Today News
خالی دستر خوان، اعداد و شمارکی خوش خبری
گزشتہ چند ہفتوں سے سرکاری بیانات میں ایک عجیب سی خوش خبری گونج رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مہنگائی کی شرح کم ہو رہی ہے، اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، معاشی استحکام کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ ٹیلی وژن اسکرینوں پرگراف اوپر نیچے ہو رہے ہیں۔ ماہرین مسکرا کر بتا رہے ہیں کہ افراطِ زر کی رفتار سست پڑگئی ہے، مگر میں سوچتی ہوں کہ کیا واقعی ہمارے گھروں کے چولہوں کی آنچ بھی اتنی ہی مطمئن ہے، جتنی ان گرافوں کی لکیرکیا خالی دسترخوان بھی یہ خوش خبری سن کر بھرجاتے ہیں۔
معیشت کے اعداد وشمار اور عام آدمی کی زندگی کے درمیان ایک گہرا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ ایک طرف بتایا جاتا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے۔ دوسری طرف بازار میں دال، آٹا، چاول،گھی اور سبزیوں کی قیمتیں اب بھی عام مزدورکی پہنچ سے باہر ہیں، اگر کسی شے کی قیمت میں چند روپے کمی بھی ہو جائے تو وہ پچھلے کئی برسوں میں ہونے والے اضافے کے سامنے نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتی ہے۔ یہ ریاضی شاید ماہرین کو مطمئن کر دے مگر وہ ماں جو شام کو اپنے بچوں کے لیے روٹی کا بندوبست سوچ رہی ہو، اس کے لیے یہ ریاضی بے معنی ہے۔
شہر میں مختلف علاقوں میں لگے دسترخوان جہاں لمبی قطاریں، ہاتھوں میں برتن، چہروں پر تھکن اور آنکھوں میں ایک خاموش سی شرمندگی۔ کوئی کیمرہ قریب آتا ہے تو کچھ لوگ نظریں چرا لیتے ہیں۔ کیا یہ وہ سماج ہے جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا؟ جہاں لوگ سڑک کنارے اس انتظار میں کھڑے ہوں کہ کوئی صاحبِ ثروت افطارکا اہتمام کرے، کوئی این جی او کھانا تقسیم کرے اور وہ اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکیں۔
سوال یہ نہیں کہ خیرات دینے والے غلط ہیں۔ بھوک کے سامنے نظریاتی بحثیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ جو شخص کھانا بانٹ رہا ہے، وہ یقیناً ایک انسانی فریضہ ادا کر رہا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک پورا سماج اس بات کا عادی ہو جائے کہ اس کی بقا خیرات پر منحصر ہے؟ کیا ریاست کی ذمے داری کو ہم نے صدقات اور عطیات کے سپرد کردیا ہے؟ کیوں عوام اس انتظار میں رہیں کہ کوئی مال دار شخص رحم کھائے اور دسترخوان بچھا دے۔
یہ کیسی معیشت ہے جس میں دولت کے جزیرے بلند ہوتے جا رہے ہیں اور غربت کے سمندرگہرے؟ چند فیصد لوگ لگژری گاڑیوں اور مہنگے ریسٹورنٹس کی رونق بڑھا رہے ہیں اور اکثریت یوٹیلیٹی بلوں اور اسکول فیس کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، اگر مہنگائی کم بھی ہو رہی ہے تو کیا آمدنی میں اضافہ ہوا ہے؟ کیا مزدورکی اجرت اس رفتار سے بڑھی ہے جس رفتار سے گزشتہ برسوں میں قیمتیں بڑھیں، اگر نہیں تو پھر اعداد و شمار کی خوش خبری کس کے لیے ہے؟
چند روز پہلے میری اپنی بیٹی اور داماد سے گفتگو ہو رہی تھی۔ وہ کچھ ایسے اسکولوں سے منسلک ہیں جہاں زیادہ تر بچے لوئر مڈل کلاس گھرانوں سے پڑھنے آتے ہیں۔ ایک اسکول کی پرنسپل نے انھیں جو بات بتائی وہ سن کر میرا دل دہل گیا۔ انھوں نے کہا کہ ایک گھر سے تین بچے اسکول آتے ہیں مگر تینوں میں سے صرف ایک بچہ ناشتہ کر کے آتا ہے۔ اگلے دن دوسرا بچہ ناشتہ کرتا ہے اور تیسرے دن تیسرا۔ گویا ایک ہی گھر میں ناشتہ بھی باری باری تقسیم ہو رہا ہے۔ میں اس صورتِ حال کا تصور کر کے کانپ گئی۔ وہ ماں کس کرب سے گزرتی ہوگی جب اسے یہ طے کرنا پڑتا ہوگا کہ آج کس بچے کو پیٹ بھر کر بھیجنا ہے اور کس کو خالی پیٹ۔یہ کوئی افسانہ نہیں یہ ہمارے شہروں کی حقیقت ہے۔ بچے کلاس روم میں بیٹھے ہوتے ہیں، کتاب کھولے ہوئے مگر ان کی توجہ حرفوں پر نہیں ہوتی بلکہ وہ بھوک کو تھپکی دے کر بھلا رہے ہوتے ہیں۔ ہم ان سے کیسی تعلیمی کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں، بھوک صرف جسم کو کمزور نہیں کرتی، ذہن کو بھی مضمحل کر دیتی ہے۔ کیا اعداد و شمار میں اس بھوک کا کوئی خانہ موجود ہے؟
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ خیرات کی ثقافت کب اورکیسے ایک مستقل نظام میں بدل گئی۔ رمضان آتا ہے تو دستر خوانوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے سردی آتی ہے تو کمبل تقسیم ہوتے ہیں، عید پر راشن بیگ بانٹے جاتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے مگر کیا غربت موسمی مسئلہ ہے؟ کیا بھوک صرف رمضان میں لگتی ہے، سال کے باقی مہینوں میں وہ لوگ کہاں جاتے ہیں جو آج قطار میں کھڑے ہیں۔ ایک خود دار سماج کی بنیاد یہ نہیں ہوتی کہ لوگ خیرات کے منتظر رہیں۔ بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ہر شخص کو باعزت روزگار ملے تعلیم اور صحت کی سہولت میسر ہو اور ریاست اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات کی ضامن ہو۔ جب ریاست اپنی ذمے داری پوری نہیں کرتی تو خلا کو پر کرنے کے لیے خیرات کا نظام پھلتا پھولتا ہے، مگر خیرات انصاف کا متبادل نہیں بن سکتی۔ وہ وقتی ریلیف تو دے سکتی ہے مستقل حل نہیں۔ میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو دسترخوان سے کھانا لے کر کنارے بیٹھ گئے۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ شاید وہ کبھی کسی دفتر میں ملازم رہے ہوں گے شاید انھوں نے بھی اپنی جوانی میں ٹیکس دیا ہوگا، شاید انھوں نے بھی اس ملک کی ترقی کے خواب دیکھے ہوں گے۔ آج وہ اس انتظار میں تھے کہ کوئی انھیں دو وقت کی روٹی دے دے۔ کیا یہ ان کی تقدیر تھی یا ہماری اجتماعی ناکامی؟
اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ افراطِ زر کی شرح میں کمی آئی ہے، مگر یہ نہیں بتاتے کہ کتنے گھرانوں نے اپنی خوراک کم کردی، کتنے بچوں نے دودھ پینا چھوڑ دیا، کتنے نوجوانوں نے تعلیم ادھوری چھوڑکر محنت مزدوری شروع کر دی۔ یہ گراف ہمیں وہ آنکھیں نہیں دکھاتے جن میں محرومی کی نمی ہے۔ ہمیں ایک سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ کیا ہماری معاشی پالیسیاں واقعی عوامی مفاد کے لیے بن رہی ہیں یا بیرونی دباؤ کے تحت۔ کیا بجٹ میں سبسڈی کم کر کے اور ٹیکس کا بوجھ بالواسطہ طریقوں سے عوام پر ڈال کر ہم انصاف کر رہے ہیں؟ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑی رکھنے والوں پر نہیں پڑتا، وہ ہر شے کی قیمت میں شامل ہو جاتا ہے اور اس کا بوجھ آخرکار اسی مزدور پر پڑتا ہے جو پہلے ہی کم اجرت پرگزارا کر رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ خیرات بند کردی جائے۔ بھوک کے سامنے دروازہ بند کرنا ظلم ہوگا، مگر میں یہ ضرور پوچھتی ہوں کہ کب تک؟ کب تک عوام سڑک کنارے قطار میں کھڑے رہیں گے؟ کب تک مائیں اپنے بچوں کو باری باری ناشتہ کرا کر خود کو تسلی دیں گی۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم ایک ایسا نظام بنائیں جہاں کسی کو قطار میں کھڑا نہ ہونا پڑے، جہاں دسترخوان گھر کے اندر بچھا ہو اور اس پر باعزت محنت کی کمائی رکھی ہو۔
معاشی اشاریے اہم ہوتے ہیں مگر وہ مقصد نہیں ذریعہ ہوتے ہیں، اگر ان کا نتیجہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری کی صورت میں ظاہر نہ ہو تو وہ محض کاغذی کامیابی رہ جاتے ہیں۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کیسی معیشت چاہتے ہیں وہ جس میں چند لوگوں کے لیے خوش حالی کے جزیرے ہوں یا وہ جس میں اکثریت کو باعزت زندگی ملے۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم خیرات کی تعریف بدل دیں۔ سب سے بڑی خیرات یہ ہوگی کہ ہم ایسا نظام قائم کریں جہاں ہر شخص کو اس کا حق ملے۔ جہاں روزگارکے مواقع بڑھیں جہاں اجرتیں مہنگائی کے مطابق ہوں جہاں تعلیم اور صحت بنیادی حق ہوں نہ کہ رعایت۔ اگر ہم یہ نہ کر سکے تو دسترخوان بڑھتے جائیں گے، قطاریں لمبی ہوتی جائیں گی اور مائیں اپنے بچوں کے درمیان ناشتہ تقسیم کرتی رہیں گی اور تب اعداد و شمار کی خوش خبری ایک تلخ مذاق بن کر رہ جائے گی۔
میں اعداد و شمار کی نفی نہیں کررہی مگر خالی دسترخوان اور بھوکے بچوں کی آنکھوں کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتی،کیونکہ قوموں کی اصل حالت گرافوں سے نہیں، گھروں کے چولہوں اور اسکول جاتے بچوں کے ناشتے سے معلوم ہوتی ہے اور جب تک بچے سیر نہ ہوں کسی بھی معاشی کامیابی کا جشن ادھورا رہے گا۔
Today News
طورخم بارڈر پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں چیک پوسٹ تباہ
اسلام آباد:
ضلع خیبر ضلع میں پاک افغان سرحد پر اچانک کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق فائرنگ کے واقعات سرحدی علاقوں طورخم اور تیراہ میں پیش آئے، جہاں افغان جانب سے اچانک گولہ باری کی گئی۔
The Afghan Taliban regime initiated unprovoked firing along the Pakistan-Afghanistan Border in Torkham & Tirah sub-sectors.
Pakistan’s security forces responded immediately & effectively, silencing the Taliban aggression.
Any further provocation will be responded to…
— Mosharraf Zaidi 🇵🇰 (@mosharrafzaidi) February 24, 2026
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں سرحد کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
پاکستانی فورسز کے تمام جوان محفوظ رہے، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔
Today News
ملتان شہر میں پولیس کا بڑا سرچ آپریشن، سیکڑوں افراد کی چیکنگ، 8 افراد گرفتار
کراچی:
ملتان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں 28 سرچ آپریشنز کیے، جن کے دوران 1,845 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی جبکہ 8 افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔
پولیس کے مطابق سرچ آپریشنز امام بارگاہ شاہ گردیز، شاہ شمس دربار، پولیس لائنز، کچہری ایریا، محلہ امیر آباد، پی ٹی سی ٹریننگ کالج، محلہ سوُتری، مسجد علمدار چوک، عزیز ہوٹل، ریلوے چوک اور گجر کھڈا سمیت حساس اور گنجان آباد علاقوں میں کیے گئے، جہاں داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر کے جامع چیکنگ کی گئی۔
کارروائیوں کے دوران پولیس نے 215 گھروں، 16 مدارس، 15 حساس تنصیبات، 14 ہوٹلز اور 15 افغان بستیوں کی تلاشی لی، جبکہ 35 کرایہ داروں کی تصدیق بھی کی گئی۔
اس کے علاوہ 1,490 افراد کی ای پی پی چیکنگ کر کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشنز کے نتیجے میں 8 مقدمات درج کیے گئے جن میں ایک رہائشی ایکٹ، ایک ساؤنڈ سسٹم ایکٹ اور 6 مقدمات شراب برآمدگی کے تحت شامل ہیں۔
اہم کارروائی کے دوران تھانہ کپ کی حدود سے ایک ٹارگٹ ملزم کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے 90 لیٹر شراب برآمد ہوئی۔ گرفتار ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، جرائم کی بیخ کنی اور حساس مقامات کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ایسے سرچ آپریشنز آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔
Today News
معاشی ترقی کے دعووں کے سیاسی حقائق
پاکستان میں موجود سیاسی اور معاشی ماہرین کے سامنے ایک بنیادی نوعیت کا یہ سوال یقینی طور پر زیر بحث آنا چاہیے کہ ہم معاشی ترقی کے عمل میں درست سمت کی جانب بڑھ رہے ہیں یا ہماری سمت نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنے گی ۔
اگرچہ حکومتی معاشی ماہرین ہمیں بہت سی معاشی میدان میں نئی امید اور نئی ترقی کی روشنی دیتے ہیں مگر جو معاشی حقایق ہیں ان میں ہماری معیشت اور اس سے جڑی ترقی کے تناظر میں بنیادی نوعیت کے سنجیدہ سوالات اور موجودہ معاشی حکمت عملی پر سنگین تحفظات اٹھائے جارہے ہیں ۔کیونکہ یہ بنیادی سوال زیر بحث ہے کہ جو ملک میں معیشت کے تناظر میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج یا فرق بڑھ رہا ہے اس نے معاشرے کی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی محرومی کے عمل کو پیدا کیا ہے ۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025کے اختتام پر حکومتی قرض اس وقت بڑھ کر 78,529 ارب روپے کا ہوگیا ہے جو 2024دسمبر میں 71647ارب روپے تھا۔بنیادی مسئلہ ایک طرف غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی معاشی حالت میں بدستور بگاڑ کا بگڑنا اور دوسری طرف پچھلی تین دہائیوں سے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا سکڑنا اور ان کی آمدنی و اخراجات میں عدم توازن نے ان کی معاشی زندگیوں میں پہلے سے موجود مسائل میں اور زیادہ اضافہ کیا ہے ۔
یہ تاثر بھی عام ہے کہ ہم نہ صرف عالمی سرمایہ کاری کو پاکستان میں لانے میں ناکامی سے دوچار ہیں بلکہ اپنے سرمایہ داروں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے میں بھی ناکام ثابت ہورہے ہیں اور ملکی سرمایہ کار بڑی تیزی سے اپنے کاروبار اور سرمائے کو باہر منتقل کررہا ہے ۔سرکاری اعداد وشمار میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں غربت29فیصد جب کہ سات کڑور افراد انتہائی غریب اور دولت کی عدم مساوات بڑھ گی ہے۔ایک بڑا مسئلہ پاکستان میں جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کا درپیش ہے تو دوسری طرف بڑی تعداد میں ہم ایک بڑی نئی نسل کے لیے نئے روزگار پیدا کرنے کے بحران سے بھی دوچار ہیں ۔
عالمی بینک کے صدر اجے بنگا جو پاکستان کے دورے پر تھے ان کے بقول پاکستان کو اپنی نئی نسل کی آبادی کے بڑھتے ہوئے دباو کے پیش نظر اگلے دس برسوں میں تقریبا تین کڑورروزگار کے مواقع پیدا کرنے ہونگے اور اگر پاکستان یہ کچھ نہیں کرتا تو اس کا ایک بڑا نتیجہ مزید عدم استحکام اور نئی نسل کی بیرون ملک ہجرت کے خطرات بڑھ جائیں گے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت حکومتی روڈ میپ یا حکومتی معاشی ماہرین کے پاس سالانہ بنیادوں پر نئے روزگار پیدا کرنے کا کوئی ایسا شفاف منصوبہ ہے جو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں ۔نئے روزگار پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بلکہ اب اس سے بھی زیادہ یہ چیلنج بھی سامنے آگیا ہے کہ جو لوگ پہلے سے روزگار رکھتے تھے ان کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر معاشی بے روزگاری کا سامنا ہے ۔جب کہ ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت کی سطح پر عملا 55ہزار آسامیاں ختم یا مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔
نئی نسل کو تو ہم اپنا معاشی سرمایہ سمجھنے کی بجائے اسے ایک بڑے سیاسی اور معاشی بوجھ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آج کا نوجوان ریاست اور حکومتی نظام سے نالاں ہے۔جو نوجوان اپنی مدد اپ کے تحت کمانا چاہتے ہیں ان کے سامنے بھی مختلف نوعیت کے مسائل ہیں۔سب سے اہم اور دکھ کا پہلو یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کے پاس لوگوں کے معاشی حالات کی درستگی یا ان کی عملی معاشی مستقل حیثیت بدلنے کا کوئی منصوبہ نہیں ۔اس کے مقابلے میں معیشت کے نام پر وفاق سے لے کر صوبوں تک اور صوبوں سے لے کر اضلاع تک خیراتی منصوبوں کا جال ہے جہاں لوگوں کی معاشی حیثیت بدلنا نہیں بلکہ ان کو مختلف فلاحی یا خیراتی سطح کی بنیاد پر بھکاری کے طور پر پیش کرکے ان کی عزت و نفس کو مجروح کرنا ہوتا ہے ۔
اس وقت ایک طرف معیشت کی بہتری کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تودوسری طرف گورننس کے نظام کو اس قدر پیچیدہ بنادیا گیا ہے کہ کسی بھی طور پر معیشت کی گاڑی تیز رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ ہماری معیشت کا علاج کسی جادوئی بنیاد پر ممکن نہیں اور نہ ہی اس معاشی ترقی کا عمل فوری طور پر ممکن ہوگا بلکہ اس کے لیے ہمیں ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ہماری معیشت جو غیر معمولی حالات کا شکار ہے اس سے بھی نمٹنے کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدمات درکار ہیں ۔
یہ جو ہم جذباتیت اور خوش نما نعروں یا لوگوں کو سیاسی اور معاشی طورر گمراہ کرکے معیشت کی ترقی کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے گی۔ایک طرف ہمارا معاشی استحصال پر مبنی پروگرام ہے جو عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور طبقات یا مافیا کی حکمرانی کے گرد گھومتا ہے تو دوسری طرف ملک میں بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام اور سیاسی تقسیم یا سیاسی الجھن اور ٹکراو کی وجہ سے ہماری بہتر معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔
اسی طرح ہم مجموعی طور پر ایک بڑے دہشت گردی کا بحران بھی ہمارے مسائل میں اضافہ پیدا کررہا ہے ۔لیکن ہم معیشت کی بہتری کے لیے اول تو داخلی چیلنجز کو تسلیم کرنے یا ان حقایق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور اگر ہمیں ا س کا کہیں ادراک ہے تو پھر اس سے نمٹنے کی حکمت عملی کا فقدان غالب نظر آتا ہے ۔سیاست کو مستحکم کرنا ایسے لگتا ہے کہ ہماری ریاستی اور سیاسی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ ہم مسلسل سیاسی مہم جوئی اور ایڈونچرز کی سیاست کا حصہ ہیں ۔
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech2 weeks ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Entertainment2 weeks ago
Reality Behind Hania Aamir’s Wedding Video
-
Tech2 weeks ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Tech2 weeks ago
3 Reasons The Galaxy S26 Ultra Plays It Safe (And Why It Might Work)
-
Tech2 weeks ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Heartbreaking Moment as Army Martyr’s Father Faints Receiving Son’s Belongings
-
Tech1 week ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch