Connect with us

Today News

جنگ بدر میں نوجوانوں کا کردار

Published

on


مسلمانوں اور کفار کے درمیان جو پہلی جنگ ہوئی اس کا نام جنگ بدر ہے۔ کفار نے یہ جنگ مسلمانوں پر زبردستی مسلط کی تھی اور وہ اس لیے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ صرف ایک معبود حقیقی کی عبادت کی جائے۔ وہ تو بس یہ چاہتے تھے کہ مکہ میں بت پرستی زوال پذیر نہ ہو اور پوری عرب قوم بت پرست ہی رہے۔ کیوں کہ یہی ان کے آباء و اجداد کا مذہب تھا۔

دعوت توحید دینے کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ یہ صورت حال دیکھ کر آنحضور ﷺ نے اﷲ کے حکم سے امت مسلمہ کو ہجرت کرنے کا حکم فرمایا۔ چناں چہ مکہ سے تمام مسلمان ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے۔ مدینہ پہنچے کے بعد بھی کفار نے مسلمانوں کو چین سے نہ رہنے دیا اور ابھی انہیں نئی سرزمین پر منتقل ہوئے دو سال بھی نہ گزرے تھے کہ کفار مکہ نے مسلمانوں کی مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کردیا۔

حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ آنحضرتؐ نے لوگوں کو جنگ کے لیے تیار کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق مسلمانوں کا مختصر سا قافلہ جس کی کل تعداد313 تھی، ان میں انصار اور مہاجر سب شامل تھے اور قبائل میں اوس اور خزرج بھی شامل تھے۔ اس قافلے کے ساتھ60 اونٹ، 3 گھوڑے، 60 زرہیں اور چند تلواریں تھیں۔ جب کہ دشمن کی تعداد 1000نفوس پر مشتمل تھی اور وہ ہر طرح سے لیس تھے۔ ان کے پاس 700 زرہیں، 70 گھوڑے، لاتعداد اونٹ، بے شمار تلواریں اور نیزے تھے۔ ان دونوں افواج کا آمنا سامنا 17رمضان المبارک2ھ بدر کے مقام پر ہُوا۔ 313 مسلمانوں کا یہ قلیل لشکر اس جنگ میں جس جوش و خروش کے ساتھ لڑا وہ قابل دید تھا۔ انھوں نے اپنے سے تین گنا بڑے لشکر کو ایک ہی دن میں شکست فاش سے دوچار کیا۔

اس جنگ میں جہاں بڑے اپنا جوش اور ولولہ دکھا رہے تھے وہاں جوان اور بچے بھی ان سے کسی طرح پیچھے نہ تھے۔ بچوں نے محاذ جنگ پر بڑوں ہی کی طرح کارنامے سرانجام دیے۔ یہ بچے اپنے بڑوں کے شانہ بہ شانہ وسط میدان پہنچے اور ایک ایسا لاثانی اور لافانی کارنامہ انجام دیا جو شاید بڑوں کے لیے بھی ناممکن ہوتا۔ کیوں کہ ابوجہل تلواروں کے سائے میں تیروں اور نیزوں کی باڑھ میں تھا، اس کے ساتھی کہتے جاتے تھے کہ دیکھو ابو الحکم (ابوجہل کا لقب) کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ اتنے پہرے کے باوجود دو نوجوان اس تک پہنچنے اور اسے جہنم واصل کرنے میں کام یاب ہوگئے۔

اس جنگ میں شریک ایک برگزیدہ صحابی جناب عبدالرحمن بن عوفؓ بیان کرتے ہیں کہ میں جنگ کے روز صف کے اندر تھا کہ دیکھا دائیں اور بائیں دو نوجوان کھڑے ہیں، ان کی موجودی سے میں بہت حیران ہُوا، اتنے میں ایک نوجوان نے دوسرے سے چھپتے ہوئے مجھ سے آہستہ سے پوچھا:

چچا جان! ابوجہل کہاں ہے۔۔۔ ؟

میں نے جواب میں کہا: تمہیں ابوجہل سے کیا سروکار ؟

اس نے کہا: مجھے پتا چلا ہے کہ ابوجہل آنحضور ﷺ کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو زندہ نہیں چھوڑوں گا خواہ اس میں میری جان ہی چلی جائے۔

مجھے اس نوجوان کی بات پر تعجب ہُوا، ابھی چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ دوسرے نوجوان نے بھی اسی انداز سے پوچھا۔ میری نظریں میدان کار زار ہی پر مرکوز تھیں کہ اچانک مجھے ابوجہل نظر آیا تو میں نے ان نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہا:

 وہ رہا دشمن اسلام اور تمہارا شکار۔

یہ دیکھتے ہی ان دونوں نے شیر کی طرح اس پر حملہ کر دیا، پھر اسے خون میں لت پت چھوڑا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر میدان جنگ کا واقعہ بیان کیا۔

آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: تم دونوں میں سے کس نے ابوجہل کو قتل کیا۔۔۔ ؟

دونوں بہ یک وقت بولے: میں نے۔

 آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اچھا ذرا اپنی اپنی تلوار دکھاؤ۔

دونوں نے تلواریں دکھائیں جن پر خون لگا ہوا تھا۔

 پھر آپؐ فرمایا: واقعی! تم دونوں نے ہی اسے جہنم رسید کیا ہے۔

 تاریخ اسلام اور کتب احادیث میں دونوں بچوں کا نام معاذ بن عمرو بن جموع اور معاذ بن عفرا ہے۔ تاریخ ابن ہشام میں دوسرا نام معوذ بن عفرا لکھا ہے۔ (صحیح بخاری، مشکوٰۃ)

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ ابوجہل کو میں نے نشانے پر لیا، اس کی پنڈلی کا نشانہ لے کردو ٹکڑے کیے، ایک حصہ دور جاگرا، ادھر میں نے ابوجہل کی ٹانگ کاٹی، ادھر اس کے بیٹے عکرمہ نے میرا بازو کاٹا جو چمڑی سے لٹک کر رہ گیا تھا، لیکن میں اسی طرح محاذ جنگ پر ڈٹا رہا۔ آخر جب تکلیف بڑھی تو میں نے اس بازو کو زمین پر رکھا اور ایک ٹانگ سے دبا کر دوسرے ہاتھ سے زور دار جھٹکا لیا، جس کی وجہ سے وہ بازو میرے جسم سے الگ ہوگیا اور تکلیف میں کمی ہوگئی۔ اس کے بعد معوذؓ اس کے پاس پہنچے اور کاری ضربیں لگا کر اسے نیم مردہ کردیا، بس صرف سانس چل رہی تھی اس کے بعد معوذ بھی بے جگری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اور ابوجہل کا سر حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے کاٹ کر آنحضورؐ کی خدمت میں پیش کیا جسے دیکھ کر آپؐ نے فرمایا: ’’یہ آج کے فرعون کا سر ہے۔‘‘

روایت میں آیا ہے کہ حضرت معاذ ؓ اپنے ایک ہاتھ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے رہے۔ وہ خلیفہ سوئم حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت تک زندہ رہے جب کہ معوذؓ میدان بدر ہی میں شہادت کے منصب پر فائز ہوگئے تھے۔ اس لیے ابوجہل کا جنگ کے میدان میں چھوڑا ہوا مال حضرت معاذ بن عمروؓ کو پورا ملا مگر تلوار حضرت عبداﷲ ابن مسعودؓ کو ملی، جنہوں نے اس کا سر تن سے جدا کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران میں 200 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، امریکی سنٹکام

Published

on



خلیجی جنگ آج آٹھویں روز میں داخل ہوچکی ہے جبکہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں شہدا کی تعداد 1332 تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران میں تقریباً 200 اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔

سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کاپر نے ایران پر حملوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بی ٹو بمبار طیارہ نے درجنوں بنکر بسٹر بموں کے ذریعے زمین کی گہرائی میں دفن بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے پہلے دن کے بعد سے ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں میں 90 فیصد تک کمی آچکی ہے جبکہ اب تک 30 سے زائد ایرانی بحری جہاز بھی ڈبو دیے گئے ہیں۔

سینٹکام کے مطابق آپریشن کے اگلے مرحلے میں ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ اس کے دفاعی اور عسکری ڈھانچے کو مزید کمزور کیا جا سکے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں تاکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

فلسطینی مفادات نظر انداز ہوئے تو ’بورڈ آف پیس‘ سے الگ ہو جائیں گے؛ انڈونیشیا

Published

on


دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا کے صدر نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ پلیٹ فارم بورڈ آف پیش سے فلسطینیوں کو فائدہ نہ پہنچا تو اس سے علیحدہ ہو جائیں گے۔

حکومتی بیان کے مطابق صدر پرابووو نے جمعرات کی شام مقامی اسلامی تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اس بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کی وضاحت کی۔

صدر نے یقین دہانی کرائی کہ اگر اس پلیٹ فارم سے فلسطین یا انڈونیشیا کے قومی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا تو حکومت غزہ بورڈ آف پیس سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے گی۔

انڈونیشیا کے صدر نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں محسوس ہوا کہ یہ اقدام فلسطینی مفاد میں نہیں یا انڈونیشیا کے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا تو وہ فوراً بورڈ سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔

اندرون ملک تنقید

انڈونیشیا کی اس بورڈ میں شمولیت اور غزہ میں استحکام کے لیے ممکنہ فوجی دستہ بھیجنے کے فیصلے پر ملک کے ماہرین اور مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فلسطینی کاز کی طویل عرصے سے جاری انڈونیشی حمایت متاثر ہو سکتی ہے۔

علما اور مذہبی تنظیموں کا مؤقف

اس سے قبل انڈونیشیا کی علما کونسل نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کے کردار کے باعث انڈونیشیا کو اس بورڈ سے الگ ہو جانا چاہیے۔

دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم کا بھی کہنا تھا کہ حکومت اس پلیٹ فارم کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

تنظیم کے سربراہ کے مطابق انڈونیشیا اس بورڈ کے ذریعے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دے سکتا ہے۔

بورڈ آف پیس کی سرگرمیاں معطل

انڈونیشیا کے وزیر خارجہ  پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ ایران جنگ کے باعث بورڈ آف پیش کی تمام سرگرمیاں فی الحال معطل کر دی گئی ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

42 دانتوں والا ملائشین شہری

Published

on



42 دانتوں والے ایک ملائشین شہری نے سب سے زیادہ دانت رکھنے کا گینیز ورلڈ ریکارڈ حاصل کر لیا۔

33 سالہ پرتاب مونیندے نے گینیز ورلڈ ریکارڈز کو بتایا کہ کچھ برس قبل ان کو احساس ہوا کہ ان کے دانتوں سے متعلق کوئی معاملہ غیر معمولی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2021 میں انہوں نے پہلی بار نوٹس کیا کہ ان کے اضافی دانت نکل رہے ہیں۔ گنتی کرنے پر معلوم ہوا کہ اس وقت ان کے 38 دانت تھے۔

انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں ڈینٹل ایکس رے میں یہ بات سامنے آئی کہ چار دانت اور تھے جن کو نکلنا تھا۔ 2023 کے شروع میں یہ تعداد 42 ہوگئی اور خوش قسمتی سے ان کے نکلنے میں کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی۔

پرتاب کا کہنا تھا کہ انہیں اضافی دانتوں سے کوئی مشکل پیش نہیں آتی، زیادہ تر لوگوں کو اس وقت تک پتہ نہیں لگتا جب وہ بتاتے نہیں ہیں۔



Source link

Continue Reading

Trending