Connect with us

Today News

جنگی حالات اور کفایت شعاری مہم

Published

on


پاکستان کی موجودہ حکومت نے امریکا ،اسرائیل اور ایران جنگ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر تیل بحران ، ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کے پیش نظر جنگی بنیاد پر ایک بڑی کفایت شعاری مہم مارچ 2026سے شروع کی ہے ۔اس مہم کے تحت سرکاری دفاتر میں چار روزہ ہفتہ وار اور جمعہ کو ورک فار ہوم ،سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50فیصد تک کمی ،نئی گاڑیو ں کی خریداریوں پر پابندی،وفاقی کابینہ کے اراکین کی دو ماہ کی کم سے کم تنخواہ ترک کرنا ،اعلی افسران کی تنخواہوں میں پانچ سے تیس فیصد کمی ،23مارچ کی تقریبات کی منسوخی ،تعلیمی اداروں کی بندش،حکومتی یا سرکاری اخراجات میں بیس فیصد کمی کا اعلان شامل ہے ۔اگرچہ یہ کام حکومت نے جنگی بنیاد پر کیا ہے مگر پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حکومتیں غیر ترقیاتی اخراجات ، بے جا حکومتی اخراجات کی درست ترجیحات میں کیونکر ناکام رہتی ہیں ۔کیا وجہ ہے کہ ہمارا جیسا ملک جو معاشی طور پر کمزور ہے وہاں حکومتی اور انتظامی اداروں کا نظام بے جا اخراجات اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر کھڑا ہے ۔

خیر حکومت نے موجودہ حالات میں جو اقدامات اٹھائے ہیں اس کی حمایت کی جانی چاہیے ۔ بظاہر یہ اقدامات سنگین بنیاد پر ہی کیے گئے ہیں ۔اس طرز کی پالیسیاں محض پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی اختیار کی جا رہی ہیں۔اگر جنگ کا ماحول فوری طور پر ختم نہیں ہوتا اور جنگ مزید آگے بڑھتی ہے تو پھر ہمیں یا حکومتوں کو مزید سخت سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی فیصلے کرنے پڑیں گے اور ان فیصلوں کا براہ راست اثر جہاں مختلف اور بالخصوص کمزور معاشی ممالک پر پڑے گا وہیں ان ممالک کے کمزور عوام کو بھی اس کی بھاری قیمت معاشی  تنگدستی کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ہم حکومت کی کفایت شعاری کی مہم کو دیکھیں تو یہ حالات کے جبر کے تحت اول تو عارضی پالیسی تک محدود ہے، یہ حکومت کی مستقل پالیسی کا حصہ نہیں جو اصولی طور پر ہونا چاہیے۔ اگر جنگ فوری طور پر ختم ہوتی ہے تو کفایت شعاری کے نام پر یہ کھیل بھی ختم ہوجائے گا ۔اس کے بعد حکومت کا وہی پرانا اور شاہانہ انداز حکمرانی ہو گا۔کیونکہ اگر واقعی یہ کفایت شعاری اس حکومت کے لیے ضروری ہے تو پھر کیوں یہ حکمت عملی ہماری مستقل پالیسی کا حصہ نہیں بن سکتی، اس میں کیا رکاوٹ ہے ۔ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اس ملک میں ماضی میں بھی مختلف حالات کی بنیاد پر حکومتی سطح پر کفایت شعاری مہم شروع ہوتی رہی ہیں، اول یہ محض کاغذی یا رسمی کارروائی تک محدود رہی ہے اور ہم نے اس کا کوئی بڑا مثبت اثر نہیں دیکھا ۔دوئم، اس طرز کی مہم میں عوام سے تو قربانی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے یا سرکاری ملازمین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے مگر حکمران یا اس ملک کا طاقت ور طبقہ خود کسی بڑی قربانی دینے میں نہ تو نظر آتا ہے اور نہ ہی یہ اس کی بڑی ترجیحات کا حصہ دیکھنے کو ملتا ہے جو تضاد پر مبنی پالیسیوں کی واضح عکاسی کرتا ہے ۔

اصل میں تو اس طرز کی ہنگامی بنیادوں پر ہونے والی کفایت شعاری مہم میں سب سے زیادہ بوجھ طاقت ور اشرافیہ اور حکمران طبقات پر ڈالا جاتا ہے ۔ وزیر اعظم ،صدر، گورنرز، وزیر اعلی ، وزرا ،مشیر ،ججز اور بیوروکریسی کے اخراجات میں نمایاں کمی نظر آنی چاہیے۔لیکن اس وقت بھی ملک میں مختلف مباحث اور گفتگو میں اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ اور حکمران طبقات کے بڑے اخراجات پر تنقید ہو رہی ہے مگر اس کے باوجود ان کے اخراجات میں سالانہ بنیادوں پر مسلسل اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک کا طاقت ور طبقہ اپنے انداز حکمرانی کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔خود اس ملک میں سیاست دانوں یا بیوروکریسی کے اعلی افسران یا ججزکو ملنے والی بڑی تنخواہیں اور ان کو دیگر ملنے والی مراعات میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیوں کھڑے ہیں۔کچھ عرصہ قبل اسی ملک میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی بھاری بھرکم تنخواہوں میں اضافہ اور اب چیئرمین سینیٹ کے لیے مہنگی ترین گاڑی کا خریدنا ایک تضاد پر مبنی پالیسی کا حصہ ہے ۔

ایک طرف حکومت نے جنگی بنیاد پر پورے ملک میں کفایت کو بنیاد بنا کر مہم چلانے کا فیصلہ کیا تو اسی دوران حکومت پنجاب نے صوبہ میں 52کروڑ 35لاکھ سے 42سیکیورٹی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دی ہے جو یقینی طورپر وزیر اعظم کی پالیسی کے برعکس فیصلہ ہے۔اسی طرح ایک ادارے کے مقابلے میں دوسرا متبادل ادارہ بنانا اور بلاوجہ خود پر اداروں یا ان کے اعلی افسران کا حکومت پر بوجھ ڈالنا کہاں کی درست حکمت عملی ہو سکتی ہے ۔مختلف حکومتوں نے مختلف ادوار میں مختلف طرز کے کمیشن بنائے جن کا مقصد سرکاری بے جا اخراجات میں کمی کرنا تھا ۔مگر ان سامنے آنے والی رپورٹس پر کوئی عملی کام دیکھنے کو نہیں مل سکا ۔یہ یاد رکھیں کہ اس وقت بھی حکومت کی کفایت شعاری مہم کی بنیاد پر عام شہری ہی مہنگے پٹرول ،ڈیزل،تیل اور بجلی کی قیمتوں سے ،تعلیمی بندش اور روزگار کی کمی یا عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں۔ہمیں اس وقت بھی وزیر اعظم کے ہی فیصلے کی بنیاد پر وفاق سے لے کر چاروں صوبوں اور صوبوں سے لے کر اضلاع تک کہیں بھی کفایت شعاری کی عملی شکل دیکھنے کو نہیں مل رہی البتہ یہ الگ بات ہے کہ اس مہم کی تشہیر پر بلاوجہ اشتہارات کی مدد میں سرکاری وسائل کو برباد کیا جارہا ہے یا ویسے ہی حکومتی کاموں کی تعریف میں جو اشتہارات کا مقابلہ چل رہا ہے اس میں زمینی حقایق وہ نہیں جو ہمیں اشتہارات کی دنیا میں دکھایا جارہا ہے ۔

اس کھیل میں محض وفاقی حکومت ہی نہیں بلکہ چاروں صوبائی حکومتیں بھی پیش پیش ہیں۔اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ حکومت جب اس طرز کے کفایت شعاری کی بنیاد پر منصوبے شروع کرتی ہے تو اس کی نگرانی ،جوابدہی اور شفافیت کا نظام کیا ہوتا ہے اور اس پر عمل کیوں نہیں نظر آتا۔اصل میں ہمارا حکمران طبقہ سمجھتا ہے کہ حکومتی وسائل پر عیاشی ان کا حق ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف جیسا مالیاتی ادارہ بھی بار بار حکومت کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرے اور اپنے اقدامات میں معاشی ڈسپلن کو پیدا کرے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ حکومتی سطح پر بیشتر اقدامات اپنی اہمیت اور ساکھ کھودیتے ہیں اور لوگوں میں یہ رائے بنتی ہے کہ اس کھیل کا مقصد ان ہی کی گردن پر چھری پھیرنا ہے ۔اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی سطح پر کمزور کمٹمنٹ کا ہونا یا ان کے داخلی تضادات یا بیوروکریسی کی سطح پر متضاد پالیسی ہوتی ہے ۔

حکومت دعویٰ تو کرتی ہے کہ وہ اس کفایت شعاری کی مہم سے عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے لیکن حالیہ پٹرول اور ڈیزل یا تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے معلوم ہو گیا ہے کہ بوجھ کس طبقہ پر ڈالا گیا ہے ۔کیونکہ جو حکومت کسی عمل سے بچت کرتی بھی ہے تو اسے عوام تک پہنچانے کی بجائے غیرترقیاتی اخراجات کی صورت میں خرچ کیا جاتا ہے ۔حکومت کی سطح پر علامتی اظہار یا اقدامات کرنا کفایت شعاری مہم میں سب کو اچھا لگتا ہے لیکن جب اس پر شفافیت کی بنیاد پر عمل ہی نہیں ہونا تو پھر اس سے کسی بڑے نتائج کی توقع بھی نہیں ہوگی ۔اس لیے حالیہ مہم دباؤ کا ردعمل ضرور ہے مگر یہ کوئی مستقل پالیسی کا حصہ نہیں بنی ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ٹھکانے فراہم کرنے پر افغان طالبان کیخلاف عوام کا شدید ردعمل

Published

on


پاکستان کے غیور عوام نے پاک فوج کیخلاف افغان طالبان رجیم کے گمراہ کن پروپیگنڈا کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کے شہریوں کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے یا حوالگی کے حوالے سے پاکستان کی ڈیمانڈ بالکل جائز ہے۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج پاکستان میں معصوم شہریوں کو مساجد میں شہید کرتے ہیں۔ 

شہری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کابل میں اسلحہ کے ڈیپو کو تباہ کیا یہی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہوتا تھا، پاک فوج کا حق ہے کہ پاکستان کیخلاف دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والے بارودی ڈیپو کو تباہ کرے۔ 

پاکستانی عوام نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ نہ دیں یا ہمارے حوالے کریں، افغان طالبان یہ نہیں کریں گے تو پاک فوج بھرپور کارروائی کرے گی۔ دہشت گردی کا فروغ کسی ملک کے مفاد میں نہیں ہے افغان طالبان کو چاہیے کہ امن کیلئے پاکستان کی شرائط پر عمل کرے۔

شہری نے کہا کہ افغان طالبان کو پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ہم ہرگز کمزور ملک نہیں ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کاسا۔1000منصوبے میں  پاکستان کی اہم اقتصادی کامیابی، 27 ملین ڈالر کی نمایاں بچت

Published

on



اسلام آباد:

کاسا۔1000 منصوبے میں پاکستان کو اہم اقتصادی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جس میں 27 ملین ڈالر کی نمایاں بچت ہوئی ہے۔

وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سویڈن میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے  مذاکرات میں پاکستان نے کاسا-1000 منصوبے کے کنٹریکٹر کے تخمینہ شدہ اخراجات میں کمی لا کر 27 ملین ڈالر سے زائد کی بچت کی ہے۔

بیان کے مطابق سویڈن میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے مفادات کا مؤثر تحفظ کیا گیا۔ پہلے پاکستان کے لیے کیئر اینڈ کسٹڈی کی لاگت 32.9 ملین ڈالر تھی، اب یہ 9 ملین ڈالر ہو کر پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تقسیم ہوگی، جس سے پاکستان کو نمایاں مالی بچت حاصل ہوگی۔

افغانستان کی صورتحال کے باعث تاخیر کا شکار کاسا-1000 منصوبے کی نئی ٹائم لائن کے مطابق ایچ وی ڈی سی نظام کی تکمیل ستمبر 2027 تک متوقع ہے۔ حکام نے اہم تنصیبات کی عبوری حفاظت اور فعالیت برقرار رکھنے اور فروری 2028 تک توسیع پر اتفاق کیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں جمعے کو عید منانے کا اعلان

Published

on



مرکزی اور مقامی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے باوجود خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں اور اضلاع میں 20 مارچ کو عید الفطر منانے کے اعلانات کردیے گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق مرکزی اور مقامی رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے عید الفطر 21 مارچ کو ہو جانے کے اعلان کے باوجود خیبر پختون کے بعض علاقوں اضلاع کی مساجد میں آج عید الفطر منانے کے اعلانات ہو گئے ہیں۔

جس کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع مردان اس کے متصل علاقوں، بنوں، باجوڑ اور پشاور کے حیات آباد، سفید سنگ میں جمعے کو عید منائی جائے گی۔

مرکزی اور مقامی کمیٹی کے اعلانات کے مطابق پشاور میں آج 30 واں روزہ مکمل ہو جائے گا۔

قبل ازیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رات ساڑھے 8 بجے عید 21 مارچ بروز ہفتے کا اعلان کیا جبکے مقامی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس رات ساڑھے 10 بجے تک جاری رہا۔

مقامی کمیٹی کے اجلاس میں مختلف علاقوں سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئی تھیں جس کا قائمقام چیئرمین کمیٹی مولانا خیرالبشر نے شہادتوں کا شرعی جائزہ لیا اور ان شہادتوں کو غیر شرعی قرار دیا۔

اس دوران مردان اور سے اس متصل علاقوں میں گواہوں کی روشنی میں عید الفطر کا اعلان کیا گیا۔اس کے ساتھ پشاور ہی کے بعض مضافاتی علاقوں میں بھی چاند کی رویت کا اعلان مقامی مسجد کی جانب سے کردیا گیا۔

واضح رہے کہ پشاور کے جن علاقوں میں عید اور روزہ سعودی عرب کیساتھ ہوتا ہے وہاں پر چاند کا اعلان کیا گیا ہے۔

 

 



Source link

Continue Reading

Trending