Today News
حسب ضرورت… (پہلا حصہ) – ایکسپریس اردو
’’ بڑا پیارا سوٹ پہنا ہوا ہے تم نے نسرین!‘‘ میں نے اس کے جوڑے کی تعریف کی، باقی باتیں جو ختم ہو گئی تھیں۔ اکثر آپ کو خواتین کی محفل میںکپڑوں اورجوتوں کی باتیں سننے کو ملتی ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اور کوئی موضوع نہیں ہوتا حالانکہ اس سے پہلے وہ تمام موضوعات جن پر انھیں عبور حاصل ہے، پر حسب توفیق گفتگو کر چکی ہوتی ہیں۔
’’ بہت بہت شکریہ، تمہیں واقعی پسند آیا یا ایسے ہی میرا دل رکھنے کو کہہ رہی ہو؟‘‘ اس نے حسب عادت سوال کیا۔
’’ نہیں واقعی بہت اچھا ہے۔‘‘
’’ میں نے فلاں برانڈ سے لیا تھا، سلمان تو کہہ رہے تھے کہ یہ اتنا اچھا نہیں ہے مگر مجھے پتا تھا کہ یہ سل کر اچھا لگے گا، مردوں کو کہاں کپڑوں کا پتا ہوتا ہے، ان کی ماننے لگو تو جانے کیسے اونترے اونترے سے کپڑے پہننے لگو گے۔ سارا کمال تو میرے درزی کا ہے، اس نے ہی سارے ششکے کر کے اس جوڑے کو اتنا کمال کا بنا دیا ہے۔ سلائی تو زیادہ لیتا ہے مگر کام اچھا کرتا ہے۔
سادہ سلائی کا جوڑا تین ہزار روپے میں سیتا ہے مگر میرا کوئی جوڑا عام ہوتا کہاں ہے سو وہ میرے جوڑے چھ سات ہزار سے کم میں نہیں سیتا۔ اوپر سے کمال دیکھو اپنی سہیلی کا کہ سر سے پاؤں تک میچنگ سے میں ہر جوڑے کی کافی ٹشن نکال لیتی ہوں، پرس تو خریدنا پڑتا ہے مگر جوتے تو میں اپنے جوڑوں کے میچنگ خود بنواتی ہوں، اسی لیے تو اتنا اچھی میچنگ ہوتی ہے۔ ( اس کے کہنے پر میں نے دیکھا تو واقعی جوتے اس کے قمیض کے کپڑے سے بنے ہوئے تھے۔ میاں کے پاس پیسہ ہو تو پھر بیویوں کے ایسے نخرے تو بنتے ہیں۔‘‘ اس نے شاید میرے سادہ سے جوڑے پر طنز کیا تھا، مجھے خود پر غصہ بھی آیا کہ یوں ماسیوں والے حلیے میں کامکار چھوڑ کر، مال آجانے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔
نسرین اور میں اس روز مال میں اتفاقاً ہی مل گئے تھے، ہم دونوں ہی اس وقت تنہا تھیں اور پندرہ بیس سال کے بعد کی ملاقات کو ہم یوں سرراہ کیسے سلام دعا کر کے ختم کر دیتے سو دونوں ایک کافی شاپ میں جا کر بیٹھیں اور کافی آرڈر کر دی۔ باقی تعارفی باتیں کھڑے کھڑے ہو گئی تھیں تو بیٹھ کر میں نے اس کے جوڑے کی تعریف کی تھی۔ ساری دنیا میں اتنے انقلابات آگئے تھے مگر نسرین کا سوائے عمر کے کچھ نہیں بدلا تھا۔ مجھے یاد آ گیا کہ نویں کلاس کے امتحانات ہو رہے تھے۔
اس نے ایک سوال کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا کہ میںنے اس کا کیا جواب لکھا تھا۔ میں نے بتایا تو اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا… ’’ کیا تم نے ارکان اسلام کا جواب صرف پانچ الفاظ میں لکھاہے؟‘‘’’ ہاں ، کلمہ، نماز ، روزہ، زکوۃ اور حج!!‘‘ میںنے اسے بتایا۔’’ اور تمہیں لگتا ہے کہ اس جواب پر تمہیں پورے نمبر مل جائیں گے؟‘‘ اس نے طنز سے کہا۔ ’’ اچھا اب بتاؤ کہ تم نے پاکستان کے موسموں والے سوال کا کیا جواب لکھا ہے؟‘‘ اسے یونہی عادت تھی کہ کمرہء امتحان سے باہر نکل کر کبھی کسی سے اور کبھی کسی سے ایسے سوال کرتی تھی اور انھیں طنز سے کہتی کہ وہ تو مشکل سے ہی پاس کر پائیں گے۔’’ میںنے لکھا کہ پاکستان میں چار موسم ہیں، موسم سرما، موسم گرما، موسم بہار اور موسم سرما۔‘‘ میں نے بتایا تو اس کی آنکھوں میں ہنس ہنس کر آنسو آگئے۔
’’ ایک تو جواب اتنا مختصر، اوپر سے ترتیب بھی غلط!‘‘ اس نے ہنسی کے درمیان کہا۔
’’ جتنا سوال تھا، اتنا ہی میں نے جواب لکھ دیاحسب ضرورت اور ترتیب سے لکھنے کو تو کہا بھی نہیں گیا تھا۔‘‘ ’’ تم بالکل بے وقوف ہو، حسب ضرورت تو یوں کہہ رہی ہو جیسے تم نے خرید خرید کر لکھنا تھا، بھئی مفت میں لکھنا ہوتا ہے تو حسب توفیق لکھا کرو، حسب خواہش لکھا کرو۔ زیادہ لکھنے سے امتحانی پرچہ چیک کرنے والا متاثر ہوتا ہے اور زیادہ نمبر دیتا ہے۔‘‘ اس کی منطق نرالی تھی میںبحث نہیں کرتی تھی اور جب نتیجہ آیا تو میرے زیادہ نمبر آنے کا سن کر تو اس نے رو رو کر دریا بہا ڈالے کہ میں نے جو پرچہ چار شیٹ پر حل کیا تھا اس نے دس شیٹ پر حل کیا تھا۔
(جاری ہے)
Today News
وہ سماں اب کہاں !
گزشتہ کالم میں راقم نے ریڈیو پاکستان کراچی کی مشہورگلوکارہ منی بیگم اور ان کی ایک غزل کا ذکرکیا تھا جس کو بہت سے قارئین نے پسندکیا اورکہا کہ ریڈیو پاکستان اور اس سے وابستہ شخصیتوں سے ان کی حسین یادیں وابستہ ہیں، ان کا اس طرح مختصر ذکر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اچھی طرح سے ان بیتے لمحوں پر بات ہونی چاہیے۔
بات یہ ہے کہ خود راقم کی بھی ریڈیو سننے کے ضمن میں ریڈیو پاکستان سے حسین یادیں وابستہ ہیں خاص کر ایک پروگرام ’’ بچوں کی دنیا‘‘ سن کر ہم گھر ہی میں اس کی نقالی کیا کرتے تھے اور یہی سوچتے تھے کہ کاش! ہم بھی کبھی اس پروگرام کا حصہ بنیں۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ جب ہم میڈیا کے ایک استاد کی حیثیت سے اپنے طلبہ کو ریڈیو پاکستان کے دورے پر لے کرگئے اور بچپن میں جو کانوں سے سنتے تھے، وہ سب آنکھوں سے دیکھا۔
بہرکیف ریڈیو پاکستان کراچی کے تمام پروگرام اور ان کے فنکار اپنی حسین یادیں چھوڑ گئے ہیں جن میں قاضی واجد (معروف ریڈیو اداکار اور میزبان)، عظیم سرور (ریڈیو پاکستان کراچی کے معروف اناؤنسر اور پروڈیوسر)، سبحانی با یونس، انور سولنگی، محمود علی، حسن شہید مرزا، طلعت حسین، ساجدہ سید، ابراہیم نفیس، طلعت صدیقی، آغا جہانگیر، منّی باجی، عامرخان (حامد میاں)، جمشید انصاری، اطہر شاہ خان (جیدی)، عشرت ہاشمی، سید ناصر جہاں، صدیق اسماعیل اور مظفر وارثی وغیرہ۔
ریڈیو پاکستان کا یہ دور عوام کے لیے ایک گلیمرکا دور بھی تھا جیسا کہ میرے استاد پروفیسر انعام باری (مرحوم) جو خود ریڈیو سے برسوں وابستہ رہے، نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ملک کی معروف گلوکارہ، منی بیگم اپنے کیریئر کے اوائلی دور میں صرف اپنی آواز سے پہچانی جاتی تھیں۔ اخبارات میں ان کی کوئی تصویر نہیں آیا کرتی تھی۔ جب وہ ریڈیو کے پروگرام میں آتی تھیں تو لوگ ان کو دیکھنے کے لیے کئی گھنٹوں تک ریڈیو اسٹیشن کی عمارت کے باہر بیٹھے رہتے کہ دیکھیں منی بیگم کی شخصیت کیسی ہے۔
ریڈیو پاکستان جو عوام کی تفریح کا ایک بہترین ذریعہ تھا اور جو ہر ایک کی دسترس میں تھا، چنانچہ ایک میں ہی کیا، نہ جانے کتنے لوگوں کی یادیں اس سے وابستہ ہیں۔ ریڈیو پاکستان کا ایک کردار تھا۔ ہماری صبح کا آغاز ریڈیو پاکستان کے ساتھ ہوتا تھا۔ صبح ریڈیو سے نشر ہوتی خبریں اور اسکول و دفتر کی تیاری پھر چھٹی کے دن صبح صبح ’’ حامد میاں کے ہاں‘‘ کا پروگرام سننا یا پھر اس کے بعد ’’ بچوں کی دنیا ‘‘ پروگرام سننا، ہماری بچپن کی دنیا کو اور بھی لاجواب بنا دیتا تھا۔
دوپہر میں نئی فلموں کے تعارفی پروگرام اور ’’ آئیڈیل کی تلاش‘‘ نامی گیتوں بھری کہانی کا پروگرام، شام میں ’’ مزدور بھائیوں‘‘ اور ’’فوجی بھائیوں‘‘ کے لیے ہی نہیں خواتین کے لیے بھی پروگرام تمام طبقات کو ریڈیو کے دامن میں سمیٹ لیتا۔ رات میں خبروں کے علاوہ ’’میری پسند‘‘ فلمی گانوں کے ساتھ ایک الگ ہی مزہ دیتا تھا۔
اس پروگرام میں لوگ خط لکھ کر بھیجتے اور اپنی پسند کا کوئی فلمی گیت سننے کی فرمائش کرتے اور جب یہ پروگرام نشر ہوتا تو میزبان ابتداء میں ان خطوط لکھنے والوں کے تمام نام پڑھ کر سناتا اور پھر اس کے بعد پسند کیے گئے فلمی گیت نشر کیے جاتے۔ بعض لکھنے والے اس قدر زیادہ خطوط بھیجتے تھے کہ پروگرام میں ان کے نام بار بار لیے جانے پر وہ ہمیں یاد ہوگئے، جیسے ایم آرزو، شمع آرزو وغیرہ۔
اسی طرح ’’اسٹوڈیو نمبر نو‘‘ کون بھول سکتا ہے؟ کیا کیا ڈرامے ہوتے تھے اور اس قدر مقبول اور دل کو چھو لینے والے کہ سڑکوں پر سناٹا چھا جاتا اور لوگ ریڈیو سے کان لگائے ڈرامہ سنتے رہتے۔ ایک عجیب ہی مزہ تھا، ایک الگ ہی سماں ہوا کرتا تھا، ایک عجب ہی دنیا تھی جس سے خاندان جڑے ہوئے تھے، جب گھر میں بہار ہوتی تھی، سکون ہوتا تھا۔ آپ ریڈیو بھی سنتے رہیں کانوں سے اور ہاتھوں سے اپنے کام میں بھی مصروف رہیں۔ یہ ایک ایسا میڈیم تھا جس سے ہمارے کام میں کبھی حرج نہیں ہوتا تھا بلکہ کام کا مزا دوبالا ہوجاتا تھا، اپنی مصروفیت کے ساتھ ساتھ ہم اپنی پسند کے پروگرام سنتے رہتے تھے۔ آج یہ گزرا زمانہ جب ہم یاد کرتے ہیں تو جیسے خواب لگتا ہے۔
آاحمد رشدی کا ایک مشہورگانا جو ریڈیو پاکستان کراچی کی شناخت بن گیا تھا جس کو لوگ سنتے ہی جھوم اٹھتے۔
بندر روڈ سے کیماڑی
میری چلی رے گھوڑا گاڑی
بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر
یہ آیا ریڈیو پاکستان
ہے گویا خبروں کی دکان
تُو اس کے گْنبد کو پہچان
کہیں مسجد کا ہو نہ گمان
کہ یہاں ہوتا ہے درس قرآن
کبھی گمشدگی کا اعلان
بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر
ریڈیو سے سینماؤں میں لگی فلموں کے کمرشل پروگرام بھی بڑے دلچسپ ہوتے تھے، جس میں حسن شہید مرزا نہایت انوکھے انداز میں کسی سنیما میں لگی فلم کی کہانی سناتے مگر پروگرام کے اختتام پر کہانی کو بہت خوبصورت انداز میں ادھوری چھوڑ دیتے اور سننے والوں کے تجسس کو بڑھاتے ہوئے سامعین سے سوال کرتے مثلاً۔
’’ کیا فلم کا ہیرو اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکا؟ کیا اس نے اپنی محبوبہ کو حاصل کرلیا؟ بس اسی سوال کا جواب جاننے کے لیے آج ہی فلاں سینما میں جا کر فلم دیکھیے! ‘‘
ریڈیو پاکستان موسیقی اور تفریح کے پروگراموں میں بھی اپنی مثال آپ ہی تھا۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ صابر ظفر کا کلام غلام علی کی آواز میں اور بھی لاجواب ہوجاتا تھا اور ہم بھی گنگناتے پھرتے تھے۔
دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے
اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے
میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں
جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے
یہی ریڈیو پاکستان روحانی کیفیت کو بھی چار چاند لگا دیتا تھا جب صبح صبح درود شریف کی آواز ہرگھر سے گونجتی تھی۔ اسی طرح ناصر جہاں کا کلام ہو یا مظفر وارثی کا کلام یہ روحانی کیفیت کو بڑھا دیتے تھے۔ محرم الحرام کے ماہ میں ناصر جہاں کا کلام ایک سماں باندھ دیتا تھا۔
مزاحیہ پروگرام کا بھی ایک اپنا ہی معیار تھا۔’’ ہنسنا منع ہے‘‘ اور ’’آئینہ‘‘ جیسے پروگرام سنجیدہ سے سنجیدہ سامعین کو بھی ہنسنے پر مجبورکردیتے تھے جب کہ اطہر شاہ خان (عرف جیدی) کے مزاحیہ پروگرام اور اس میں ان کے معصومانہ جملے تو ہر چھوٹے بڑے کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کردیتے تھے۔
آج دنیا بدل چکی ہے، ایجادات کی جدت نے سب کچھ ہی بدل دیا ہے مگر ریڈیو کی جو دنیا تھی اور اس وقت جو ماحول تھا، جو اس کے بعد ہم نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ اب دیکھ سکیں، شاید یہ ہماری عمر کی جنریشن کا خاصہ تھا جو صرف ہمارے حصے میں آیا۔
Today News
غلط العام نام اورالفاظ (دوسرا اور آخری حصہ)
زراعت کار کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ اسے کاشت کے لیے کسی ایک جگہ زمین سے وابستگی ضروری ہوتی ہے ، فصل کا انتظار کرنا پڑتا ہے اوروہیں پر مستقل رہائش بھی اختیار کرنا پڑتی، بستیاں بسانا پڑتی ہیں ۔ جب کہ جانور پالوں کو اپنا اوراپنے جانوروں کا پیٹ بھرنے کے لیے کبھی یہاں کبھی وہاں کوچ اورگردش کی مجبوری ہوتی ہے۔
ایک جگہ جانوروں کی خوراک ختم ہوتی ہے یا موسم سخت ہوجاتا ہے تو دوسری جگہ خانہ بدوشی کی حالت میں رہنا پڑتا ہے اور ہندوستان یا ایشیا کے مختلف مقامات پر جو لوگ ہمیں تاریخ میں سرگرم نظر آتے ہیں، وہ سارے کے سارے خانہ بدوش ، مویشی پال یا گلہ بان اساک یا تورانی یاکشتری تھے ، آریا نہیں تھے لیکن آریا کیوں مشہور ہوئے، اس کی بھی ایک وجہ تھی ۔ ہم اپنی بات کو صرف ہندوستان تک محدود رکھیں گے کیوں کہ یہاں کے نوشتے تسلسل میں ہیں ۔
یہاں جو لوگ آئے اساک ہونے کے باوجود کیوں آریا کہلائے، وہ اپنے ساتھ ’’رگ وید‘‘ کے بجھن لائے تھے جب کہ ایراینوں کا نوشتہ اوویستا تھا ، دونوں سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ رگ وید خانہ بدوشوں کا نوشتہ ہے جس میں بارش کے دیوتا ’’اندر‘‘ کی مدح سرائیاں ہیں جب کہ اوویستا میں سب کچھ زراعت سے تعلق رکھتا ہے اور اس میں ساری مدح سرائیاں آہورمزدا (سورج) کی ہوئی ہیں لیکن جب یہ اساک خانہ بدوش اور مویشی پال لوگ ہند جیسی سرسبز اورمالامال سرزمین پہنچے تو یہیں کے ہوگئے، خوشحال اورفارغ البال ہوگئے۔یہ باتیں جب ایران، آج کے افغانستان کے آریاؤں کومعلوم ہوئیں تو وہاں سے بھی آہورمزدا کے پرستار آنا شروع ہوگئے ، میں نے پیچھے پروفیسر محمد مجیب کی کتاب کاحوالہ دیا ہے، اس میں انھوںنے لکھا ہے کہ ہند کے برھمن دراصل ایران کے مذہبی لوگ تھے ۔
واضح رہے کہ ہم جب ہند کی بات کرتے ہیں تو پرانے ہند کی بات کرتے ہیں جس میں ہمارے یہ پاکستان کاخطہ بھی شامل تھا اورہندوکش کا علاقہ بھی ، مجموعی طورپر چاردانگ عالم میں سو نے کی چڑیا کی شہرت رکھتا تھا ، اوویستائی مندرجات میں اسے ستہ سندو یا ھیتہ ھندو یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کہا گیا ہے جس میں گنگا اورجمنا کے دودریا بھی شامل تھے ، یہ ایرانی مہکی اورمہرجب ایران سے چلے تو مجموعی طورپر ’’پارسو‘‘ تھے کیوں کہ اس زمانے کے مطابق ان کا جنگی ہتھیار ’’پرسو‘‘عین کلہاڑا تھا ۔ہندی مذہبی نوشتوں میں پرسورام کابہت ذکر ہے جو وشنو کااوتار تھا، ذات کابرھمن تھا اوراس نے سارے کشتریوں کو مارڈالاتھا ، پرسو کوئی فرد نہیں بلکہ وہ آریائی گروہ تھا جو کشتریوں کے تلوار کے مقابل کلہاڑا لے کر اٹھے تھے۔
یہ لفظ پارسو، پارس، پارسا بھی بہت دوردور تک گیا ہے ،انھی کی وجہ سے ایران کا نام پارس، فارس ہوگیا اورزبان بھی پارسا گرد اورپرسی پولس نامی شہربھی ان سے موسوم ہوئے تھے جب کہ موجودہ پشاورکا نام بھی پہلے پرس پور تھا کیوں کہ ایران سے چل کر یہ پہلے اس خطے میں پہنچے تھے اوربرھمن بن گئے تھے چنانچہ لفظ پارسا ، پارسائی اب بھی مذہبی اورعبادت گزار لوگوں کو کہاجاتا ہے ۔
ان پارسو یا برھمنوں کے آنے سے پہلے یہاں کھشتریوں نے جو نظام یامعاشرہ قائم کیاتھا، وہ صرف تین ذاتوں کھشتری (حکمران) ویش (کمانے والوں) اور شودروں( غلاموں) پر مشتمل تھا۔برھمنوں کایہ چوتھا طبقہ اس میں نہیں تھا، اورہاںیہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہندوستان میں ان کی آمد یک دم اورکسی ایک وقت نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ ڈھائی ہزارسال قبل مسیح سے شروع ہوکر ایک ہزار قبل مسیح تک جاری رہی تھی ، جتھے آتے رہے اوریہاں آباد ہوتے رہے بلکہ یہ سلسلہ ابھی ایک ڈیڑھ صدی پہلے تک بھی جاری تھا ، کوچی پاوندے خانہ بدوش آتے رہے اوریہاں آباد ہوتے رہے۔
پارسو اورکھشتریوں میں پہلے تو جنگ وجدل، کش مکش اورماراماری ہوتی رہی، پھر دونوں میں وہ سمجھوتہ ہوگیا جو دنیاکے ہرخطے میں ہوتا رہا ہے ، تلوار اورقلم ، کتاب وتخت ، مندراورمحل کا تاج اورچوٹی کاسمجھوتہ اوربرھمنوں کو چوتھا گوٹ تسلیم کیاگیا ، یہ پارسو آریا ، مہگی اورمہر لوگ چونکہ مدنی تھے اور پڑھت اورلکھت کے لیے متمدن ماحول چاہیے ہوتا ہے، اس لیے پڑھے لکھے تھے جب کہ کھشتری خانہ بدوش تھے اورخانہ بدوشی میں لکھت پڑھت کا نہ موقع ملتا ہے نہ ماحول ۔ وہ صرف جنگجو اورتلوار کے دھنی تھے چنانچہ برھمنوں نے ان کو بڑے کمال سے آریا بناکر اپنی پہچان سے محروم کردیا اوروہ برھمنوں کے دیے ہوئے صفاتی ناموں اورنام کی صفات میں خوش ہوگئے اورآریا نام سے خود کو موسوم کرلیا۔
اس بات کا ثبوت کہ ہند میں آنے والے اولین لوگ اساک کشتری تھے آریا نہیں تھے، یہ بھی ہے کہ چونکہ یہ لوگ اس گندھارا نام کے خطے میں داخل ہوئے تھے، اس لیے ان نوشتوں میں یہاں کے بہت سارے نام مذکورہیں ،راجہ گندھار ، گندھاری، امب، امبی، بنوں ، بھرت ،ککی ، پشکلاوتی، سواستو، سوست ،سورگ وغیرہ ، خاص طورپر امبی کاراجہ ، اورسب سے زیادہ ’’اودیانہ‘‘ جو سوات کا پرانا نام ہے جسے لے کر برھمنوں نے ہندوستان میں اودھ اورایودھیا پرچسپاؒں کر دیا، امب آج بھی ’’امبیلہ‘‘ کے نام سے مشہور اورموجود ہے، یہی وہی ریاست تھی جس کا راجہ، راجہ پورس کے خلاف سکندرسے مل گیا تھا ، یہ پاکستان کے بعد بھی ایک عرصے تک ریاست رہی تھی ، ایوب خان کے زمانے میں جب اس کاآخری حکمران کیپٹن اسد ایک ہوائی حادثہ میں مرگیا تو ریاست بھی ختم ہوگئی۔
ٹیکسلا اوربرہان کے درمیان موٹروے پر ایک انٹرچینج ہے ’’برھمہ یا پتر‘‘ ظاہر ہے کہ یہ علاقہ بھی اسی نام سے موسوم ہوگا اور یہ بھی عام بات ہے کہ (ھ) اور(ح) آپس میں بدلتے ہیں جیسے ہور سے خورشد، اوریہ نام بھی اصل میں برھمن باختر ہوسکتے ہیں اورجن پرسو لوگوں کا اس نے ذکر کیا ہے وہ بلخ وباختر کے مہگی اورمہر تھے ، یہ اس خطے میں آنے یا رہنے بسنے کا دوسرا ثبوت ہے ۔کل ملا کر بات یہ بنی کہ آریا ایک غلط العام نام ہے اورہند میں آنے والے وہ خانہ بدوش مویشی پال قبائل آریا نہیں بلکہ آریاؤں کے دشمن تھے، آریا وہ لوگ تھے جو قدیم دور کے فارس یا پارس کے مختلف علاقوں سے سرزمین ہند میں آئے تھے۔
Today News
کراچی، شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان خونریز مقابلہ جاری، 2 اہلکار زخمی
کراچی:
شہر قائد میں ایک بار پھر سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی شاہ لطیف ٹاؤن میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر شاہ لطیف ٹاؤن کے ایک گھر پر چھاپہ مارا، جہاں مبینہ دہشتگردوں نے اہلکاروں کو دیکھتے ہی شدید فائرنگ شروع کردی۔
سی ٹی ڈی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی طلب کرلی گئی ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
حکام کے مطابق ملزمان کی فائرنگ کی زد میں آکر نشاندہی کے لیے لائے گئے تین گرفتار دہشتگرد بھی زخمی ہوگئے، جنہیں طبی امداد کے لیے منتقل کیا جارہا ہے۔
علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنی جارہی ہیں جبکہ سیکیورٹی اداروں نے قریبی گلیوں کو سیل کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام دہشتگردوں کو گرفتار یا غیر مؤثر نہیں بنا دیا جاتا۔
-
Tech2 weeks ago
New Manhattan 4K Streaming Box Brings Freely And TiVo OS To Any UK TV
-
Sports2 weeks ago
‘Not an ideal situation’: Cricketers, politicians react to Pakistan boycotting India match in T20 World Cup
-
Tech6 days ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Sports2 weeks ago
Unbeaten India defeat Pakistan to reach U-19 World Cup semis
-
Tech3 days ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
New Samsung Galaxy S26 Ultra Leak Confirms Bad Battery News
-
Magazines1 week ago
Story time: Stuck in the 1990s