Connect with us

Today News

جنریشن زی کی شکست – ایکسپریس اردو

Published

on


بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کا مجسمہ مسمار کرنے والے نوجوانوں کو عوام نے مسترد کردیا۔ سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والے نوجوان جو ’’ جین زی‘‘ کہلاتے ہیں کی جماعت عام انتخابات میں صرف 6 نشستیں حاصل کرسکی۔ جنریشن زی کی قیادت نے بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی کے بعد 28 فروری 2025 کو نیشنل سٹیزن پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ جماعت ڈاکٹر یونس کی عبوری حکومت میں بھی شامل ہوگئی تھی۔

حسینہ واجد حکومت کی برطرفی کے بعد بننے والے عبوری حکومت کے وزراء کی منظوری جین زی کے رہنماؤں (سابق طالب علم رہنماؤں) نے دی تھی۔ گزشتہ دنوں ہونے والے انتخابات میں نیشنل سٹیزن پارٹی نے دائیں بازو کی جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ این سی پی نے قومی اسمبلی کی 300 نشستوں میں سے صرف 30 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے گئے جن میں سے صرف 6 امیدوار منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے۔ ان انتخابی نتائج سے بہت سے حقائق واضح ہوئے۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے نے نیشنل سٹیزن پارٹی کی شکست کی وجوہات پر تحقیق کی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل سٹیزن پارٹی کی شکست کی تین بڑی وجوہات ظاہر ہوتی ہیں۔

عام لوگوں کا خیال تھا کہ نوجوانوں کی پارٹی عوامی لیگ اور این سی پی پارٹی کا متبادل ثابت ہوگی مگر اس پارٹی نے ایسے فیصلے کیے جن سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ این سی پی ان بڑی جماعتوں کا متبادل نہیں ہے۔ نوجوانوں کی اس جماعت میں لبرل اور سیکولر خیالات والے نوجوانوں کے بہت گروہ شامل تھے مگر اس جماعت نے جماعت اسلامی سے اتحاد کیا تھا تو اس جماعت میں پھوٹ پڑگئی، خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کی بڑی تعداد این سی پی سے علیحدہ ہوگئی۔ اس جماعت کا سب سے بڑا بیانیہ یہ تھا کہ حسینہ واجد کی حکومت نے اپنے خلاف تحریک کو کچلنے کے لیے جو بربریت کی، وہ 1971 سے زیادہ بری تھی۔ آبادی کے ایک بڑے طبقے کی اب تک یہ رائے ہے کہ 1971میں بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کا 2024 کی تحریک سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ این سی پی کے رہنما عبوری حکومت میں شامل ہوگئے تھے۔

ان میں سے بعض پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے۔ حسینہ واجد کی حکومت پر سب سے بڑا الزام کرپشن کا تھا۔ اس الزام نے این سی پی کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا۔ بنگلہ دیش میں جین زی کی انتخابی معرکہ میں شکست، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی کامیابی اور دائیں بازو کی جماعت اسلامی کی انتخابات میں دوسری پوزیشن کے پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے یہ حقائق واضح ہوتے ہیں کہ مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے چند ماہ کی جدوجہد سے کوئی جماعت عوام میں پذیرائی حاصل نہیں کرسکتی، اگر اس جماعت کی قیادت کوایک مخصوص وقت میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل بھی ہوجائے مگر یہ جماعت تمام ریاستی مسائل کے بارے میں ایک مستحکم نظریہ نہ اپنائے، اس نظریے کو نچلی سطح تک نہ پہنچایا جائے اور اپنے بیانیے کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد نہ کی جائے تو اس وقت تک حتمی مقاصد پور ے نہیں ہوسکتے۔

 بنگلہ دیش کی تین بڑی قدیم جماعتیں ہیں۔ ان میں ایک عوامی لیگ، دوسری بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی اور تیسری جماعت اسلامی ہے۔ عوامی لیگ ، مسلم لیگ کے رہنما اور بنگال کے سابق پریمیئر حسین شہید سہروردی اور مولانا بھاشانی نے 50ء کی دہائی میں قائم کی تھی۔ مولانا بھاشانی کے عوامی لیگ سے علیحدہ ہونے کے بعد شیخ مجیب الرحمن عوامی لیگ کے بڑے رہنماؤں میں شامل ہوئے۔ جب ایوب خان کے دورِ اقتدار میں سہروردی بیروت میں انتقال کرگئے تو شیخ مجیب الرحمن مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے واحد رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ مجیب الرحمن کی قیادت میں عوامی لیگ نے1971 تک سیاست کی۔

اس عرصے کے دوران مجیب الرحمن زیادہ عرصہ جیلوں میں رہے۔ 1972 میں وہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم بنے۔ ان کے قتل کے بعد ان کی صاحبزادی حسینہ واجد نے عوامی لیگ کی قیادت سنبھالی۔ حسینہ واجد ایک عرصے تک زیرِ عتاب رہیں۔ وہ 1996 سے 2001 اور پھر 2009 سے 2024 تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہیں۔ حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش کا شمار دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہونے لگا مگر اپنے آمرانہ طرزِ حکومت اور قیامت تک حکومت کرنے کے خواب کو طاقت کے ذریعے عملی شکل دینے کی بناء پر وہ غیر مقبول ہوئیں۔ ان کی جماعت کو حالیہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی مگر عوامی لیگ عوام میں ایک بڑے گروہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی جڑیں دانشوروں، اساتذہ، طلبہ، خواتین اور خاص طور پر اقلیتوں میں بہت مضبوط ہیں۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یکم ستمبر 1978 کو سابق صدر ضیاء الرحمن نے قائم کی۔ ان کے قتل کے بعد ان کی اہلیہ خالدہ ضیاء بی این پی کی قیادت سنبھال لی۔ خالدہ ضیاء 1991سے 1996 اور 2006 سے 2009 تک وزیر اعظم رہیں۔ خالدہ ضیاء نے نجی شعبے میں ترقی کے لیے خاطرخواہ اقدامات کیے۔ ان کے اقدامات سے سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند ہوئے۔ اگرچہ خالدہ ضیاء کی حکومت پر کرپشن کے بڑے بڑے الزامات لگے مگر ان کی پالیسیوں سے نجی شعبے کو بڑی تقویت حاصل ہوئی تھی۔

خالدہ ضیاء کو اپنی برطرفی کے بعد مسلسل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پڑیں۔ بنگلہ دیش کی آبادی کا ایک حصہ  ضیاء الرحمن کو بنگلہ دیش کی آزادی کا ہیرو سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے مسلسل الزامات کے باوجود ان کے عزائم میں فرق نہیں آیا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد وہاں کی جماعت اسلامی پر پابندی عائد کردی گئی، اس کے اہم رہنماؤں کو پھانسیاں دی گئیں اور سیکڑوں رہنماؤں کو جیل بھیج دیا گیا۔ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی نے حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف تحریک کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور انتخابات میں دوسری بڑی طاقت کے طور پر ابھرکر سامنے آئی۔

حسینہ واجد حکومت کے خلاف جن نوجوانوں طلبہ قیادت مظاہرے کیے ، ان کی جماعت نے جماعت اسلامی سے اتحاد کیا تھا مگر نیشنل سٹیزن پارٹی، عوامی لیگ، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی سے ابھی بہت پیچھے تھے۔ نئے وزیر اعظم طارق الرحمن اور ان کے ساتھیوں نے ریفرنڈم  میں منظور ہونے والے چارٹر پر حلف اٹھانے سے انکار کیا جس پر جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔ اس صورتحال میں جمہوریت کے استحکام کے لیے جین زی ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہے، اگر جین زی نے لبرل اور پروگریسو رویہ اختیار کیا تو اس کا بنگلہ دیش میں جمہوریت کے استحکام میں اہم کردار بن جائے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

طورخم بارڈر پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں چیک پوسٹ تباہ

Published

on



اسلام آباد:

ضلع خیبر ضلع میں پاک افغان سرحد پر اچانک کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق فائرنگ کے واقعات سرحدی علاقوں طورخم اور تیراہ میں پیش آئے، جہاں افغان جانب سے اچانک گولہ باری کی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں سرحد کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

پاکستانی فورسز کے تمام جوان محفوظ رہے، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ملتان شہر میں پولیس کا بڑا سرچ آپریشن، سیکڑوں افراد کی چیکنگ، 8 افراد گرفتار

Published

on



کراچی:

ملتان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں 28 سرچ آپریشنز کیے، جن کے دوران 1,845 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی جبکہ 8 افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔

پولیس کے مطابق سرچ آپریشنز امام بارگاہ شاہ گردیز، شاہ شمس دربار، پولیس لائنز، کچہری ایریا، محلہ امیر آباد، پی ٹی سی ٹریننگ کالج، محلہ سوُتری، مسجد علمدار چوک، عزیز ہوٹل، ریلوے چوک اور گجر کھڈا سمیت حساس اور گنجان آباد علاقوں میں کیے گئے، جہاں داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر کے جامع چیکنگ کی گئی۔

کارروائیوں کے دوران پولیس نے 215 گھروں، 16 مدارس، 15 حساس تنصیبات، 14 ہوٹلز اور 15 افغان بستیوں کی تلاشی لی، جبکہ 35 کرایہ داروں کی تصدیق بھی کی گئی۔

اس کے علاوہ 1,490 افراد کی ای پی پی چیکنگ کر کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشنز کے نتیجے میں 8 مقدمات درج کیے گئے جن میں ایک رہائشی ایکٹ، ایک ساؤنڈ سسٹم ایکٹ اور 6 مقدمات شراب برآمدگی کے تحت شامل ہیں۔

اہم کارروائی کے دوران تھانہ کپ کی حدود سے ایک ٹارگٹ ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے 90 لیٹر شراب برآمد ہوئی۔ گرفتار ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، جرائم کی بیخ کنی اور حساس مقامات کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ایسے سرچ آپریشنز آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

معاشی ترقی کے دعووں کے سیاسی حقائق

Published

on


پاکستان میں موجود سیاسی اور معاشی ماہرین کے سامنے ایک بنیادی نوعیت کا یہ سوال یقینی طور پر زیر بحث آنا چاہیے کہ ہم معاشی ترقی کے عمل میں درست سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں یا ہماری سمت نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنے گی ۔

اگرچہ حکومتی معاشی ماہرین ہمیں بہت سی معاشی میدان میں نئی امید اور نئی ترقی کی روشنی دیتے ہیں مگر جو معاشی حقایق ہیں ان میں ہماری معیشت اور اس سے جڑی ترقی کے تناظر میں بنیادی نوعیت کے سنجیدہ سوالات اور موجودہ معاشی حکمت عملی پر سنگین تحفظات اٹھائے جارہے ہیں ۔کیونکہ یہ بنیادی سوال زیر بحث ہے کہ جو ملک میں معیشت کے تناظر میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج یا فرق بڑھ رہا ہے اس نے معاشرے کی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی محرومی کے عمل کو پیدا کیا ہے ۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025کے اختتام پر حکومتی قرض اس وقت بڑھ کر 78,529 ارب روپے کا ہوگیا ہے جو 2024دسمبر میں 71647ارب روپے تھا۔بنیادی مسئلہ ایک طرف غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی معاشی حالت میں بدستور بگاڑ کا بگڑنا اور دوسری طرف پچھلی تین دہائیوں سے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا سکڑنا اور ان کی آمدنی و اخراجات میں عدم توازن نے ان کی معاشی زندگیوں میں پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ اضافہ کیا ہے ۔

یہ تاثر بھی عام ہے کہ ہم نہ صرف عالمی سرمایہ کاری کو پاکستان میں لانے میں ناکامی سے دوچار ہیں بلکہ اپنے سرمایہ داروں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے میں بھی ناکام ثابت ہورہے ہیں اور ملکی سرمایہ کار بڑی تیزی سے اپنے کاروبار اور سرمائے کو باہر منتقل کررہا ہے ۔سرکاری اعداد وشمار میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں غربت29فیصد جب کہ سات کڑور افراد انتہائی غریب اور دولت کی عدم مساوات بڑھ گی ہے۔ایک بڑا مسئلہ پاکستان میں جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کا درپیش ہے تو دوسری طرف بڑی تعداد میں ہم ایک بڑی نئی نسل کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے کے بحران سے بھی دوچار ہیں ۔

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا جو پاکستان کے دورے پر تھے ان کے بقول پاکستان کو اپنی نئی نسل کی آبادی کے بڑھتے ہوئے دباو کے پیش نظر اگلے دس برسوں میں تقریبا تین کڑورروزگار کے مواقع پیدا کرنے ہونگے اور اگر پاکستان یہ کچھ نہیں کرتا تو اس کا ایک بڑا نتیجہ مزید عدم استحکام اور نئی نسل کی بیرون ملک ہجرت کے خطرات بڑھ جائیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت حکومتی روڈ میپ یا حکومتی معاشی ماہرین کے پاس سالانہ بنیادوں پر نئے روزگار پیدا کرنے کا کوئی ایسا شفاف منصوبہ ہے جو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں ۔نئے روزگار پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بلکہ اب اس سے بھی زیادہ یہ چیلنج بھی سامنے آگیا ہے کہ جو لوگ پہلے سے روزگار رکھتے تھے ان کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر معاشی بے روزگاری کا سامنا ہے ۔جب کہ ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی سطح پر عملا 55ہزار آسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔

نئی نسل کو تو ہم اپنا معاشی سرمایہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک بڑے سیاسی اور معاشی بوجھ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آج کا نوجوان ریاست اور حکومتی نظام سے نالاں ہے۔جو نوجوان اپنی مدد اپ کے تحت کمانا چاہتے ہیں ان کے سامنے بھی مختلف نوعیت کے مسائل ہیں۔سب سے اہم اور دکھ کا پہلو یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کے پاس لوگوں کے معاشی حالات کی درستگی یا ان کی عملی معاشی مستقل حیثیت بدلنے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔اس کے مقابلے میں معیشت کے نام پر وفاق سے لے کر صوبوں تک اور صوبوں سے لے کر اضلاع تک خیراتی منصوبوں کا جال ہے جہاں لوگوں کی معاشی حیثیت بدلنا نہیں بلکہ ان کو مختلف فلاحی یا خیراتی سطح کی بنیاد پر بھکاری کے طور پر پیش کرکے ان کی عزت و نفس کو مجروح کرنا ہوتا ہے ۔

اس وقت ایک طرف معیشت کی بہتری کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تودوسری طرف گورننس کے نظام کو اس قدر پیچیدہ بنادیا گیا ہے کہ کسی بھی طور پر معیشت کی گاڑی تیز رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ ہماری معیشت کا علاج کسی جادوئی بنیاد پر ممکن نہیں اور نہ ہی اس معاشی ترقی کا عمل فوری طور پر ممکن ہوگا بلکہ اس کے لیے ہمیں ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ہماری معیشت جو غیر معمولی حالات کا شکار ہے اس سے بھی نمٹنے کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدمات درکار ہیں ۔

یہ جو ہم جذباتیت اور خوش نما نعروں یا لوگوں کو سیاسی اور معاشی طورر گمراہ کرکے معیشت کی ترقی کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے گی۔ایک طرف ہمارا معاشی استحصال پر مبنی پروگرام ہے جو عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور طبقات یا مافیا کی حکمرانی کے گرد گھومتا ہے تو دوسری طرف ملک میں بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام اور سیاسی تقسیم یا سیاسی الجھن اور ٹکراو کی وجہ سے ہماری بہتر معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔

اسی طرح ہم مجموعی طور پر ایک بڑے دہشت گردی کا بحران بھی ہمارے مسائل میں اضافہ پیدا کررہا ہے ۔لیکن ہم معیشت کی بہتری کے لیے اول تو داخلی چیلنجز کو تسلیم کرنے یا ان حقایق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر ہمیں ا س کا کہیں ادراک ہے تو پھر اس سے نمٹنے کی حکمت عملی کا فقدان غالب نظر آتا ہے ۔سیاست کو مستحکم کرنا ایسے لگتا ہے کہ ہماری ریاستی اور سیاسی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ ہم مسلسل سیاسی مہم جوئی اور ایڈونچرز کی سیاست کا حصہ ہیں ۔





Source link

Continue Reading

Trending