Today News
حوا کی بیٹیاں اور آٹھ مارچ (آخری حصہ)
یہاں پڑھنے والی اورگھروں سے تربیت حاصل کرنے والی لڑکیاں، بہترین بیٹی، بہترین ماں اور منکوحہ کے روپ میں نظر آتی ہیں۔ اسلام نے عورت کو بے شمار حقوق سے نوازا ہے، اسے عزت و احترام عطا کیا ہے، اسے وراثت میں حصہ دیا ہے، اسے اپنی زینت چھپانے کا کہا ہے تاکہ وہ محفوظ رہے، جنگل کے بھیڑیے اس کی عصمت و حرمت کو داغ دار نہ کرسکیں۔
اس پر معاشرہ انگلی نہ اٹھائے، دور سے دیکھ کر لوگ کہیں ہاں! یہ اسلام کی بیٹی ہے، یہ اپنے گھر کی ملکہ ہے، شہزادی ہے، اس سے کوئی اونچی آواز سے بات نہیں کر سکتا۔
اس کی خوشی اور وقارکو قائم رکھنا مردوں کا فرض ہے، انھیں وہ مکمل حقوق جو اللہ نے عطا فرمائے ہیں اور اس کے نبی ﷺ نے اپنی زندگی کا نمونہ بن کر دکھایا ہے۔
14 شعبان کی رات جب آپ ﷺ جنت البقیع تشریف لے جاتے ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ میں کسی کا حق غصب کروں، چونکہ اس دن اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی باری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ کے حجرہ مبارک میں تھی۔
جنت کی سردار فاطمۃ الزہراؓ اپنی بیٹی کی ہر لمحہ خبرگیری کرتے ، عزت و محبت سے سرفراز کرتے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے:
’’مسلمان عورتوں کے لیے بہترین اسوہ حسنہ حضرت فاطمۃ الزہراؓ ہیں۔ کامل عورت بننا ہو تو آپ کو حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی زندگی پر غورکرنا چاہیے۔ ان کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کرنا چاہیے۔‘‘
دنیا کے تمام مذاہب نے عورت کو کم تر جانا، وہ کسی بھی قیمت پر مرد اور عورت کو برابری کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ ہندومت اور بدھ مت کے پیروکاروں نے عورت کو ناقص العقل اور اس کے جسم کو پاپ کا مترادف ٹھہرایا۔ اس پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہے، اس پر بہتان باندھتے رہے۔
دین اسلام نے اسے تحفظ اور عزت عطا فرمائی، اس کی تکریم اور اس کے حقوق کے لیے ایک مکمل سورۃ سورہ النساء نازل ہوئی، اس سورۃ کے ذریعے اسے جہاں بے شمار سہولتیں اور آسانیاں مہیا کی گئیں، وہاں وراثت کا حق بھی تفویض کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرما رہے ہیں وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ اتنا بڑا مرتبہ اور مرد کے ذمے اس کی حفاظت کا پیغام نازل ہو گیا، دونوں ایک دوسرے کی عزت و وقار کے ضامن ہیں۔
مرد اور عورت جب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں، ضروریات زندگی اور خوشحالی کے لیے دونوں مل جل کر کام کرتے ہیں، اپنا گھر سجاتے اور سنوارتے ہیں، تب ہی محبت کے پھول مہکتے ہیں۔ علامہ نے اسی حوالے سے کہا ہے:
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف سے اسی درج کا درِ مکنوں
قرآن پاک نے اسے سکون و راحت، رحمت و دلکشی کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اسلام نے عورت کو اعلیٰ مقام سے نوازا اور تمام وہ حقوق دیے ہیں جو اس کا بنیادی حق ہے۔ اسے اپنی پسند سے شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی مثال ہمارے سامنے ہے، انھوں نے اپنے لیے مبارک اور عظیم ترین ہستی حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں نکاح کا پیغام بھیجا اور ایک بہترین اور وفا پرست بیوی کا کردار نبھایا۔ اسلام خواتین کے لیے جہاد کی نفی نہیں کرتا ہے۔
بے شمار صحابیات نے جنگوں میں حصہ لیا، زخمیوں کی مرہم پٹی کی، انھیں پانی پلایا اور دوسرے وہ امور انجام دیے جن کی ضرورت پیش آتی ہے۔
آج کا دور فتنوں کا دور ہے، مرد و زن کا اپنے برے اعمال کی وجہ سے معاشرتی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے، اسی وجہ سے قاتل آزاد ہے، قانون سے بالاتر وہ قتل کرکے بھی چند گھنٹوں میں رہا کر دیا جاتا ہے، اس کی خاص وجہ رشوت دے کر فیصلہ اپنے حق میں لکھوا لیا جاتا ہے، ہمارے ملک کے مشہور شاعر فضا اعظمی نے عورت کی بے چارگی کی ترجمانی اس طرح کی ہے کہ آئینی سقم کی وضاحت ہو جاتی ہے۔
یہاں قانون سازی کے عمل کا حق ہے قاتل کو
یہ وہ دستور ہے جس میں سزا دیتے ہیں بسمل کو
یہاں مجرم کو بٹھاتے ہیں کرسی عدالت پر
یہاں حق سر نگوں ہوتا ہے، شہ ملتی ہے باطل کو
یہ وہ دنیا ہے جس میں فتح طاقت ور کی ہوتی ہے
یہاں انصاف کی تربت پہ مدھم شمع جلتی ہے
افسوس اس امر کا ہے کہ عورت نے بے جا آزادی حاصل کرکے اپنے لیے مسائل کے پہاڑ کھڑے کر لیے ہیں۔ وہ دن رات دفاتر اور کارخانوں میں معاش کے لیے ملازمت کرتی ہے اورگھر کے کام بھی خود ہی انجام دیتی ہے۔
اس دہری مشقت کے بعد بھی اسے سکون اور چادر اور چار دیواری کا تحفظ حاصل نہیں ہے، اسے غیر کسی صورت میں اسے سکون و آرام حاصل نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں عورت کے تحفظ کے لیے جو تنظیمیں بنائی گئی ہیں وہ بھی اس کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔
وہ ہر روز قتل ہوتی ہے کبھی شوہر اور سسرال کے ہاتھوں تو کبھی سربازار عورت کا ہر صورت میں استحصال کیا گیا ہے وہ جس گھر کے لیے اپنی زندگی کو بے سکون بناتی ہے اپنی اولاد کو بہتر سے بہتر تعلیم کے مواقع فراہم کرتی ہے وہی اولاد اسے محتاج خانوں میں چھوڑ آتی ہے۔
ان حالات میں حقوق نسواں کے تحفظ کے لیے حکومت اور عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنے کی سخت ضرورت ہے، ہوٹلوں اور کلبوں میں اس کا دن منانے اور زبانی جمع خرچ کرنے سے کچھ حاصل نہیں۔
Today News
کوہستان مالیاتی اسکینڈل کا ایک اور ملزم نجی کمپنی کا مالک گرفتار
پشاور:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں ایک اور ملزم نجی کمپنی کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا۔
نیب ذرائع کے مطابق کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم بختیار خان کوہستان اسکینڈل میں ملوث ہے اور اسے تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کا تعلق گلگت سے ہے اور وہ ایک نجی کمپنی کا مالک ہے جبکہ اس نے ایک فرضی کمپنی بھی قائم کر رکھی تھی۔ ذرائع کے مطابق ملزم کو مختلف مدات میں ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں جن کی بنیاد پر اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
نیب ذرائع نے مزید بتایا کہ ملزم نے عبوری ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا تاہم عدالت نے اس کی درخواست خارج کردی تھی جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔
Today News
قانون کی خلاف ورزی ٹریفک پولیس وارڈن کو مہنگی پڑ گئی، ویڈیو وائرل
راولپنڈی:
ٹریفک پولیس اہل کار کو ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرنا خود مہنگا پڑ گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی میں ڈیوٹی کے دوران سرکاری موٹر سائیکل بغیر ہیلمٹ چلانے پر سی ٹی او راولپنڈی فرحان اسلم نے نوٹس لے لیا۔
وارڈن کی بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلا کر تعاقب کرنے اور رکشہ روکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی ۔
بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے اور لوڈر رکشے کا تعاقب کرتے ہوئے وارڈن کو 2 ہزار روپے کا چالان ٹکٹ جاری کردیا گیا ۔ سیکٹر انچارج انسپکٹر وقار نے یہ چالان ٹکٹ وارڈن ریاض کو جاری کیاگیا ۔
سی ٹی او راولپنڈی فرحان اسلم نے کہا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی سرکاری یا پرائیویٹ افراد پر یکساں لاگو ہوتی ہے ۔ سٹی ٹریفک پولیس کے وارڈنز اور دیگر سرکاری ملازمین ٹریفک قوانین کی پابندی یقینی بنائیں ۔
Today News
پاک افغان اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال: وزیراعظم کی زیرصدارت اہم اجلاس
اسلام آباد:
وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اہم اجلاس جاری ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جاری اہم اجلاس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف پارلیمانی رہنماؤں کو پاک افغان صورتحال اور خطے بالخصوص مشرق وسطی و خلیج میں حالیہ کشیدگی کے حوالے سے اعتماد میں لیں گے۔
اجلاس میں پارلیمانی رہنماؤں کو تفصیلی بریفنگ بھی دی جائے گی جب کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔
اجلاس میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل شریک ہیں۔
علاوہ ازیں اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عبدالعلیم خان (استحکام پاکستان پارٹی)، خالد حسین مگسی (بلوچستان عوامی پارٹی)، خالد مقبول صدیقی (متحدہ قومی موومنٹ)، چوہدری سالک حسین (پی ایم ایل ق)، سید مصطفی کمال (متحدہ قومی موومنٹ) بھی موجود ہیں۔
ان کے علاوہ رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ خان، معاون خصوصی طلحہ برکی، سینیٹرز شیری رحمن (پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، انوار الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ (بلوچستان عوامی پارٹی)، پرویز رشید (پاکستان مسلم لیگ ن)، حافظ عبدالکریم، فیصل سبزواری (متحدہ قومی موومنٹ)، جان محمد (نیشنل پارٹی)، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر(پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، ڈاکٹر فاروق ستار (متحدہ قومی موومنٹ)، امین الحق (متحدہ قومی موومنٹ)، پولین بلوچ (نیشنل پارٹی) شریک ہیں۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Entertainment2 weeks ago
Samiya Hijab Responds to Haters Over Umrah Criticism