Today News
خلا میں آگ – ایکسپریس اردو
جب ہم آگ کا تصور کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں فوراً زمین کا وہ مانوس منظر آتا ہے جہاں شعلہ نیچے سے اوپر کی طرف لپکتا ہے، حرارت اٹھتی ہے، دھواں بنتا ہے اور ہوا کے بہاؤ کے ساتھ آگ پھیلتی یا بجھتی ہے۔ مگر جیسے ہی یہی آگ زمین کی کششِ ثقل سے آزاد کسی خلائی جہاز یا اسپیس اسٹیشن کے اندر بھڑکتی ہے تو اس کا رویہ یکسر بدل جاتا ہے۔
وہاں نہ ہوا کا وہ دباؤ ہوتا ہے جو شعلے کو اوپر کی سمت کھینچے، نہ گرم اور ٹھنڈی گیسوں کی وہ قدرتی درجہ بندی جو زمین پر آگ کے پھیلاؤ کا بنیادی سبب بنتی ہے۔ کم کششِ ثقل کے ماحول میں آگ ایک شعلے کی صورت نہیں بلکہ ایک گولے یا مدھم چمکتے ہوئے کرۂ نور کی طرح جلتی ہے، جس میں دہن کا عمل خاموش، سست اور غیرمتوقع ہو جاتا ہے۔ یہی غیرمتوقع حالت خلا میں آگ کو ایک سادہ حادثے کے بجائے ایک ممکنہ تباہی بنا دیتا ہے، کیوںکہ بند اور محدود ماحول میں آکسیجن، آلات اور انسانی جانیں ایک ہی جگہ سمٹ کر رہتی ہیں۔
سائنسی اصولوں کے مطابق آگ تین عناصر کے باہمی تعلق سے وجود میں آتی ہے: ایندھن، آکسیجن اور حرارت۔ زمین پر کششِ ثقل ان تینوں کے تعامل کو ایک خاص ترتیب میں رکھتی ہے۔ گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے، ٹھنڈی نیچے آتی ہے، اور اسی گردش سے شعلہ لمبا اور نوکیلا دکھائی دیتا ہے۔ خلا میں یہ ترتیب غائب ہو جاتی ہے۔ وہاں شعلے کے اردگرد گیسیں ساکن رہتی ہیں، آکسیجن شعلے تک قدرتی طور پر نہیں پہنچتی بلکہ آہستہ آہستہ پھیلتی ہے، جس کے نتیجے میں دہن ایک ہموار، گول اور نسبتاً کم درجہ حرارت پر جاری رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلا میں آگ کبھی کبھی بظاہر بجھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے مگر اندر ہی اندر دہن کا عمل جاری رہتا ہے، اور یہی پوشیدہ تسلسل سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ سائنس دانوں کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ جب آگ کی ظاہری علامات بدل جائیں تو اس کی شناخت، نگرانی اور بروقت تدارک کیسے کیا جائے۔
انسانی تجربے نے اس خطرے کی سنگینی کو بارہا اجاگر کیا ہے۔ خلائی تاریخ میں آگ کے واقعات کم ضرور ہیں، مگر ہر واقعہ ایک تلخ سبق بن کر سامنے آیا۔ اپولو مشن کے ابتدائی تجربات سے لے کر جدید اسپیس اسٹیشنز تک، ہر دور میں یہ احساس مزید گہرا ہوا ہے کہ خلا میں آگ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سوال ہے۔ خلانورد ایک بند ماحول میں رہتے ہیں جہاں نہ کھڑکیاں ہیں، نہ فوری انخلا کا راستہ، اور نہ ہی زمین جیسی فائر بریگیڈ۔ اگر آگ پھیل جائے تو چند لمحوں میں آکسیجن کی سطح بدل سکتی ہے، زہریلی گیسیں جمع ہو سکتی ہیں اور پورا مشن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر خلانورد کو آگ سے نمٹنے کی تربیت دی جاتی ہے، مگر تربیت تبھی مؤثر ہو سکتی ہے جب آگ کے رویے کو درست طور پر سمجھا جائے۔
اسی فہم کو گہرا کرنے کے لیے یورپی ریسرچ کونسل کی جانب سے بوربیگو اور تین دیگر یونیورسٹیوں کے سائنس دانوں کو تحقیقی گرانٹ دی گئی ہے۔ یہ محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ مستقبل کی خلائی آبادکاری کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ ان سائنس دانوں کی تحقیق کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کم کششِ ثقل میں آگ کس طرح جنم لیتی ہے، کیسے پھیلتی ہے، کن حالات میں خود بخود بجھ سکتی ہے اور کن حالات میں خاموشی سے تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ اس تحقیق میں جدید تجربہ گاہیں، خلائی تجربات اور عددی ماڈلز شامل ہیں، تاکہ ہر ممکن زاویے سے آگ کے رویے کو پرکھا جا سکے۔
ان کوششوں میں ایک نہایت دل چسپ اور انقلابی پہلو فرانسیسی یونیورسٹی کی وہ تحقیق ہے جو آواز کی لہروں کے ذریعے آگ بجھانے پر مرکوز ہے۔ زمین پر آواز کو عموماً مواصلات یا تفریح سے جوڑا جاتا ہے، مگر سائنسی اعتبار سے آواز دباؤ کی لہریں ہیں جو ہوا کے ذرات کو حرکت دیتی ہیں۔ خلا میں، جہاں روایتی فائر فائٹنگ کے طریقے جیسے پانی یا فوم محدود یا خطرناک ہوسکتے ہیں، آواز کی لہریں ایک نسبتاً محفوظ اور کنٹرولڈ متبادل بن سکتی ہیں۔ نظریہ یہ ہے کہ مخصوص فریکوئنسی اور شدت کی آواز شعلے کے اردگرد گیسوں کے بہاؤ کو اس طرح متاثر کر سکتی ہے کہ آکسیجن کی رسد منقطع ہو جائے اور دہن رک جائے۔ اگر یہ طریقہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ خلائی جہازوں کے اندر آگ سے نمٹنے کے تصور کو یکسر بدل سکتا ہے۔
یہ تحقیق اس لیے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے کہ ناسا نے حال ہی میں نئی خلائی گاڑیوں اور مستقبل کے اسپیس اسٹیشنز میں آکسیجن کی سطح 35 فی صد تک بڑھانے کی سفارش کی ہے۔ زیادہ آکسیجن انسانی صحت، آرام اور کارکردگی کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہے، مگر اس کے ساتھ آگ لگنے کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آکسیجن سے بھرپور ماحول میں ایک معمولی چنگاری بھی تباہ کن آگ میں بدل سکتی ہے۔ اس تضاد نے سائنس دانوں کو ایک مشکل سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے: انسانوں کے لیے زیادہ محفوظ اور آرام دہ ماحول کیسے فراہم کیا جائے، بغیر اس کے کہ آگ کے خطرے کو ناقابلِ قابو بنا دیا جائے۔
اس سوال کا جواب محض تکنیکی نہیں بلکہ سماجی اور اقتصادی پہلو بھی رکھتا ہے۔ خلائی مشنز اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوتے ہیں، جن میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ قومی وقار اور سائنسی مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوتا ہے۔ اگر آگ کے خطرے کو مؤثر انداز میں کم نہ کیا گیا تو نہ صرف مشنز کی لاگت بڑھے گی بلکہ عوامی اعتماد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر آگ کی نگرانی اور تدارک کے جدید طریقے کام یابی سے تیار ہوجاتے ہیں تو یہ خلائی صنعت کے لیے ایک نئی معاشی راہ کھول سکتے ہیں۔ نئے سینسرز، ساؤنڈ بیسڈ فائر سپریشن سسٹمز اور محفوظ ماڈیولز کی تیاری ایک پوری صنعت کو جنم دے سکتی ہے، جس کے اثرات زمین پر بھی محسوس ہوں گے۔
عالمی سطح پر اس تحقیق کے اثرات محض یورپ یا امریکا تک محدود نہیں رہیں گے۔ چین، روس اور دیگر خلائی طاقتیں بھی انسان بردار مشنز اور مستقبل کی خلائی بستیوں پر کام کر رہی ہیں۔ آگ سے نمٹنے کے جدید اصول اگر ایک جگہ کام یاب ہو جاتے ہیں تو وہ جلد یا بدیر عالمی معیار کا حصہ بن جائیں گے۔ اسی طرح مقامی سطح پر، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے لیے، یہ تحقیق ایک علمی سرمایہ بن سکتی ہے۔ خلائی سائنس میں شمولیت صرف راکٹ بنانے تک محدود نہیں، بلکہ ایسے بنیادی مسائل پر تحقیق بھی اس کا اہم حصہ ہے، جو عالمی تعاون کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔
فطری مظاہر کے تناظر میں دیکھا جائے تو آگ ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک دو دھاری تلوار رہی ہے۔ یہی آگ انسان کو سردی سے بچاتی ہے، کھانا پکاتی ہے اور صنعت کو چلاتی ہے، مگر یہی آگ بے قابو ہو کر جنگلات، شہر اور زندگیاں نگل لیتی ہے۔ خلا میں یہ دوہرا کردار اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ وہاں فطرت کے مانوس قوانین کام نہیں کرتے۔ کم کششِ ثقل میں آگ کا مطالعہ ہمیں نہ صرف خلا بلکہ زمین پر دہن کے بنیادی اصولوں کو بھی نئے سرے سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بعض سائنس دانوں کے نزدیک خلا میں آگ پر تحقیق دراصل زمین پر آگ کے زیادہ محفوظ اور مؤثر استعمال کے لیے بھی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
آنے والی دہائیوں میں جب انسان چاند پر مستقل قیام، مریخ پر قدم رکھنے اور شاید اس سے آگے بڑھنے کے منصوبے بنا رہا ہے، تو آگ کا مسئلہ ایک ثانوی خطرہ نہیں رہے گا بلکہ بنیادی چیلینج بن جائے گا۔ مریخ کے محدود وسائل، بند رہائشی ڈھانچے اور زمین سے فاصلے کو دیکھتے ہوئے کسی بھی حادثے کا فوری حل ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے آج کی یہ تحقیق دراصل کل کی بقا کی ضمانت بن سکتی ہے۔ سائنس دان اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ خلا میں آگ کو قابو میں رکھنا محض ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے اگلے مرحلے کی شرط ہے۔
یوں خلا میں آگ کا مطالعہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ کائنات میں قدم رکھنے کے لیے ہمیں نہ صرف ستاروں تک پہنچنے کی صلاحیت چاہیے بلکہ اپنے ساتھ لے جانے والے خطرات کو سمجھنے اور قابو کرنے کی دانش بھی درکار ہے۔ کم کششِ ثقل میں شعلے کا گول ہو جانا محض ایک سائنسی عجوبہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے کہ جیسے ہی ہم زمین سے باہر نکلتے ہیں، فطرت ہمیں نئے اصول سکھانے لگتی ہے۔ ان اصولوں کو سمجھنا، ان سے ہم آہنگ ہونا اور ان کے اندر محفوظ راستے تلاش کرنا ہی وہ علم ہے جو انسان کو واقعی ایک خلائی مخلوق بننے کے قریب لے جا سکتا ہے۔
خلائی آگ کے مسئلے کو سمجھنے میں ایک اور اہم زاویہ انسانی نفسیات اور عملِ ردعمل سے جڑا ہوا ہے۔ زمین پر آگ لگنے کی صورت میں انسان فطری طور پر شور، دھوئیں اور شعلوں کو دیکھ کر فوری خطرہ محسوس کرتا ہے، مگر خلا میں آگ کی خاموشی خود ایک فریب بن جاتی ہے۔ کم کششِ ثقل میں جلنے والی آگ نہ دھواں اْٹھاتی ہے، نہ تیز شعلہ بناتی ہے اور نہ ہی فوری طور پر حرارت کا وہ احساس دیتی ہے جو زمین پر خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ اس خاموش دہن کی وجہ سے خلانورد کو خطرے کا اندازہ تاخیر سے ہوتا ہے، اور یہی تاخیر کسی بھی بند خلائی ماحول میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق خلا میں آگ کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ وہ نظر سے زیادہ عقل کو دھوکا دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جدید تحقیق میں آگ بجھانے سے پہلے آگ کی شناخت اور نگرانی کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایسے سینسرز تیار کیے جا رہے ہیں جو صرف دھوئیں یا حرارت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ گیسوں کی کیمیائی ساخت، آکسیجن کے ارتکاز اور حتیٰ کہ آواز میں آنے والی باریک تبدیلیوں کو بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ کچھ تجربات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ دہن کے دوران مخصوص فریکوئنسی کی خرد ارتعاشات پیدا ہوتی ہیں، جنہیں اگر بروقت شناخت کر لیا جائے تو آگ کے پھیلنے سے پہلے ہی الارم دیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف خلا بلکہ زمین پر بھی خطرناک صنعتی ماحول، آبدوزوں اور زیرِزمین تنصیبات میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔
خلائی آگ کے مطالعے میں ایک اور نہایت اہم پہلو مواد کا انتخاب ہے۔ زمین پر استعمال ہونے والا بہت سا پلاسٹک، فائبر اور الیکٹرانک انسولیشن خلا میں مختلف انداز سے جلتا ہے۔ کم کششِ ثقل میں کچھ مواد زیادہ دیر تک دہکتے رہتے ہیں، کچھ زہریلی گیسیں زیادہ مقدار میں خارج کرتے ہیں، اور کچھ بظاہر محفوظ مواد بھی غیرمتوقع رویہ دکھاتے ہیں۔ اسی لیے سائنس داں اب خلائی مشنز کے لیے ایسے ’’اسمارٹ میٹیریلز‘‘ تیار کرنے پر توجہ دے رہے ہیں جو آگ لگنے کی صورت میں خودبخود دہن کی رفتار کم کردیں یا آکسیجن کے ساتھ ردعمل کو محدود کردیں۔ مستقبل کے خلائی اسٹیشن شاید ایسے مواد سے بنے ہوں جو آگ کے خلاف مزاحمت نہیں بلکہ آگ سے ذہانت کے ساتھ نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ان تمام سائنسی کوششوں کے پیچھے ایک گہرا انسانی خواب کارفرما ہے، یعنی خلا میں مستقل انسانی موجودگی۔ جب انسان چند دن یا ہفتے کے لیے خلا میں جاتا ہے تو خطرات محدود سمجھے جا سکتے ہیں، مگر جب بات مہینوں یا برسوں پر محیط قیام کی ہو تو ہر چھوٹا خطرہ ایک بڑے بحران میں بدل سکتا ہے۔ مریخ جیسے سیارے پر، جہاں واپسی فوری ممکن نہیں ہوگی، وہاں آگ کا ایک معمولی حادثہ پوری بستی کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے آج کی یہ تحقیق دراصل مستقبل کی خلائی بستیوں کے حفاظتی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہے۔
سماجی اور اقتصادی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو خلائی آگ کی تحقیق صرف خلانوردوں کے لیے نہیں بلکہ زمین کے عام شہری کے لیے بھی اہم ہے۔ جو ٹیکنالوجی خلا میں جان بچانے کے لیے تیار کی جاتی ہے، وہ اکثر زمین پر زیادہ محفوظ، مؤثر اور سستی صورت میں واپس آتی ہے۔ مثال کے طور پر بہتر فائر ڈیٹیکشن سسٹمز، کم آتش گیر مواد اور بغیر پانی کے آگ بجھانے کی تکنیکیں زمین پر ہسپتالوں، ڈیٹا سینٹرز اور تاریخی عمارتوں کے لیے غیرمعمولی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔ یوں خلا میں آگ پر تحقیق دراصل زمین پر زندگی کو بھی زیادہ محفوظ بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اسی تسلسل میں عالمی سطح پر تعاون کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ خلائی آگ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے ایک ملک یا ایک ادارہ اکیلے حل کر سکے۔ یورپی ریسرچ کونسل کی گرانٹ، فرانسیسی یونیورسٹی کی صوتی تحقیق، ناسا کی آکسیجن پالیسی اور دیگر ممالک کے تجربات سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ جب انسان کائنات کے بڑے چیلنجز کا سامنا کرتا ہے تو سرحدیں ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ علم کا یہ اشتراک ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو خلا میں محفوظ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
قدرتی مظاہر کے زاویے سے دیکھا جائے تو خلا میں آگ ہمیں کائنات کی اس خاموش مگر طاقت ور فطرت کا احساس دلاتی ہے جہاں ہر قانون نئے سیاق میں نیا مفہوم اختیار کر لیتا ہے۔ آگ، جو زمین پر زندگی کی علامت بھی ہے اور تباہی کی بھی، خلا میں ایک تجربہ گاہ بن جاتی ہے جہاں فطرت اپنے اصول بے نقاب کرتی ہے۔ سائنس دانوں کے لیے یہ مطالعہ محض اطلاقی نہیں بلکہ نظریاتی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیوںکہ اس سے دہن، حرارت کی منتقلی اور گیسوں کے رویے کے بنیادی قوانین کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
آنے والے برسوں میں جب انسان خلا میں مزید دور تک سفر کرے گا تو آگ کا مسئلہ محض ایک تیکنیکی باب نہیں رہے گا بلکہ خلائی تہذیب کے اخلاقی اور انتظامی سوالات سے بھی جڑ جائے گا۔ کیا ہم ایسے نظام بنا سکتے ہیں جو نہ صرف آگ کو بجھائیں بلکہ انسانی غلطیوں کو بھی کم کریں؟ کیا ہم خلائی ماحول میں ایسی ذمہ داری کا مظاہرہ کر سکتے ہیں جو زمین پر ہماری صنعتی تاریخ میں اکثر نظر نہیں آتی؟ ان سوالات کے جواب شاید اسی تحقیق میں پوشیدہ ہیں جو آج خاموش تجربہ گاہوں میں جاری ہے۔
یوں خلا میں آگ کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کائنات میں بقا کا سفر صرف طاقت اور ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ فہم، احتیاط اور دور اندیشی کا بھی امتحان ہے۔ جب ہم شعلے کو ایک گول کرۂ نور میں بدلتے دیکھتے ہیں تو دراصل ہمیں اپنی سوچ کو بھی زمین کے سیدھے شعلے سے نکال کر ایک وسیع، ہمہ گیر اور محتاط دائرے میں لانا پڑتا ہے۔ یہی وہ ذہنی تبدیلی ہے جو انسان کو ستاروں کے درمیان ایک مہمان سے مستقل باسی میں بدل سکتی ہے۔
جب خلا میں آگ کے مسئلے کو انسانی تمدن کے اگلے مرحلے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک تکنیکی یا سائنسی سوال نہیں رہتا بلکہ تہذیبی، سماجی اور اخلاقی جہت اختیار کر لیتا ہے۔ زمین پر انسان نے آگ کو قابو میں لا کر غاروں سے شہروں تک کا سفر طے کیا، مگر خلا میں یہی آگ دوبارہ انسان کی آزمائش بن کر سامنے آ رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار انسان فطرت کے ساتھ کسی غیرآباد سیارے پر نہیں بلکہ ایک ایسے بند مصنوعی ماحول میں برسرِپیکار ہے جو مکمل طور پر اس کی اپنی تخلیق ہے۔ خلائی جہاز یا اسپیس اسٹیشن میں آگ لگنے کا مطلب یہ نہیں کہ فطرت نے حملہ کیا، بلکہ یہ انسانی ڈیزائن، مواد، فیصلوں اور نظم و ضبط کا امتحان ہے۔
خلائی آگ کے خطرے نے منصوبہ بندی کے پورے فلسفے کو بدلنا شروع کردیا ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ خلائی مشن کیسے ممکن ہے، بلکہ یہ بن گیا ہے کہ خلائی زندگی کتنی محفوظ بنائی جا سکتی ہے۔ جب سائنس دان مریخ یا چاند پر مستقل انسانی موجودگی کی بات کرتے ہیں تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ وہاں کیسے پہنچا جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہاں روزمرہ زندگی کے چھوٹے مگر خطرناک عوامل کو کیسے قابو میں رکھا جائے۔ آگ، جو زمین پر ایک معمول کا خطرہ سمجھی جاتی ہے، خلا میں زندگی اور موت کے درمیان ایک باریک لکیر بن جاتی ہے۔
اس تناظر میں خلانوردوں کی تربیت بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ اب انہیں صرف یہ نہیں سکھایا جاتا کہ آگ لگنے پر کون سا بٹن دبانا ہے، بلکہ یہ بھی سکھایا جا رہا ہے کہ آگ کے غیر معمولی رویے کو کیسے پہچانا جائے۔ کم کششِ ثقل میں جلتی آگ کے ساتھ انسانی جبلت اکثر غلط فیصلہ کر بیٹھتی ہے، کیونکہ آنکھ وہی دیکھنا چاہتی ہے جس کی عادت زمین پر پڑچکی ہو۔ اسی لیے جدید تربیت میں ورچوئل ریئلٹی اور سیمولیٹرز کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے، جہاں خلانوردوں کو ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں جو حقیقی خلا میں پیش آ سکتے ہیں، تاکہ ان کا ذہن زمین کے بجائے خلا کے قوانین کے مطابق ردعمل دینا سیکھ سکے۔
معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو خلا میں آگ سے تحفظ ایک انتہائی مہنگی مگر ناگزیر سرمایہ کاری ہے۔ ہر اضافی سینسر، ہر محفوظ مواد اور ہر حفاظتی نظام مشن کی لاگت میں اضافہ کرتا ہے، مگر اس کے بغیر مشن کی کام یابی ہی خطرے میں پڑجاتی ہے۔ خلائی ادارے اب اس حقیقت کو تسلیم کرچکے ہیں کہ آگ سے تحفظ کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ یہی سوچ نجی خلائی کمپنیوں میں بھی سرایت کر رہی ہے، جو مستقبل میں خلائی سیاحت اور تجارتی اسٹیشنز کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں عام شہری بھی خلا کا سفر کریں گے، آگ کے خطرے کو کم سے کم سطح پر لانا نہ صرف سائنسی بلکہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری بھی بن جائے گا۔
عالمی سیاست اور خلائی مقابلے کے تناظر میں بھی یہ مسئلہ غیرمعمولی اہمیت اختیار کرلیتا ہے۔ ہر خلائی طاقت چاہتی ہے کہ وہ تیکنیکی برتری حاصل کرے، مگر آگ جیسے بنیادی خطرے سے نمٹنے میں ناکامی کسی بھی ملک کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی لیے اگرچہ خلائی میدان میں مسابقت موجود ہے، مگر آگ سے متعلق تحقیق میں تعاون کا رجحان بھی نمایاں ہے۔ مشترکہ تجربات، ڈیٹا کا تبادلہ اور بین الاقوامی معیار سازی اس بات کی علامت ہیں کہ کچھ خطرات ایسے ہیں جن کے سامنے قومی مفادات ثانوی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔
قدرتی سائنس کے اعتبار سے خلا میں آگ کا مطالعہ ہمیں دہن کے عمل کو ایک بالکل نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ زمین پر کششِ ثقل دہن کے بہت سے پہلوؤں کو چھپا دیتی ہے، مگر خلا میں یہ پردہ ہٹ جاتا ہے۔ سائنس دانوں نے دیکھا ہے کہ کم کششِ ثقل میں آگ زیادہ مکمل دہن کی طرف مائل ہو سکتی ہے، جس سے کم سیاہ دھواں بنتا ہے مگر زیادہ خطرناک گیسیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ یہ دریافتیں نہ صرف خلائی سائنس بلکہ زمین پر ایندھن کے زیادہ مؤثر اور صاف استعمال کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتی ہیں۔ یوں خلا میں جلنے والی ایک چھوٹی سی شمع بھی زمین پر صنعتی انقلاب کی نئی شکل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
انسانی نقطۂ نظر سے سب سے گہرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم خلا میں ویسی ہی بے پروائی دہرا سکتے ہیں جو زمین پر صنعتی ترقی کے دوران کی گئی؟ زمین پر آگ سے جڑی بہت سی آفات انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور فوری فائدے کی سوچ کا نتیجہ تھیں۔ خلا میں ایسی غلطیوں کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی لیے خلائی آگ پر تحقیق دراصل انسان کو ایک زیادہ ذمے دار اور محتاط تہذیب بننے کی تربیت بھی دے رہی ہے۔ یہ تحقیق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب ماحول مکمل طور پر انسان کے قابو میں ہو تو ہر ناکامی بھی انسان کی اپنی ذمے داری ہوتی ہے۔
سماجی سطح پر اس تحقیق کا ایک اور پہلو بھی ہے، جو اکثر نظرانداز ہوجاتا ہے۔ جب عوام خلا میں انسانی موجودگی کے خواب کو دیکھتے ہیں تو وہ عموماً راکٹ، ستارے اور نئے سیارے دیکھتے ہیں، مگر آگ جیسے خطرات انہیں اس خواب کی قیمت کا احساس دلاتے ہیں۔ سائنس دانوں کی ذمہ داری صرف تحقیق کرنا نہیں بلکہ اس علم کو عوام تک منتقل کرنا بھی ہے، تاکہ خلائی ترقی کو محض رومانوی تصور کے بجائے ایک سنجیدہ، محتاط اور مشترکہ انسانی منصوبے کے طور پر دیکھا جا سکے۔
خلا میں آگ کا تصور محض ایک سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسان کے اجتماعی مستقبل، اس کی تہذیبی توسیع اور زمین سے باہر بستیاں بسانے کے خواب سے براہِ راست جڑا ہوا سوال ہے۔ جب انسان زمین کی فطری حدود سے نکل کر خلا میں قدم رکھتا ہے تو وہ اپنے ساتھ صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں لے جاتا بلکہ اپنی کمزوریاں، خطرات اور فطرت کے ساتھ اس کا ازلی تصادم بھی وہاں منتقل ہو جاتا ہے۔ آگ اسی تصادم کی سب سے قدیم اور خطرناک علامت ہے، جو زمین پر انسان کی خدمت گزار بھی رہی اور اس کی تباہی کا ذریعہ بھی۔ خلا میں یہی آگ ایک بالکل نئے روپ میں سامنے آتی ہے، جہاں نہ کششِ ثقل کا سہارا ہے، نہ ہوا کے بہاؤ کا نظم، اور نہ ہی وہ فطری قوانین جو زمین پر آگ کو ایک حد میں رکھتے ہیں۔
مائیکرو گریوٹی میں آگ کی فطری ساخت تبدیل ہوجاتی ہے۔ شعلہ اوپر کی طرف لپکنے کے بجائے اپنے ایندھن کے گرد لپٹ جاتا ہے، ایک خاموش، نیلا اور بظاہر بے ضرر سا گولہ بن جاتا ہے، مگر یہی خاموشی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ زمین پر آگ کی آواز، دھواں اور لپکتی ہوئی شکل انسان کو فوری خبردار کر دیتی ہے، مگر خلا میں آگ نہ صرف دیر سے ظاہر ہوتی ہے بلکہ اس کے مضر اثرات بھی بتدریج اور خاموشی سے پھیلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان اب صرف آگ بجھانے پر نہیں بلکہ آگ کے جنم لینے کے ابتدائی لمحے کو پہچاننے پر توجہ دے رہے ہیں، تاکہ خطرہ بننے سے پہلے ہی اس کا سدِباب کیا جا سکے۔
یہاں انسانی عنصر سب سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ خلا میں موجود خلاباز نہ صرف مسافر ہیں بلکہ ایک محدود، بند اور انتہائی حساس نظام کا حصہ بھی ہیں۔ ایک چھوٹی سی آگ پورے خلائی اسٹیشن کی آکسیجن، بجلی، مواصلات اور زندگی کے نظام کو مفلوج کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی خلائی منصوبہ بندی میں آگ سے نمٹنے کے طریقے محض تیکنیکی مسئلہ نہیں رہے بلکہ انسانی نفسیات، تربیت اور فیصلہ سازی کا سوال بھی بن چکے ہیں۔ خلابازوں کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ وہ زمین کی عادتوں کو بھول کر خلا کی نئی حقیقتوں کے مطابق ردِعمل دیں، کیوںکہ خلا میں زمین جیسی فوری اور جذباتی کارروائی اکثر مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
اسی تناظر میں آواز کی لہروں کے ذریعے آگ بجھانے جیسے تصورات نہایت انقلابی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ طریقہ نہ صرف پانی یا کیمیائی مادوں کے بغیر آگ کو قابو میں لانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ خلا کے محدود وسائل کے عین مطابق بھی ہے۔ آواز کی مخصوص فریکوئنسی شعلے کے گرد موجود آکسیجن کے بہاؤ کو اس حد تک منتشر کر دیتی ہے کہ آگ خود بخود دم توڑ دیتی ہے۔ اگر یہ تحقیق عملی کامیابی تک پہنچتی ہے تو مستقبل کے خلائی جہازوں میں آگ بجھانے کے آلات خاموش، ہلکے اور ماحول دوست ہوسکتے ہیں، جو انسانی جانوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مشن کی بقا کو بھی یقینی بنائیں گے۔
معاشی اور سماجی زاویے سے دیکھا جائے تو خلا میں آگ سے متعلق تحقیق دراصل ایک بڑے سرمایہ کاری کے فیصلے کی علامت ہے۔ اربوں ڈالر کے خلائی مشن ایک لمحے کی غفلت یا ایک چھوٹے سے حادثے سے ناکام ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومتیں، خلائی ایجنسیاں اور نجی کمپنیاں اس میدان میں وسائل جھونک رہی ہیں۔ یہ تحقیق نہ صرف خلا کے لیے بلکہ زمین کے لیے بھی نئی راہیں کھول سکتی ہے، جہاں صنعتی تنصیبات، زیرِزمین کانوں، یا بند ماحول میں آگ بجھانے کے لیے انہی اصولوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یوں خلا کی تحقیق بالواسطہ طور پر زمینی معیشت اور انسانی تحفظ میں بھی کردار ادا کر رہی ہے۔
مریخ پر انسانی قدم رکھنے کا منصوبہ ان تمام مباحث کو ایک فیصلہ کن موڑ پر لے آتا ہے۔ مریخ کا ماحول زمین سے کہیں زیادہ خشک، سرد اور آکسیجن سے خالی ہے، مگر وہاں انسانی بستیاں قائم کرنے کے لیے مصنوعی آکسیجن، بند ڈھانچے اور توانائی کے نظام درکار ہوں گے۔ ایسے میں آگ کا خطرہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ پورے مشن کے وجود کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ اسی لیے سائنس دان آج ہی ان فطری مظاہر کو سمجھنے میں مصروف ہیں، جو کل مریخ کی سرخ مٹی پر انسان کی زندگی اور موت کا فیصلہ کریں گے۔
آخرکار، خلا میں آگ کی تحقیق انسان کی اس قدیم جدوجہد کا تسلسل ہے جس میں وہ فطرت کو سمجھ کر اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ آگ نے انسان کو غاروں سے نکال کر تہذیب کی دہلیز تک پہنچایا، اور اب یہی آگ خلا میں انسان کے اگلے قدم کی آزمائش بن چکی ہے۔ اگر انسان اس آزمائش میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ صرف سائنسی فتح نہیں ہوگی بلکہ اس بات کا اعلان بھی ہوگا کہ انسان زمین کے بعد کائنات میں بھی اپنی بقا کے اصول خود تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوگا جب آگ، جو کبھی خوف کی علامت تھی، ایک بار پھر انسان کے مستقبل کی روشنی بن جائے گی۔
Today News
مفاہمت ہی واحد آپشن – ایکسپریس اردو
پاکستان جن بڑے مسائل میں گھرا ہوا ہے، ان سے باہر نکلنے کے لیے واحد راستہ مفاہمت کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ایک طرف داخلی مسائل ہیں جن میں معاشی، سیکیورٹی اور دہشت گردی کے سنگین مسائل ہیں تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ جنگ ہے ،امریکا و اسرائیل کا ایران پر حملہ اور خلیجی ممالک تک اس جنگ کا پھیلاؤ ہے جو ہمارے لیے مختلف نوعیت کے چیلنجز کا باعث بن رہا ہے ۔یہ حالات فوری طور پر بہتر نہیں ہوں گے اور ان کے براہ راست اثرات ہم پر مرتب ہوں گے۔ایسے میں پاکستان کی قیادت کو زیادہ تدبر کے ساتھ موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ہمیںغیر معمولی فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
پاکستان کے سابق نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے بھی موجودہ صورتحال پر نہ صرف اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے بلکہ ان کے بقول قومی سیاست میں مفاہمت، مصالحت اور ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق رائے کی بنیاد پر آگے بڑھنے سے ہی ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام ممکن ہوسکے گا اور یہ ہی استحکام نیشنل سیکیورٹی کی ضمانت بھی بن سکتا ہے۔
ان کے بقول تمام فریقین کو مل کر مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کریں ۔یہ جو بھارت ، اسرائیل اور افغانستان پر مبنی گٹھ جوڑ ہے اور اس میں امریکا بھی شامل ہے، ایسے میں ہمیں زیادہ حکمت کے ساتھ اپنی پالیسی کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا جس میں سب ایک ساتھ کھڑے ہوں اور متفقہ طور پر حالات کا مقابلہ کریں ۔جنرل )ر(ناصر جنجوعہ نے جو باتیں کی ہیں اس میں فہم اور تدبر کی جھلک ہے۔لیکن سوال یہ ہی ہے کہ قومی مفاہمت کا عمل کیسے شروع ہوگا اور کیسے مکمل ہوگا؟
ادھر پی ٹی آئی کی کوٹ لکھپت جیل میں موجود قیادت نے بھی ایک خط کے ذریعے مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان کا یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ پارٹی کے بانی سے ان کی ملاقات کرا دی جائے تو ہم بات چیت کی مدد سے سیاسی راستہ نکال سکتے ہیں لیکن اس خط کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے ۔
اگرچہ حکومت میں شامل اتحادی پارٹیوں کی قیادت مطمئن ہے کہ موجودہ حالات میں بھی ملک بہتر چل رہا ہے اور بعض وفاقی وزرا کے بقول نہ تو ملک کی سطح پر کوئی سیاسی تقسیم ہے اور نہ سیاسی محاذآرائی یا سیاسی اور معاشی عدم استحکام ہے۔ ان کی سوچ اپنی جگہ ہے لیکن علاقائی اور عالمی حالات نے پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں لگتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو اس کا درست ادراک نہیں ہے۔اس حکومت نے حالات کی بہتری کے لیے جتنے بھی بڑے بڑے دعوے کیے تھے ، وہ تاحال تشنہ تکمیل ہیں۔ جنگی ماحول نے معیشت کے لیے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں ۔
مفاہمت اور مصالحت کی سیاست اسی صورت میں کامیاب ہوتی ہے جب سیاسی لچک پیدا کرکے درمیانی راستہ پیدا کیا جائے۔لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خطے کے حالات جلد نارمل ہوجائیں گے تو یہ اندازہ درست نہیں ہے کیونکہ ہمارے ارد گرد جو کھیل جاری ہے یہ محض طاقت کی حکمت عملی، ڈکٹیشن یا مسلط کردہ ایجنڈہ نہیں ہے بلکہ مستقبل کا لائحہ عمل ہے جو امریکا ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں نے تیار کیا ہے۔ ہم یہ مشق پچھلے تین برسوں سے دیکھ رہے ہیں، جس کا آغاز عراق ، یمن ، لیبیا، شام اور غزہ سے ہوا تھا اور یہ ایران تک پہنچ گیا ہے مگر ہم اب تک سوائے خاموش تماشائی کے اور کچھ نہیں کرسکے ۔ باتیں تو بہت کی جاتی ہیںمگر حکومت کا اپنا طرز عمل کیا ہے، اس کا جائزہ کون لے گا۔کیونکہ حکومت اندرونی طور پر سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور نہ علاقائی ماحول ٹھنڈا ہوا ہے۔ ایسے میں ٹکراؤ کا پیدا ہونا فطری امر ہے اور ہم مجموعی طور پر اسی بحران کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
حکمران طبقات کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ مشیروں کے گھیرے میں ہوتے ہیں توان کو سب اچھا لگتا ہے اور ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا اقتدار کافی مضبوط ہے اور ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے اور معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔لیکن ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی اقتدار پر گرفت آہستہ آہستہ کمزور ہورہی ہے اور ان کے اپنے اندر سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے ، معیشت جو پہلے بھی زیادہ اچھی نہیں تھی مزید کمزور ہو رہی ہے۔اب تھوڑا سا ملک کی سیاست پر بات ہوجائے۔حکومت کے اہم راہنما رانا ثنا اللہ کے بقول بانی پی ٹی آئی کو سیاسی ڈیل کی آفر کی گئی تھی لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ممکن ہو ایسا ہی ہو تاہم انھوں نے اپنی بات کی تردید بھی کردی ہے کہ کسی کو کوئی آفر نہیں کی گئی ، مفروضے کی حد تک یہ سوال بنتا ہے اگر کوئی آفرہوئی بھی تھی تو اس کا ایجنڈا اور نکات کیا تھے ؟تاکہ سب ہی جان سکیں کہ مفاہمت کے کھیل میںکس فریق کا کیا ایجنڈا ہے ۔
لیکن اب اس پر بات کرنے کا فائدہ اس لیے نہیں ہے کہ مبینہ ڈیل آفر کو کوئی فریق تسلیم نہیں کررہا ہے۔ بہرحال مسئلہ محض حکومت اور پی ٹی آئی کا نہیں ہے جیسے سابق لیفٹیننٹ جنرل)ر( اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ناصر جنجوعہ نے کہا ہے کہ ملک کی نیشنل سیکیورٹی کا براہ راست تعلق سیاسی اور معاشی استحکام سے جڑا ہوا ہے اور معاشی سطح کا استحکام بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ملک کے داخلی سیاسی حالات مستحکم ہوں گے۔ کیونکہ معیشت کی ترقی براہ راست سیاسی استحکام ہی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کا حکمران طبقہ حالات کو اپنی عینک سے دیکھتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نہ صرف سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے دوچار ہیں بلکہ ان حالات میں ہمارے لیے سیکیورٹی اور دہشت گردی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے اور اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
Today News
غزوۂ بدر – ایکسپریس اردو
نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم کے مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال سترہ رمضان المبارک کو غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ بدر ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تقریباً 120 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بستی بدر بن حارث سے منسوب ہے جس نے یہاں کنواں کھودا تھا یا بدر بن مخلد بن نصر بن کنانہ سے منسوب و مشہور ہے جس نے اِس جگہ پڑاؤ کیا تھا۔ بعض کہتے ہیں وہاں ایک بوڑھا شخص مدتوں سے رہتا تھا جس کا نام بدر تھا اِس بنا پر اِس بستی کو اِسی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔
غزوہ بدر اسلام کی تاریخ کا پہلا فیصلہ کن معرکہ ہے۔ قریش کا ایک قافلہ جو مکے سے شام کی طرف جاتے ہوئے نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم کی گرفت سے بچ نکلا تھا، یہی قافلہ جب مکہ واپس آنے لگا تو رسول اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ بن عبیداللّہ اور سعید بن زید رضی اللّہ عنہما کو اس کا پتا لگانے کے لیے روانہ فرمایا۔ یہ دونوں حضرات مقام حورا تک جا پہنچے اور رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کو قافلے کی اطلاع دی۔ قریش کے اس قافلے میں بہت زیادہ سازوسامان تھا۔ ایک ہزار اونٹ تھے، جن پر کم از کم پچاس ہزار دینار تھے لیکن اس کی حفاظت کے لیے صرف چالیس افراد تھے۔ یہ اہلِ مدینہ کے لیے ایک بہترین موقع تھا کہ مالِ غنیمت حاصل کرلیا جائے۔ چناںچہ صحابہ کرامؓؓ کو نکلنے کا حکم دیا گیا لیکن کسی پر پابندی عائد نہیں کی گئی، کیونکہ بہت بڑی جنگ کا ارادہ نہ تھا۔
مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جن میں ستتر (77) مہاجرین تھے اور دو سو چھتیس (236) انصار تھے۔ اِن تین سو تیرہ (313) میں سے آٹھ صحابہ کرام وہ تھے جو کسی عذر کی بنا پر میدانِ بدر میں حاضر نہ ہوسکے مگر اموالِ غنیمت میں ان کو حصہ عطا فرمایا گیا۔ ان میں سے تین مہاجرین تھے ایک امیرالمومنین حضرت سیدنا عثمان بن عفانؓ تھے جو حضورصلی اللّہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنی زوجہ محترمہ حضرت سیدہ بی بی رقیہؓ کی علالت کی وجہ سے تیمار داری میں رکے تھے۔ دوسرے حضرت سیدنا طلحہؓ اور حضرت سیدنا سعید بن زید ؓتھے جو مشرکین مکہ کے قافلے کی جستجو میں گئے تھے۔ اِن کے علاوہ پانچ انصار تھے۔ اِس غزوہ میں مسلمانوں کے پاس صرف 2 گھوڑے، 70 اونٹ 6 زرہیں اور8 شمشیریں تھیں۔ گھوڑے حضرت زبیرؓ بن عوام اور حضرت اسود کندی ؓ کے پاس موجود تھے۔ ایک ایک اونٹ پر تین تین افراد کو سوار کیا گیا جو باری باری بیٹھتے تھے۔ چناںچہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم حضرت سیدنا علیؓ اور حضرت مرثد غنوی ایک اونٹ پر اور حضرت سیدنا ابوبکرصدیقؓ، حضرت عمروؓ اور حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ دوسرے پر باری باری سوار ہوتے تھے۔
؎تھے ان کے پاس دو گھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں
پلٹنے آئے تھے یہ لوگ دنیا بھر کی تقدیریں
نہ تیغ و تیر پہ تکیہ، نہ خنجر پر نہ بھالے پر
بھروسا تھا تو اِک سادی سی کالی کملی والے پر
(حفیظ جالندھری)
قافلہ کفار کی صورتِ حال یہ تھی کہ ابوسفیان (جو فتح مکہ کے بعد ایمان لے آئے اور صحابیؓ کے درجے پر فائز ہوئے) جو کہ حد درجہ محتاط تھا۔ قدم قدم پر وہ خبریں وصول کرتا اور پیش قدمی کرتا رہا۔ ابوسفیان نے ایک قاصد مکے کی جانب بھیجا، جس نے مکے والوں کو مدد کے لیے پکارا۔ چوں کہ قافلے میں سب کا کچھ نہ کچھ سامان موجود تھا تو اس لیے مدد کے لیے ہر گھر سے کوئی نہ کوئی نکلا۔ سوائے ابولہب کے جس نے اپنے مقروض کو جنگ میں بھیجا، تقریباً سبھی بڑے بڑے سردار اس میں شامل تھے۔ ابوسفیان نے بعد میں یہ خبر بھیجی کے قافلہ بچ نکلا ہے اور مدد کے لیے نہ آئیں۔ لیکن ابوجہل ایک متکبر شخص تھا، اس نے کہا آج ہم مسلمانوں کو سبق سکھا دیں گے۔ قریش مکمل تیاری کے ساتھ نکلے تھے۔ ابتدا میں تعداد تیرہ سو تھی۔ ایک ہزار گھوڑے تھے اور اونٹ کثیر تعداد میں موجود تھے، اس لیے ان کی تعداد معلوم نہ ہوسکی۔ قریش کی بنو بکر سے دشمنی چل رہی تھی۔ انھیں مکے پہ حملے کا خدشہ محسوس ہوا۔ لیکن شیطان مردود، سردارِ کنانہ سراقہ بن مالک کی شکل میں آیا اور کہا: میں بھی تمہارا رفیق کار ہوں، اور اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ بنو کنانہ تمہارے خلاف کوئی بھی ناگوار کام نہ کریں گے۔ یہ سن کے مکہ والوں کے حوصلے بلند ہوئے اور وہ ابوجہل کی قیادت میں جنگ کے لیے روانہ ہوئے۔
ادھر رسول اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے حالات کا بغور مشاہدہ کیا تو یہ محسوس کیا کہ اب ایک عظیم الشان ٹکر ہونے والی ہے۔ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے مجلس شوری بلائی اور عام آدمیوں اور کمانڈروں کے ساتھ اظہارِخیال کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمررضی اللّہ عنھما نے نہایت اچھی بات کہی۔ حضرت مقداد بن عمرو ؓکچھ اس طرح گویا ہوئے:’’خدا کی قسم! ہم آپ صلی اللّہ علیہ وسلم سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہی تھی کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہیں بیٹھے ہیں۔‘‘ چوں کہ یہ سب مہاجر تھے تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ انصار بھی کچھ کہیں، تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ مجھے مشورہ دو۔ حضرت سعد بن معاذؓؓ نے یہ بات بھانپ لی۔ انھوں نے کہا: ’’ہم نے تو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آپ جو کچھ لائے ہیں سچ ہے اور ہم نے آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کو سمع و اطاعت کا عہد و میثاق دیا ہے، لہٰذا یارسول اللّہ! آپ کا جو ارادہ ہے اس کی طرف پیش قدمی جاری رکھیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کے ساتھ سمندر میں بھی کود جانا پڑا تو کود جائیں گے۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔‘‘ حضرت سعدؓ کی یہ بات سن کر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آپ پر نشاط طاری ہوگئی۔ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو اور خوشی خوشی چلو۔
لشکرِاسلام نے بدر کے نزدیک ایک چشمے پر پڑاؤ ڈالا۔ رات کو اللّہ تعالی نے بارانِ رحمت کا نزول فرمایا، جو کافروں پر موسلا دھار برسی لیکن مسلمانوں پر پھوار بن کر برسی اور انہیں پاک کردیا۔
ریت پر قدم جمنے کے قابل ہوگئے۔ لشکراسلام نے بدر کے قریب ترین چشمے پر قدم جمالیے اور باقی سارے چشمے بند کردیے۔ اس کے بعد حضرت سعد ؓکے مشورے پر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کے لیے ایک چھپر تعمیر کیا گیا۔ اس پر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے انہیں دعا دی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے لشکر کی ترتیب فرمائی اور میدان جنگ میں تشریف لے گئے اور فرماتے رہے کہ یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہے اور یہ فلاں کی۔
17رمضان المبارک 2 ہجری کا دن تھا۔ لشکر اسلام اور لشکر کفار آمنے سامنے ہوئے۔ ایک طرف ایک ہزار کا لشکر اور سازوسامان سے بھرپور اور دوسری طرف 313 اور صرف دو گھوڑے اور ستر اونٹ۔
صحابہ کرامؓؓ کا ایمانی جذبہ تھا کہ تعداد میں کمی کو نہیں دیکھا بلکہ اپنے ایمان کی حرارت کو دیکھا ۔ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے میدانِ جنگ میں صفیں درست فرمائیں۔ پھر جب صفیں درست ہوچکیں تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنگ تب تک شروع نہ کرنا جب تک آخری ااحکام موصول نہ ہوجائیں۔
اس معرکے کا پہلا شکار اسودبن عبد الاسد مخزومی تھا۔ یہ بڑا اڑیل اور طاقت ور تھا، یہ کہتا ہوا نکلا کہ اللہ کی قسم! میں ان کے حوض کا پانی پی کر رہوں گا، یا اسے ڈھا دوں گا یا اس کے لیے جان دے دوں گا۔
سید الشہداء حضرت حمزہ ؓنے اسے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ اس سے جنگ بھڑک اٹھی۔ اس کے بعد قریش کے تین بڑے سردار عتبہ، شیبہ اور ولید نکلے۔ انہوں نے مسلمانوں کو للکارا تو مقابلے میں رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارثؓ ، حضرت حمزہؓ اور حضرت علی ؓ کو بھیجا۔ حضرت حمزہ ؓاور حضرت علی ؓ نے فورا اپنے شکار کو ختم کر دیا لیکن حضرت عبیدہؓ کے ساتھ بھر پور مقابلہ ہوا۔ دونوں اپنے شکار سے فارغ ہوکر حضرت عبیدہ ؓکے شکار کی جانب لپکے اور اسے بھی قتل کردیا۔ حضرت عبیدہ ؓکو زخم آئے اور آواز بند ہوگئی، بعد میں اسی زخم سے واپسی پر آپ کی شہادت ہوئی۔
فضائے بدر کو اک آپ بیتی یاد ہے اب تک
یہ وادی نعرہ توحید سے آباد ہے اب تک
اس کے بعد کفار نے یک بارگی حملہ کردیا ان کے حواس کھو چکے تھے کیوںکہ ان کے تین بڑے سردار مارے جا چکے تھے۔ دوسری طرف مسلمان اللّہ تعالٰی کی مدد و نصرت سے پر سکون تھے۔
رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: یااللّہ! تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ یااللّہ! میں تجھ سے تیرے وعدے کا سوال کرتا ہوں۔
اللّہ تعالٰی نے ایک ہزار فرشتے مدد کے لیے نازل فرمائے۔ صحابہ کرام ؓفرماتے ہیںکہ ہماری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کفار کی گردن کٹ چکی ہوتی تھی اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ قتل کسی اور نے کیا ہے۔ جنگ میں کفار کا لشکر تتر بتر ہوگیا۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ روایت کرتے ہیں کہ میرے اردگرد دو نو عمر سپاہی تھے۔ ایک کا نام معاذ اور دوسرے کا معوذ تھا، انہوں نے مجھ سے ایک دوسرے کو چھپاتے ہوئے ایک ہی بات پوچھی کہ چچا ابوجہل کدھر ہے؟ میں نے ابوجہل کی طرف اشارہ کردیا۔ دونوں اس کی طرف لپکے اور ابوجہل کو قتل کردیا۔ حضرت معوذ اسی معرکے میں شہید ہوئے۔
رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے جنگ کے اختتام پر فرمایا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ صحابہؓ ابوجہل کو ڈھونڈنے نکلے۔ حضرت عبداللّہ ابن مسعود ؓنے دیکھا کہ ابوجہل کی سانسیں ابھی چل رہی ہیں۔ آپ نے ابوجہل کا سر کاٹا اور رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے نعش دکھاؤ، نعش دیکھ کر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ میری امت کا فرعون ہے۔‘‘
جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ کفار کے ستر افراد قتل اور ستر قید ہوئے۔ 14صحابہ کرام رضوان اللّہ علیہم اجمعین نے جامِ شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہوگئے۔
ہمیں اس معرکے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے آج ہمارے پاس سب کچھ ہے جدید ٹیکنالوجی موجود ہے لیکن اگر نہیں ہے تو بس وہ 313 جیسا لشکر و ایمان نہیں ہے۔
؎ہتھیار ہیں اوزار ہیں افواج ہیں لیکن
وہ تین سو تیرہ کا لشکر نہیں ملتا
اگر ایمان بدر والوں جیسا ہوتو فرشتے اب بھی مدد ونصرت کو آسکتے ہیں
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
Today News
ٹرمپ کے اہداف! – ایکسپریس اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش کے مطابق ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہادت کے بعد ’’رجیم چینج‘‘ کی کوئی صورت بنتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ نہ ہی ٹرمپ کے مطالبے پر ایرانی عوام نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضے کا ٹرمپ کا خواب شرمندہ تعبیر کیا بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ایرانی عوام اپنی تاریخ کو دہراتے ہوئے امریکا و اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گئے۔
گزشتہ دس روز سے جاری جنگ کے دوران امریکا و اسرائیل نے ایران پر شدید بمباری کرکے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ کے بقول ایران کا دفاعی نظام تباہ کر دیا ہے، سب کچھ ختم ہو چکا ہے اور جلد ایران یہ جنگ ہار جائے گا، لیکن بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ کیوں کہ ایرانی میزائل نظام اب بھی پوری سرعت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
ایران نے اسرائیل پر ہائپر سونک میزائل سے حملے کرکے امریکا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکا اس کی میزائل قوت کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا ہے۔ امریکی فوجی ماہرین کے مطابق ایران کے ہائپر سونک میزائل 9,000 سے 11,000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور انھیں روکا نہیں جا سکتا اور یہ میزائل ٹرکوں سے داغے جاتے ہیں۔ امریکی ماہرین اس جنگ کو مشکل قرار دے رہے ہیں۔ امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دنیا بھر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے سربراہ نے ایران کے خلاف جنگ کو غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔
امریکا نے گزشتہ ربع صدی کے دوران افغانستان سے لے کر عراق تک اور لیبیا سے لے کر شام تک غیر ضروری جنگوں کا آغاز کیا۔ صدر ٹرمپ اپنے مختلف انٹرویوز میں خود ان جنگوں کو امریکی صدور کے غلط فیصلے اور پاگل پن قرار دے چکے ہیں۔ 2001 ء میں سانحہ نائن الیون کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ پاکستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکیاں دے کر عالمی جنگ میں ’’فرنٹ لائن اتحادی‘‘ بننے پر مجبور کیا۔
یہ جنگ افغانستان میں لڑی گئی۔ 20 سال جاری رہنے والی اس جنگ میں 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور امریکا کو ڈھائی کھرب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرنا پڑی، اس کے باوجود امریکا کو افغانستان سے پسپا ہو کر عالمی رسوائی و بدنامی کا داغ لیے نکلنا پڑا۔ صدر بش نے 2003 میں عراق میں صدام حسین پر یہ جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگا کر کہ وہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے عراق پر حملہ کر دیا جس میں تین لاکھ کے لگ بھگ لوگ مارے گئے، صدام حسین کو معزول کرکے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ امریکا نے لیبیا میں مداخلت کرکے معمر قذافی کو اقتدار سے بے دخل کیا اور شام میں مداخلت کرکے اسد حکومت کا خاتمہ کیا۔ اب ایران کو تختہ مشق بنا لیا ہے۔امریکا اور اس کے بغل بچہ ملک اسرائیل کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ملکوں میں اپنی مرضی کی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرکے ان کے تیل کی ذخائر پر قابض ہو جائیں اور عرب ممالک کے حکمران ان کے مطیع و فرماں بردار بن کر ان کے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ نہ بنیں اور خودمختار فلسطینی ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں۔
ٹرمپ کا فلسطین کے حوالے سے امن بورڈ اسی صیہونی منصوبے کی کڑی ہے۔ انڈونیشیا کے صدر پر ابووو نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر امن بورڈ خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام سے پیچھے ہٹا تو امن بورڈ سے نکل جائیں گے۔ اس ضمن میں پاکستان، سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں نے ابھی اپنا پالیسی موقف واضح نہیں کیا تاہم صورت حال کا تقاضا تو یہی ہے کہ پاکستان اور دیگر عرب ممالک بطور احتجاج ٹرمپ کے امن بورڈ سے نکل جائیں۔ بالخصوص ٹرمپ کو امن بورڈ دینے کی سفارش کا کوئی جواز نہیں۔ کیوں کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے بعد اب کیوبا کو اپنا اگلا ہدف بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ گویا وہ اپنے دعوے کے مطابق دنیا میں جنگیں رکوانے کی بجائے نئی جنگوں کا آغاز کر رہے ہیں اور اس کا اتحادی اسرائیل قدم قدم پر امریکا کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایران کے بعد اسرائیل نے اب لبنان پر حملے شروع کر دیے ہیں جو اس امر کا عکاس ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ کے دائرہ کو وسیع کر رہے ہیں جو تیسری عالمی جنگ کے آغاز کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔امریکا ایران جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں کریش کر گئی ہیں۔ ایران نے دنیا کو 40 فی صد تیل فراہم کرنے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ قطر نے ایل این جی کی فراہمی روک دی ہے۔ خلیجی ممالک کی قومی معیشتیں دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔ امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک امریکا سے اپنے تجارتی معاہدے ختم کرنے اور سرمایہ نکالنے پر غور کر رہے ہیں جس کے باعث امریکا میں تقریباً 2 ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
پاکستان پر بھی جنگ کے منفی اثرات پڑنا شروع ہو گئے ہیں اور ملک میں توانائی کا بحران جنم لے سکتا ہے۔ حکومت نے فوری طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے اور ہفتہ وار قیمتوں کے جائزے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان سفارتی سطح پر امریکا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔
پاکستان کشیدگی ختم کرانے کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ سال جون میں بھی پاکستان کی کوششیں ثمر آور ثابت ہوئی تھیں اور امریکا ایران جنگ رک گئی تھی، لیکن اس مرتبہ صورت حال یکسر مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ بقول صدر ٹرمپ کچھ ممالک اگرچہ ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں تاہم جنگ میں ایران کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں، ایران غیر مشروط ہتھیار ڈال دے تو معاہدہ ہوگا ورنہ نہیں۔ ٹرمپ ایران میں اپنی مرضی کی قیادت لانا چاہتے ہیں، انھوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ خامنہ ای کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای کسی صورت قبول نہیں۔ ایران کو اپنے نئے رہنما کے انتخاب میں مجھے شامل کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا مطالبہ کشیدگی کو ہوا اور جنگ کو طول دے گا جس کے باعث پوری دنیا کو نئے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صورت حال کی نزاکت اور سنگینی کا تقاضا یہ ہے کہ اقوام متحدہ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی، چین، روس، برطانیہ، فرانس، پاکستان اور دیگر عالمی برادری کو سفارتی سطح پر مشترکہ اور عملی طور پر جوہری کوششیں کرنا ہوں گی۔ امریکا پر پوری قوت کے ساتھ ایران کے خلاف کشیدگی کے خاتمے اور جنگ رکوانے کے لیے سخت دباؤ ڈالنا چاہیے۔ بصورت دیگر مشرق وسطیٰ کا امن برباد اور ٹرمپ کے قدم اپنے اگلے اہداف کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے اور دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Here is Samsung Galaxy S26 Series’ Expected Price in Pakistan
-
Tech2 weeks ago
Business Line Awarded SAP Partnership in Pakistan, Strengthening Regional Footprint
-
Tech2 weeks ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority
-
Tech2 weeks ago
WhatsApp is Finally Getting a Long Overdue Chat Message Upgrade
-
Entertainment2 weeks ago
Celebrities Make Fun of Fiza Ali’s Over Emotional Acting for Views
-
Entertainment2 weeks ago
Bee Gul’s Interesting Take On Heroines Dancing In The Rain