Today News
حیرت سے دریافت تک – ایکسپریس اردو
انسانی تاریخ کے طویل اور پُرپیچ سفر میں اگر کسی ایک جذبے کو تخلیق، دریافت اور فہمِ کائنات کی بنیاد کہا جائے تو وہ حیرت و تجسس ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن کا یہ قول محض ایک فلسفیانہ جملہ نہیں بلکہ انسانی شعور کی پوری تاریخ کا نچوڑ ہے۔ حیرت وہ پہلا دروازہ ہے جو انسان کے باطن میں کھلتا ہے، اور تجسس وہ چراغ ہے جو اس دروازے کے پار اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔ یہی جذبہ انسان کو غاروں کی دیواروں پر لکیریں کھینچنے سے لے کر کہکشاؤں کے اسرار سمجھنے تک لے آیا۔ اگر انسان اشیاءکو دیکھ کر چونکنا چھوڑ دے، سوال کرنا ترک کردے اور نامعلوم کو قبول کرنے کی خواہش کھو بیٹھے تو نہ فن باقی رہتا ہے نہ سائنس، نہ فکر زندہ رہتی ہے نہ تہذیب۔
حیرت دراصل جمود کے خلاف پہلی بغاوت ہے۔ جب انسان کسی منظر، کسی حقیقت یا کسی سوال کے سامنے رک کر یہ کہتا ہے کہ ”یہ ایسا کیوں ہے؟“ تو وہ لمحہ محض سوال نہیں ہوتا بلکہ ایک تخلیقی ارتعاش ہوتا ہے۔ یہی ارتعاش شاعر کے دل میں استعارہ بن جاتا ہے، مصور کے ہاتھ میں رنگوں کی صورت اختیار کرتا ہے اور سائنس دان کے ذہن میں نظریے کی شکل لے لیتا ہے۔ حیرت انسان کو معمول سے غیر معمول کی طرف لے جاتی ہے، اور تجسس اسے غیرمعمول کو سمجھنے کی جرأت عطا کرتا ہے۔ آئن اسٹائن اسی لیے اس جذبے کو حقیقی فن اور حقیقی سائنس کا گہوارہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ جہاں حیرت ختم ہو جائے وہاں تحقیق محض مشق رہ جاتی ہے اور فن صرف نقل۔
سائنس کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی بڑی دریافت محض معلومات کے انبار سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک سادہ مگر گہرا سوال اس کے پیچھے کارفرما تھا۔ نیوٹن کے ذہن میں گرتا ہوا سیب اس لیے معنی خیز بنا کہ اس نے اسے معمولی واقعہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا بلکہ اس پر حیران ہوا۔ اسی حیرت نے کششِ ثقل کے قانون کی بنیاد رکھی۔ آئن اسٹائن خود اگر وقت اور مکان کو جامد حقیقت مان لیتے تو اضافیت کا تصور کبھی جنم نہ لیتا۔ سوال یہ نہیں تھا کہ حساب کیسے کیا جائے، اصل سوال یہ تھا کہ کائنات ویسی کیوں ہے جیسی ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ یہی حیرت سائنس کو زندہ رکھتی ہے اور اسے محض تکنیکی ہنر بننے سے بچاتی ہے۔
فن کی دنیا میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ عظیم فن پارے اس وقت تخلیق ہوتے ہیں جب فن کار کسی عام تجربے میں غیرمعمولی معنویت دریافت کرلیتا ہے۔ ایک شاعر کے لیے شام کا ڈھلنا صرف سورج کا غروب نہیں ہوتا بلکہ وقت کے زوال، جدائی کے دکھ یا امید کے چراغ کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ سب حیرت کے بغیر ممکن نہیں۔ جو فن کار دنیا کو دیکھ کر چونکتا نہیں، جو منظر کے پیچھے چھپی معنویت پر ٹھٹک کر نہیں رکتا، اس کا فن محض سجاوٹ بن کر رہ جاتا ہے۔ حقیقی فن وہ ہے جو دیکھنے والے کے اندر بھی سوال پیدا کرے، اسے سوچنے پر مجبور کرے اور اس کے شعور میں ارتعاش پیدا کرے۔
جدید دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ معلومات کی فراوانی نے حیرت کو دبا دیا ہے۔ ہر سوال کا فوری جواب، ہر مسئلے کا تیار حل اور ہر شے کی فوری تشریح انسان کو مطمئن تو کردیتی ہے مگر متجسس نہیں رہنے دیتی۔ ہم جاننے لگے ہیں مگر سوچنا بھول گئے ہیں۔ سرچ انجن ہمیں معلومات دیتے ہیں مگر حیرت کا ذائقہ نہیں چکھاتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ علم بڑھ رہا ہے مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے، ڈیٹا جمع ہو رہا ہے مگر بصیرت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ آئن اسٹائن کا قول اس تناظر میں ایک تنبیہ بھی ہے کہ اگر ہم نے حیرت کے جذبے کو زندہ نہ رکھا تو سائنس محض صنعت بن جائے گی اور فن محض تفریح۔
تعلیم کا مقصد بھی دراصل اسی جذبے کی آبیاری ہونا چاہیے۔ وہ نظامِ تعلیم جو بچوں کو سوال کرنے سے روکے، حیران ہونے پر شرمندہ کرے اور صرف درست جواب یاد کروانے پر زور دے، وہ ذہن نہیں بناتا بلکہ فائلیں تیار کرتا ہے۔ ایک زندہ ذہن وہ ہے جو سوال اٹھاتا ہے، شبہ کرتا ہے اور تلاش کے عمل سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ استاد کا اصل کام معلومات منتقل کرنا نہیں بلکہ حیرت جگانا ہے۔ جب طالب علم کے اندر “کیوں” اور “کیسے” کا سوال زندہ ہو جائے تو علم خود اس کی طرف چل کر آتا ہے۔
حیرت و تجسس محض سائنسی یا فنی دائرے تک محدود نہیں بلکہ انسانی اخلاق اور روحانیت میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ کائنات پر غور، زندگی کے مقصد پر سوال اور وجود کے اسرار پر سوچ ہی انسان کو سطحی زندگی سے بلند کرتی ہے۔ جو شخص کائنات کو ایک مشینی تماشا سمجھ کر قبول کر لیتا ہے وہ جلد بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے، مگر جو شخص اس میں معنی تلاش کرتا ہے وہ شکر، عاجزی اور ذمے داری کے احساس تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے فکر و روحانیت میں بھی غور و فکر کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔
آئن اسٹائن خود مذہبی عقائد کے روایتی سانچوں میں مقید نہیں تھے مگر کائنات کے حسن اور ترتیب کے سامنے ان کی حیرت عمیق تھی۔ وہ جانتے تھے کہ علم جتنا بڑھتا ہے، اسرار اتنے ہی گہرے ہو جاتے ہیں۔ یہی احساس انسان کو غرور سے بچاتا ہے اور اسے مسلسل طالبِ علم بنائے رکھتا ہے۔ حقیقی سائنس دان وہی ہے جو جاننے کے باوجود یہ مانتا ہے کہ وہ بہت کچھ نہیں جانتا، اور یہی اعترافِ لاعلمی اسے مزید تلاش پر آمادہ کرتا ہے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ حیرت و تجسس انسانی روح کی سانس ہیں۔ جب یہ سانس رک جائے تو فکر گھٹنے لگتی ہے، تخلیق مرجھا جاتی ہے اور علم جامد ہو جاتا ہے۔ آئن اسٹائن کا یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سوال کرنا کم زوری نہیں بلکہ زندگی کی علامت ہے، اور حیران ہونا نادانی نہیں بلکہ شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر ہمیں حقیقی فن اور حقیقی سائنس کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں اپنے اندر اس بچے کو زندہ رکھنا ہوگا جو آسمان دیکھ کر سوال کرتا ہے، ستاروں کو گنتا ہے اور کائنات کے حسن پر خاموشی سے چونک جاتا ہے۔ یہی چونکنا انسان کو انسان بناتا ہے، اور یہی جذبہ اسے آگے بڑھنے کی ہمت عطا کرتا ہے۔
Today News
میٹا کی ہزاروں ملازمین کو نوکری سے نکالنے کی تیاری
ٹیکنالوجی کمپنی میٹا مبینہ طور پر ہزاروں ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی اپنے 20 فی صد تک ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو تقریباً 16 ہزار کی تعداد بنتی ہے۔
اگر کمپنی رپورٹ کے عین مطابق کرتی ہے تو یہ 2022 کے بعد سے یہ ملازمین کو فارغ کرنے کا سب سے بڑا دور ہوگا۔ 2022 میں کمپنی کی جانب سے 11 ہزار افراد کو نوکری سے نکالا گیا تھا جبکہ اس کے اگلے برس 10 ہزار ملازمین کو فارغ کیا گیا تھا۔
دو سینئر ملازمین نے اس متعلق بزنس انسائیڈر کو بتایا کہ ملازمین کی برطرفیوں کا عمل ایک مہینے میں شروع ہو سکتا ہے۔
Source link
Today News
چائے یا کافی دماغی بیماری کے خطرات میں کمی لا سکتی ہے: تحقیق
ایک طویل المدتی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ معتدل مقدار میں کیفین والی مشروبات پینے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں نمایاں کمی آتی ہے۔
جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1 لاکھ 31 ہزار سے زیادہ شرکا نے حصہ لیا۔ مطالعے کے آغاز پر یہ افراد کینسر، پارکنسن کی بیماری یا ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں تھے۔
اس مطالعے میں 1980 سے 2023 تک نرسز ہیلتھ اسٹڈی میں 86 ہزار سے زائد خواتین اور 1983 سے 2023 تک ہیلتھ پروفیشنلز فالو اپ اسٹڈی میں 45 ہزار سے زائد مرد شرکا کو شامل کیا گیا۔ خواتین شرکا کی اوسط عمر 46 سال تھی، جبکہ مرد شرکاء کی اوسط عمر 54 سال تھی۔
کافی اور چائے کے استعمال اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے شرکا سے دو سے چار سال میں ایک مرتبہ غذائی سوالنامے جمع کیے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ شرکا میں 11 ہزار سے زیادہ ڈیمینشیا کے کیسز سامنے آئے، لیکن زیادہ کیفین والی کافی پینے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں نمایاں کمی اور ذہنی زوال کے سبجیکٹیو علامات میں کمی دیکھنے کو ملی۔
اس کے علاوہ، نرسز ہیلتھ اسٹڈی کے شرکا میں زیادہ کافی پینے کا تعلق بہتر ذہنی کارکردگی سے بھی تھا۔ اسی طرح، کیفین والی چائے کے زیادہ استعمال کو بھی ذہنی صحت کے حوالے سے اچھے نتائج سے جوڑا گیا۔
Source link
Today News
افغان طالبان کا وانا میں کامیاب حملے کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات
اسلام آباد:
وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کا فیکٹ چیک جاری کردیا جس میں افغان طالبان کی نام نہاد وزارت دفاع کے وانا میں کامیاب حملے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق جنوبی وزیرستان کے اوپر ایک ڈرون تباہ کیا گیا، ڈرون کو سافٹ کِل ٹیکنالوجی کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا جس کا کوئی نقصان نہیں ہوا، کسی بھی فوجی تنصیب یا انفرااسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچا۔
وزارت اطلاعات نے طالبان حکومت کے دعوے کو پروپیگنڈا اور من گھڑت قرار دے دیا اور کہا کہ طالبان ماضی میں بھی غلط اور گمراہ کن دعوے کرتے رہے، پاکستان ایئر فورس کے طیارے گرانے اور پائلٹس گرفتار کرنے کے دعوے بھی جھوٹے ثابت ہوئے۔
وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات حقائق کے برعکس ہیں، سچ ہمیشہ جھوٹ اور پروپیگنڈے پر غالب آتا ہے۔
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports1 week ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Entertainment1 week ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Sports2 weeks ago
Sadaf, Fatima star as Pakistan thrash South Africa for consolation victory – Sport
-
Sports2 weeks ago
Milan consolidate top-four credentials with win at Cremonese – Sport