Connect with us

Today News

خفیہ جیل میں گزرے آٹھ رمضان المبارک

Published

on


میرے سامنے ایک ایسی نئی کتاب پڑی ہے جسے دلکشا بھی کہا جا سکتا ہے ، دل افروز بھی اور ایمان پروربھی ۔ اِس نئی تصنیف کا عنوان ہے : اندھیری جیل کا قیدی !کتاب کا اشاعتی جمال بھی قابلِ دید ہے اور باطنی مواد بھی ۔ اِس کے مصنف بنگلہ دیش کے ممتاز اور نوجوان قانون دان، چالیس سالہ جناب بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان، ہیں ۔ مجھے یہ کتاب جماعتِ اسلامی کے معروف مصنف ، صحافی اور دانشور ،برادرم سلیم منصور خالد صاحب، نے تحفتاً بھیجی ہے ۔ پروفیسرسلیم منصور خالد صاحب چونکہ خود بھی کئی وقیع کتابوں کے مصنف ہیں اور جماعتِ اسلامی پاکستان کے ترجمان جریدے ’’ماہنامہ عالمی ترجمان قرآن ‘‘ کے مدیر بھی ، اس لیے اُن کے دل میں کتاب اور حرفِ مطبوعہ کا احترام اور ذوق و شوق فراواں پایا جاتا ہے۔وہ کئی کتابوں کے مرتّب کنندہ بھی ہیں اور فنِ اشاعت کی باریکیوں سے بھی خوب آشنا۔

بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کی تصنیف کردہ زیر نظر کتاب ( جو تقریباً تین سو صفحات کو محیط ہے) بھی جناب سلیم منصور خالد کی ترجمہ و ترتیب کردہ ہے۔ اِس تازہ بہ تازہ ،شاندار اور تاریخ ساز کتاب کی اہمیت و حیثیت یہ بھی ہے کہ مصنف بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی کے ایک معروف و سابق رہنما، میر قاسم علی مرحوم، کے بلند قامت صاحبزادے ہیں ۔ اُن کے والدِ گرامی ( میر قاسم علی) کو بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم (اور اب بھارت میں مفرور) ، شیخ حسینہ واجد، کی پندرہ سالہ استبدادی حکومت میں ایک جعلی، من گھڑت اور بے بنیاد مقدمے میں پھانسی کی سزا دے کر شہید کر دیا گیا تھا۔

میر قاسم علی شہید بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے اُن6 ممتاز اور اولو العزم رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہیں حسینہ واجد نے ذاتی و نظریاتی دشمن جان کر تختہ دار پر لٹکا دیا تھا۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ انگلستان اور مصر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کو اپنے والد صاحب کی پھانسی دیے جانے سے25روز قبل بنگلہ دیشی وزیر اعظم، حسینہ واجد، کے حکم پر بنگلہ دیشی سیکیورٹی فورسز نے زبردستی اغوا کیا اور پھر پورے 8برس اُنہیں قیدِ تنہائی میں رکھا ۔ اُن پر بے پناہ تشدد بھی کیا گیا اور اُن کے خاندان ، احباب اور عالمی میڈیا سے حسینہ واجد کی حکومت یہ کہہ کر مسلسل کذب بیانی کرتی رہی کہ’’ وہ نہیں جانتے کی احمد بن قاسم کو کس نے اغوا کیا ہے ۔‘‘اِس عرصے میں اُن کے خاندان پر کیا گزری ہوگی، اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

اِس کتاب ( ’’اندھیری جیل کا قیدی‘‘) کے مصنف مغوی حالت میں جیل ہی میں تھے کہ اُن کے والد صاحب کو پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا ۔ وہ اپنے والد سے آخری ملاقات سے بھی جبریہ محروم رکھے گئے ۔ اگست2024ء کو بنگلہ دیش میں زبردست طلبا تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہُوا، تب نئی حکومت ( جس کے سربراہ نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس تھے) نے مصنف کو عذابناک قیدِ تنہائی سے نجات دلائی ۔چونکہ یہ رمضان کا مبارک و مسعود مہینہ ہے ، اس لیے محترم بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کی لکھی گئی کتاب ’’ اندھیری جیل کا قیدی‘‘ کا وہ باب (خفیہ جیل میں پہلا رمضان) خاص طور پر پڑھنے کے قابل ہے۔

اِس باب میں اُنھوں نے جیل میں گزرے آٹھ سال کے دوران اپنے اوّلین ماہِ رمضان کی ایسی ایمان افروز رُوداد لکھی ہے جسے پڑھ کر آدمی کا ایمان بھی تازہ ہوتا ہے، دینِ اسلام پر یقینِ محکم بھی قوی تر ہو جاتا ہے اور قرآنِ مجید سے محبت و عقیدت بھی بڑھ جاتی ہے ۔ یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ عقوبتوں ،اذیتوں اور زندانوں میں رہ کر بھی مومن رمضان المبارک کی سعادتوں اور برکات سے کس طرح مستفید ہونے کی سعی کرتا ہے ۔ مصنف نے خفیہ جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں آٹھ رمضان پامردی اور صبر سے گزار ے ۔

 بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان نے زیر نظر کتاب میں بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم (شیخ حسینہ واجد) کی استبدادی حکومت کے دوران جیل میں گزرنے والے آٹھ برسوں میں اپنے پہلے رمضان المبارک کا ذکر اِن الفاظ میں کیا ہے :’’قید میں پہلے رمضان کی سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ میرے پاس قرآن نہیں تھا۔ مَیں اِس کی تلاوت سے سکون حاصل کرنے کے لیے ترس رہا تھا، لیکن یہ مجھ سے چھین لیا گیا تھا۔ قرآنِ کریم کے ایک نسخے کے لیے مَیں مسلسل دُعا کرتا رہا ، لیکن وہ کبھی نہ آیا‘‘۔ پھر لکھتے ہیں: ’’ سحری کے لیے مجھے جو کھانا ملتا تھا، وہ باہر کھڑے گارڈز کو ملنے والے کھانے کا بھی نصف ہوتا تھا۔ چونکہ ہمارے پاس گھڑی نہیں تھی ، اسلیے ظہر اور عصر کی نمازوں کے اوقات کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ باہر کھڑے گارڈز سے گزارش کی جاتی : بھئی، خدا کے لیے نمازوں کے اوقات ہی بتا دیا کرو ۔ وہ کبھی کبھار اشاروں میں بتا دیتے ۔ پہلی افطاری کے دن جو کھانا دیا گیا، اُس میں تین چار چمچ چنے ، ایک پکوڑا، اور ایک کھجور تھی ۔اِس پہلے افطار پر فیملی کی یاد نے میرے دل کو مزید بوجھل کر دیا۔ خاص طور پر میری دو معصوم بیٹیوں کی یاد ۔‘‘یہ منظر پڑھنے والے کو یقیناً اشکبار کر دیتا ہے۔

زیر نظر کتاب میں ایسے کئی مناظر ہمیں پڑھتے ہُوئے ملتے ہیں ۔زیر نظر کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’ حسینہ واجد کی حکومت کے دوران ،بنگلہ دیش کی جیلوں میں مذہب پسند قیدیوں کی نگرانی کے لیے ’’پڑوسی ملک‘‘ کے گارڈز بھی تعینات کیے جاتے تھے ۔ یہ اشارہ غالباً بھارت کی طرف ہے ۔ اِسی سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شیخ حسینہ واجد کے پندرہ سال استبدادی حکومتی دَور میں بھارت کہاں تک اور کس حد تک بنگلہ دیشی معاملات میں دخیل ہو چکا تھا۔ اِسی کا ردِ عمل ہُوا تو اگست2024ء میں حسینہ واجد کی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا گیا تھا۔ یہ کتاب بنگلہ دیش میں جبری گمشدگی کے آٹھ سال کی محض ایک سادہ سی کہانی اور کتھا نہیں ہے،بلکہ ذاتی تلخ ترین تجربات پر مشتمل یہ تصنیف دراصل حسینہ واجد کے دَور کی ایک مکمل تصویر ہے ۔ اِس تصویر میں ہم حسینہ واجد کی ایک ایسی بھیانک شکل ملاحظہ کر سکتے ہیں جو سوویت یونین کے زمانے میں متشدد رُوسی حکمرانوں کی جیلوں سے مشابہ ہیں ۔اُس دَور میں رُوسی حکمران اپنے سیاسی مخالفین کو سائبیریا کے برف زاروں میں بنائی گئی خوفناک جیلوں میں بھیج کر ظلم کی نت نئی کہانیاں مرتب کرتے تھے ۔

خدا کا شکر ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں جبری گمشدگی کی وارداتیں بھی تقریباً اپنے اختتام کو پہنچ گئیں ۔ اب بنگلہ دیش میں (12 فروری2026ء کے انتخابات کے بعد) ایک نیا سورج طلوع ہُوا ہے ۔ جناب طارق رحمن کی وزارتِ عظمیٰ کے تحت نئی حکومت بن چکی ہے ۔اور امیرِ جماعتِ اسلامی ، ڈاکٹر شفیق الرحمن، کی قیادت میں جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش(77سیٹوں کے ساتھ) پارلیمنٹ میں طاقتور حزبِ اختلاف بن چکی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیر نظر کتاب ( اندھیری جیل کا قیدی) کے مصنف، جناب بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان ،بھی ڈھاکہ سے جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم اور ’’ترازو‘‘ کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر پارلیمنٹ کے رکن بن چکے ہیں ۔ اُن کے ووٹروں نے اُنہیں اُن کی کمٹمنٹ اور جماعت سے وابستگی کا خوب صلہ دیا ہے ۔

زیر نظر کتاب ’’بنگلہ دیش میں گمشدگی کے آٹھ سال: اندھیری جیل کا قیدی‘‘کی قیمت750روپے ہے۔ اِسے ’’منشورات‘‘ نے شائع کیا ہے ۔ بنگلہ دیش کی سیاست و معاملات سے دلچسپی رکھنے والوں کو یہ تصنیف ضرور مطالعہ کرنی چاہیے ۔ یہ کتاب مطالعہ کے دوران ہمیں بار بار یہ باور کرواتی اور احساس دلاتی ہے کہ جب تشدد کا منظم ریاستی ڈھانچہ معرضِ عمل میں آتا ہے تو مجبورِ محض قیدیوں اور لاپتہ ہونے والوں کے لیے ملکی قوانین اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں ۔ اِس کے باوجود باہمت قیدی(اور اُن کے جملہ لواحقین) مایوس ہوتے ہیں نہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی سعی کرتے ہیں ۔ بلکہ قانون کے تمام معلوم دروازوں پر دستک دیتے رہتے ہیں ، تاآنکہ قدرت کوئی نہ کوئی دروازہ کھول ہی دیتی ہے ۔ جیسا کہ اگست2024ء میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی متشدد حکومت ختم ہُوئی تو کئی بے گناہ زندانیوں پر نجات کے دروازے بھی کھل گئے ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران پر حملہ – ایکسپریس اردو

Published

on


بالآخر امریکا اور اسرائیل اپنے منصوبے کے تحت ایران کو نشانہ بنا کر سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آج ایران سوگوار ہے، اپنے لیڈر کی شہادت پر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ ایران میں 7 دن کی عام تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد تین رکنی عبوری کونسل نے حکومتی اختیارات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ایرانی قیادت نے اپنے سپریم لیڈرکی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے، امریکا و اسرائیل کے خلاف جنگی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن کو نشانہ بنایا اور چار میزائل داغے ادھر اسرائیل میں تل ابیب دارالحکومت پر میزائل حملہ کر کے کم از کم 40 عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف خلیجی ممالک سعودی عرب، بحرین، قطر، ابوظہبی اور امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران میزائل حملے کر رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اگر یہ جنگ جلد نہ رکی تو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ ایران ہر صورت اپنے رہنما خامنہ ای کا بدلہ لے گا ادھر صدر ٹرمپ نے بھی علانیہ کہا ہے کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو ہم مزید طاقتور انداز میں جواب دیں گے۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ جنگ طویل ہو کر دو ماہ تک جا سکتی ہے۔

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور جنگ کے پھیلتے ہوئے خطرات پر دنیا بھر میں اظہار تشویش کیا جا رہا ہے۔ ہر دو ملک کی قیادت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کریں۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے جنگ شروع کرنے اور علی خامنہ ای کی شہادت پر چین، روس، برطانیہ سمیت عالمی برادری نے شدید مذمت کی ہے اور امریکا و اسرائیل کو اس کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

نہ صرف عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے بلکہ خود امریکا کے اندر بھی ایران پر حملے اور خامنہ ای شہادت کے حوالے سے بھی رائے عامہ تقسیم نظر آتی ہے۔ امریکا کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر حملہ اور علی خامنہ ای کو شہید کرنے کا انتہائی اقدام نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ امریکا میں ہونے والے ایک تازہ سروے کے مطابق 43 فی صد سے زیادہ امریکی ٹرمپ کی فوجی پالیسی سے ناخوش ہیں۔

امریکی عوام کی بڑی تعداد ٹرمپ کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال پر پریشان اور جنگی اقدام کی مخالف ہے۔ امریکا کی سیاسی قیادت اور دانشور حلقے اور صائب الرائے طبقے بھی ایران پر حملے کو غیر دانش مندانہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔ امریکی میڈیا بھی رائے عامہ کی تقسیم کو نمایاں کر رہا ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت پر نہ صرف ایران بلکہ پاکستان میں بھی فضا سوگوار ہے۔ صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے ایرانی عوام سے دلی ہمدردی کا اظہارکیا ہے۔ وزیر اعظم نے ایرانی صدر کو فون کرکے حملوں کی مذمت اور ایران کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہارکیا ہے۔

صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ایران کا ایٹمی پروگرام کسی صورت قبول نہیں وہ ہر قیمت پر نہ صرف ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کا خواہاں تھے بلکہ وہ ایران کی موجودہ قیادت کو تبدیل کرنا چاہتے تھے اور اپنی کٹھ پتلی حکومت لانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے گزشتہ سال جون میں بھی امریکا اسرائیل نے حملہ کیا اور B-2 بمبار طیارے کے ذریعے ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاکستان اور عرب ملکوں نے مداخلت کرکے جنگ رکوائی اور بات مذاکرات تک پہنچی۔ امریکا ایران کا مذاکراتی عمل جاری تھا۔

عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا دو دور ہو چکے تھے، عمانی وزیر خارجہ نے چار دن پہلے ہی یہ بیان دیا تھا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر امریکا سے مفاہمت کے لیے تیار ہے۔ یہ امید ہو چلی تھی کہ امریکا ایران جنگ کے بادل جلد چھٹ جائیں گے لیکن مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل نے مذاکرات کا بہانہ کرکے ایران پر حملے کی تیاری کے لیے وقت حاصل کیا اور جوں ہی تیاری مکمل ہوئی اور امریکی سی آئی اے نے جو علی خامنہ ای کی مسلسل نگرانی کر رہی تھی، یہ خبر دی کہ سپریم لیڈر اتوار کی صبح ایک اہم میٹنگ کے لیے اپنے دفتر میں موجود ہوں گے اور ایران کی ٹاپ لیڈرشپ سے بات چیت کریں گے۔ اس موقع کو غنیمت جان کر اسرائیل کے 200 طیاروں نے ایران پر حملہ کرکے علی خامنہ ای کو خاندان سمیت شہید کر دیا۔

صدر ٹرمپ کے بقول 48 اہم ترین ایرانی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایران کی فوجی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضہ کریں۔ جب ان سے اخباری نمایندے نے سوال کیا کہ آپ کا اصل ہدف خامنہ ای اور ایرانی ٹاپ لیڈر شپ ختم ہو چکی ہے۔ رجیم چینج کی خواہش پوری کرنے کے لیے اب ایران میں کون اقتدار سنبھالے گا تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں جو ہمارے حامی ہیں۔ لیکن ٹرمپ کو شدید مایوسی ہوتی ہوگی کہ ایرانی عوام نے اقتدار پر قبضہ کرنے کی ان کی اپیل کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا ہے۔ تہران کے انقلاب چوک پر ہزاروں ایرانی سوگوار اشک بار آنکھوں سے اپنے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا عزم و عہد کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

لاہور، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ہنی ٹریپ کرنے والا گینگ گرفتار

Published

on



لاہور:

ہنی ٹریپ کے ذریعے شہریوں کو بلیک میل کرنے والے ایک گروہ کا انکشاف ہوا ہے، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق نجی یونیورسٹی کے طالب علم ریاض حسین کے بیان پر مقدمہ درج کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ ملزمان نے ویڈیو کال کے دوران ایک لڑکی کی برہنہ ویڈیو چلا کر اس کی ویڈیو ریکارڈ کر لی اور بعد ازاں اسے اہلخانہ اور دیگر لوگوں کو بھیجنے کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔

مدعی کے مطابق ملزمان مسلسل رقم کا مطالبہ کرتے رہے اور دباؤ ڈال کر اس سے 40 ہزار روپے بھی وصول کیے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہنی ٹریپ گینگ میں ایک خاتون سمیت تین ملزمان شامل ہیں۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے ایس پی صدر ڈویژن کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹاسک دیا۔

ایس پی صدر ڈویژن رانا حسین طاہر کی نگرانی میں ایس ایچ او ٹاؤن شپ عدنان رشید اور پولیس ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے مصباح، اسد اور احمد نامی ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق ملزمہ مصباح فیس بک پر نوجوانوں کو ٹارگٹ کر کے ویڈیو کال کرتی تھی جبکہ دیگر ساتھی ویڈیو کال کے دوران برہنہ ویڈیو چلا کر متاثرہ شخص کی ویڈیو ریکارڈ کر لیتے تھے۔ بعد ازاں ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر رقم وصول کی جاتی تھی۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے متعدد افراد کو ہنی ٹریپ کے ذریعے بلیک میل کرنے کا انکشاف بھی کیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کا کہنا ہے کہ شہریوں کو بلیک میل کرنے میں ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

بجلی سبسڈی کیلیے ایک کھرب منظوری کی کوشش، آئی ایم ایف کا اعتراض

Published

on



اسلام آباد:

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان کی جانب سے بجلی کے شعبے میں تقریباً ایک کھرب روپے کی سبسڈی مختص کرنے کی تجویز پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔

اس رقم میں 400 ارب روپے سے زائد بجلی چوری اور نظام کی نااہلیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔

بجلی کے شعبے میں مسلسل مالی خسارے اور ہر سال بھاری بجٹ مختص کیے جانے سے حکومت کا یہ دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے کہ گزشتہ 2برسوں میں اس شعبے کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 2026-27 کے لیے بجلی سبسڈی کی مد میں تقریباً 990 ارب روپے درکار ہوں گے، جو رواں سال کے مقابلے میں 11 فیصد یا تقریباً 100 ارب روپے زیادہ ہیں۔

یہ اضافی 100 ارب روپے تقریباً اس رقم کے برابر ہیں جو حکومت بجلی صارفین سے کراس سبسڈی کے نام پر وصول کرتی ہے، جس کے تحت ماہانہ 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو رعایت دینے کے لیے دیگر صارفین سے فی یونٹ 7 سے 12 روپے تک اضافی وصول کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس بجٹ تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ سبسڈی کی رقم کو موجودہ مالی سال کے 893 ارب روپے سے کم رکھا جائے۔

پاور ڈویڑن کا موقف تھا کہ کے الیکٹرک کے قرضوں کی معافی اور گردشی قرضے پر زیادہ سودی ادائیگیوں کے باعث اضافی سبسڈی درکار ہوگی، خاص طور پر اس لیے کہ چین نے توانائی کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے، اس لیے صرف وزارت خزانہ ہی آئی ایم ایف سے ہونے والی بات چیت پر موقف دے سکتی ہے۔

موجودہ پروگرام کے تحت آئی ایم ایف گردشی قرضے کے بہائو  کی اجازت تو دے رہا ہے لیکن ایک مقررہ حد کے اندر۔

ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے اگلے مالی سال میں گردشی قرضے میں 500 ارب روپے سے زائد اضافے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ یہ اضافہ 300 سے 325 ارب روپے کے درمیان محدود رہے، جو رواں سال کی سطح سے بھی کم ہو۔

گزشتہ ماہ وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا تھا کہ بجلی چوری اور نظام کی نااہلی کے اخراجات ٹیرف میں شامل نہیں کیے جاتے بلکہ وزارت خزانہ انھیں سبسڈی کی صورت میں ادا کرتی ہے۔

تاہم یہ سبسڈی دراصل ٹیکس دہندگان ادا کرتے ہیں،گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے نے 606 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔وزیر توانائی نے میڈیا بریفنگ میں اعتراف کیا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی چوری اور کم وصولیوں کے باعث حکومت کو 497 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث نقصانات کم نہیں کیے جا سکے۔

تاہم ذرائع کے مطابق سندھ میں زیادہ نقصانات کے بارے میں آئی ایم ایف کے سوال کا پاور ڈویڑن کے پاس تسلی بخش جواب نہیں تھا۔حیدرآباد اور سکھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز کی مدت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت نئے بورڈ ممبران کی تقرری کے عمل میں ہے۔

ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے بجائے اب نیٹ بلنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت قومی گرڈ سے بجلی تقریباً 60 روپے فی یونٹ تک فروخت کی جائے گی جبکہ شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی 9 روپے فی یونٹ سے بھی کم قیمت پر خریدی جائے گی۔

حکومت نے گردشی قرضے کے مجموعی حجم کو کم کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.23 کھرب روپے کا نیا قرض بھی حاصل کیا ہے۔حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ گردشی قرضے کے بہائو  کو 2031 سے پہلے صفر تک لانا ممکن نہیں ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Trending