتِ عامہ نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تاہم بیان میں طیارے کی قسم اور حادثے کے مکمل حالات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب ایران کی ایروسپیس فورس نے اس قیاس آرائی پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا کہ آیا طیارہ دوستانہ فائرنگ کا نشانہ بنا یا نہیں ہے۔

 

 





Source link

Continue Reading

Today News

سندھ اسمبلی میں ایم پی اے کو دھمکی کا ڈراپ سین، ایم کیو ایم اراکین میں صلح بھی ہوگئی

Published

on



ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی شوکت راجپوت نے اجلاس کے دوران ایوان میں انکشاف کیا کہ انہیں اپنی ہی پارٹی کے ایم پی اے کی جانب سے دھمکی دی جارہی ہے تاہم بعد میں دونوں اراکین کے درمیان صلح صفائی ہوگئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت صورتحال بڑی ڈرامائی اورحیران کن ہوگئی جب ایم کیو ایم کے ایک رکن شوکت راجپوت نے پوائنٹ آ ف آرڈر پر کھڑے ہوکر شکایت کی کہ مجھے دھمکی دی گئی ہے کہ آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ دھمکی انہی کی جماعت کے ایم پی اے شارق جمال نے دی اور کہا کہ آپ باہر نکلیں آپکو دیکھتا ہوں۔ شوکت راجپوت نے استدعا کی کہ میری درخواست ہے کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کو کہا جائے کہ میرا مقدمہ درج کیا جائے اور میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مجھے تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو دوسری صورت میں میرے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ جس کے بعد میں دوبارہ وکالت شروع کروں گا اور پھر دیکھتا ہوں کون دھمکی دے گا۔

اس پر ایوان میں بیٹھے وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اس قسم کی بات کرنا مناسب نہیں ہے، اسپیکر اسمبلی ہاﺅس کے کسٹوڈین ہے لہذا آپ رولنگ دیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر ایس ایچ او کو بھی کال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے معزز ممبر کو بھی نہ بچا سکے تو پھر کیا ہوگا۔ اس قسم کی شکایت بہت شرمناک بات ہے ۔

اسپیکر اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی سے کہا کہ آپ اجلا س ختم ہونے سے پہلے یہ معاملہ حل کریںم بصورت ودیگر میں ان کی ممبر شپ معطل کروں گا۔

سینئر وزیرشرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ ان کی پارٹی گروپنگ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ اگرکسی ممبر کو جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کے بعد بھی نہ بچا سکیں تو کیا ہوگا۔ ہمیں ممبران کی حفاظت کرنا ہوگی۔

وزیر داخلہ نے کہاکہ میں فاضل ممبر کی سیکیورٹی کا بندوبست کرتا ہوںم اگر رانا شوکت کی جان یا مال کو کوئی بھی نقصان  ہوا تو جن کا انہوں نے نام لیا میں ان کے خلاف کارروائی کروں گا۔

ضیا لنجار نے کہا کہ شوکت راجپوت اگر اپنا بیان پولیس کے سامنے ریکارڈ کروانا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔

قبل ازیں شوکت راجپوت نے ایوان میں بتایا کہ پیر والے دن ایم کیو ایم کے ایم این اے اقبالُ محسود مسلح افراد کے ساتھ  ان دفتر میں آئے اور تالے توڑے اور آج ہاﺅس میں انہیں پی ایس پی گروپ کے ایم پی اے شارق جمال نے دھمکی دی۔

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ اسپیکر سے کہا کہ میری درخواست ہے کہ بزنس چلا لیں۔ اس مسئلے کو حل کر لیتے ہیں۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ پہلے قوانین پڑھیں پھر بات کریں۔ اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ معاملہ حل ہوجائے تو ٹھیک ورنہ میری درخواست ہے کے کہ دھمکی دینے والے رکن کی ایک یا دو گھنٹے کے لیے ممبرشپ معطل کریں۔

شوکت راجپوت نے ایوان کو بتایا کہ ایم این اے اقبال  محسود پیر کے دن مسلح افراد لیکر میرے دفتر میں آئے اورآئے، اسی سلسلے میں آج مجھے ایوان کے اندر دھمکی دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی کے اندورنی معاملات ہیں، میں خالد مقبول صدیقی گروپ سے ہوں اور دھمکی دینے والے پرانی پی ایس پی گروپ کے ہیں۔

ایوان میں شور شرابہ کرنے اور اپنے ارکان کو جواب دینے پر اکسانے کی ترغیب دینے پر اسپیکر نے ایم کیو ایم کے رکن انجینئر عثمان کی رکنیت معطل کردی اور ان کے سندھ اسمبلی میں داخلے پر پابندی لگادی۔

اسپیکر نے رولنگ دی ہے کہ انجنیئر عثمان کی رکنیت اس وقت تک معطل رہے گی جب تک وہ معافی نامہ نہیں جمع کروائیں گے۔

اسی اثنا ایم کیو ایم کے دو ارکان کے درمیان تنازع کے باعث متعلقہ ایس ایس پی اور ایس ایچ او بھی سندھ اسمبلی پہنچ گئے تھے ۔

آخری تاہم اطلاعات کے مطابق بعد میں ان دونوں ارکان کے درمیان صلح صفائی ہوگئی اور پولیس افسران سندھ اسمبلی سے واپس چلے گئے۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے گروپوں میں ہونے والے تنازعے کا تصفیہ اسپیکر سندھ اسمبلی کے چیمبر میں ہوا اور دونوں اراکین نے ایک دوسرے سے صلح صفائی کرلی۔

ذرائع کے مطابق کل سندھ اسمبلی کے اجلاس میں رانا شوکت، شارق جمال کو معاف کردیں گے جبکہ انجینئر عثمان کی معطلی کو بھی کل ختم کردیا جائے گا۔



Source link

Continue Reading

Trending