Today News
خامنہ ای کیخلاف آپریشن 3 ہفتوں کا تھا، ہم نے بہت جلد مکمل کرلیا؛ ٹرمپ نے تفصیلات بتادیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے حملے میں شہید ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف کیے گئے آپریشن کی تفصیلات بتادیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے مکمل ہوگئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن اب وقت نکل گیا انھیں یہ فیصلہ پہلے ہی کرلینا چاہیے تھا۔ یہ معاہدہ ایک ہفتہ پہلے ہی ہوجانا چاہیے تھا۔
امریکی صدر نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بعض فیصلوں سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کا منصوبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے ایک طویل آپریشن کا اندازہ لگایا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول ہم نے اندازہ لگایا تھا کہ ایرانی قیادت کو ختم کرنے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب ایک ہی دن میں ہوگیا۔
مزید پڑھیں : آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید
امریکی صدر نے بتایا کہ عسکری ماہرین اس آپریشن کو تقریباً 4 ہفتوں کا آپریشن سمجھ رہے تھے مگر کارروائی منصوبے سے کہیں زیادہ تیزی سے مکمل ہوگئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن چار ہفتوں تک چلنے کا امکان تھا مگر ہم نے اپنا ہدف شیڈول سے بہت پہلے ہی حاصل کرلیا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کی کئی ہفتوں سے کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کا لبنان پر حملہ، حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کی شہادت کا دعویٰ
امریکی صدر کے بقول اسی دوران سی آئی اے کو ایک اہم معلومات ملیں اور ہم نے یہ نادر موقع ضائع نہ ہونے دینے کا فیصلہ لیا۔
برطانیہ کے فیصلے پر ناراضی
انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں برطانوی حکومت کے ایک فیصلے سے شدید مایوسی ہوئی۔
امریکی صدر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے اپنے زیر انتظام اہم فوجی اڈے کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
مزید پڑھیں : ایران پر حملے؛ اپنے بہترین دوست اور عظیم لیڈر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں؛ نیتن یاہو
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ نے بحرِ ہند میں واقع اہم فوجی اڈے ڈیگو گارسیا کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری نہیں دی جس سے انہیں مایوسی ہوئی۔
یہ اڈہ اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں امریکا اور اس کے اتحادی مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں فوجی کارروائیوں کے لیے اسے استعمال کرتے رہے ہیں۔
Today News
سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کی ہٹ دھرمی !
سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty ) 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا’ پانی کی اس تقسیم کے معاہدہ کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں( سندھ’ جہلم اور چناب) جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں (راوی ‘ بیاس اور ستلج کا کنٹرول ملا’ مگر بھارت اس اہم معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں پن بجلی کے منصوبے مثلا ( کشن گنگا) بنا رہا ہے جسے اگر آبی جارحیت کہا جائے تو بے جانہ ہو گا’ چونکہ بھارت کوان دریاؤں پر محدود بجلی بنانے کی اجازت ملی تھی اس لیے وہ پانی روکنے کا کسی صورت حق نہیں رکھتا ‘ اسی لیے پاکستان کو بھارت کے اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل پر شدید تحفظات ہیں’ یہ معاہدہ پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے جس کی خلاف ورزی سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے ‘ زرعی ملک ہونے کے ناتے پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا زیادہ تر دارومدار دریاؤں سے پانی کی آمد پر ہوتا ہے ایسے میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے کافی اہم ہے۔
اس معاہدہ کی ضرورت 1948میں اس وقت محسوس ہوئی جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کر دیا تھا ‘ چنانچہ دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا ‘ اس معاہدہ کے تحت دریائے سندھ سے ہر سال آنے والے مجموعی طور پر 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے جب کہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی’ بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا تھاچونکہ مغربی دریاؤں میں کئی کا منبع بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں تھا اس لیے بھارت کو 3 اعشاریہ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور محدود حد تک آبپاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا’ بھارت کی طرف سے ماضی میں متعدد بار اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور بھارت دریاؤں پر پن بجلی منصوبے تعمیر کر کے پاکستان آنے والے پانی کو متاثر کررہا ہے ‘ گزشتہ تین سال سے بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان اور بھارت کے انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس بھی نہیں ہو سکا۔
دونوں ممالک کے درمیان انڈس واٹرکمشنرز کا آخری اجلاس 30 اور31مئی 2022 کو نئی دہلی میں ہوا تھا سندھ طاس معاہدہ کے تحت سال میں دونوں ممالک کے کمشنرز کا اجلاس ایک بار ہونا ضروری ہے ‘ واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت کوئی ملک سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر نہیں توڑسکتا حتیٰ کہ حالت جنگ ہو یا حالت امن اس معاہدہ کی دونوں ممالک پر پاسداری ضروری ہے ‘ پانی کو ہتھیار بنانا جنگی جرم اور انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے کیونکہ یہ معاہدہ کروڑوں لوگوں کی زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے اور زرعی آبپاشی’ بجلی کی پیداوار’ ماہی گیری’ نقل و حمل اور کئی وجوہات کی بناء پر پاکستان کی معیشت میں یہ اہم اوروسیع دریا کلیدی کردار ادا کرتا ہے مگر پلاسٹک اور بڑھتی ہوئی آلودگی اس دریا کی آبی حیات اور دریا سے متصل مختصر آبادیوں اور ان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ ماحول اور اس عظیم دریا کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان اور امریکا مل کر گرین الائنس کے تحت پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے نمنٹنے اور قابل تجدید توانائی’ زراعت اور پانی کے انتظام میں تعاون کوفروغ دینے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔
موجودہ حکومت پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ ماحول کو پرفضا اور پرکشش بنانے کے لیے مختلف میگا پراجیکٹس کے ذریعے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری اور اس حوالہ سے انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی بینک کی ثالثی میں پانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ امن اورقابل قبول کردار ادا کیا ہے لیکن بھارت جو پاکستان کا روایتی دشمن ہے نے ہمیشہ ہر اچھے اور بہتر کام میں رکاوٹیں اور رخنے ڈال کر معاملات کو بری طرح بگاڑنے ‘ جنگ و جدل کا ماحول پیدا کرنے اور پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازشیں تیار کرنے میں اپنا بھونڈا’ منفی اور ضرر رساں کردار ادا کیا ہے ۔ یہ بات پوری دنیا کے لیے ناقابل قبول اور تشویش کا باعث ہے کہ بھارت پاکستان کے پانی کو روک کر ایک بار پھر پانی پر جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے میں مصروف ہے ‘ اسے یہ نہیں معلوم کہ اس گھناؤنی حرکت کے جواب میں پاکستان اسے دندان شکن شکست سے دوچارکر سکتا ہے ‘ہماری پاک مسلح افواج جو اپنی بہادری ‘ ہنر مندی اور بے مثال عسکری صلاحیت کے اعتبار سے پوری دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں ‘ بھارت سرکار کی عقل ٹھکانے لگا سکتی ہیں’ عالمی سطح پر بھی وقت کی مہذب اور حق پرست اقوام بھارت کو اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گی ‘ اس لیے بھارت پر لازم ہے کہ وہ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے معاہدہ کے تحت پانی کے مناسب اور جائز استعمال کو یقینی بنائے ۔
کسی دوسرے ملک کا پانی روکنا سنگین جرم ہے ‘ یہ وہ دریا ہے جو مقبوضہ کشمیر سمیت پاکستان کے بیشتر حصوں میں اپنی رسائی رکھتا ہے اس لیے اس پر زیادہ سے زیادہ حق پاکستان کا ہے ‘ ہم سندھ طاس معاہدہ پر عمل درآمد کوہرحال میں یقینی بنا کر اپنے حق پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ کشمیر سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز رہے اور محدود پانی اپنے پاس رکھ کر اپنی ضرورتوں کو پورا کرے ‘ بجلی اور دیگر معاملات میں پانی کا زیادہ ذخیرہ کرنے سے گریز کرے ‘ یہ سراسر نا انصافی ہٹ دھرمی اورہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے مترادف بات ہو گی ‘ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں بھارت جنگی جنون سے گریز کرے ‘ ورنہ اسے شکست فاش ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی اور اقتصادی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑے گا’ ہم اسے اپنا پانی روکنے کی ذرا بھر اجازت نہیں دیں گے کیونکہ دریاؤں کے جس پانی پر پاکستان کا زیادہ حق ہے جسے عالمی بینک سمیت پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔
Today News
میزائلوں کی بارش اور عالمی خطرات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی 48 اہم سیاسی اور ملٹری شخصیات کو ہلاک کردیا ہے اور ایرانی قیادت کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب ہتھیار ڈال دیں۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے فرمانروا سے ٹیلی فون پر اسرائیل اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پر تبادلہ خیال کیا۔ جب کہ ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ متعدد گاڑیاں تباہ اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کردی ہے۔ تہران میں شدید بمباری کی اطلاعات ہیں، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضا دھوئیں سے بھر گئی۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نہایت نازک اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ تہران سے لے کر تل ابیب اور یروشلم تک فضا میں کشیدگی کی گھٹن محسوس کی جا سکتی ہے۔ حالیہ میزائل حملوں، جوابی کارروائیوں، دھماکوں، سائرنوں اور فضائی دفاعی نظام کی گھن گرج نے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائلوں کے نئے سلسلے اور اسرائیل کی طرف سے تہران اور دیگر شہروں میں بمباری نے نہ صرف دونوں ممالک کو براہِ راست تصادم میں دھکیل دیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اس بحران کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ زخمیوں کی اطلاعات، تباہ شدہ املاک، جلتی ہوئی گاڑیاں اور خوفزدہ شہری اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ جنگ کا پہلا اور سب سے بڑا نشانہ ہمیشہ عام انسان بنتا ہے۔
اس بحران کا ایک نہایت اہم اور ہولناک پہلو ایران کی اعلیٰ ترین قیادت میں اچانک تبدیلی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق نے ایران کے سیاسی و مذہبی نظام کو ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایرانی ریاستی ڈھانچے کی علامت سمجھے جانے والے رہنما کی غیر موجودگی نے داخلی استحکام کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ عبوری قیادت کونسل کا قیام، جس میں اعلیٰ ریاستی شخصیات شامل ہیں، تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش ہے، مگر ایسے وقت میں قیادت کی منتقلی جب بیرونی محاذ پر شدید جنگی دباؤ ہو، داخلی یکجہتی کو چیلنج کر سکتی ہے۔ ایران کے سرکاری بیانات میں جس شدت اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہ واضح کرتا ہے کہ تہران اس صورتحال کو وجودی چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے، خلیج فارس میں آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات اور امریکی بحری بیڑے کے خلاف کارروائی کے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازع اب صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اگر یہ آبی گزرگاہ غیر محفوظ ہو جاتی ہے تو توانائی کی قیمتیں بے قابو ہو سکتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں، مہنگائی کی شرح اور عالمی مالیاتی استحکام پر پڑے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے ملک بھر میں ایمرجنسی کی مدت میں توسیع اور سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کا سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی دفاعی نظام، خصوصاً میزائل شکن ٹیکنالوجی، اپنی جگہ مؤثر سہی، مگر مسلسل حملوں کی صورت میں اس کی صلاحیت بھی آزمائش میں پڑ سکتی ہے۔ مغربی یروشلم اور دیگر علاقوں میں سائرن بجنے کے بعد شہریوں کا بینکروں میں منتقل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ خوف روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک جدید ریاست کے شہریوں کو بھی جب بار بار پناہ گاہوں میں جانا پڑے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کی آگ سرحدوں سے آگے نکل چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے صورتحال کو مزید اشتعال انگیز بنا دیا ہے۔ ایرانی قیادت کو ختم کرنے کے دعوے، مزید طاقتور جواب کی دھمکیاں اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ سفارتی راستوں کو محدود کر رہا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ بیانات نے براہِ راست تصادم کو بڑھا دیا ہے، اگر امریکی فوجی تنصیبات یا مفادات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے تو امریکا کی جانب سے وسیع پیمانے کی عسکری کارروائی بعید از قیاس نہیں ہوگی۔
ایسے میں خطہ ایک بڑی طاقت کی براہِ راست مداخلت کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید اس امر کا اظہار ہے کہ اس وقت تہران داخلی اتحاد اور بیرونی مزاحمت کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ بحران کے ایسے لمحات میں اکثر ریاستیں مذاکرات کو کمزوری سمجھتی ہیں، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طویل جنگیں بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس مرحلے پر کوئی ایسا ثالث موجود ہے جو دونوں فریقوں کو تحمل اور تدبر کی طرف مائل کر سکے؟
علاقائی ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ اردن کی جانب سے احتجاج اور سفارتی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمسایہ ریاستیں اس کشیدگی کو اپنے لیے براہِ راست خطرہ سمجھ رہی ہیں۔ بحرین اور دیگر خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کی اطلاعات نے خلیجی سلامتی کے پورے نظام کو لرزا کر رکھ دیا ہے، یہ تنازع خلیجی ریاستوں تک پھیلنے کی صورت میں عالمی سطح پر اس کے اثرات کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔پاکستان کے لیے بھی یہ لمحہ آزمائش ہے۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح اجلاس اور ایرانی سرزمین سے پاکستانی شہریوں کے انخلاء کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام آباد صورتحال کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہے۔ پاکستان تاریخی، مذہبی اور سفارتی حوالوں سے ایران کے قریب رہا ہے، جب کہ خلیجی ممالک اور امریکا کے ساتھ بھی اس کے تعلقات اہمیت رکھتے ہیں۔
ایسے میں متوازن اور دانشمندانہ پالیسی اختیار کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ پاکستان کسی بلاواسطہ یا بالواسطہ تصادم کا حصہ نہ بنے۔ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنا پاکستان کے مفاد میں بھی ہے اور خطے کے امن کے لیے بھی۔اس بحران کا ایک اور پہلو اطلاعاتی جنگ ہے۔ دونوں اطراف سے ہلاکتوں اور نقصانات کے دعوے کیے جا رہے ہیں جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے۔ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ کارزار تک محدود نہیں رہتی بلکہ میڈیا، سوشل میڈیا اور بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہے۔ عوامی رائے کو ہموارکرنا، قومی جذبات کو ابھارنا اور عالمی برادری کی ہمدردی حاصل کرنا ہر فریق کی حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ ایسے میں ذمے دار صحافت کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے تاکہ افواہوں اور مبالغہ آرائی سے گریز کیا جا سکے۔
اگر موجودہ جنگ مزید پھیل جاتی اور مکمل جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے تو یہ خطے کے تزویراتی توازن کو یکسر بدل سکتا ہے۔ معاشی اثرات بھی کم سنگین نہیں ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہونا دنیا بھر کی معیشتوں پر اثر انداز ہوگا۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی قرضوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انسانی امداد، مہاجرین کا بحران اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی ایک نئے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ قیادت کے بیانات اور عوامی جذبات کے درمیان ایک نازک توازن ہوتا ہے۔ انتقامی بیانات وقتی طور پر قومی یکجہتی کو مضبوط کرتے ہیں، مگر طویل المدت امن کے لیے حکمت اور صبر درکار ہوتا ہے۔ جنگ کا آغاز اکثر جذبات کے زیرِ اثر ہوتا ہے مگر اس کا اختتام عقل و دانش سے ہی ممکن ہوتا ہے، اگر عالمی طاقتیں، علاقائی ریاستیں اور بین الاقوامی ادارے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات نہ کریں تو یہ بحران ایک وسیع تر تباہی میں بدل سکتا ہے۔
آج دنیا کو اس سوال کا سامنا ہے کہ کیا طاقت کے بل بوتے پر مسائل حل کیے جا سکتے ہیں یا پائیدار امن کے لیے مکالمہ ناگزیر ہے؟ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں، بغاوتوں اور بیرونی مداخلتوں کا شکار رہا ہے۔ ایک نئی اور ہمہ گیر جنگ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری جنگ بندی، ثالثی اور مذاکرات کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انسانی جانوں کا تحفظ، عالمی معیشت کا استحکام اور بین الاقوامی قانون کا احترام اسی میں مضمر ہے کہ جنگ کی آگ کو مزید بھڑکنے سے روکا جائے۔اگر اس نازک لمحے پر تدبر کا راستہ اختیار نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں اس غفلت پر کبھی معاف نہیں کریں گی۔ طاقت کا استعمال آسان ہے، مگر امن کی تعمیر صبر، حکمت اور باہمی احترام کا تقاضا کرتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو تباہی کے دہانے سے واپس لا سکتا ہے اور انسانیت کو ایک اور بڑے المیے سے بچا سکتا ہے۔
Today News
ضرورت پڑنے پر ایران میں اپنی فوج بھی اتار سکتے ہیں؛ ٹرمپ کی نئی دھمکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں امریکی برّی فوج کے اہلکاروں کی تعیناتی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سابق امریکی صدور کی طرح قطعی اعلان نہیں کرتے کہ کسی بھی صورت میں برّی فوج استعمال نہیں کی جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر حال میں برّی فوج نہیں بھیجی جائے گی لیکن اگر ضرورت ہوئی تو اسے خارج از امکان بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف سب سے بڑی شدت کے فضائی حملے ابھی نہیں کیے گئے۔ اصل بڑی لہر ابھی آنا باقی ہے جو جلد آئے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی اب تک کی بڑی لہر ہوگی جس میں بڑے پیمانے پر اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
انھوں نے آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے بارے میں بتایا کہ حملے کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ تہران میں ایک اجلاس میں موجود تھے۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں میں تقریباً 49 اعلیٰ ایرانی رہنما مارے گئے جن میں فوجی اور سکیورٹی قیادت کے افراد بھی شامل تھے۔
عرب ممالک کی شمولیت پر حیرت
امریکی صدر نے کہا کہ اس جنگ میں ایک بڑی غیر متوقع پیش رفت یہ رہی کہ ایران نے بعض عرب ممالک کو بھی نشانہ بنایا جس کے بعد وہ ممالک خود جنگ میں زیادہ سرگرم ہوگئے۔
ٹرمپ کے مطابق ابتدا میں ان عرب ممالک کا کردار محدود رہنے کا امکان تھا، تاہم حملوں کے بعد وہ خود اس تنازع میں شامل ہونے پر اصرار کر رہے ہیں۔
خامنہ ای کی جگہ کون لے گا؟
ایران میں نئی قیادت کے حوالے سے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ملک کا اگلا رہنما کون ہوگا۔
البتہ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کی موجودہ قیادت جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اب کافی دیر ہوگی۔ انھیں یہ فیصلہ ایک ہفتے پہلے کرلینا چاہیے تھا۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech7 days ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
prime minister visit austria focus trade investment economic cooperation
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا