Today News
جنگ اور نسل کشی سستا کھیل نہیں رہا
مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کیوں کرتا ہے مگر تاریخ پڑھنے سے اتنا ضرور پتہ چلا ہے کہ جب کسی ہوس زدہ ذہنیت کی حامل ریاست کے برے دن آتے ہیں تو وہ ایک پنگے سے ابھی باہر نہیں نکلتی کہ ایک اور مہنگا والا خرید لیتی ہے۔ اسرائیل کا بھی یہی معاملہ ہے۔غزہ سے ہاتھ نہیں بھرے اور جنوبی شام اور لبنان میں گھس گیا اور اب اپنے منہ کے سائز سے بھی دوگنا ایرانی نوالہ حلق میں پھنسا لیا ہے۔امریکا کا تو ایرانی جنگ میں دو ارب ڈالر روزانہ کا خرچہ ہو رہا ہے جو وہ وینزویلا کا تیل بیچ کر پورا کر لے گا۔جنگ طول پکڑتی ہے تو اسرائیل کیا کرے گا جس سے اب تک غزہ کی نسل کشی کا خرچہ بھی نہیں سنبھالا جا رہا۔
مہنگائی اس قدر ہو چکی ہے کہ ان دنوں نسل کشی بھی آسان نہیں رہی۔چنانچہ اگر کسی ملک کو کسی ہمسائے کی نسل کشی کے لیے دو برس میں پچھتر ہزار سے ایک لاکھ لوگ اسلحے اور محاصرے سے مارنے ہوں ، مزید دو لاکھ زخمی یا اپاہج کرنے ہوں اور تمام شہری و زرعی املاک کو صفحہِ ہستی سے بھی مٹانا ہو تو کتنا پیسہ اور وسائل صرف ہوں گے ؟
بینک آف اسرائیل کا کہنا ہے کہ اب تک اسرائیل غزہ کی مہم جوئی پر ایک سو بارہ بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔اس میں سے ستتر بلین ڈالر جنگ پر خرچ ہوئے اور ساڑھے دس ارب ڈالر ان شہریوں کی املاک کو ٹیکس سے مستثنٰی کرنے پر صرف ہوئے ہیں جنہوں نے بطور ریزرو اپنے روزمرہ کاموں سے چھٹی لے کر غزہ میں ’’ خدمات‘‘ انجام دی ہیں۔ دفاع سے جڑی سویلین مدوں میں اٹھارہ ارب ڈالر لگے ہیں جب کہ جنگی اخراجات کے لیے جو قرضہ لیا گیا اس پر اب تک چھ ارب ڈالر سود ادا کیا گیا ہے۔
عسکری معیشت کے امور سے متعلق اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مشیر جل پنچاس کا اندازہ ہے کہ اسرائیل جیب سے اس جنگ پر فروری دو ہزار پچیس تک اڑتالیس ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا۔ یعنی چھیانوے ملین ڈالر روزانہ۔فلسطینیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے فلاحی ادارے انرا کے کمیشنر فلیپے لازارانی کے بقول روزانہ اوسطاً ایک سو فلسطینی اس عرصے میں قتل ہوئے۔
جل پنچاس کا کہنا ہے کہ غزہ پر جو اسلحہ اور گولہ بارود اس عرصے میں استعمال کرنے کے لیے مختص کیا گیا اس کی مالیت ایک سو آٹھ بلین ڈالر بنتی ہے۔اس میں سے زیادہ تر پیسہ مقامی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ملا۔
امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کا اندازہ ہے کہ ایران سے گذشتہ برس جون میں بارہ دن کی لڑائی میں اسرائیل کو دو ارب ڈالر روزانہ صرف کرنے پڑے۔جب کہ دوران ِ جنگ کئی دن ایسے بھی آئے جب خرچہ چار ارب ڈالر روزانہ تک پہنچ گیا کیونکہ ایرانی حملے کے لیے جو ہمہ اقسام میزائیل شکن میزائیل استعمال کیے گئے ان میں سے ہر ایک کی لاگت سات سے چالیس لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔ ستمبر دو ہزار چوبیس میں حزب اللہ کے خلاف بھر پور جنگ کے آغاز سے پہلے اسرائیل نے حزب اللہ اور لبنانی شہریوں کے زیراستعمال تقریباً چودہ ہزار پیجرز تباہ کیے۔اس مہم پر تین سو اٹھارہ ملین ڈالر کا خرچہ آیا۔
اسرائیل کی باقاعدہ فوج ایک لاکھ ستر ہزار ہے اور اسے چار لاکھ پینسٹھ ہزار ریزرو فوجیوں کی معاونت بھی حاصل ہے۔( اسرائیل میں چالیس برس تک کی عمر کے ہر زن و مرد کو دو سے تین برس لازمی فوجی خدمت انجام دینا پڑتی ہے )۔ تین لاکھ ریزرو فوجیوں کو پہلے سال کے دوران غزہ میں تعینات کیا گیا۔ گذشتہ سوا دو برس میں ان ریزرو فوجیوں پر ساڑھے بائیس ارب ڈالر اور باقاعدہ فوج پر دو ہزار پچیس کے پہلے دس ماہ میں پانچ ارب ڈالر صرف ہوئے۔
بینک آف اسرائیل کا اندازہ ہے کہ ایک ریزرو فوجی پر اس کے اصل کام کے پیداواری گھنٹے ضایع ہونے کی لاگت سمیت ایک ماہ میں بارہ ہزار ایک سو ڈالر کا خرچہ ہے۔ ایران پر تازہ حملے سے قبل اسرائیل کے سرکردہ لبرل اخبار ہاریتز کا تبصرہ تھا کہ مہم جویانہ اخراجات دن بدن اتنے بڑھ گئے ہیں کہ آیندہ اسرائیل کو ایک نئی جنگ چھیڑ کر اسے مختصر وقت میں نمٹانے کے لیے کم ازکم ایک سو ساٹھ ارب ڈالر کا بجٹ مختص کرنا ہو گا۔
امریکا کی براؤن یونیورسٹی کی جنگی لاگت سے متعلق رپورٹ کے مطابق امریکا نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس تا دسمبر دو ہزار پچیس اسرائیل کو بائیس ارب ڈالر کی اضافی فوجی امداد فراہم کی۔جب کہ اسرائیل کی محبت میں امریکا نے اس عرصے میں یمن اور ایران سمیت متعدد علاقائی ممالک میں جو عسکری کارروائیاں کیں ان پر مجموعی لاگت کا اندازہ تیرہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔یعنی اگر اسرائیل کو براہِ راست فوجی امداد اور اسرائیل کی خاطر اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک کی امریکی دفاعی کارروائیوں کا مجموعی خرچہ دیکھا جائے تو امریکی ٹیکس دھندگان کی کم ازکم چونتیس ارب ڈالر کی کمائی ان لاحاصل جنگوں میں جھونک دی گئی۔
اتنے پیسے لگا کر اسرائیل اور امریکا نے جس طرح غزہ کے انفراسٹرکچر کو حرفِ غلط سمجھ کے مٹایا ہے۔اس کی تعمیرِ نو پر اقوامِ متحدہ کے تخمینوں کے مطابق کم از کم ستر ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو عمارتی ڈھانچے بظاہر اب بھی کھڑے ہیں۔ان کی اندرونی چوٹیں اس قدر شدید ہیں کہ شائد ہی کوئی ڈھانچہ ایسا ہو جسے گرا کر دوبارہ تعمیر نہ کرنا پڑے۔
تب تک غزہ کی پوری آبادی ( تئیس لاکھ ) کو کثیر سمتی روزمرہ شدید انسانی مصائب سے گذرنا پڑے گا۔ان مصائب میں صاف پانی کی عدم دستیابی ، تعلیمی سہولتوں کا فقدان ، نقل و حرکت کا محدود ہونا ، اس کے نتیجے میں کم از کم پچاس فیصد بے روزگاری اور تین چوتھائی کنبوں کی بے گھری اور ناکافی غذائیت جیسے بنیادی مسائل شامل ہیں۔اب تو ایران سے جنگ کے سبب میڈیا کے تھوڑے بہت کیمرے بھی غزہ سے ہٹ گئے ہیں۔لہذا وہاں کے انسانی مصائب کو غیر معینہ ہی سمجھئے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
گیس سیکٹر کے 1500 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کا منصوبہ تیار
حکومتِ پاکستان نے گیس سیکٹرکے تقریباً 1500 ارب روپے کے سرکلرڈیٹ کو تین سال کے اندر ختم کرنے کے لیے منصوبہ تیار کر لیا ہے اور اس حوالے سے آئی ایم ایف سے منظوری طلب کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ حال ہی میں سات ارب ڈالرکے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت تیسرے جائزے کے دوران ہونیوالے مذاکرات میں زیرِغور آیا، تاہم آئی ایم ایف نے تاحال اس پر حتمی فیصلہ نہیں دیا، حکومت جون سے قبل آئی ایم ایف کی منظوری حاصل کرناچاہتی ہے تاکہ آئندہ بجٹ میں کل واجب الادارقم کے ایک تہائی حصے کی ادائیگی کے لیے رقم مختص کی جاسکے۔
سرکاری حکام کے مطابق گیس سیکٹر کا مجموعی سرکلر ڈیٹ 3400 ارب روپے سے تجاوز کر چکاہے جس میں تقریباً 1800 ارب روپے اصل رقم شامل ہے، حکومت کا ارادہ ہے کہ ان میں سے تقریباً 1500 ارب روپے اداکیے جائیں جبکہ باقی رقم ٹیکس ریفنڈز اور عدالتی مقدمات میں پھنسی ہوئی ہے۔ منصوبے کے تحت تیل اور گیس کمپنیوں کو ادائیگی اس شرط پر کی جائیگی کہ وہ تاخیر سے ادائیگی پر عائد ہونیوالے تقریباً 1600 ارب روپے کے سرچارجز معاف کردیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اس مقصد کے لیے پیٹرول اورڈیزل پرفی لیٹر 5 روپے لیوی عائدکرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ اس وقت بھی پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر لیوی شامل کیے جاچکاہے،ماہانہ تقریباً 12ارب روپے وصول کیے جارہے ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اورگورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈسے منافع اور اضافی منافع کی مد میں تقریباً 850 ارب روپے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،جبکہ ایل این جی کی بچت سے تقریباً 400 ارب حاصل کرنے کی بھی تجویز ہے، تاہم آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہرکیاہے کہ ان کمپنیوں سے اتنی بڑی رقم نکالنے سے ان کی مالی صحت اور مستقبل کی سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں سرکلر ڈیٹ کے دوبارہ اضافے سے بچنے کے لیے گیس قیمتوں کا جائزہ ہر سال لیاجائےگا۔
Source link
Today News
جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے
جنگ و جدل سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ جنگ و جدل سے فقط مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ جنگ و جدل نام ہے جوانوں کی موت کا اور وسائل کے ضیاع کا۔ پھر یہ بھی کھلی صداقت ہے کہ جنگ میں کسی فریق کی جیت نہیں ہوتی اور جنگ کا آغاز ہوتا ہے جوش و غضب سے اور انجام ہوتا ہے افسوس، رنج و الم سے۔ معلوم انسانی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح انسان نے دوسرے کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا بلکہ جنگ و جدل سے بسا اوقات ایک ہی جنگ کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ زیادہ دور کی بات نہیں،گزشتہ صدی میں دو عالمگیر جنگیں لڑی گئیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ان عالمگیر جنگوں میں کم ازکم پانچ کروڑ لوگ موت کی وادیوں میں جا بسے۔ یہ تذکرہ ضروری ہے کہ اولین عالمگیر جنگ 1914 سے 1917 تک جاری رہی جب کہ دوسری عالمگیر جنگ 1939 سے 1945 تک جاری رہی۔ البتہ 1950-51 میں کوریا کی جنگ میں بتایا جاتا ہے کہ 20 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے، دیگر چھوٹی موٹی جنگیں ہوتی رہیں لیکن 6 ستمبر 1965 کو پاک بھارت جنگ ہو گئی۔
اس جنگ میں دونوں ممالک کا انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بہت زیادہ ہوا۔ اس جنگ میں پاک بھارت دونوں کی جانب سے کامیابی و فتح کے دعوے کیے گئے، البتہ 1967-68 میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی، اس جنگ میں امریکی مدد و تعاون سے اسرائیل نے عربوں کے بہت سارے علاقوں پر غیر قانونی قبضہ کر لیا۔ یہ قبضہ تاحال قائم ہے جب کہ 1971 میں نومبر کی 21 تاریخ کو پاک بھارت جنگ پھر شروع ہوگئی۔ نتیجہ میں مشرقی پاکستان بنگلا دیش بن گیا۔ بھارت اس جنگ میں فتح مند ہونے کا دعویدار ضرور ہے مگر حقیقت میں ہمارے اپنوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ 1979 کے آخری ایام تھے، خانہ جنگی کے شکار ملک افغانستان میں سوویت یونین ایک سے ڈیڑھ لاکھ فوجی لے کر داخل ہو گیا۔
سوویت یونین کے وسائل و افغانستان کا جانی نقصان بے حد ہوا۔ یہ جنگ 1988 کو اختتام پذیر ہوئی جب کہ 1980 میں عراق و ایران کے درمیان ایک بے مقصد جنگ چھیڑ دی گئی اس جنگ کے مقاصد آج تک سمجھ سے بالاتر ہیں۔ یہ جنگ بھی 1988 کو ختم ہوئی مگر لاحاصل۔ ایک اور جنگ کا تذکرہ بھی کرتے چلیں یہ جنگ 1983 میں لڑی گئی۔ یہ جنگ تھی ارجنٹائن اور برطانیہ کے درمیان۔ یہ جنگ برطانیہ نے پانچ ہزار کلومیٹر دور جا کر لڑی۔ یہ جنگ برطانیہ نے ایک جزیرے کے حصول کے لیے لڑی اور برطانیہ اپنے جزیرے پر قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ البتہ 1990 میں صدام حسین نے کویت پر قبضہ کر لیا نتیجۃً سعودی عرب کی درخواست پر امریکا اپنے اتحادیوں سمیت جنوری 1991 میں عراق پر حملہ آور ہوا اور عراق کے پانچ لاکھ لوگ خواتین، بچوں و بزرگوں سمیت جاں بحق ہوگئے اور کویت پر عراقی قبضہ ختم ہو گیا۔
1999 کا زمانہ تھا جب پاک بھارت معرکہ کارگل ہوا، مزید ذکر نہ کریں تو مناسب ہوگا۔ البتہ 2001 میں پاکستان و بھارت کے درمیان مکمل جنگی فضا قائم ہو گئی لیکن اس وقت کے پاکستانی حکمران جنرل پرویز مشرف کے اس بیان پر کہ جنگ کرنی ہے تو یہ جنگ چند گھنٹے کی جنگ ہوگی آؤ جنگ کر لو۔ اس بیان کے بعد دونوں ممالک کی فوجیں اپنے اپنے سابقہ مقام پر واپس منتقل ہو گئیں۔ ایک جنگ کا تھوڑا ذکر کر لیں بلکہ جارحیت کا۔ 11 ستمبر 2001 کے دن سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینیٹر پیش آیا امریکا نے اس سانحہ کا ذمے دار افغانستان میں موجود اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا اور اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان پر حملہ آور ہوا، لاکھوں افغان شہری جاں بحق ہوئے مگر بالآخر امریکا کا حشر وہی ہوا جو ویت نام میں ہوا تھا کہ آخری فوجی ہیلی کاپٹر سے لٹک کر جان بچا کر نکلا جب کہ مارچ 2003 میں امریکا نے عراق پر جارحیت کی مگر اس بار عراقیوں نے بھرپور مزاحمت کی اور گوریلا جنگ لڑی، البتہ عراقی صدر اس موقع پر جاں بحق ہوئے۔
تھوڑا ماضی میں جاتے ہیں تو پچاس کی دہائی میں امریکا نے ویت نام پر جارحیت کی اور 24 برس تک خوب اسلحے کا استعمال کیا اور آخر کار راہ فرار اختیار کی۔ 2010 میں امریکا نے لیبیا میں خانہ جنگی کروائی اور قذافی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ چند برس قبل ملک شام میں خانہ جنگی ہوئی وہاں کے حکمران بشارالاسد کی حکومت ختم ہوئی اور وہاں رجیم چینج ہوا۔ پس پردہ امریکا تھا لیکن 2023 اکتوبر کی 7 تاریخ کو اسرائیل مکمل امریکی مدد و تعاون کے غزہ پر حملہ آور ہوگیا، یہ کھلی جارحیت تھی۔ بے دریغ قتل عام ہوتا رہا۔ 70 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو گئے، ایک لاکھ مجروح ہوئے۔ یہ سب عام شہری تھے۔ یہ جارحیت جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی جاری ہے جب کہ چار برس سے روس یوکرین بے مقصد جنگ بھی ہنوز جاری ہے۔
البتہ 7 مئی 2025 کو جنگی جنون میں مبتلا نریندر مودی پاکستان پر حملہ آور ہوا۔ 3 یوم بھارتی جارحیت جاری رہی، البتہ 10 مئی کو جب پاکستان نے دندان شکن جوابی حملہ کیا تو نریندر مودی کا سارا غرور خاک ہوا۔ چند گھنٹوں میں بھارت نے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ البتہ ماہ جون 2025 میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو۔ ایران کو تر نوالہ جان کر حملہ آور ہوا۔ ایران نے منہ توڑ جواب دیا تو امریکا نے ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے یہ جنگ بند کروائی جب کہ پاکستان افغانستان تنازع ابھی جاری تھا کہ 28 فروری 2026 کو اسرائیل و امریکا ایران پر حملہ آور ہوئے۔ اس حملے میں ابتدا میں ایران کا شدید جانی نقصان ہوا۔ ایران کا جوابی حملہ بڑا شدید تھا۔ اگرچہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای دیگر قیادت کے ساتھ شہید ہو گئے۔
اس کے باوجود ایران نہ صرف پوری قوت کے ساتھ اسرائیل کے شہروں پر میزائل حملے کر رہا ہے، اگرچہ اسرائیل نے سخت رویہ اپناتے یہ پابندی عائد کر رکھی ہے پھر بھی موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کا جانی نقصان بہت زیادہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ایران مختلف ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے بلکہ امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے اسرائیل و امریکا کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے جب کہ امریکی صدر کو ایران پر حملے کرنے و اسرائیلی جنگ میں کودنے پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ بالخصوص ایران میں ایک اسکول کو نشانہ بنانے پر جس میں 168 معصوم طالبات شہید ہوگئیں، جن کی عمریں 7 برس سے 12 برس تک تھیں جب کہ امریکی ایوان بالا کے رکن مسٹر شومر نے امریکی صدر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں امریکا کے 193 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جب کہ جنگ ابھی جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ ایران جنگ سے فراغت کے بعد وہ کیوبا پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کرچکے ہیں، وہ اگر کیوبا پر حملہ کرتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ شمالی کوریا کیوبا کا ساتھ دیتے ہوئے اس جنگ میں شریک ہو جائے گا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنگ کا دائرہ مزید ملکوں تک پھیل جائے گا، گویا تیسری عالمگیر جنگ کا آغاز ہو جائے گا، چنانچہ لازمی بات ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ایران اسرائیل و امریکا کے درمیان جنگ بندی ممکن بنائی جائے یہی دنیا کے بہترین مفاد میں ہے کیونکہ جنگ مسائل پیدا کرتی ہے مسائل حل نہیں کرتی۔
Today News
کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.0 ریکارڈ
کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق لانڈھی اور کورنگی کے مختلف علاقوں میں اچانک جھٹکے محسوس ہوئے۔
محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق شہر کے جنوب میں 4.0 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز کراچی سے تقریباً 100 کلومیٹر جنوب میں سمندر میں تھا۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ یہ زلزلہ 1 بج کر 27 منٹ پر ریکارڈ ہوا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم شہریوں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس کی فضا قائم رہی۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person