Connect with us

Today News

حزب اختلاف کا ایجنڈا – ایکسپریس اردو

Published

on


گزشتہ سال ہونے والے انتخابات جمہوریت کی تاریخ کے منفرد انتخابات تھے۔ 2018 کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت 2024کے انتخابات میں اپنے انتخابی نشان سے محروم تھی، مگر تحریک انصاف کے حامی اراکین کی ایک بڑی تعداد منتخب ہوئی، یوں عمر ایوب خان قومی اسمبلی اور شبلی فراز سینیٹ میں قائد حزب اختلاف قرار پائے۔ اس اسمبلی میں بلوچستان سے محمود خان اچکزئی بھی منتخب ہوئے جن کا حزب اختلاف میں رہنے کا طویل تجربہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسمبلی میں موجود ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصرکی کوششوں سے مولانا فضل الرحمن اور تحریک انصاف میں بظاہر ہم آہنگی پیدا ہوئی مگر بہت سے زندہ حقائق کی بناء پر تحریک انصاف مولانا فضل الرحمن کو قائد حزب اختلاف بنانے پر آمادہ نہ ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن نے آئین میں کی جانے والی ترمیم کے لیے تحریک انصاف کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر تحریک انصاف کی قیادت اس معاملے میں مولانا فضل الرحمن سے متفق نہ ہوسکی۔ عمر ایوب خان کی قیادت میں حزب اختلاف نے اپنے قائد کی رہائی کے لیے مہم جوئی کی مگر حزب اختلاف نے اپنی تحریکوں میں عوام کے مسائل کو اہمیت نہ دی۔

یہ تحریکیں عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے کی بناء پر متوقع نتائج نہ دے سکیں، مگر اس حقیقت کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ ان تحریکوں میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے بھرپور جدوجہد کی۔ اسلام آباد میں نومبر 2024میں خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں زبرست احتجاج ہوا۔ اس احتجاج کے موقع پر ہونے والے تصادم میں مبینہ طور پر 6 افراد جاں بحق ہوئے مگر تحریک انصاف میں دو سال قبل شامل ہونے والے سینئر وکیل لطیف کھوسہ نے ٹی وی چینلز پر یہ پراپیگنڈہ شروع کیا کہ اس تصادم میں سیکڑوں کارکنان ہلاک ہوئے مگر حقائق لطیف کھوسہ کے دعوے کی تردید کررہے تھے۔ اس بناء پر رائے عامہ میں کنفیوژن پیدا ہوئی اور اس تحریک کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ انسداد دہشت گردی کی مختلف عدالتوں نے عمر ایوب خان اور شبلی فراز کو 7, 7 سال قید کی سزا سنائیں، یوں یہ دونوں رہنما اپنی نشستوں سے محروم ہوگئے۔

عجیب بات یہ ہے کہ عمر ایوب خان اور شبلی فراز نے اپنی سزا کے خلاف قانونی جنگ میں دلچسپی نہیں لی۔ یہ دونوں رہنما خیبر پختون خوا میں اپنے اپنے گھروں میں مقید ہوگئے۔ شاید دونوں رہنماؤں نے نجات کا یہ راستہ بہتر جانا۔ حزب اختلاف نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ ناصر عباس کو حزب اختلاف کی سربراہی کے لیے نامزد کیا مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف تسلیم کرنے کے اعلان میں چھ ماہ لگا دیے گئے۔

اس پارلیمنٹ کے بننے کے بعد پہلی دفعہ حزب اختلاف مکمل ہوئی۔ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ سے مذاکرات ہوئے۔ بعض باخبر صحافیوں کا کہنا ہے کہ یوں لگتا تھا کہ شاید حکومت تحریک انصاف کے بانی کو ریلیف دینے پر تیار ہو جائے بعد ازاں صدر زرداری اچانک رحیم یار خان میں کارکنوں سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف زوردار زبانی بمباری کی۔ شاید اسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام معاملات رک گئے۔

گزشتہ مہینے متحدہ حزب اختلاف کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کی روداد کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اجلاس میں ایک تجویز اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کی تھی۔ اجلاس نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور مسلمان ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی فضائی حدود کسی اور ملک کو استعمال نہ کرنے دیں۔ اس اجلاس میں بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی صورتحال، مہنگائی میں مسلسل اضافہ،کارخانوں سے مزدوروں کی برطرفی، کارخانوں میں لے آف اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافے کے خلاف کسی طرح کے احتجاج کا فیصلہ نہیں ہوا۔ حزب اختلاف نے اب تک جتنی تحریکیں چلائیں وہ محض ایک شخص کی رہائی کے مطالبے کو منوانے تک محدود رہی ہیں۔

ان تحریکوں کے لیے صرف کارکنوں کی ایک مخصوص تعداد ہی متحرک ہوئی جس کی بناء پر تحریک انصاف کی قیادت مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی۔ ملک کے معروضی حقائق کے جائزے سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ فوری طور پر کوئی مہم جوئی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ تحریک انصاف کے لاہور میں قید رہنماؤں نے بھی اس حقیقت کو محسوس کیا ہے۔ ان رہنماؤں کے ایک خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ فوری طور پر تحریک چلانے کے حق میں نہیں تھے، اس بناء پر ضروری ہے کہ حزب اختلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے دیگر طریقوں کو آزمائے۔ یہ وقت ہے کہ حزب اختلاف اپنے ایجنڈے کو توسیع دے۔

 اس وقت سب سے زیادہ بے چینی بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔ بلوچ نوجوانوں کی اکثریت فرسٹریشن کا شکار ہے۔ نوجوانوں کی شکایات حقیقت پر مبنی ہیں، اس بناء پر ضروری ہے کہ حزب اختلاف اپنے ایجنڈے میں بلوچستان کو سرفہرست رکھے۔ اس وقت نچلے متوسط طبقے کے حالاتِ کار انتہائی خراب ہیں۔ عالمی اداروں کا تخمینہ ہے کہ ملک میں گزشتہ دو برسوں کے دوران غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ ملک کے مختلف حصوں سے بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے افراد کی خودکشی کی خبریں اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ ایران، امریکا، اسرائیل جنگ کے نتیجے میں پیٹرولیم کی مصنوعات اور بجلی کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔

افغانستان سے تجارت بند ہونے سے صرف وہ تاجر ہی متاثر نہیں ہوئے، جو اس کاروبار سے منسلک ہیں بلکہ پنجاب اور سندھ کے کسان بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں برآمدات کم ہونے سے ایک نیا بحران پیدا ہوا ہے اورکئی کارخانوں نے پیداوار روک دی ہے۔ کارخانوں میں لے آف سے مزدور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ حکومت اب تک طلبہ یونین کو بحال کرنے پر تیار نہیں ہے اور یونیورسٹیوں کی فیسوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ ملک کی سرکاری یونیورسٹیاں مالیاتی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں۔ مجموعی طور پر متوسط طبقے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ حزب اختلاف کو اپنے ایجنڈے میں مظلوم طبقات کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔ حزب اختلاف کے اجلاس میں یہ تجویز آئی ہے کہ اراکین اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں۔ اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کا تجربہ ناکام ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے گزشتہ دور میں اسمبلیوں سے استعفے دیے۔

پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتوں کو مستعفیٰ ہونے کا سارا فائدہ کسی اور قوت کو ہوا تھا۔ اس اسمبلی سے سردار اختر مینگل نے استعفیٰ دیدیا۔ اب قومی اسمبلی میں بلوچستان کے مصائب بیان کرنے والی کوئی آواز موجود نہیں ہے، اس بناء پر حزب اختلاف کو ماضی کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ فوری طور پرکوئی تحریک چلانے کے بجائے عوام کو منظم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ پارلیمانی نظام میں حزب اقتدارکے ساتھ حزب اختلاف کی بھی یکساں اہمیت ہوتی ہے۔

حکمران حزب اختلاف کی اہمیت کو بخوبی محسوس کرتے ہیں۔ حکومت نے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے جائزے کے لیے خفیہ اجلاس میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو مدعو کیا تھا مگر حکومت نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کو بانی تحریک انصاف سے مشاورت کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے انھوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، اگر انھیں اپنے قائد سے مشاورت کی اجازت دی جاتی تو وہ زیادہ آسانی سے اظہارِ رائے کرسکتے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو حزب اختلاف سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ حزب اختلاف کے کچھ مطالبات مان کر ملک میں ایک اچھی سیاسی فضاء پیدا کی جاسکتی ہے۔ پاکستان خطے کی صورتحال کی بناء پر شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت حزب اختلاف کو اعتماد میں لے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں طوفانی بارش، مختلف حادثات میں ہلاکتوں پر وزیراعلیٰ نے فوری نوٹس لے لیا

Published

on



کراچی:

کراچی میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث پیش آنے والے افسوسناک حادثات میں بلدیہ ٹاؤن سیکٹر 11 میں عمارت گرنے اور مواچھ گوٹھ میں دیوار گرنے کے نتیجے میں اب تک 13 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کر دی۔

وزیراعلیٰ نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کرنے اور زخمیوں کو فوری و بہترین طبی امداد فراہم کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مواچھ گوٹھ میں دیوار گرنے کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ریسکیو اور ریلیف ادارے موقع پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر بھر میں صفائی ستھرائی، نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

شرجیل میمن کے مطابق بعض علاقوں میں درخت اور بجلی کے پول گرنے کے باعث بجلی کی بندش نے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیدا کیں، تاہم متعلقہ ادارے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بلدیہ مدینہ کالونی مواچھ گوٹھ پہنچے جہاں انہوں نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور حکام سے بریفنگ لی۔

اس موقع پر انہوں نے ریسکیو اداروں کو امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور تمام متعلقہ ادارے امدادی کارروائیوں میں مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

ادھر اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی نے بھی شدید بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کی جائیں اور زخمیوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کرپشن کی تلاش – ایکسپریس اردو

Published

on


اس دن ’’کرپشن‘‘پر ایک بہت بڑے دانا دانشور کا دانش اوردانائی سے بھرپورکالم بلکہ مضمون بلکہ مقالہ پڑھ کر منہ سے بے اختیار عش عش نکلنا شروع ہوگیا اوراس وقت تک نکلتا رہا جب تک ہم پر غشی طاری نہیں ہوئی لیکن غشی میں بھی پہلے کی طرح یہ سوال ٹونگیں مارتا رہا کہ آخر یہ کرپشن ہے کیا؟جس کے اتنے چرچے ہیں اورہربار ہماری یہی کیفیت ہوجاتی ہے جب اس ناہنجار، نابکار، خدائی خوار،سراسر آزار اور سب کے سر پر سوار کرپشن کا نام سنتے ہیں یاکسی کالم میں پڑھتے ہیں یاکسی بیان میں دیکھتے ہیں کہ ایک مدت سے ہم اس کاذکر تو سنتے آئے ہیں لیکن کبھی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کرپشن آخر چیز کیا ہے ؟ جو ہے بھی اورنہیں بھی بلکہ جہاں ہوتی ہے وہاں نہیں ہوتی ہے اورجہاں نہیں ہوتی وہاں ہوتی ہے کیا یہ کوئی پھل ہے ؟ سبزی ہے ، پکوان ہے؟ چرند ہے، پرند ہے یا خزند و درند ۔ بالکل وہی صورت حال ہے جو کسی شاعر کو کسی چیز کے بارے میں درپیش تھی کہ

 کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے کیا ہے ؟

تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ صبا ہے کیا ہے ؟

 نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے

 تو تسلی ہے دلاسہ ہے دعا ہے کیا ہے ؟

بلکہ کبھی شک ہوتا ہے کہ دوا بھی ہے شفا بھی اورنشہ بھی ، صرف اتنا ہی پتہ چلا ہے کہ جن لوگوں نے چکھی ہے وہ اسے میٹھا،بہت میٹھا اوربہت ہی میٹھا بتاتے ہیں ، کہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی نشہ ہو۔ اورہماری اس سے عدم واقفیت اورناآشنائی کی ایک وجہ تویہ ہے کہ ہماری سمجھ دانی بہت چھوٹی ہے اوریہ بہت بڑی شے ہے ،آخر جب ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے تو وہ کوئی معمولی چیز تو ہوہی نہیں سکتی ، دوسرے یہ کہ ہم ٹھہرے اردومیڈیم اوریہ ہے میم یعنی انگلش میڈیم بلکہ اس سے بھی اونچی کیٹگری کی چیز، اورتیسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یہ بالکل بھی نہیں ہوتی کہیں بھی نہیں ہوتی اورذرہ بھربھی نہیں ہوتی ، ظاہرہے کہ جب کوئی چیز ملک میں ہوتی ہی نہیں تو اس ملک کے لوگ اس کے بارے میں کیسے جانتے ہوں گے ،آپ کسی افغان سے ریل کے بارے میں، کسی عرب سے مچھلیوں کے بارے میں اورکسی تاجک سے ہاتھی کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ آپ کو کیابتائے گا ؟ ہمارے ملک میں سب کچھ اتنا شفاف ہے کہ ذرا سادھبہ بھی پڑے تو دور سے نظر آجائے گا۔

سنا ہے اس سلسلے میں ہماری حکومت نے بلکہ حکومتوں نے بھی بہت کوشش کی ہے، بڑے بڑے محکمے بنائے، ادارے قائم کیے اوربڑے ماہرین کو تعینات کیا لیکن نہ تو اس کاکوئی سراغ ملا ، نہ کوئی کلیو اورنہ اتہ پتہ ، بلکہ کہیں شائبہ بھی نہیں پایا گیا، ہم نے خود اپنا ٹٹوئے تحقیق اتنا دوڑایا اتنادوڑایا کہ بیچارے کی سانس پھول گئی لیکن کم بخت کہیں بھی نہیں ملی، اس ملک میں جو کچھ بھی ہوتا ہے صاف وشفاف اورکرپشن لیس ہوتا ہے، مثال کے طور پر سیاست کو لے لیجیے ، بالکل صاف وشفاف جمہوریت دودھ کی دھلی ہوئی اورپارٹیاں اورلیڈر ، گنگا شنان۔

 الیکشن کو لے لیجیے ، سنا ہے دوسرے ملکوں میں جب ہوتے ہیں ،کرپشن بھرے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں، دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضوکریں، ہمارے الیکشن اتنے شفاف ہوتے ہیں کہ شیشہ بھی اس کے آگے خجل ہوجائے اورپھر اس الیکشن کے نتیجے میں جو جمہوری شہنشاہ جلوہ گر ہو جاتے ہیں، وہ اتنے شفاف ہوتے ہیں کہ ایج جی ویلز کا ناول ’’ان وزیبل مین ‘‘ یاد آجاتا ہے اوران کے پاس جو مینڈیٹ ہوتا ہے واہ جی واہ ، اس میں کرپشن کا نام و نشان تک نہیں ہوتا اورہاں فنڈز۔

 زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا

 کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے

کسی نے بتایا تھا کہ کرپشن کو سرکاری محکمے اور ادارے بہت پسند ہوتے ہیں لیکن یہ بھی صرف افواہ نکلی، الزام نکلا جھوٹ نکلا، کیوں کہ ہم خود اپنا ٹٹوئے تحقیق لے کر سرکاری دفاتر میں گئے ، محکموں میں ڈھونڈا، اداروں میں دیکھا ،کہیں بھی کرپشن کا نام ونشان نہیں پایا بلکہ ہمارے کہنے پر ہمارے ٹٹوئے تحقیق نے اپنی ناک کااستعمال بھی کیا لیکن کہیںسے ہلکی سی ’’سمیل‘‘ (smell)بھی کرپشن کی نہیں آئی۔ اس کے بعد ہم نے تھانوں پٹوارخانوں میں تلاش کیا وہاں تو کوئی اس کے نام سے بھی واقف نہیں تھا ہم نے جب اس کانام لیاتو لوگ کانوں کو ہاتھ لگا لگا کرتوبہ توبہ کرنے لگے کہ اس منحوس ، ایمان چوس ، ضمیر بھوس کرپشن کا یہاں کیا کام؟ یہاں آئے تو ہم اس کی ٹانگیں توڑ کر اس کے ہاتھوں میں نہ دیں ، اس کی آنکھیں نکال کر کانوں میں نہ لٹکا دیں ۔یہاں مایوس ہوکر ہم نے کچہریوں کا رخ کیا کہ اکثر ایسے ویسے لوگ یہاں آتے جاتے رہتے ہیں، شاید یہاںاس کاکوئی سراغ ملے ، لیکن یہاںبھی کم بخت نہیں ملی ،ایسے ویسے لوگوں کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا ہے کہ ایسے ویسے لوگ یہاں آکر نیک یعنی سدھرجاتے ہیں کیوں کہ یہاں جو ’’صالحین ‘‘ بیٹھے ہوتے ہیں ان کی صحبت اتنی پرتاثیر ہوتی ہے کہ اگر کالا چور بھی آئے تو سفید ہوجاتا ہے بلکہ اس تلاش میں ہمیں یہ پتہ چلاکہ صرف ہم ہی اسے تلاش نہیں کررہے ہیں بلکہ اوربھی بہت سارے لوگ اسے کھوج رہے ہیں، کئی سرکاری ادارے بھی اس کی ڈھونڈ میں پریشان ہیں تاکہ اسے ڈھونڈکر کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے، اس کے ساتھ آہنی ہاتھ کے ساتھ نمٹیں۔ مطلب یہ کہ

تمام شہر ہی اس کی تلاش میں گم تھا

 میں اس کے گھر کاپتہ کس سے پوچھتا یارو

اب آپ ہی انصاف بلکہ تحریک انصاف سے کام لے کر بتائیں کہ ایسے صاف وشفاف ’’کرپشن لیس‘‘ ملک میں ہم اس بدمعاش ، بدقماش اورعیاش وفحاش کرپشن کو کہاں ڈھونڈیں اورجب کرپشن یہاں ہے ہی نہیں تو ہم کیاجانیں کہ کرپشن کیاہوتی ہے ، کیسی ہوتی ہے اورکہاں ہوتی ہے ؟

نہ شعلہ میں کرشمہ نہ برق میں یہ ادا

 وئی بتائے کہ وہ شوخ تندخو کیا ہے ؟

اب آپ سے انصاف بلکہ تحریک انصاف کرکے بتائیں کہ ہم ایسے صاف وشفاف ملک میں اس بدمعاش اورعیاش وفحاش کرپشن کو کہاں ڈھونڈیں اور جب یہاں کرپشن ہے ہی نہیں تو ہم کیا بتائیں کہ کرپشن کیسی ہوتی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایک اسلامی ملک عید کا چاند نظر آگیا؛ آج بروز جمعرات عید الفطر منائی جائے گی

Published

on


طالبان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے متعدد علاقوں سے چاند نظر آنے کی مصدقہ شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان سپریم کورٹ نے باضابطہ طور پر مختلف صوبوں میں شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح افغانستان میں عید الفطر آج (بروز جمعرات) عید الفطر منائی جائے گی۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ شوال کا چاند فرح، ہلمند اور غور سمیت کئی علاقوں میں دیکھا گیا جس کے بعد عید منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

طالبان حکومت کی جانب سے عید کے موقع پر 4 ہزار 596 قیدیوں کو رہا جب کہ 4 ہزار 407 قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کی گئی۔ 

افغان حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ عید کی نماز اور دیگر تقریبات کے دوران نظم و ضبط کا خیال رکھیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں تاکہ یہ تہوار پرامن ماحول میں منایا جا سکے۔

یاد رہے کہ آج سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات، عراق، یمن، لبنان، کویت، بحرین، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں شوّال کا چاند نظر نہیں آیا۔ اس لیے عید بروز جمعہ 20 مارچ کو ہوگی۔

جمعرات کو جن ممالک میں چاند دیکھا جائے گا ان میں پاکستان سمیت ترکیہ، انڈونیشیا، ملیشیا، برونائی، سنگاپور، سعودی عرب، بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، ایران، عراق کے کچھ حصے، عمان، اردن، شام، مصر، لیبیا، تیونیس، الجزائر، مراکش، اور موریطانیہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں چاند کی رویت کے لیے الگ الگ طریقہ کار اپنایا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں روایتی رویت کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ بعض جگہوں پر فلکیاتی حسابات اور دیگر ممالک کے اعلانات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق چاند کی رویت ہر سال موسمی حالات اور جغرافیائی پوزیشن کے باعث مختلف ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے مختلف ممالک میں عید کے دن میں فرق آ جاتا ہے۔

مسلمانوں کے لیے عید الفطر خوشی اور شکرانے کا تہوار ہے جو رمضان کے روزوں کی تکمیل کے بعد منایا جاتا ہے اور اس موقع پر خصوصی عبادات اور سماجی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending