Connect with us

Today News

جے یو آئی کے امیدوار نور عالم خان کی کامیابی برقرار، الیکشن ٹریبونل نے فیصلہ جاری کردیا

Published

on



الیکشن ٹربیونل نے  قومی اسمبلی  کی حلقہ این اے 28 پشاور ون کے انتخابی نتائج کے خلاف دائر عذردای خارج کرتے ہوئے  جے یو آئی کے امیدوار نورعالم خان کی کامیابی کو درست قرار دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس ریٹائرڈ لعل جان خٹک نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ساجد نواز کی انتخابی عذردای پر سماعت کی۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نے موقف اختیار کیا تھا کہ 8 فروری کے الیکشن میں انہوں نے کامیابی حاصل کی تھی اور اس کے پاس فارم 45 کے نتائج موجود ہیں۔

انہوں نے عام انتخابات میں ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے تاہم فارم 47 میں ان کے ووٹوں کو کم کیا گیا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس کے مخالف امیدوار جے یو ائی کے نورعالم کی کامیابی کا اعلامیہ جاری کیا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔

دوسری جانب نور عالم کے وکیل بیرسٹر یاسین رضا نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزار نے الیکشن پٹیشن مقررہ وقت کے بعد دائر کی ہے اور انہوں نے اپنی رٹ پٹیشن کے ساتھ دیر سے اپیل دائر کرنے میں رعایت دینے کی درخواست بھی جمع  کی ہے جبکہ آئین اور قانون میں مقررہ وقت کے بعد درخواست دائر کرنے کی کوئی حیثیت موجود نہیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے مخالف امیدوار کی کامیابی کو مقررہ وقت کے 4 دن بعد چیلنج کیا ہے جبکہ الیکشن ایکٹ میں واضح ہے کہ کسی امیدوار کی کامیابی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے امیدوار کی کامیابی کا اعلامیہ جاری کرنے کے دن سے 45 روز تک چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

وکیل صفائی نے کہا کہ اگر مقررہ وقت گزر جائے تو اس کے بعد اس کی الیکشن پٹیشن کی کوئی حیثیت نہیں اور درخواست گزار نے اپنی پیٹیشن کے دیر سے درخواست دائر پر رعایت دینے کی استدعا خود بھی  کی ہے جس میں وہ خود تسلیم کررہے ہیں کہ انہوں نے مقررہ وقت میں الیکشن ٹریبونل سے رجوع نہیں کیا اس لئے اس پٹیشن کی کوئی حیثیت نہیں۔

وکیل نے کہا کہ جب درخواست گزار خود اپنی غلطی تسلیم کررہا ہے تو اس پٹیشن کو خارج کیا جائے مقررہ وقت کے بعد کسی بھی درخواست کو عدالت قابل سماعت قرار نہیں دے سکتی۔

الیکشن ٹریبونل نے دلائل مکمل ہونے کے بعد این اے 28 پشاور ون سے ساجد نواز کی الیکشن پٹیشن خارج کردی اور نورعالم کی کامیابی کو درست قرار دیا۔
 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کے بعد بجلی کی قیمت میں اضافے کا عندیہ

Published

on



حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بعد بجلی کی قیمت بھی اضافے کا عندیہ دے دیا۔

وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے توانائی بحران کے حوالے سے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر پیغام جاری کیا۔ انہوں نے لکھا کہ توانائی کا بحران صرف تیل نہیں بلکہ گیس اور فرنس ائل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان امور کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں کے اوپر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ  مارکیٹوں کے اوقات میں تبدیلی اور بچت کے دیگر اقدامات پر صوبوں سے مشاورت جاری ہے۔

وزیر توانائی نے لکھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں عوام کو اس بوجھ سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے کرتے رہیں گے، اگر ہم سب توانائی بچائیں گے تو ملک پر دباؤ کم ہوگا اور جلد بہتری آئے گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

حکومت کا پکڑی گئی ٹیمپرڈ گاڑیاں رعایتی قیمت پر اداروں کو دینے کا فیصلہ

Published

on



وفاقی حکومت نے پکڑی گئی ٹیمپرڈ گاڑیاں سرکاری اداروں کو رعایتی قیمت پر دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت وفاقی اداروں کو 15 فیصد اور صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر گاڑیاں ملیں گی۔

وفاقی حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پکڑی گئی ٹیمپرڈ گاڑیاں رعایتی قیمت پر سرکاری اداروں کو دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

وفاقی اداروں کو 15 فیصد، صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر گاڑیاں ملیں گی اور 1800 سی سی سے زائد گاڑیاں صرف اینٹی اسمگلنگ یونٹس کے لیے مخصوص ہوں گی تاہم کسی فرد کو ٹیمپرڈ گاڑی فروخت نہیں کی جائے گی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ٹیمپرڈ گاڑیوں کی ادائیگی صرف سرکاری اکاوٴنٹس کے ذریعے ہوگی، 5 سال تک فروخت نہ ہونے والی گاڑیاں تلف کر دی جائیں گی،جس کے لیے تمام گاڑیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ اور مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروادیا گیا ہے۔

ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آرنے کسٹمز آرڈر نمبر چار جاری کردیا ہے جس کے تحت وفاقی حکومت نے کسٹمز کے زیر تحویل ضبط شدہ ٹیمپرڈ گاڑیوں کے استعمال اور فروخت کے حوالے سے نیا ضابطہ جاری کر دیا ہے اور خلاف ورزی پر گاڑی ضبط اور افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کسٹمز جنرل آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ نئے ضابطے کے تحت 1800 سی سی سے زائد ٹیمپرڈ گاڑیاں صرف اینٹی اسمگلنگ اور انفورسمنٹ یونٹس استعمال کر سکیں گے جبکہ 1800 سی سی تک کی گاڑیاں محدود طور پر گریڈ 19 کے افسران کو دی جا سکیں گی۔

مشکل اور سرحدی علاقوں میں تعینات کسٹمز فارمیشنز کو بھی ضرورت کے تحت بڑی گاڑیوں کے استعمال کی اجازت دی جا سکے گی۔

ایف بی آر کے کسٹمز ونگ کو ان گاڑیوں کی الاٹمنٹ میں ترجیح حاصل ہوگی اور ہر فارمیشن اپنی ضروریات کے مطابق درخواست دے گی جس کی منظوری ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی دے گی۔

ضبط شدہ گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ، تصاویر، فرانزک رپورٹ اور قانونی حیثیت ایک ڈیجیٹل سسٹم میں محفوظ کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، ایف بی آر کی ضروریات پوری ہونے کے بعد رہ جانے والی گاڑیاں وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کو فروخت کی جا سکیں گی۔

وفاقی اداروں کو یہ گاڑیاں مقررہ قیمت کے 15 فیصد جبکہ صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر فراہم کی جائیں گی تاہم کسی بھی صورت میں یہ گاڑیاں کسی فرد کو ذاتی استعمال کے لیے فروخت نہیں کی جائیں گی، ادائیگی صرف سرکاری اکاوٴنٹس کے ذریعے ہوگی اور گاڑی کی حوالگی رجسٹریشن کے بعد ہی ممکن ہوگی اور خریدار ادارے کو تین ہفتوں کے اندر گاڑی وصولی کی تصدیق بھی دینا ہوگی۔

مزید برآں، ان گاڑیوں کے استعمال، فروخت اور حوالگی کی مکمل تفصیلات باقاعدگی سے رپورٹ کی جائیں گی۔

ضابطے کے مطابق گاڑیوں کی عمر مکمل ہونے پر انہیں ختم (ڈسمینٹل) کیا جائے گا اور5 سال تک فروخت نہ ہونے والی گاڑیوں کو بھی اسی عمل سے گزارا جائے گا، خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی کی واپسی، الاٹمنٹ کی منسوخی اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔
 



Source link

Continue Reading

Today News

وزیراعظم کچھ دیر میں قوم سے اہم خطاب کریں گے

Published

on


وزیراعظم شہباز شریف کچھ دیر میں قوم سے اہم خطاب کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب قومی ٹیلی ویژن پر نشر کیا جائے گا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ایندھن بچت کے حوالے سے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا تھا کہ حکومت نے مخصوص طبقے کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کیے جبکہ صوبوں کی مشاورت سے بجلی کی بچت کیلیے بازار رات 8 بجے بند کروانے کا فیصلہ ہوا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending