Today News
جہلم: انجینئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملہ کرنے والا شخص گرفتار
صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے تھانہ سٹی میں انجینیئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق انجینیئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملے کا مقدمہ اُن کی اکیڈمی ’قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی‘ کے کور کمیٹی کے ایک رکن کی مدعیت میں درج کروایا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اتوار کے روز لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انجینیئر محمد علی مرزا پر حملہ کرتے ہوئے اُن کے عمامہ (پگڑی) کو زمین پر پٹخ دیا اور اُن کے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر اُن کا سانس روکنے کی کوشش کی۔
ایف آئی آر کے مطابق اس موقع پر حملہ آور نے بلند آواز میں نعرے بازی کی اور مذہبی سیاسی جماعت کے نعرے لگائے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر موجود افراد نے ملزم کو پکڑا اور انھیں اکیڈمی کی ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا ہے۔
پولیس نے یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 (اقدام قتل) کے تحت درج کیا ہے۔
جہلم پولیس کے مطابق انجینیئر محمد علی مرزا پر مارچ 2021 میں بھی چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اُن کے بازو پر زخم آیا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ اسی طرح سنہ 2017 میں ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں بھی وہ محفوظ رہے تھے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال انجینیئر محمد علی مرزا کو مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم دسمبر 2025 میں انھیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
نجینیئر محمد علی مرزا کے وکیل محمد طاہر ایوبی ایڈووکیٹ نے بی سی سی کو بتایا کہ جہلم میں انجینیئر محمد علی مرزا کی اکیڈیمی میں ہر اتوار کو درس و تدریس اور سوال جواب کا سیشن ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں اور اس موقع پر دینی موضوعات پر سوالات و جوابات ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ‘اکیڈیمی کی یہ پالیسی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بار اس سیشن میں شریک ہو تو وہ دوسری بار شامل نہیں ہو سکتا، اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ سیشن میں شریک ہوسکیں۔’
انھوں نے دعویٰ کیا کہ آج کے قاتلانہ حملے کے واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے اکیڈیمی میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ چیک کیا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم اتوار کی صبح نو بجے اکیڈیمی میں داخل ہوا تھا اور یہ اکیلا ہی یہاں موجود رہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اتوار کے روز درس و تدریس کا سیشن صبح 10 بجے شروع ہوا تھا جو کہ کسی وقفے کے بغیر تقریبا ڈیڈھ بجے تک جاری رہا اور یہ شخص پورے سیشن میں موجود رہا، سیشن ختم ہونے کے بعد مرکزی ہال سے منسلک ایک کمرہ الگ سے مختص کیا گیا ہے جہاں دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ محمد علی مرزا کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص بھی تصویر بنوانے کےلیے اُس کمرے میں آیا اور اس نے وہاں کمرے میں موجود انتظامیہ کے ایک شخص کو اپنا موبائل فون پکڑا کر کہا کہ ‘میری انجینیئر صاحب کے ساتھ تصویر بنا دو تاکہ یادگار رہے۔’
وکیل نے بتایا کہ جونہی ملزم انجینیئر محمد علی مرزا کے قریب ہوا تو اُس نے اُن پر اچانک حملہ کردیا اور دونوں ہاتھوں کی مدد سے اُن کا گلہ دبانے کی کوشش کی۔
محمد طاہر ایوبی ایڈووکیٹ کے مطابق اس اچانک پیش آنے والے واقعے پر وہاں شور مچ گیا اور ہال کے اندر اور باہر موجود لوگ اس کمرے میں پہنچے جنھوں نے حملہ آور شخص کو قابو پا لیا اور اسے حوالہ پولیس کیا۔
انھوں نے کہا کہ ‘اس واقعہ کے فوری بعد اکیڈیمی کے تمام دروازے بند کر دیے گئے تاکہ اگر حملہ آور کا کوئی ساتھی یہاں موجود ہے تو اس کو بھی پکڑا جا سکے، پولیس کی ٹیموں اور اکیڈیمی کے سٹاف نے تمام لوگوں کی فرداً فرداً چیکنگ کی جس کے بعد دروازے کھول دیے گئے اور لوگوں کو یہاں سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔’
مقامی پولیس کے مطابق ملزم کی جیب سے اس کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا ہے جس کے مطابق اس کی عمر 26 سال ہے، اور وہ خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھتا ہے۔
Today News
محمد یوسف کا پاکستان کی شکست پر شدید ردعمل، بڑا مطالبہ کردیا
لاہور:
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق محمد یوسف نے کرکٹ میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کو ملکی کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دے دیا۔
اپنے بیان میں محمد یوسف کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اور ضروری ہے کہ نااہل افراد کو نہ صرف عہدوں سے بلکہ ٹیم سے بھی ہٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کرکٹ سے سیاسی اثر و رسوخ اور ذاتی مفادات کا مکمل خاتمہ نہیں ہوگا، اس وقت تک وہ مضبوط ٹیم تشکیل نہیں دی جا سکتی جو ماضی میں پاکستان کا وقار ہوا کرتی تھی۔
اس سے قبل بھی محمد یوسف پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان کا وقت گزر چکا ہے اور اب ٹیم کو نئے پرفارمرز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کمزور ٹیموں کے خلاف معمولی کامیابیوں پر انحصار مزید نہیں چل سکتا۔
واضح رہے کہ اتوار کو کھیلے گئے اہم میچ میں بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے کر اگلے مرحلے کیلئے کوالیفائی کر لیا تھا۔
Today News
پاکستان اور سری لنکا کی وزارت داخلہ کے درمیان اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق
کولمبو:
پاکستان اور سری لنکا نے غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی روک تھام کیلئے باہمی کوآرڈینیشن بہتر بنانے کا فیصلہ کرلیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سری لنکا کی وزارت داخلہ کا دورہ کیا جہاں انکی سری لنکن ہم منصب آنند وجے پالا سے ملاقات ہوئی۔ سری لنکن وزیر داخلہ و پارلیمانی امور آنند وجے پالا نے وزارت داخلہ آمد پر اپنے پاکستانی ہم منصب کا شاندار استقبال کیا۔ ملاقات کے موقع پر سری لنکا میں پاکستانی ہائی کمشنر میجر جنرل ریٹائرڈ فہیم العزیز اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
دونوں شخصیات نے داخلی سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات کے لئے باہمی معاونت بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، سائبر کرائمز اور مالیاتی فراڈ میں ملوث مافیا کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر بھی گفتگو ہوئی۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے سری لنکن پولیس کے افسران کو نیشنل پولیس اکیڈمی میں ٹریننگ کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ افسران کے ٹریننگ ایکسچینج پروگرامز سے دونوں ممالک کی فورس کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔
محسن نقوی نے کہا کہ دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان تعاون سے تعلقات کی نئی راہیں کھلیں گی۔ پاکستان اور سری لنکا کو سائبر کرائمز اور مالیاتی جرائم کی روک تھام کیلئے اشتراک کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے سری لنکن ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، انہوں نے سری لنکا میں شاندار مہمان نوازی پر سری لنکن ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔
سری لنکن وزیر داخلہ نے کہا کہ آپ کی سری لنکا آمد ہمارے لئے باعث مسرت ہے۔ پاکستان کے ساتھ باہمی مفادات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے۔
Today News
وفاقی محتسب کا بڑا فیصلہ، بچے کی پیدائش پر والد کو بھی چھٹی دینا لازم قرار
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار نے 30 دن کی پیٹرنی رخصت نہ دینے پر بڑا فیصلہ کرتے ہوئے بچے کی پیدائش پر والد کو بھی چھٹی دینا لازمی قرار دے دیا۔
بینک افسر سید باسط علی کو پیٹرنٹی رخصت نہ دینے پر اسٹیٹ بینک پر جرمانہ عائد کر دیا۔ فوسپاہ نے اسٹیٹ بینک پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
فوسپاہ کے حکم کے مطابق اسٹیٹ بینک جرمانے کی رقم میں سے 4 لاکھ شکایت گزار افسر سید باسط علی کو ادا کرے، اسٹیٹ بینک ایک لاکھ کی رقم قومی خزانے میں جمع کروائے۔
فوسپاہ نے شکایت گزار افسر کو مختلف تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پیٹرنٹی رخصت دینے کا حکم دیا جبکہ اسٹیٹ بینک کو میٹرنٹی اور پیٹرنی رخصت ایکٹ 2023 کے تحت پالیسی بنانے کی ہدایت کر دی۔
محکمے نے فیصلہ دیا کہ پیٹرنٹی رخصت سے انکار صنفی بنیاد پر ہراسمنٹ کے مترادف ہے، میٹرنٹی رخصت دینا اور پیٹرنٹی رخصت سے انکار صنفی امتیاز ہے۔
فوسپاہ کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں، پیٹرنٹی رخصت سے انکار والدین کی مشترکہ زمہ داری اور بچے کے بہترین مفاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے ایک افسر نے پیٹرنٹی رخصت نہ ملنے پر فوسپاہ سے رجوع کیا تھا۔ بینک نے متعلقہ پالیسی موجود نہ ہونے کا کہہ کر سید باسط علی کی رخصت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
Source link
-
Tech2 weeks ago
New Manhattan 4K Streaming Box Brings Freely And TiVo OS To Any UK TV
-
Sports2 weeks ago
‘Not an ideal situation’: Cricketers, politicians react to Pakistan boycotting India match in T20 World Cup
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Sports2 weeks ago
Unbeaten India defeat Pakistan to reach U-19 World Cup semis
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Tech6 days ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech3 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Magazines1 week ago
Story time: Stuck in the 1990s