Connect with us

Today News

جنگوں کے بدلتے جواز اور خوفناک انداز

Published

on


امریکا اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کی پہلی بمباری کے ساتھ ہی حسب معمول سچائی پہلا شکار بنی۔ یہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کی آخر کیوں ضرورت پڑی؟ گزشتہ سال بارہ دنوں کی تباہ کن بمباری اور جوابی کارروائیوں کے ملبے ابھی صاف نہیں ہوئے تھے، انسانی جانوں اور نقصانات کے زخم ابھی تازہ تھے۔

ایک طرف مذاکرات کا دور چل رہا تھا جس میں بظاہر بڑی پیش رفت ہوئی لیکن پھر اچانک دوبارہ بارود کے ڈھیر کو آگ لگانے اور بارود برسانے ضرورت کیوں پڑی؟ جواز مختلف ہیں۔ اسرائیل کا اپنا جواز ہے، امریکی صدر کا اپنا، ان کے مصاحبین کا اپنا۔ اس سارے ہنگامے میں سچ کی موجودگی کہیں نہیں، طاقت، رعونت اور مفادات کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے سے مشرقِ وسطیٰ کا افق بارود کے قبضے میں ہے۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی گرج، ڈرونز کی مسلسل پروازیں، فضاؤں میں لڑاکا طیاروں کی گھن گرج اور شہروں میں گرتے ملبے کے مناظر نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ جنگ انسانیت کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہے۔

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ عسکری تصادم نے نہ صرف خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اس نے اس بنیادی سوال کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ عالمی نظام آخر کس سمت جا رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک علاقائی جنگ ہے مگر اس کے پس منظر میں وہ بڑے رجحانات کارفرما ہیں جو بین الاقوامی سیاست اور عالمی نظم و ضبط کو بدل رہے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی تھی کہ طاقت کے استعمال کو بین الاقوامی قانون کے تابع رکھا جائے گا۔ اقوام متحدہ اور بالخصوص سلامتی کونسل کو یہی اختیار دیا گیا تھا کہ وہ جنگ اور امن کے معاملات میں آخری فورم ہوگی لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں بڑی طاقتوں کے رویے نے اس اصول کو مسلسل کمزور کیا ہے۔

اس کی نمایاں مثال 2003 میں عراق پر حملہ تھا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عراق کے خلاف اپنے دلائل پیش کیے اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ صدام حسین کی حکومت کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی پیش کردہ معلومات اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے دعوے بعدازاں بے بنیاد ثابت ہوئے لیکن اس وقت عالمی رائے عامہ کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ آج منظرنامہ اس سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی حالیہ عسکری کارروائیوں میں سلامتی کونسل کو جھوٹے منہ بھی درخوراعتناء نہیں سمجھا گیا۔ ایران کے خلاف حملوں کے لیے براہ راست یکطرفہ فیصلے کیے گئے۔ یہ رجحان صرف ایک خطے تک محدود نہیں۔

روس کا یوکرائن پر حملہ بھی اسی حقیقت کی ایک مثال ہے کہ بڑی طاقتیں جب اپنے اسٹریٹجک مفادات کو خطرے میں محسوس کرتی ہیں تو عالمی قوانین اور اداروں کو نظرانداز کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں۔

اس صورتحال نے عالمی نظم کے اس بنیادی اصول کو کمزور کر دیا ہے جس کے تحت بین الاقوامی تنازعات کو عالمی ادارہ جاتی طریقے سے حل کیا جانا تھا۔

جنگ کے انداز بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ روایتی محاذوں اور زمینی فوجوں کے ساتھ ساتھ اب جنگ کے نئے انداز سامنے آ رہے ہیں۔ طویل اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، خودکار ڈرونز، جدید فضائی حملے، سائبر کارروائیاں اور انٹیلی جنس کی پیچیدہ نیٹ ورکنگ اب جنگ کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔

حالیہ جنگ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی کارروائیوں نے واضح کر دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نے میدانِ جنگ کو ہزاروں کلومیٹر تک پھیلا دیا ہے۔

اس تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ ڈرونز کی رہنمائی، اہداف کی نشاندہی، معلومات کے فوری تجزیے اور جنگی حکمت عملی کی تیاری میں اے آئی کا کردار بڑھ رہا ہے۔

اس سے جنگ کی رفتار اور شدت دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ بسا اوقات ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے آپریٹرز کمپیوٹر اسکرینوں کے ذریعے تباہی کا فیصلہ کرتے ہیں۔

ان تبدیلیوں کے باوجود ایک حقیقت نہیں بدلی کہ جنگ کا اصل بوجھ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے شاید حملہ آور کو محفوظ بنا دیا ہو مگر اس نے شہری آبادیوں کو زیادہ غیرمحفوظ کر دیا ہے۔

میزائل اور ڈرون حملوں میں رہائشی علاقوں کا تباہ ہونا اس بات کی یاددہانی ہے کہ انسانی تاریخ نے شاید ابھی تک طاقت کے استعمال کے بارے میں کوئی بنیادی سبق نہیں سیکھا۔

موجودہ بحران کے علاقائی اثرات بھی خوفناک ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک براہ راست جنگ کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں، امریکی اڈوں کی موجودگی کے سبب خطے کے ممالک ایران کے حملوں کی زد میں آئے۔

فضائی حدود کی بندش، توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی اور سمندری راستوں پر بڑھتے خطرات نے عالمی تجارت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

خلیجی ممالک کی معیشتیں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوتی ہیں جب کہ فضائی روابط کی معطلی سیاحت اور تجارت دونوں زد میں ہیں۔ اسی طرح آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور مشرقی بحیرہ روم کے راستوں پر کشیدگی عالمی سپلائی چین کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔

اس جنگ نے عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کی جھلک بھی دکھائی ہے۔ چین اور روس خطے میں بڑھتی کشیدگی کو قریب سے دیکھ رہے ہیں لیکن حصہ نہیں بنے۔ دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کی حکمت عملی کو بعض تجزیہ کار ایک وسیع تر اسٹریٹجک منصوبے کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں۔

لبنان میں حالیہ حملوں اور بیروت میں ہونے والی تباہی نے غزہ کی یاد تازہ کر دی ہے جب کہ شام میں حکومت کی تبدیلی اور وہاں کے پیچیدہ حالات نے خطے کی سیاست کو پہلے پیچیدہ کر دیا ہے۔

ان حالات میں ایران کی حکومت کمزور ضرور ہوئی ہے، مگر وہ گری نہیں۔ صورتحال آنے والے دنوں میں مزید کشیدگی اور غیریقینی کے امکانات کو جنم دے گی۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ عالمی سیاست ایک بار پھر اس دور کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں طاقت کا توازن اور عسکری برتری ہی فیصلہ کن عنصر بن جاتے ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ اس بار جنگی ٹیکنالوجی کی رفتار، فاصلے اور تباہی کی صلاحیت ماضی کی کسی بھی جنگ سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی لیے موجودہ بحران صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ اس عالمی نظام کے مستقبل کا امتحان بھی ہے جسے کبھی امن اور باہمی بقا کی بنیاد پر قائم کرنے کا خواب دیکھا گیا تھا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں آج موسم گرم اور مرطوب، بارش کب ہوگی؟

Published

on



ملک میں داخل ہونے والے حالیہ مغربی سسٹم کے زیر اثر کراچی میں آج موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں بدھ اور جمعرات کو گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔

کراچی میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے جبکہ گزشتہ روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج کم سے کم درجہ حرارت 22.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا اور کل کم سے کم درجہ حرارت 22 سے 24 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 تا 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مختلف سمتوں سے ہوائیں متوقع ہیں۔

کراچی میں آج صبح حدِ نگاہ 3.5 کلومیٹر اور ہوا میں نمی کا تناسب 81 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہوا میں نمی کا تناسب 45 سے 95 فیصد رہنے کا امکان ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) ٹریننگ سینٹر خضدار میں اسپیشل آپریشن ونگ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

Published

on



ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) ٹریننگ سنٹر خضدار میں ایف سی اسپیشل آپریشن ونگ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔

پاسنگ آؤٹ میں 172 ریکروٹس اسپیشل آپریشن کی ٹریننگ مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔ آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

اسپیشل آپریشن ونگ جدید جنگی ٹیکٹکس اور گوریلا وارفیئر مہارتوں سے لیس ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) کی اسپیشل فورس ہے۔

آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے پریڈ کے اعلیٰ معیار کو سراہتے ہوئے  تربیت مکمل کرنے پر ریکروٹس کو مبارکباد پیش کی۔ ریکروٹس نے ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) میں شامل ہو کر بلوچستان کی خدمت، امن اور دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

تقریب میں پاس آؤٹ ہونے والے ریکروٹس نے اپنی تربیت اور مہارتوں کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر آئی جی بلوچستان (ساؤتھ) نے نمایاں کارکردگی دکھانےوالے ریکروٹس میں انعامات تقسیم کیے۔



Source link

Continue Reading

Today News

جس ملک کی سرزمین سے خارگ پر حملہ ہوا اسے نشانہ بنائیں گے، ایران کا اعلان

Published

on


تہران: ایران نے اپنے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ آئل ٹرمینل پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں سخت اور فیصلہ کن ردعمل دینے کا انتباہ جاری کیا ہے۔

ایرانی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا کسی ملک کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے خارگ جزیرے پر حملہ کرتا ہے تو ایران اس ملک کی تیل اور گیس تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران جب بھی کسی معاملے پر وارننگ دیتا ہے تو اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک کو محتاط رہنا چاہیے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے ان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو۔

ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ اگر کسی ملک نے امریکا کو خارگ جزیرے پر حملے کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی تو ایران کے ردعمل میں اس کے توانائی کے مراکز خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل ایران کے خارگ جزیرے کو ممکنہ ہدف بنانے کا اشارہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ خارگ جزیرہ ایران کے ساحل سے تقریباً 15 ناٹیکل میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے ملک کا سب سے بڑا تیل برآمدی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے ہوتی ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending