Today News
خطے کی کشیدہ صورتحال: پاکستان اور مصر کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی مشاورت
اسلام آباد:
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے آج اسلام آباد میں مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ملاقات کی۔
نائب وزیرِ اعظم نے وزارت خارجہ آمد پر مصر کے وزیرِ خارجہ کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا۔ انہوں نے حالیہ اعلیٰ سطح تبادلوں، بالخصوص نومبر 2025 میں مصر کے وزیرِ خارجہ کے دورہ پاکستان کے بعد مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں وزراء نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں دوطرفہ طریقہ کار کو فعال بنانے، مشترکہ وزارتی کمیشن، اور کاروباری اداروں کے مابین روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے صحت کے شعبے بالخصوص ہیپاٹائٹس سی کے انسداد کے حوالے سے، مصر کی مسلسل معاونت کو سراہا اور اس شعبے میں جاری تعاون کا خیرمقدم کیا۔
فریقین نے دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے تربیتی تبادلوں اور دوسرے ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔
فریقین نے علاقائی و بین الاقوامی صورتحال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے تحمل، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر تے ہوئےغزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے جاری جارحیت کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے غزہ کے عوام تک انسانی امداد کی فراہمی میں مصر کے کردار کو سراہا۔
دونوں ممالک نے اقوامِ متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت کثیرالجہتی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں پاکستان اور مصر کے مابین قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔
مصر کے وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل ہے، جن میں 19 مارچ 2026 کو ریاض میں ہونے والی ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ یہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور مصر کے مابین قریبی ہم آہنگی کا مظہر ہے۔
Today News
وزیر اعظم کی موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو رجسٹریشن کےلیے سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ بچت مہم میں حکومت کا ساتھ دیں، غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور دفاتر و کام کی جگہوں پر ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح دی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی فیصلوں کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کے لیے مناسب مقدار موجود ہے اور حالیہ صورتحال میں عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں ممکنہ حد تک عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا۔
وزیراعظم کے مطابق تیل کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے 125 ارب روپے مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کے ذریعے فراہم کیے تاکہ عالمی کشیدگی کے اثرات سے عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومتیں موٹر سائیکلوں اور رکشہ مالکان کو رجسٹریشن اپنے نام پر کروانے کے لیے سہولیات فراہم کریں۔ اس اقدام سے ملک بھر کے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کا ڈیٹا ڈیجیٹائز ہوگا اور مالکان مستقبل میں حکومتی ریلیف سے مستفید ہو سکیں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد اور سپلائی چین کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا گیا ہے جبکہ اپریل کے لیے پیٹرول کی درآمد کا انتظام بھی مکمل ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں ایندھن کی فراہمی معمول کے مطابق ہے اور کہیں لمبی قطاریں یا بدانتظامی نہیں۔
اجلاس میں موٹر سائیکل اور رکشہ سواروں کے لیے مجوزہ فیول سپورٹ پروگرام کی ایپ پر بھی بریفنگ دی گئی، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سمیت وفاقی وزراء اور متعلقہ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
Today News
پی ایس ایل 11 تماشائیوں کے بغیر کرانے سے پی سی بی کو کتنا نقصان ہوگا؟
کراچی:
پاکستان کرکٹ بورڈ نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو محدود پیمانے پر صرف دو شہروں میں اور تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس فیصلے کے مالی اثرات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال اسٹیڈیمز میں شائقین کی آمد سے تقریباً 50 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی جو اب مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ ایسے میں یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اس خسارے کو کیسے پورا کیا جائے گا۔
پی ایس ایل کے مالیاتی نظام کے مطابق ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے ایک مرکزی ریونیو پول میں شامل کر دیا جاتا ہے جسے پی سی بی خود منظم کرتا ہے۔ اس پول میں براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔
ریونیو کی تقسیم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت ہوتی ہے، جس میں پی سی بی تقریباً پانچ فیصد سے کچھ زائد حصہ رکھتا ہے جبکہ 90 فیصد سے زیادہ رقم تمام فرنچائزز میں برابر تقسیم کی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر پی ایس ایل 8 (2023) میں مجموعی آمدن تقریباً 5.62 ارب روپے رہی، جس میں سے پی سی بی کو لگ بھگ 58 کروڑ روپے ملے جبکہ باقی رقم فرنچائزز میں تقسیم ہوئی۔ اس وقت لیگ میں چھ ٹیمیں شامل تھیں اور ہر ٹیم کو اوسطاً 84 کروڑ روپے کے قریب حصہ ملا تھا۔
چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی پول کا حصہ ہوتی ہے، اس لیے یہ نقصان تمام ٹیموں پر یکساں اثر ڈالے گا۔ تاہم پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس خسارے کو خود برداشت کرے گا۔
اگرچہ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہے لیکن شائقین کے بغیر میچز کا ماحول متاثر ہوگا جس کی کمی کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔
Today News
ایرانی حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنا مہنگا پڑ گیا، امارات میں 70 برطانوی شہری گرفتار
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں حکام نے ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے کے الزام میں برطانیہ کے 70 شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار افراد میں سیاح، یو اے ای میں مقیم برطانوی شہری اور فضائی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ بعض افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے، تاہم ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے ہیں تاکہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جا سکیں۔
رپورٹس کے مطابق اماراتی قوانین کے تحت حساس نوعیت کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا ہی نہیں بلکہ بعض صورتوں میں انہیں وصول کرنا بھی جرم شمار ہوتا ہے۔ ایسے جرائم پر 10 سال تک قید اور 2 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں ایران کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے۔
برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار برطانوی شہری دبئی میں مقیم تھے، تاہم ایران کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد ان میں سے بڑی تعداد واپس برطانیہ جا چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ گرفتاریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جنگی حالات میں خلیجی ممالک سیکیورٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں، اور سوشل میڈیا پر مواد شیئر کرنے کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Magazines1 week ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pumped up Pakistan face Bangladesh in ODI series decider – Sport
-
Sports2 weeks ago
Pakistan win toss, opt to bowl in final ODI against Bangladesh – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Entertainment2 weeks ago
Faiza Hasan Reveal’s Husband’s Reaction To Daughter Becoming Actress
-
Sports1 week ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport