Connect with us

Today News

جنگ، اب تک کا ایک جائزہ

Published

on


28فروری 2026 کو امریکا و اسرائیل کے غیر علانیہ ایران پر حملے سے شروع ہونے والی جنگ کو ایک مہینہ ہو گیا ہے۔جنگ ابھی جاری ہے۔جنگ شروع کرنے والے دونوں ممالک نے اپنے اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے یہ جنگ چھیڑی۔ امریکا اور ایران کے مابین سلطنتِ عمان کے توسط سے جنیوا سوئٹزرلینڈ میں ابھی یہ مذاکرات ہو رہے تھے کہ امریکا نے نتن یاہو کے ایما پر حملہ کر دیا جس میں ایرانی سپریم لیڈر،ان کی فیملی کے افراد اور کچھ اعلیٰ عسکری قیادت شہید ہو گئی۔

یہ ایک انتہائی افسوس ناک ڈویلپمنٹ تھی جس کی جتنی مذمت کی جائے،کم ہے۔جس طرح امریکا و اسرائیل کے اہداف تھے، اسی طرح ،حالانکہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی لیکن جنگ چھڑ جانے کے بعد ایران نے بھی اپنے اہداف سامنے رکھ کر جوابی جنگی کارروائی شروع کی۔جی سی سی ممالک جنگ نہیں چاہتے تھے لیکن وہ اس جنگ کی لپیٹ میں آ گئے۔چونکہ یہ معرکہ ابھی جاری ہے اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی بات تو شاید نہیں ہو سکتی لیکن پھر بھی یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اب تک جنگ سے ہر فریق نے کیا حاصل کیا ہے۔

ہر کوئی اس بات پر متفق ہے کہ یہ جنگ نتن ہاہو کے ایماء پر امریکا اور اسرائیل نے شروع کی۔ یوں کچھ اہداف تو اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کے ذاتی ہیں اور کچھ اہداف ریاستِ اسرائیل کے ہیں۔ جنگ و جھگڑا نتن یاہو کی سیاسی زندگی کو بقا بخشتا ہے۔وہ ہمیشہ اپنے ملک کو جنگ کی حالت میں رکھنا پسند کرتا ہے کیونکہ اس طرح وہ اپنی کرپشن اور غلط کاریوں سے توجہ ہٹائے رکھنے میں کامیاب رہ سکتا ہے۔نتن یاہو کے خلاف کرپشن اور غیر قانونی طور پر تحائف وصول کرنے کا کیس چل رہا ہے جو بہت حد تک مکمل ہو چکا ہے۔شنید ہے کہ جونہی جنگ ختم ہو اور وزیرِاعظم کو عدالت میں پیش ہونے کی مہلت میسر ہو۔وہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں،تو کیس کا فیصلہ شاید بہت جلد ہو جائے۔

نتن یاہو منفی فیصلے سے بچنے کے لیے صدر ٹرمپ کو بھی درمیان میں لے آیا ہے۔ٹرمپ نے دورہ اسرائیل کے موقع پر اسرائیلی صدر کو کہا کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے نتن یاہو والا کرپشن کیس ختم کردیں مگر اسرائیلی صدر نے فی الحال ایسا نہیں کیا۔اسرائیل میں امسال عام انتخابات بھی ہونے ہیں۔انتخابات جیتنے کے لیے بھی نتن یاہو کے لیے جنگ ضروری ہے۔اسرائیل نے گریٹر اسرائیل کا نقشہ بھی جاری کر رکھا ہے اور وہ بڑی ہوشیاری سے اس پر کام کر رہا ہے۔اسرائیل جب قائم ہوا تو یہودیوں کے پاس فلسطین کی صرف 6فیصد زمین تھی جو اب بہت بڑھ چکی ہے۔اسرائیل ریاستِ شام کی ملکیت گولان کی پہاڑیوں پر پہلے ہی قابض ہے۔اب وہ مزید آگے بڑھتے ہوئے دمشق کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ لبنان کا جنوبی علاقہ بھی اس کی دسترس میں آ چکا ہے۔

اسرائیل غزہ کے علاوہ مغربی کنارے کے علاقوں کو بھی بتدریج ہڑپ کر رہا ہے۔ایران کے خلاف اسرائیل نے بہت محنت سے کمپین تیار کی ہے اور اپنے ٹارگٹس پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔امریکا بڑھ چڑھ کر اس کا ساتھ دے رہا ہے۔یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل اپنے مقرر کردہ اہداف کی طرف بڑھ تو رہا ہے لیکن اسے بہت کٹھن اور لمبا سفر درپیش ہے۔ایرانی جواب نے اس کی منزل کھوٹی کر دی ہے۔اب تک مغرب اور خاص کر امریکی عوام اسرائیل کی بے پناہ حمایتی رہی ہیں لیکن پچھلے سال سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

اب امریکا کی آبادی کی اکثریت فلسطین کے بارے میں نرم گوشہ رکھنے لگی ہے اور اسرائیلی بربریت کی غیر مشروط حمایت سے دست بردار ہو رہی ہے۔اسرائیل و امریکا کی مشترکہ کوشش رہی ہے کہ ایران کو عرب ریاستوں کے دشمن اور خطرے کے طور پر پیش کریں۔وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ عرب ریاستوں کا دفاع کبھی مضبوط نہ ہو۔یہ دونوں ممالک یہ بھی چاہتے ہیں کہ مسلمان ممالک آپس میں لڑ کر کمزور ہوں۔ ٹرمپ کے سامنے جنگ میں کودتے وقت دراصل کیا اہداف تھے،کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی،کیونکہ وہ جو ایک امریکی لا میکر نے کہا کہ ٹرمپ ہر گھنٹے اپنا ہدف بدل رہے ہیں۔وہ ایک بہت کامیاب اور نہایت خوش قسمت سیاست دان ہیں۔سیاسی میدان میں جو غلطیاں ٹرمپ نے کی ہیں ،اگر کوئی اور امریکی سیاست دان وہ کرتا تو اس کی سیاست کبھی کی ختم ہو چکی ہوتی لیکن ٹرمپ کو کبھی نقصان نہیں ہوا۔جنگ کی ابتدا میں کہا گیا کہ ایران کے اندر رجیم چینج ایک بڑا ہدف ہے۔

امریکا اور اسرائیل کے پہلے ہی حملے میں سپریم لیڈر جناب خامنہ ای اپنے رب سے جاملے لیکن جنگ بند نہ ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔جنوری 2026میں ایران میں بڑے پیمانے پر پر تشدد مظاہرے ہوئے۔خیال کیا جا رہا تھا کہ سپریم لیڈر کی رخصتی کے ساتھ ہی عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ایرانیوں نے ثابت کیا کہ وہ ایران کے دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں کھیلیں گے۔ جناب ٹرمپ کو یہ بھی یقین تھا کہ پہلے چند دنوں میں ہی کامیابی ان کے قدم چومے گی اور تاریخ میں ان کا نام یوں سنہری حروف میں لکھا جائے گا کہ وہ ایسے صدر تھے جنھوں نے امریکی مخالف حکومت کو ویسے ہی چلتا کیا جیسا انھوں نے وینزویلا میں کیا ۔ایرانی عوام اور حکومت کے جوابی اقدامات اور حملوں نے امریکا و اسرائیل کی ان خواہشات پر اوس ڈال دی۔خلیجی ممالک میں امریکی اڈے ایران کے حملوں کی زد میں ہیں اور امریکی بحری قوت کا بالکل بھی بس نہیں چل رہا۔

خلیجی ممالک اپنے ہاں حملوں کی وجہ سے بہت مشکل میں ہیں لیکن امریکی معاشی و فوجی قوت کی وجہ سے امریکا کو نکلنے کا بھی نہیں کہہ سکتے۔امریکا کا دوسرا ہدف ایران کی جوہری صلاحیت کو بالکل ختم کرنا تھا۔یہ شاید مذاکرات کے ذریعے تو ممکن تھا لیکن جنگ سے یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ ایران کی میزائل بنانے اور فائر کرنے کی صلاحیت بھی ملیامیٹ کرنا امریکی جنگی اہداف میں ہے لیکن ایران تو ابھی بھی تابڑ توڑمیزائل فائر کر رہا ہے۔یہ صلاحیت بھی ابھی ختم نہیں کی جا سکی۔جس طرح وینزویلا کے تیل ذخائر پر قبضہ ہوا ہے اسی طرح ایرانی تیل ذخائر بھی امریکی قبضے میں جانے تھے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی اہداف حاصل نہیں ہوئے اور صدر ٹرمپ جنگ میں ناکامی کی وجہ سے اکتاہٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ٹرمپ کے بیانات پر کبھی نہیں جانا چاہیے۔

ایران جنگی جنون کا شکار ہوا لیکن جب جنگ اس پر تھونپ دی گئی تو ایرانی عوام اور انتظامیہ نے بہت پامردی اور حوصلے سے اس کا مقابلہ کیا۔ایران نے محدود جنگ لڑنے کے بجائے جنگ کو ورٹیکل اور Horizontal پھیلا دیا۔ایران نے اسرائیل پر حملے کرنے کے ساتھ خلیج میں قائم امریکی اڈوں وسمندر میں موجود امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ ایران نے وہ کر دکھایا ہے جو بظاہر نا ممکن تھا۔ایرانی حکومت قائم ہے اور اس کے عوام جنگ میں متحد ہیں۔امریکا و اسرائیل کی متحدہ قوت ایران کو واضح شکست دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے اور اب جنگ سے نکلنے کے بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ایران نے دو بہت بڑی قوتوں کے خلاف Stalemate پیدا کرکے تاریخ رقم کر دی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے سندھ کے ماہی گیروں کی زندگی شدید متاثر

Published

on



کراچی:

حکومت کی جانب سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے سندھ کے ماہی گیروں کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

کوسٹل میڈیا سینٹر ابراہیم حیدری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ماہی گیروں کے روزگار کو شدید بحران میں ڈال دیا ۔

سمندر میں شکار کے لیے جانے والی کشتیوں کا زیادہ تر انحصار ڈیزل پر ہوتا ہے، جس کی قیمت بڑھنے سے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ۔ پہلے ہی مہنگائی، سمندری آلودگی اور کم ہوتی مچھلی کے باعث ان کی آمدن محدود ہو چکی تھی۔

بیان کے مطابق  ایندھن مہنگا ہونے سے شکار پر جانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کئی چھوٹے ماہی گیر اپنی کشتیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں،جس سے ان کے گھروں کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔

ترجمان نے بیان میں کہا کہ ساحلی پٹی کے مختلف علاقوں میں اس صورتحال کے باعث نہ صرف ماہی گیروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے بلکہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے مقامی ماہی گیری معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔

ماہی گیروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیزل پر سبسڈی دی جائے یا انہیں خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنا روزگار جاری رکھ سکیں، تاہم  اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سندھ کے ساحلی علاقوں میں غربت اور بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے،جس کے سماجی اثرات بھی سامنے آئیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بھارت میں ایل پی جی کے سنگین  بحران نے  توانائی پالیسیاں بے نقاب کردیں

Published

on


بھارت میں ایل پی جی سلنڈر کی شدید قلت نے ممبئی سے راجستھان تک بڑے حصے کو مفلوج کر دیا ہے۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق ممبئی میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت سےکاروبار ٹھپ ، مزدوروں  نے آبائی گاؤں کی جانب واپسی شروع کر دی ہے۔

سنگین ایل پی جی بحران کے باعث سڑک پر گاڑیوں کی لمبی  قطاریں معاشی سرگرمیوں میں بدترین کمی کی واضح علامت ہے، ممبئی میں ایندھن کے بحران کی وجہ سے خوراک اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو  شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بھارت میں ایک ہزار روپے سے کم پر دستیاب ایل پی جی سلنڈر کی بلیک مارکیٹ میں قیمت 3 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ مودی حکومت کی بدترین پالیسیوں سے توانائی بحران نے بھارتی ریاست راجستھان کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق بھارتی عوام بی جے پی سرکار کے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے  کی مؤثر حکمت عملی نہ ہونے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ 

خلیجی جنگ کے شدید اثرات کے باعث توانائی بحران نے مودی کے خودانحصاری کے کھوکھلے دعوؤں اور بدانتظامی کا پول کھول دیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کا انکشاف

Published

on


افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج  کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔

عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کا انکشاف  پاکستان کےموقف کی تائید ہے۔

معروف امریکی جریدہ ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق افغانستان میں  محفوظ پناہ گاہیں  فتنہ الخوارج کوتحفظ اورانہیں دوبارہ منظم ہونےکےمواقع فراہم کررہی ہیں۔ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے نظریات ایک جیسےاوردونوں ایک ہی ایجنڈےپرعمل پیراہیں۔

افغانستان سےسرحدپاردہشتگردی روکنےکیلئےپاکستان نےہمیشہ بارڈرکنٹرول اورسفارتی سطح پرکوششیں کیں ، ساؤتھ ایشین وائسز

پاکستان کی جانب سے حالیہ جوابی کارروائیاں افغان  طالبان رجیم کی افغان سرزمین کوپاکستان کیخلاف استعمال ہونے سےروکنے میں ناکامی پر کی گئیں۔

افغانستان میں فتنہ الخوارج اور طالبان کے ٹھکانوں پرحالیہ حملےپاکستان کی افغان پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہیں۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی علاقائی کشیدگی اور سفارتی تعلقات میں تناؤ کو بڑھا  رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending