Today News
خرابات فرنگ۔عجائبات فرنگ – ایکسپریس اردو
مصنف نے تو کتاب کا نام ’’خرابات فرنگ‘‘ رکھا ہے لیکن ہم نے اپنی طرف سے تھوڑا سا اضافہ کرکے اسے ’’عجائبات فرنگ‘‘ کا نام دیا ہے کیونکہ ہم نے ان میں خرابات فرنگ دیکھے ہیں اور بے اختیار جی چاہا کہ کاش ہم بھی وہاں موجود ہوتے ، ہم بھی چپ رہتے اور ہم بھی ہنس دیتے یا ڈاکٹر وحیدالرحمن ہوتے، ریٹائرڈ بریگیڈئر ہی سہی۔لیکن ہر مدعی کے واسطے داروسن کہاں۔یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا، یہ تھی ہماری قسمت۔نہ ہے اور نہ ہوسکے گی کہ ہمارا نصیبہ کسی نالائق پرائمری پاس بچے نے کوئلے سے لکھا ہے، پکی پٹوار سیاہی سے نہیں۔یہ درست ہے کہ اس کتاب میں ’’خرابات فرنگ‘‘ بھی بہت ہیں لیکن عجائبات بھی کم نہیں ہیں جن کے لیے ہم ترستے رہے ہیں، ترس رہے ہیں اور ترستے رہیں گے۔کچھ اور مت سوچیے بریگیڈئر صاحب اچھے خاصے پارسا تارسا آدمی ہیں۔اس لیے وہ باتیں اس میں نہیں ہیں جو عام طور پر سفرناموں اور سیاہ ناموں میں ہوتی ہیں۔وہ ایئرہوسٹس بھی اس میں نہیں ہیں جو صرف سفرنامہ لکھنے والوں کے انتظار میں ایئرہوسٹسیں بنی ہوتی ہیں کہ آئے گا، آنے والا۔
سب کی باراتیں آئیں میری بھی تم لانا
دلہن بنا کے مجھے اپنے گھر لے جانا
یا ہوٹلوں کی وہ ویٹرس جو اپنے اس ’’سیاہ‘‘ کو دیکھ کر یوں ریشہ خطمی ہوجاتی ہیں کہ جیسے زندگی میں پہلی بار کسی مرد کو دیکھاہو۔اور وہ بہت ساری جو صرف خود سپردگی پہنے ہوئے ہوتی ہیں حالانکہ ’’سیاہ صاحب ‘‘کی وہ تصویر جو کتاب میں چھپی ہوتی ہے اور فوٹوگرافی کی ناکامی کا بولتا ثبوت ہوتی ہے، دیکھ کر ایسا لگتا ہے جسے کسی نے کئی ریچھوں، بندروں اور گوریلوں کو مکس کرکے اور ان کا جوہرنکال کر آدمی کی شکل دی ہو۔اس کتاب میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ ’’ویسا‘‘ بہت کچھ ہے کہ جسے پڑھ کر انسان خجل ہوکر خود سے پوچنے لگے کہ ہمارے سدھرنے میں اور کتنے سال یا صدیاں لگیں گی۔یا یوں محسوس کرتا ہے جیسے ہم ابھی تک وحشت کے دور میں جی رہے ہوں۔وہاں کی حکومت، وہاں کا نظام،حقوق و فرائض کا توازن۔وہ اخلاق جن سے ہم یکسر محروم ہیں، پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی ایسے جنگل کے باسی ہیں جس میں درندے ہی درنرے دندناتے پھر رہے ہوں یا کسی جنگ میں نہتے پھنس گئے ہوں۔جہاں کہیں کچھ خرابات کا ذکر آیا بھی ہے تو اس سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ جو کچھ ہوتے ہیں یا ہیں، وہ چھپاتے نہیں۔دراصل خرابات فرنگ میں ایک خرابی یہ ہے کہ وہاں’’پردے‘‘ کا رواج نہیں ہے۔اس لیے سب کچھ بے پردہ کرتے ہیں اور ہم چونکہ پردے کے بہت پابند ہیں، اس لیے سب کچھ پردے میں کرتے ہیں، صرف خواتین ہی نہیں مرد بھی پردہ کرتے ہیں، صرف کباڑیوں کے ہاں خالی بوتلوں سے تھوڑا بہت اندازہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ ’’پردہ‘‘ کبھی کبھی اتنا سخت ہوجاتا ہیکہ لوگوں کو پوچھنا پڑتا ہے، نیچے کیا ہے یا پیچھے کیا ہے۔ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ پردے کے اتنے سخت تھے کہ لوگ ان کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ان کے گھر کے برتن سخت پردے میں رہتے ہیں، مجال ہے کہ اس کے گھر کی ’’پتیلی‘‘ بھی کسی غیر کے سامنے آئے۔یہ صرف پردے کا فرق ہے ورنہ وہ فارسی میں کسی نے کہا ہے کہ
ہر کہ دانا کند نادان
بعد از خرابی بسیار
مطلب جو وہاں ہوتا ہے وہ یہاں بھی ہوتا ہے۔ پردے سے یاد آیا ایک مرتبہ ایک نامانوس شہر گئے تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ایک جگہ ہم نے کچھ لوگوں کو گول دائرے میں بیٹھے دیکھا کہ کچھ کررہے ہیں۔لیکن کندھوں تک ایک پردے میں گھس کر۔ تجسس ہوا کہ صرف سر اور چہرہ چھپا کر یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ کوئی کھیل کھیل رہے ہیں یا بٹیر وغیرہ لڑا رہے ،جھانکا تو وہ لوگ چنے کھارہے تھے۔ اب اس سے زیادہ پردے کی پابندی کیا ہوگی۔ خرابا فرنگ صرف کتاب ہی نہیں آئینہ بھی ہے بلکہ آئینہ جہاں نماں کہیے کہ اس میں صرف فرنگ کا ذکر نہیں بلکہ ان کے رنگوں کا بھی ذکر ہے۔ یوں ہم اسے ظاہر کا نہیں باطن کا سفرنامہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ رحمان بابا نے کہا ہے کہ
نہ دزایہ چرتہ اوزم نہ سفر کڑم
بے سفرہ مے غوسیگی لار د عمر
ترجمہ۔میں نہ اپنی جگہ سے ہلتا ہوں نہ سفر کرتا ہوں لیکن سفر کیے بغیر بیٹھے بیٹھے عمر کا سفر طے ہورہا ہے۔ سفر طرح طرح کے ہوتے ہیں لٹو بھی سفر کرتا ہے لیکن اپنی جگہ سے ذرا بھی ہلے بغیر۔یا وہ بھی سفر ہوتا ہے جیسے عثمان ہارون کرتے تھے۔
سراپا پر سراپائے خودم از بے خودی قربان
زگرد مرکز خود صورت پرکار می رقصم
ترجمہ۔میرا وجود بے خودی میں خود اپنے وجود پر قربان ہورہا ہے کہ میں پرکار کی طرح اپنے مرکز کے گرد گھومتا ہوں۔ میں قلم فاونڈیشن کے علامہ عبدالستار عاصم کا ممنون ہوں کہ اکثر ایسی خاصے کی چیزیں بھجوادیتے ہیں۔ورنہ ہم تو کنویں کے مینڈک بن کر رہ جاتے، پتہ ہی نہ چلتا کہ دنیا کتنے’’ ڈانگ ‘‘ ہوگئی ہے جیسا کہ رحمان بابا نے کہا ہے ورنہ ہم تو بیٹھے بٹھائے اپنا سفر کررہے ہیں۔اب جناب وحیدالرحمن کی یہ کتاب لے لجیے اس میں انھوں نے ہمیں جتنے جہانوں کی سیر کرائی ہے، اتنی سیر ہم زرکثیر صرف کرکے بھی نہ کرپاتے
ایک گھونٹ میں نے پی
اور سیر دنیا کی
دیکھو میں کرکے آگیا
Today News
دبئی میں امریکی قونصل خانے پر ڈرون حملہ، آگ بھڑک اٹھی
دبئی:
متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب زور دار دھماکوں کے بعد آگ اور دھویں کے بادل دیکھے گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکہ کا قونصل خانہ دبئی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عمارت کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ آسمان پر سیاہ دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا۔
تاہم دبئی میڈیا آفس نے تصدیق کی ہے کہ ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
دبئی میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ فضائی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔
Today News
پارلیمنٹ کے ان کیمرا اجلاس کے لیے مولانا فضل الرحمن متحرک ہو گئے
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی لیڈران کے ان کیمرہ اجلاس کے معاملے پر سیاسی رابطوں میں تیزی آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزائی سے رابطہ کر کے انہیں اجلاس میں شرکت کا مشورہ دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اس سلسلے میں محمود خان اچکزائی سے تین مرتبہ رابطہ کیا۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بیرسٹر گوہر علی خان سے بھی رابطہ کیا اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی۔
اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) آج ہونے والے ان کیمرہ اجلاس میں شرکت کرے گی۔
مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ سینیٹر مولانا عطاء الرحمان اور سینیٹر کامران مرتضٰی بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
Today News
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی گھن گرج
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ خطہ جس نے گزشتہ ایک صدی میں سامراجی تقسیم، سرد جنگ، علاقائی تنازعات اور داخلی خلفشار کے کئی ادوار دیکھے،آج ایک نئی اور ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک کشمکش کے دہانے پر ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ عسکری تناؤ نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کو بھی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کشیدگی میں اسرائیل براہِ راست کردار ادا کر رہا ہے جب کہ عرب ریاستیں ایک پیچیدہ اور غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ جنگ ہو رہی ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ تصادم کس سمت جائے گا اور اس کے اثرات کہاں تک پھیلیں گے۔
ایران کے خلاف حالیہ حملوں نے ایران کے اندر ایک غیر متوقع داخلی اتحاد کو جنم دیا ہے۔ بیرونی حملے نے قومی بیانیے کو مضبوط کر دیا۔ تہران میں اب اس جنگ کو قومی خودمختاری اور بقا کی جنگ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ نئی ایرانی قیادت مذاکرات کی طرف مائل ہو سکتی ہے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کی حکمت عملی دوہری ہے ایک طرف بھرپور عسکری ردعمل، دوسری طرف مکمل ہمہ گیر جنگ سے گریز کا عندیہ ہے تاہم میدانِ عمل میں بڑھتی ہوئی کارروائیاں اس توازن کو کیسے برقرار رکھتی ہیں یہ وقت فیصلہ کرے گا۔خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اور اسرائیل کی سلامتی کا معاملہ اس کشمکش کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ایران نے حملوں کا دائرہ خلیجی ممالک تک وسیع کر دیا ہے ۔ یہ پیش رفت عرب دنیا کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ حکمران سفارتی توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر عوامی اضطراب واضح ہے۔
اس جنگ کا ایک نہایت اہم پہلو عالمی معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کی شہ رگ ہیں۔ ایران نے اس گزرگاہ کو بند کر دیا ہے جس نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ راستہ مستقل طور پر متاثر ہوتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، عالمی تجارت میں سست روی اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ یورپ اور ایشیا کی توانائی کی ضروریات بڑی حد تک اسی خطے سے وابستہ ہیں اس لیے اس بحران کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ عالمی طاقتوں کا ردعمل بھی قابلِ غور ہے۔ برطانیہ نے براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کا عندیہ دیا ہے جب کہ چین اور روس، جو خطے کے اہم سٹیک ہولڈرز ہیں بظاہر محتاط خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چین کی ایران میں بڑی سرمایہ کاری اور توانائی کے مفادات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ اس جنگ کو محدود دیکھنا چاہتا ہے۔ روس بھی خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اگر یہ تصادم پھیلتا ہے تو عالمی طاقتوں کی صف بندی ایک نئی سرد جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اسرائیل کا زاویہ نظر واضح ہے وہ ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور پیشگی حملے کی حکمت عملی پر یقین رکھتا ہے۔ شام، لبنان اور دیگر علاقوں میں ایران کے اثر و رسوخ کو بھی وہ اپنی سلامتی کے خلاف سمجھتا ہے۔ چنانچہ حالیہ جنگی کارروائیاں اسی سوچ کا تسلسل معلوم ہوتی ہیں۔ تاہم براہِ راست ایرانی ردعمل نے اس تصادم کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے جہاں روایتی فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ سائبر وار، ڈرون ٹیکنالوجی اور غیر روایتی حربے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔امریکا کی پوزیشن نہایت نازک ہے۔ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو یقینی بنانا چاہتا ہے مگر وہ ایک طویل اور مہنگی جنگ سے بھی گریزاں ہے۔ داخلی سیاسی دباؤ، معاشی ترجیحات اور عالمی ساکھ اس کی حکمت عملی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکا مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کرتا ہے لیکن اس کی عملی عسکری موجودگی اور حمایت اسرائیلی کارروائیوں کو تقویت دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری اور عسکری طاقت کے درمیان توازن قائم رکھنا سب سے بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ایران کے اندرونی حالات بھی اس منظرنامے میں اہم ہیں۔ بیرونی دباؤ وقتی طور پر قومی اتحاد کو مضبوط کرتا ہے مگر طویل جنگ اور اقتصادی پابندیاں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کو بڑھا سکتی ہیں۔ تہران کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں کہ وہ کہاں سختی دکھائے اور کہاں پسپائی اختیار کرے۔ تاہم موجودہ ردعمل سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ایران فوری طور پر دباؤ میں آنے والا نہیںہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر محدود حملوں اور غلط اندازوں سے شروع ہوتی ہیں۔ ایک میزائل، ایک ڈرون یا کسی فوجی اڈے پر حملہ پورے خطے کو بھڑکا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارت کار پسِ پردہ رابطوں میں مصروف ہیں۔ کوئی بھی طاقت نہیں چاہتی کہ یہ تصادم تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کرے کیونکہ اس کے اثرات عالمی طاقتوں کے توازن کو بدل سکتے ہیں۔
مسلم دنیا کے لیے یہ لمحہ جذباتی نعروں سے زیادہ سنجیدہ تدبر کا متقاضی ہے۔ فی الوقت یہ کہنا مشکل ہے کہ فریقین کب اور کیسے سفارتی میز پر آئیں گے۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں میں گھرا ہوا ہے۔ اگر تحمل، حکمت اور سنجیدہ سفارت کاری کو ترجیح نہ دی گئی تو یہ آگ سرحدوں سے نکل کر عالمی استحکام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ دنیا کی نظریں تہران، واشنگٹن اور تل ابیب پر مرکوز ہیں۔ آنے والے دن طے کریں گے کہ تاریخ ایک اور خونریز باب رقم کرتی ہے یا دانش مندانہ سفارت کاری ممکنہ تباہی کو ٹال دیتی ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Today News2 weeks ago
عمران خان سے ملاقات ہوتی تو صرتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی، بیرسٹر گوہر
-
Tech2 weeks ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Today News2 weeks ago
اسرائیل کی ویسٹ بینک پر قبضے کیلئے قانونی سازی، اقوام متحدہ کا سخت ردعمل سامنے آگیا
-
Today News2 weeks ago
پاکستان ٹیم کے دورہ بنگلادیش شیڈول سامنے آگیا
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition