Today News
حکمت اور دانائی – ایکسپریس اردو
بلاشبہ حکمت اور دانائی کسی انسان سے نہیں قرآن سے ملتی ہے۔ خالق نے کتابِ حق کو سراسر ہدایت اور حکمت قرار دیا ہے۔ میرے سامنے سورہ آلِ عمران کی آیات ہیں جس میں فرمایا گیا ہے ’’درحقیقت اہلِ ایمان پر اﷲ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا ہے جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت ودانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے‘‘۔
دورِ حاضر کی سامراجی طاقتوں کے سامنے جس طرح ایران کے راہبر سیّد علی خامینائی اور ان کے ساتھی سینہ تان کر کھڑے رہے اور دنیا کی سپر پاور کے مہلک ترین بموں اور میزائلوں کے خوف سے ان کے پائے استقامت میں ذرا سی بھی لرزش پیدا نہ ہوئی۔
لگتا ہے سورہ آل عمران کی آیات خالق نے اپنے ایسے ہی جانثار مجاہدوں کے بارے میں اتاری ہیں۔ فرمایا ’’اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، ان سے ڈرو، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اﷲ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔‘‘
پھر آگے چل کر فرمایا، ’’(اے پیغمبر) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کر رہے ہیں، ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اﷲ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔۔۔۔ جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں، وہ یقیناً اﷲ کا کوئی نقصان نہیں کررہے، ان کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے۔
یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیئے جاتے ہیں، اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بارِ گناہ سمیٹ لیں، پھر ان کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے۔‘‘
کتابِ حکمت نے دنیا کی دلکش زندگی کو متاعُ الغرور (ظاہر فریب چیز) قرار دیا ہے۔ فرمایا ’’اے محمدؐ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے بھی جھٹلائے جاچکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے۔
آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کردیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔‘‘
مفسّرین ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس دنیا کی زندگی میں جو نتائج رونما ہوتے ہیں، انھی کو اگر کوئی شخص اصلی اور آخری نتائج سمجھ بیٹھے اور انھی پر حق اور باطل اور نفع اور نقصان کے فیصلے کا مدار رکھے تو وہ سخت دھوکے میں مبتلا ہوجائے گا۔
دنیا میں کسی کو دولت، عزت اور شہرت کی صورت میں نعمتیں ملنا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہی حق پر بھی ہے اور اسی کو خالقِ کائنات کا قرب حاصل ہے اور ربِّ کائنات اس سے راضی ہے۔
اسی طرح یہاں کسی کا مصائب و مشکلات میں مبتلا ہونا بھی لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ باطل پر ہے اور خالق ومالکِ کائنات اسے ناپسند کرتے ہیں یا اس سے ناراض ہیں۔ کسی کے دنیاوی حالات سے نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
اصل نتائج وہی ہوں گے جو حیاتِ ابدی کے مرحلے میں پیش آنے والے ہیں’’ کتابِ حکمت کے مصنّف نے انسانوں کو بار بار کہا ہے کہ تمہیں عقل اور شعور اسی لیے دیا گیا ہے کہ اسے استعمال کرو اور اپنے آس پاس پھیلی ہوئی خالقِ کائنات کی حیرت انگیز تخلیقات پر غور کرو تاکہ تم اﷲ کو پہچان سکو۔‘‘
اسی سورہ میں فرمایا گیا ہے ’’ زمین اور آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بارے میں آنے میں ان ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان وزمین کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں۔
انہیں دیکھ کر وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں ’’پروردگار! یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا‘‘ یعنی جب وہ نطامِ کائنات کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت ان پر عیاں ہوجاتی ہے کہ یہ سراسر ایک حکیمانہ نظام ہے اور یہ بات سراسر حکمت کے خلاف ہے کہ جس مخلوق میں اﷲ نے اخلاقی حِس پیدا کی ہو، جسے تصوّف کے اختیارات دیئے ہوں، جسے عقل وتمیز عطا کی ہو، اس سے اس کی دنیاوی زندگی کے اعمال اور افعال کا حساب نہ لیا جائے اور بازپرس نہ کی جائے۔
عدل اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر انسان کو اس کے اچھے کام کی جزا اور برے کام کی سزا ضرور ملے۔ دنیا میں تو ایسا ممکن نہیں ہے، نہ ہی یہاں مکمّل انصاف کرنا کسی بڑے سے بڑے شہنشاہ کے بس میں ہے۔
فرض کریں کہ دنیا میں ایک شخص نے سو آدمیوں کو ہلاک کردیا ہے اور ایک دوسرے شخص نے جان پر کھیل کر کسی ٹرین کو حادثے سے بچالیا ہے اور سیکڑوں انسانوں کی جانیں بچالی ہیں، کیا دنیا میں ان دونوں کو عدل کے مطابق سزا اور جزا دی جاسکتی ہے۔
نہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا پوری انسانیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے اور ربِّ کائنات کی شانِ عدل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کوئی ایسی عدالت لگے، کوئی ایسا دن آئے کہ جب ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے اور ہر متقی اور پاکیزہ کردار انسان کو اس کی نیکیوں کے مطابق جزا ملے۔
اسی تقاضے کا جواب ہے روزِ محشر یا روزِ حساب۔ جب ربِّ ذوالجلال کی عدالت لگے گی اور اب تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے حاضر کیا جائے گا اور ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا دے دی جائے گی اور سزا بھی ایسی ہوگی جس کے احوال سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
تاریخ میں جھوٹے نبی اور خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی گزرے ہیں مگر کبھی کوئی بڑے سے بڑا متکّبر شہنشاہ اور خدائی کا دعویٰ کرنے والا طاقتور حکمران بھی یہ دعویٰ کرنے کی جرات نہیں کرسکا کہ ’’میں تمام مردہ انسانوں کو ایک روز زندہ کروں گا، ان سب کا حساب ہوگا اور انہیں ان کے اعمال کے مطابق سزا اور جزا دی جائے گی‘‘۔ یہ دعویٰ صرف سچّے خدا نے ہی کیا ہے، اور یہ دعویٰ بھی اس کے سچّا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔
پھر اللہ کی نشانیوں پر غور وفکر کرنے والوں کے بارے میں فرمایا گیا ’’وہ بول اٹھتے ہیں کہ کوئی بے مقصد کام کرے۔ پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، تو نے جسے دوزخ میں ڈال دیا، اسے درحقیقت بڑی ذلّت اور رسوائی میں ڈال دیا۔
پس اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں، ان سے درگذر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں، انہیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ یاالہٰی جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کیے ہیں، ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال۔
بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ جواب میں ان کے رب نے فرمایا ’’میں تم میں سے کسی کا عمل ضایع کرنے والا نہیں ہوں، خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو‘‘۔
آگے چل کر فرمایا ’’اے نبیؐ دنیا کے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے، یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا سا لطف ہے۔ پھر یہ سب جہنّم میں ڈالے جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے‘‘۔
اِس وقت مختلف بلاکوں میں بٹے ہوئے اور مسلمانوں کے مشترکہ دشمن کے ہاتھوں استعمال ہونے والے مسلم حکمرانوں کو راہِ راست پر لانے اور اتفاق اور اتحاد قائم کرنے کے لیے ان آیاتِ الہٰی سے بڑھ کر اور کیا چیز relevant ہوسکتی ہے۔ خالقِ کائنات سورہ آلِ عمران میں ہی فرماتے ہیں،
’’اور سب مل کر اللہ کی (ہدایت کی) رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنا اور فرقے فرقے نہ ہوجانا اور اپنے اوپر اللہ کی اس مہربانی کو یاد رکھنا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو اس نے تم کو بچالیا، اس طرح اللہ نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم راہِ راست پر رہو‘‘۔
شاعرِ مشرق یاد آتے ہیں جو آخر دم تک مسلمانوں کو یہی تلقین کرتے رہے کہ
بتانِ رنگ وبو کو توڑ کر ملّت میں گم ہوجا
نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
اور
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
اگلی نشست میں حکمت اور دانائی کی کچھ مزید باتیں شیئر کی جائیں گی۔
Today News
فلسفی سے فیلڈ کمانڈر تک، شہید علی لاریجانی، ایران ایک بڑے دماغ سے محروم ہو گیا
ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی کی شہادت نے نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری 67 سالہ علی لاریجانی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، اسی حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہوئے۔
علی لاریجانی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کا ڈی فیکٹو لیڈر سمجھا جا رہا تھا۔
وہ نہ صرف ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری تھے بلکہ جنگی حالات میں سیاسی و عسکری حکمت عملی کے مرکزی کردار بھی بن چکے تھے۔
3 جون 1958 کو عراق کے شہر نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایک ممتاز عالم دین تھے جبکہ ان کے بھائی بھی ایران کے اعلیٰ اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔
شہید علی لاریجانی نے نہ صرف سیاست بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے امانوئل کانٹ جیسے مغربی فلسفی پر تحقیق کی اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
اپنے کیریئر کے آغاز میں انہوں نے پاسداران انقلاب میں خدمات انجام دیں، بعد ازاں وہ وزیر ثقافت، سرکاری ٹی وی کے سربراہ اور پھر طویل عرصے تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے۔
2015 کے جوہری معاہدے کی منظوری میں بھی ان کا کلیدی کردار تھا جس سے وہ ایک معتدل اور عملی سیاستدان کے طور پر جانے جاتے تھے۔
تاہم حالیہ جنگی حالات نے ان کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے خلاف ان کے بیانات انتہائی سخت ہو گئے تھے، اور وہ کھل کر مزاحمت کی قیادت کرتے نظر آئے۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور امریکی افواج کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹس کے مطابق لاریجانی تہران میں ایک خفیہ مقام پر موجود تھے جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے انہیں نشانہ بنایا۔ ان کی شہادت ایران کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک نقصان سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ وہ سیاسی قیادت، عسکری حکمت عملی اور سفارتی رابطوں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہے تھے۔
Today News
جنگ سے کب کسی کا فائدہ ہوا ہے؟
انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے اور وہ ہے جنگ۔ تہذیبوں کے آغاز سے لے کر آج کے جدید دور تک انسان نے ترقی بھی کی اور تباہی کے طریقے بھی ایجاد کیے۔
بظاہر جنگیں مختلف وجوہ کی بنا پر لڑی جاتی ہیں،کبھی سرحدی تنازعات،کبھی نظریاتی اختلافات کبھی مذہب اورکبھی قومی مفادات کے نام پر۔ مگر جب ان جنگوں کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جنگ واقعی کیوں کرائی جاتی ہے اور آخر اس سے فائدہ کس کو ہوتا ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگ عموماً عوام کی خواہش نہیں ہوتی۔ عام انسان امن، روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی چاہتا ہے۔ جنگ کا فیصلہ زیادہ تر ریاستی قیادت طاقتور حلقوں یا عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحت ہوتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جنگوں کے پسِ پردہ اکثر معاشی سیاسی اور جغرافیائی مفادات ہوتے ہیں جنہیں عوام کے سامنے کسی اور شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
جنگ کی ایک بڑی وجہ وسائل پر قبضہ ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں تیل، گیس، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔ طاقتور ممالک یا گروہ ان وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ جنگوں کو ہوا دیتے ہیں۔
جب کسی خطے میں وسائل کی اہمیت بڑھتی ہے تو وہاں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جاتا ہے اور اکثر یہی عدم استحکام جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اس طرح وسائل پرکنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری اہم وجہ سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ ہے۔ عالمی سیاست میں ہر بڑی طاقت اپنی برتری قائم رکھنا چاہتی ہے۔
اس مقصد کے لیے وہ اپنے اتحادیوں کو مضبوط کرتی ہے اور مخالف قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
بعض اوقات یہ کشمکش براہِ راست جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سرد جنگ کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بڑی طاقتیں مختلف خطوں میں پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتی رہیں۔
جنگ کی ایک اور وجہ قوم پرستی اور جذباتی بیانیہ بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات حکومتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے قوم پرستی کو ابھارتی ہیں۔
میڈیا اور سیاسی بیانات کے ذریعے ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ دشمن کے خلاف جنگ کو قومی فریضہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح عوام جذباتی طور پر جنگ کی حمایت کرنے لگتے ہیں حالانکہ اصل فیصلے کہیں اور کیے جا رہے ہوتے ہیں۔
اگر یہ دیکھا جائے کہ جنگ سے فائدہ کس کو ہوتا ہے تو اس کا جواب زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ بنانے والی صنعتوں کو ہوتا ہے۔ دنیا میں اسلحے کی صنعت ایک بہت بڑی معیشت بن چکی ہے۔
جب کہیں جنگ یا کشیدگی بڑھتی ہے تو ہتھیاروں کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً اس صنعت سے وابستہ کمپنیاں اور طاقتور معاشی حلقے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔اس کے علاوہ بعض سیاسی قیادتیں بھی جنگ سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
جب کسی ملک میں اندرونی مسائل بڑھ جاتے ہیں جیسے معاشی بحران سیاسی عدم استحکام یا عوامی ناراضگی تو بعض حکومتیں بیرونی دشمن کا بیانیہ بنا کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دیتی ہیں۔ اس حکمت عملی کو تاریخ میں کئی بار استعمال کیا گیا ہے۔ جنگی فضا پیدا ہونے سے حکومت کو وقتی طور پر عوامی حمایت بھی مل جاتی ہے۔
جنگ کا ایک فائدہ جغرافیائی اور اسٹرٹیجک کنٹرول کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے، اگر کوئی طاقتور ملک کسی اہم خطے پر کنٹرول حاصل کر لے تو اسے عالمی سیاست میں زیادہ طاقت مل جاتی ہے۔
سمندری راستوں معدنی وسائل یا اہم تجارتی گزرگاہوں پر قبضہ عالمی طاقتوں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ اس لیے بعض جنگیں دراصل ان علاقوں کے کنٹرول کے لیے لڑی جاتی ہیں۔تاہم جنگ کے نقصانات ہمیشہ عام انسان کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
جنگ کے میدان میں جان دینے والے زیادہ تر عام سپاہی ہوتے ہیں جو اکثر غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کے خاندان جنگ کے بعد بھی صدمے اور مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ شہروں کی تباہی معیشت کی بربادی مہاجرین کا بحران اور سماجی انتشار جنگ کے وہ اثرات ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔
جنگ کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ ہر جنگ ہزاروں بلکہ لاکھوں انسانوں کی جان لے لیتی ہے۔
اس کے علاوہ تعلیم، صحت اور ترقی کے وسائل بھی جنگی اخراجات میں صرف ہو جاتے ہیں، اگر یہی وسائل عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں تو دنیا کہیں زیادہ پرامن اور خوشحال ہو سکتی ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سماج کی نفسیات پر بھی گہرے اثرات چھوڑتی ہیں۔ نفرت، عدم برداشت اور خوف کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔
بچے اور نوجوان ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں تشدد کو معمول سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس طرح جنگ کے اثرات صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
آج کے دور میں جب دنیا سائنسی ترقی اور عالمی رابطوں کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جنگ کی ضرورت اور بھی کم ہو جانی چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے طاقت مفادات اور سیاست کا کھیل اب بھی جاری ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری مکالمہ اور تعاون کو ترجیح دے۔حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی مستقل حل فراہم نہیں کرتی۔
جنگ عارضی طور پر کسی مسئلے کو دبا سکتی ہے مگر اس کے نتیجے میں نئے مسائل جنم لے لیتے ہیں۔ پائیدار امن صرف انصاف برابری اور باہمی احترام کے اصولوں پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنگ کا اصل فائدہ چند طاقتور حلقوں کو ہوتا ہے جب کہ اس کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔
اس لیے انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ ہم جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیں اور اختلافات کو مکالمے اور سمجھداری سے حل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ ایک پرامن دنیا ہی وہ خواب ہے جس میں انسان اپنی اصل صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
Today News
خدا کا بندہ خدا سے ملا، اسرائیلی حملے میں علی لاریجانی شہید ہو گئے
موجودہ صورتحال میں ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی اسرائیل کے ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ جبکہ ایران کی اندرونی سیکیورٹی کے اہم کمانڈر اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی اسرائیل کے حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے بھی ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی ریجانی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ایک پوسٹ کی گئی ہے جس میں ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ، خدا کا بندا خدا سے ملا۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران میں ایک خفیہ ٹھکانے پر اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں ایران کا ڈی فیکٹو لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عملی طور پر قیادت سنبھال چکے تھے، اسرائیل نے ان کی شہادت کو ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔
علاوہ ازیں اسرائیل کے ایک اور علیحدہ حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو بھی شہید کر دیا گیا، جو اندرونی سکیورٹی کے اہم ترین کمانڈرز میں شمار ہوتے تھے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business