Connect with us

Today News

حوا کی بیٹیاں اور آٹھ مارچ ( حصہ اول )

Published

on


عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسلامی و غیر اسلامی قوانین موجود ہیں، باقاعدہ طور پر عورت کی مکمل آزادی یا مادر پدر آزادی کی راہیں ہموار تو کی گئی ہیں لیکن ذرا کم کم، غلاف چڑھا کر، چوری چھپے قانون بنانے والے اور اس کے محافظ اسے مکمل اور ہر طریقے سے بے حیائی اور عریانی کی راہ پر لگا کر مطمئن ہیں۔ 

اسے بینرز پر سجا کر، اشتہارات میں پیش کرکے اور نائٹ کلب میں نچا کر خوش ہوتے ہیں اور آزادی اور وہ بھی مغربی آزادی کے علم بردار بن کر ایک جیتا جاگتا نمونہ پیش کرتے ہیں۔

آج جو عورت کی ذلت و رسوائی اور اس کے حقوق کی روگردانی کی گئی ہے اور اسے سونے کا تاج اور اطلس کا جوڑا پہنا کر ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے جہاں سے نکلنا اب اس کے لیے ممکن نہیں ہے، وہ بڑھتی ہوئی آزادی کی اسیر ہو چکی ہے۔

وہ پرتعیش دنیا اور تعیشات زندگی کی ہی طالب ہے، اگر صاحب ثروت ہے تو صبح و شام اس کے ہوٹل اور کلبوں میں ناچتے گاتے یا پھر ایسے پروگراموں کا حصہ بن کر ہی گزرتے ہیں، وہ نائٹ کلب سے سگریٹ پیتی، دھواں اڑاتی اپنے بوائے فرینڈ کی سنگت میں اپنے عالی شان گھر کے گیٹ پر اترتی ہے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔

اس کی یہ حالت دیکھ کر والدین کو دکھ تو ضرور ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا، ہاں آزادی ضرور دی تھی۔ اب سوائے صبر کے کچھ ہو نہیں سکتا۔

پھر بہت جلد اس آزادی کا انجام سامنے آ جاتا ہے، جب تازہ پھولوں کے طالبوں کی تعداد زیادہ بڑھ جاتی ہے، تب وہ راستہ بدل لیتی ہے، ایک انار سو بیمار۔

ان حالات میں رقیب رو سیاہوں کے ہاتھوں میں تلواریں، چاقو، پستول اور خنجر آ جاتے ہیں پھر انجام وہی جو ہمیشہ سے ہوتا ہے، قتل و غارت، کمرے میں تو کبھی کسی ویرانے میں لے جا کر اس سے اپنی محبت کی توہین کا بدلہ لے لیا جاتا ہے، یہ ہے آزادی کی قیمت۔

دوسری طرف وہ خواتین بھی ہیں جو متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کے پاس وہ زندگی نہیں ہے جو ڈراموں میں، فلموں اور اسٹیج پر دکھائی جاتی ہے لیکن نادان اور بھولی لڑکیاں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنے کی تمنا کرتی ہیں، والدین، بھائیوں کے منع کرنے کے باوجود وہ گھروں سے ملازمت کے لیے نکلتی ہیں چونکہ ان کا مسئلہ گھر کی غربت مٹانا اور آسودہ حال زندگی کا حاصل ہے۔

ان کا تعلق ایسے گھرانوں سے ہے جہاں تعلیم اور شعور کی کمی ہے لہٰذا وہ بھی اپنی بیٹیوں کی سوچ اور ان کے خیالات کو سمجھ نہیں پاتے ہیں لہٰذا پہلے ملازمت کی اور پھر ڈراموں کی ہیروئن بننے کی آزادی انھیں گھر سے مل جاتی ہے یا وہ پھر زبردستی ہی حاصل کر لیتی ہیں جو کہ ان کے مستقبل اور والدین و بہن بھائیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

اکثر ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے دولت پیسے کی چمک اس کے محافظوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے، ان مواقعوں پر این جی اوز اور عورت کے تحفظ کی بات کرنے والے کچھ کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں نہ وہ گھروں میں جا کر بھولا ہوا سبق یاد دلاتے ہیں اور نہ ہی اسلام کے زریں اصولوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ 

ہاں اتنا ضرور کرتے ہیں قتل یا زیادتی کا شکار ہونے والی اور گھروں سے فرار ہونے والی لڑکی کا ساتھ دیتے ہیں، مقدمات کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کرتے ، روڈوں، سڑکوں اور پریس کلب آ کر نعرے بازی یا ریلی نکالتے ہیں، اب ایک طریقہ سالہا سال سے اور نکل آیا ہے، وہ ہے عورت مارچ۔

ہر سال 8 مارچ پوری دنیا میں عورت کے حقوق کے تحفظ کے لیے باقاعدہ دن منایا جاتا ہے، تقاریر اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے، میری مرضی کے حوالے سے خواتین عجیب و غریب باتیں کرتی ہیں اور خوب چیخ پکار کرتی ہیں، مرد کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں، اسے گھر کا سربراہ ماننے سے انکار کرتی ہیں گویا اسلامی اور معاشرتی و سماجی رسم و رواج سے بالکل منکر نظر آتی ہیں، ان کے ساتھ انھی جیسے مرد بھی ان کے ہم خیال ہوتے ہیں۔

ان میں سے اکثریت آزادی کی چاہت یا عذاب الٰہی کو آواز دینے کے لیے قوم لوط کی طرز زندگی پر چلنے کے خواہاں اور اس کا پرچار کرنا چاہتے ہیں، کچھ لوگ ان غیر فطری، غیر اخلاقی اور غیر انسانی طریقوں کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

ایسے لوگوں کے لیے قوانین کے مطابق کارروائی تو کی جاتی ہے لیکن بہت جلد یعنی دو چار گھنٹوں میں آزادی کا پروانہ دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ گویا انسان ہونا اور انسانیت کے عظیم مقصد کی نفی کرنا ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔

ان حالات میں ہر باشعور شخص یہ کہنے کا حق دار ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں بالکل فرق نہیں ہے۔ اگر فرق ہے بھی یا پھر موازنہ کیا جائے تو جانور زیادہ بہتر، بااصول اور باحیا نظر آتے ہیں، کسی کا حصہ نہیں کھاتے، کسی کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ہیں اپنی فیملی، اپنا خاندان اور عزت کے پہرے دار، باحیا اور غیور ہیں۔

اس کی مثال جنگل کا شیر ہے۔ حالات بد سے بدتر ہیں لیکن اس کے ساتھ ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس دور آزادی اور وہ بھی بے جا آزادی کے دور میں بے شمار مدارس، مکاتب اور اسکولوں میں جہاں دینی تعلیم، قرآنی علوم سے آشنا کیا جاتا ہے اور عورت کے تقدس اور عزت، شرم و حیا کے سبق کا اعادہ کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے ۔)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

افغانستان میں یکے بعد دیگرے فضائی حملے، ننگرہار اور پکتیکا میں شدت پسندوں کے ٹھکانے تباہ

Published

on



کابل:

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبوں ننگرہار اور پکتیکا میں دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں اہم انفرااسٹرکچر تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گرد ٹھکانوں پر حملہ کیا، جہاں زوردار دھماکے کی آوازیں سنی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ پکتیکا کے بعد صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں ممکنہ جانی نقصان کی معلومات سامنے نہیں آ سکی، تاہم مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کا ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ملکی معیشت اور اس کے مسائل

Published

on


پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مختلف نوعیت کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ اگر گزرے دو تین برس کا جائزہ لیا جائے تو ملکی معیشت میں قدرے استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔

معیشت کے دیوالیہ ہونے کی خبریں بند ہو چکی ہیں جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔ شرح سود میں بھی خاصی کمی واقع ہو چکی ہے۔

پاکستان پر عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ اگلے روز کی ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025میں پاکستان کی مالی کارکردگی مضبوط رہی اور جی ڈی پی کا 1.3فیصد بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا گیا ہے، یہ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے۔

یہ انکشاف آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ میں کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد 25فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا، آئی ایم ایف کا یہ وفد اپنے دورے کے دوران توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جب کہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر بات چیت کرے گا۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسیوں سے معیشت کو استحکام ملا، اصلاحات سے معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا۔آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں سادگی اور شفافیت بڑھانے کی سفارشات کی ہیں، سرکاری خریداری کی نظام میں شفافیت پرزوردیا ہے۔

پاکستان کے ٹیکس نظام میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہے۔قوانین میں موجود پیچیدگیوں اور ابہام کا خاتمہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس وقت ٹیکس کا نظام بہت زیادہ پیچیدہ ہے۔

خصوصاً کم آمدنی والا ایسا طبقہ جو انکم ٹیکس کی سلیب کے تحت ٹیکس نیٹ میں آ جاتا ہے، اسے اپنا گوشوارہ جمع کروانے کے لیے وکیل کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ یہ گوشوارہ خود سے تیار نہیں کر سکتا۔

اگر یہ سادہ ہو تو تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا دکاندار وکیل کی فیس دینے سے بچ سکتا ہے اور وہ خود ہی اپنا گوشوارہ تیار کر کے ایف بی آر کو بھجوا سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں مہنگائی کی شرح قابو میں رہی جب کہ مالی سال 2025میں ملک نے 14سال بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بھی ریکارڈ کیا۔

آئی ایم ایف پروگرام سے عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ حال ہی میں شائع کی گئی، رپورٹ میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں، ٹیکس پالیسی کو سادہ بنانا اہم ترین ٹیکس اصلاحات ہے۔

جیولی کوزیک کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں گورننس اور کرپشن سے متعلق رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں۔ ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور سرکاری خریداری میں شفافیت بھی شامل ہے۔

 آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک کی باتیں حوصلہ افزا ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستانی حکومت کی معاشی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہے، البتہ آئی ایم ایف نے کئی معاملات میں اپنی سفارشات پیش کی ہیں جو کہ قابل غور ہونی چاہئیں۔

ادھر جمعہ کو سرکاری سروے رپورٹ سامنے آئی ہے۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ یہ سروے رپورٹ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے جاری کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدن اور اخراجات میں بڑی تنزلی دیکھی گئی ہے، پاکستان میں سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے۔

سال2018-19ء سے 2024-25کے عرصہ کے دوران غربت میں32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2014  کے بعد یہ بلندترین شرح ہے جب غربت کی شرح 29.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ دولت کی عدم مساوات 32.7 تک پہنچ چکی ہے۔

اس سے قبل دولت کی عدم مساوات کی سب سے بلند شرح 1998 میں ریکارڈ کی گئی تھی جو31.1 فیصد تھی۔ پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروگاری کی بلندترین شرح کا سامنا ہے جو 7.1 ہوچکی ہے۔

وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والے سبسڈیز کو واپس لینا پڑا ،جب کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرمیں بھی گراوٹ آئی ۔

اس کے علاوہ کورونا سمیت دیگر قدرتی آفات اوراقتصادی شرح نمو میں کمی بھی غربت بڑھنے کی وجوہات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ غربت میں کمی کے رجحان کا پہیہ الٹا گھوما ہے اور اس کے برے اثرات حکومت کی پالیسیوں اور لوگوں کی سماجی ومعاشی زندگیوں پربھی نظر آئے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر  36.2فیصد،شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر17.4فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

صوبائی سطح پر پنجاب میں گزشتہ سات برسوں کے دوران غربت کی شرح 41 فیصد اضافے کے ساتھ 16.5سے بڑھ کر 23.3فیصد ،سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد،خیبرپختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جب کہ بلوچستان میں 42 فیصد سے 12.4 فیصد اضافے کے ساتھ 47 فیصد ہوچکی ہے۔

لوگوں کی حقیقی ماہانہ آمدنی جو 2019ء میں 35,454 روپے تھی گزشتہ مالی سال تک 12 فیصد کمی کے ساتھ گر کر31,127 روپے رہ گئی ہے۔

لوگوں کے ماہانہ اخراجات 31,711 روپے سے گرکر 29,980 روپے ہوگئے ہیں۔اسی طرح پنجاب میں دولت کی عدم مساوات 28.4 فیصد سے بڑھ کر32 فیصد ،سندھ میں 29.7  فیصد سے بڑھ کر 35.9 فیصد،خیبرپختونخوا میں 24.8 فیصد سے بڑھ کر 29.4 فیصد جب کہ بلوچستان میں21 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد ہوچکی ہے۔

لیبرمارکیٹ کا بھی برا حال ہے،بڑے پیمانے کی صنعتوںکی پیداوار کورونا وبا کی پہلے کی سطح پر رکی ہوئی ہے جہاں سے اب روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہورہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر لوگوں کی آمدنی میں کوئی اضافہ بھی ہوا ہے تو مہنگائی نے اسے ختم کردیا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملکی معیشت میں حالیہ بہتری کا بھی لوگوں کی عام زندگیوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا کیونکہ مہنگائی کی بلند شرح،توانائی کی بڑھتی قیمتوں،روپے کی شرح مبادلہ گرنے ،بھاری ٹیکسوں خاص طور پربراہ راست لگنے والے ٹیکسوں نے لوگوں کی زندگیوں پر بڑے اثرات مرتب کیے ہیں۔

اس سے لوگوں کے لیے اپنے ضروری اخراجات پورے کرنے مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔احسن اقبال نے غربت بڑھنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ پہلی بارتو2018 میں اقتصادی ترقی کا سفر متاثر ہوا اس کے بعد 2022 میں ملکی معیشت کریش کرگئی ۔

ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غربت ختم نہیں ہوسکتی ،اس کے لیے ہمیں معاشی گروتھ اور دولت کی پیدا واریت کی طرف جانا ہوگا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بیروزگاری اور کم پیداواریت سے غربت بڑھی ہے،صرف 90 لاکھ پاکستانی جو بیرون ملک مقیم ہیں 40 ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ بھیج رہے ہیں باقی24 کروڑ کی آبادی 40 ارب ڈالر کے برابر ایکسپورٹ کے بھی قابل نہیں۔

جب ان سے ملکی معیشت کی بدحالی میں وفاقی حکومت کے کردارکے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ہمیں پہلے تین سال تو پی ٹی آئی کی تباہی کے اثرات دور کرنے میں ہی لگے ہیں۔

انھیں امید ہے کہ اب اگلے مرحلے پر ہم اقتصادی شرح نمو بڑھانے اور غربت کی شرح میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

انھوں نے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام سے قبل ازوقت نکلنے کی باتوں کو مسترد کردیا اور کہا کو حکومت زراعت او رآئی ٹی سیکٹرز کو فروغ دے کرمشکلات سے نکل سکتی ہے۔

حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اصلاحات نے غربت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے لیکن اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہمیں پائیدارروزگارکی ترقی ،حقیقی آمدنی کو بحال کرنے سماجی تحفظ کی طرف جانا ہوگا۔

پاکستان میں گراس روٹ لیول پر جو معاشی مسائل نظر آ رہے ہیں، ان کی وجوہات میں ایک وجہ غیرپیداواری اخراجات میں اضافہ ہونا بھی شامل ہے۔

دوسری طرف خیبرپختونخوا خصوصاً سابقہ فاٹا کا ایریا، بلوچستان، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب سے وفاقی ٹیکسوں کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں وفاقی اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ غربت کی شرح میں کمی کے لیے صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بنگلہ دیش کی نئی حکومت خطرات کی زد میں

Published

on


پاکستان نے کبھی بنگلہ دیش کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی البتہ بھارت بنگلہ دیش کے معاملات میں مسلسل مداخلت کرتا رہا ہے چنانچہ شیخ مجیب الرحمن حکومت سے لے کر حسینہ واجد کی حکومت تک بنگلہ دیش میں جتنی بھی حکومتیں برسر اقتدار آئیں تمام ہی بھارت کے زیر اثر رہیں۔ البتہ خالدہ ضیا کی حکومت نے ضرور بھارت سے کچھ فاصلہ رکھا تھا، انھوں نے پاکستان سے بھی تعلقات قائم رکھے تھے۔

بھارت کی پہلی پسند عوامی لیگ ہی رہی ہے اور بھارت کی سرپرستی میں ہی حسینہ نے دوسری بار حکومت حاصل کرکے مسلسل 15 سال حکومت کی تھی۔

2009 سے 15 اگست 2024 تک یعنی مسلسل پورے 15 سال تک حکومت کرتی رہی۔ حالانکہ خالدہ ضیا کی بنگلہ دیشی نیشنلسٹ پارٹی کو ہر دفعہ عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی مگر اس کی جیت کو ہر دفعہ شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔

شاید اسی وجہ سے حسینہ کا طرز عمل بھی عوام کے ساتھ ہمدردانہ نہیں تھا، وہ دراصل بھارت کی پشت پناہی کی وجہ سے ایک سخت گیر ڈکٹیٹر بن گئی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کو پس پشت ڈال کر صرف بھارت کے مفادات کے لیے کام کر رہی تھی۔ اس نے بھارت کو ہر وہ رعایت دی جو عوام کو ہرگز قبول نہیں تھی۔

ملک کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں تھا جس میں بھارتی مفادات کو مقدم نہ رکھا گیا ہو۔ حتیٰ کہ بھارت کو اپنی شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی کے لیے اندرون ملک سے رسائی دے دی گئی ان ریاستوں میں امن قائم رکھنے میں بھی حسینہ نے بھارت کی مدد کی۔

حسینہ کی حکومت کا زوال دراصل وہاں سرکاری ملازمتوں میں مستحق نوجوانوں کے بجائے مکتی باہنی کی اولادوں کو ترجیح دینے سے شروع ہوا۔ عام لوگ سرکاری نوکریوں کے لیے مارے مارے پھر رہے تھے مگر حسینہ کی حکومت کو ان کی کوئی فکر نہیں تھی۔

بالآخر بے روزگار نوجوانوں نے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج عوامی تحریک میں تبدیل ہو گیا کیونکہ عوام پہلے ہی حسینہ کی حکومت سے بے زار ہو چکے تھے چنانچہ آگے چل کر یہ احتجاج انقلاب کی شکل اختیار کر گیا اور حسینہ حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔

وہ اقتدار کو اپنے باپ کی میراث سمجھتی تھی، چنانچہ اس احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے پولیس اور فوج کو احتجاجی عوام پر گولی چلانے کا حکم دے دیا جس سے سیکڑوں نوجوانوں کو ہلاک کر دیا گیا مگر اس ظلم سے احتجاجی تحریک میں مزید اضافہ ہو گیا اور حالات اتنے خراب ہوئے کہ حسینہ کو ڈھاکہ چھوڑ کر بھاگنا پڑا اور دلّی میں پناہ لینا پڑی۔

ادھر حسینہ کے ملک کو چھوڑنے کے بعد ایک عبوری حکومت قائم ہو گئی جس کے سربراہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس مقرر ہوئے۔ انھوں نے عوامی مطالبے پر 12 فروری 2026 کو نئے انتخابات منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔

خوش قسمتی سے اب بنگلہ دیش میں عام انتخابات ساتھ خیریت کے مکمل ہو چکے ہیں۔ گوکہ ان انتخابات کو روکنے کے لیے حسینہ کی سرپرست مودی حکومت نے لاکھ روڑے اٹکائے مگر بنگلہ دیشی عوام نے ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر بھارتی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ 

ان انتخابات میں حسینہ دور میں مشکلات کا شکار رہی، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بھاری اکثریت سے جیت حاصل کر لی ہے۔ جماعت اسلامی کی بھی بہترین کارکردگی رہی ہے اور اس نے 77 سیٹیں حاصل کرکے بنگلہ دیش کی دوسری بڑی پارٹی کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔

حسینہ کے دور میں ان دونوں پارٹیوں پر وہ ظلم کیا گیا کہ جیسا ظلم تو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ جماعت اسلامی کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو 1971 کے سانحے کے وقت پاکستان کی حمایت میں بنگالیوں کے قتل کا مرتکب ہونے کے جھوٹے الزامات پر پھانسی دے دی گئی، مقصد صرف یہ تھا اس پارٹی کو ختم کر دیا جائے،کیونکہ بھارت کی یہی فرمائش تھی۔

ادھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا کو جھوٹے الزامات میں جیل میں رکھا گیا اور وہ جیل میں ہی سخت بیمار ہوگئی تھیں اور بعد میں انتقال کر گئیں۔

ان کے بیٹے طارق رحمان کو بھی جھوٹے الزامات لگا کر جیل میں رکھا گیا تھا، بعد میں جب ان کی رہائی ہوئی تو وہ لندن چلے گئے اور وہاں سے ہی پارٹی کے معاملات کو چلاتے رہے۔

وہ 17 سال حسینہ کے ظلم کی وجہ سے باہر رہے اور اپنی والدہ خالدہ ضیا کی وفات سے چند دن قبل ہی وطن واپس لوٹے تھے کہ ایسے میں انتخابات کی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔

طارق رحمان نے اپنی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی انتخابی مہم کو عروج پر پہنچا کر اپنی مرحومہ والدہ کی کمی کو پورا کر دیا تھا اور انتخابات میں اکثریت حاصل کر کے اب خود کو وزیر اعظم بننے کا اہل ثابت کر دیا ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی نے عوام میں اپنی مقبولیت کا لوہا منوا لیا ہے۔ ان انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 60 فی صد سے زائد رہا۔

ان علاقوں کو جنھیں عوامی لیگ کا ووٹنگ حب کہا جاتا تھا وہاں سے بھی ان دونوں پارٹیوں نے بھرپور ووٹ حاصل کیے ہیں جس سے لگتا ہے اب مجیب کے خاندان کا بنگلہ دیش سے دیس نکالا ہوگیا ہے پھر عوامی لیگ کے رہنماؤں اورکارکنان کے بھارت بھاگ جانے سے بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کا صفایا ہوگیا ہے۔

عبوری حکومت کا قائم کردہ جوڈیشل ٹریبونل حسینہ کو عوامی احتجاج کے دنوں میں سیکڑوں شہریوں کو قتل کرنے کے جرم میں موت کی سزا دے چکا ہے۔

عبوری حکومت نے اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے دوران اسے اپنا دفاع کرنے کے لیے وطن واپس آنے کی دعوت دی تھی مگر وہ نہیں آئی۔ عدالتی فیصلے کے بعد عبوری حکومت نے مودی سے اسے بنگلہ دیش بھیجنے کو کہا مگر مودی نے کوئی جواب نہیں دیا، شاید اس لیے کہ اسے پتا ہے کہ حسینہ واقعی قاتل ہے۔

بنگلہ دیشی عوام نے اب حسینہ کو اس کے ظالمانہ رویے اور بھارت نوازی کی وجہ سے بھلا دیا ہے۔ بہرحال اب بنگلہ دیش کی حکومت چلانے کی ساری ذمے داریاں طارق رحمان کے کندھوں پر آ گئی ہے، لگتا ہے وہ اپنے والد ضیا الرحمن اور والدہ خالدہ ضیا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ضرور کامیاب رہیں گے اور بنگلہ دیش کے پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

البتہ اب بھارت کے لیے بہت پریشانیاں بڑھ گئی ہیں کیونکہ اس کی شمال مشرقی سیون سسٹرز کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے، وہاں آزادی کی تحاریک پہلے سے چل رہی ہیں اور اب چونکہ بھارت کو حسینہ کی مدد حاصل نہیں ہے جس کے سہارے وہ وہاں کی بغاوتوں کو ناکام بناتا رہا ہے، اب اسے ان ریاستوں کو ان کے حال پر چھوڑنا ہوگا۔

تاہم اس کے اروناچل پردیش کے عوام ضرور چین کا حصہ بن کر رہیں گے جنھیں بھارت نے زبردستی اپنا حصہ بنایا ہوا ہے لہٰذا مودی بنگلہ دیش کی نئی عوامی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending