Connect with us

Today News

خلیجی اور یورپی ممالک کا ہنگامی اجلاس؛ میزائل حملوں پر ایران کو واضح پیغام دیدیا

Published

on


ایران کے میزائل اور ڈرونز حملوں پر خلیجی اور یورپی مُمالک کا ایک ہنگامی اجلاس وڈیو لنک کے ذریعے ہوا تھا جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس ہنگامی اجلاس میں خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے کے ممالک پر ایران کے حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں وزرائے خارجہ نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت کی اور انھیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزرائے خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو اپنی سلامتی اور استحکام کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

اعلامیہ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا چاہیے۔

رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو خطے اور یورپ میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے باز آنا چاہیے اور اپنے عوام کے خلاف تشدد کو بھی روکنا چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹیکسٹائل مل کے ملازم کی برطرفی کا کیس، حق آنے والا فیصلہ تحریری حکم نامے میں کالعدم

Published

on



کراچی کی ٹیکسٹائل مل کے ملازم نے ساڑھے چھ کروڑ روپے کی ڈگری کا فیصلہ اپنے میں آنے اور تحریری حکم میں اسے کالعدم قرار دینے کے خلاف محکمہ لیبر میں درخواست دائر کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لیبر کمشنرکی جانب سے ٹیکسٹائل مل ملازم کے حق میں ساڑھے چھ کروڑروپے کی ڈگری کا فیصلہ دے کر تحریری حکم میں فیصلہ کالعدم قراردینے کے معاملے کومحکمہ لیبرمیں چیلنج کردیاگیا۔

فیکٹری ملازم نے فیصلہ سنانے والے کمشنرپرمبینہ کرپشن کا الزام لگا کراینٹی کرپشن کوبھی درخواست دے دی۔

کورنگی میں واقع ٹیکسٹائل مل کے ملازم محمد امجد اعوان نے اپنی ملازمت سے برطرفی کے بعد 3 اکتوبر2024 کولیبرکمشنرکورٹ میں درخواست دی کہ اسے غیرقانونی طورپربرطرف کیا گیا، بونس کی ادائیگی، اوورٹائم اورچھٹیاں نہ کرنے کے واجبات بھی نہیں دئے۔

ملازم کی درخواست پر گریڈ انیس کے افسر،کمشنر عبدالصمد سومرونے کیس کی سماعت کی اورچوبیس دسمبر2025 کو ملازم کے حق میں فیکٹری مالک کو چھ کروڑ اٹھتالیس لاکھ ادا کرنے کی ڈگری کا فیصلہ دیا۔

درخواست گزارکا موقف ہے کہ اس دن تحریری حکم نہیں ملا جبہک کمشنر نے فیصلہ زبانی سنایاگیا، مجھے یہ بھی ہدایت کی گئی کہ پیش کارچھٹی پرہے ایک ہفتے بعد حکم کی تصدیق شدہ کاپی لے جانا تاہم تحریری حکم جب ملاتو وہ فیصلے سے بالکل مختلف تھا۔

درخواست گزار کے مطابق تحریری فیصلے میں لکھا گیا کہ میری درخواست خارج ہوچکی ہے جبکہ میں ریٹائرڈ ہوچکا ہوں لہذا ملازم شخص کی تعریف کے زمرے میں نہیں آتا۔

امجد اعوان نے اس معاملے کومحکمہ لیبرمیں چیلنج کیا جبکہ ڈی جی لیبرکے نام درخواست میں فیکٹری ملازم نے الزام لگایا کہ فیصلہ ٹائپ کرکے کمپنی کے مالک کوواٹس ایپ پربھیجا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کمپنی کے مالک نے وہی آرڈرمجھے واٹس ایپ کیا، کال پرمجھے دھمکیاں دیں اورکال پریہ بھی کہا کہ عبدالصمد سومروصاحب کہہ چکے ہیں کہ تم پریشان نہ ہو،میں تمہارا راضی نامہ کرادوں گا، کیا حکم بدعنوانی کے ذریعے تبدیل کیاگیا؟

فیکٹری ملازم نے اس سلسلے میں انکوائری کے لئے اینٹی کرپشن بھی تحریری درخواست دے دی۔

 اس معاملے پرجوائنٹ ڈائریکٹر عبدالصمد سومروکا موقف ہے کہ امجد اعوان کی شکایت پر ایک عدالتی حکم جاری کیا تھا جو متفرق درخواست پر ان کے حق میں تھا تاہم شکایت کنندہ  کیس کے ابتدائی مرحلے پر ہی بہت بڑی رقم کا دعویٰ کر رہے ہیں، جو مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

Video of Jawad Ahmed’s aggressive behavior goes viral, Mishi Khan and Imran Abbas react strongly

Published

on


معروف گلوکار اور ’برابری پارٹی‘ کے بانی جواد احمد ایک بار پھر اپنے رویے کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ ماضی میں اپنی گائیکی کے باعث پہچانے جانے والے جواد احمد اب اکثر کیمروں کے سامنے سخت اور متنازع بیانات دینے کے باعث زیرِ بحث رہتے ہیں۔ وہ متعدد بار معروف سیاسی شخصیات، ساتھی فنکاروں اور دیگر مشہور افراد پر تنقید کرتے دکھائی دیے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا، جہاں گفتگو کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کا ذکر آیا۔ پروگرام کے میزبان عمیر بشیر نے عمران خان کے سوشل میڈیا فالوورز اور مقبولیت کا حوالہ دیا تو جواد احمد برہم ہو گئے۔

وائرل ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جواد احمد اینکر پر برس پڑے، بلند آواز میں بات کی اور بالآخر پروگرام ادھورا چھوڑ کر اسٹوڈیو سے چلے گئے۔ غصے کی حالت میں انہوں نے عملے سے یہ تک کہہ دیا کہ میزبان کو کمرے سے باہر نکال دیا جائے۔ انہوں نے صحافی کو ’بے وقعت‘ اور ’غیر پیشہ ور‘ بھی قرار دیا۔

انٹرویو کے مختصر کلپس سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں اور جواد احمد کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ اداکار عمران عباس نے انسٹاگرام پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ وہ اینکر کے صبر کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس رویے کو برداشت کیا۔

اسی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے مشی خان نے بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ’سائیکو‘ کا کوئی چہرہ ہوتا تو اینکر کو آسکر ملنا چاہیے تھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین بھی جواد احمد کے رویے پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ متعدد افراد نے ان کے طرزِ عمل کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں طبی مدد کی ضرورت ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ وہ لیڈر بننے کے خواب تو دیکھتے ہیں مگر پہلے انہیں انسان بننے کی ضرورت ہے، جبکہ دیگر نے رائے دی کہ بے جا نفرت اور عناد انسان کو ذہنی طور پر بیمار کر دیتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور سپلائی چین کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ

Published

on



اسلام آباد:

پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر پر صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے قائم کمیٹی نے روزانہ اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور طے کیا ہے کہ پیٹرولیم ذخائر اور سپلائی چین کی نقل و حرکت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے خطے کی صورتحال کے تناظر میں قومی سطح پر تیاریوں اور اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔

کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ قومی ذخائر اطمینان بخش سطح پر موجود ہیں اور اہم مصنوعات کے لیے مناسب مقدار میں ذخیرہ دستیاب ہے، اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کے حوالے سے فوری طور پر تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے، صورتحال بدستور غیر یقینی اور متغیر ہے، جس کے باعث مسلسل نگرانی اور محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے، عالمی سپلائی چینز اور بحری راستے بڑھتے ہوئے خطرات اور لاگت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

اجلاس کو بین الاقوامی تیل منڈی کی صورتحال، عالمی تیل منڈی میں نرخوں کے اتار چڑھاؤ، فریٹ اور انشورنس اخراجات میں اضافے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بحری راستوں میں تبدیلی اور اہم گزرگاہوں پر سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ وار پریمیم کے باعث عالمی توانائی منڈی میں لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے، ایشیائی منڈیوں میں توانائی کارگو کے لیے بڑھتا مقابلہ برقرار رہا تو بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

کمیٹی نے سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ دوست ممالک اور سپلائر کے ساتھ سفارتی اور تجارتی سطح پر رابطے جاری ہیں ایسے راستوں کی کوششیں جارہی جو زیادہ خطرناک سمندری گزرگاہوں سے باہر ہوں۔

کمیٹی نے شپنگ اور آپریشنل اقدامات پر بھی غور کیا جن کے ذریعے وقت کے ضیاع کو کم کیا جا سکے، پٹرولیم مصنوعات کی رسد برقرار رکھنے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف اقدامات سے متعلق بھی غور کیا گیا، صوبائی حکومتوں کی جانب سے اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے مشترکہ نفاذی کارروائیوں پر زور دیا گیا۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ سرحد پار اسمگلنگ کی روک تھام اور ملک کے اندر بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہے گی، فیلڈ انٹیلی جنس کی مدد سے مسلسل نگرانی اور خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا اولین مقصد ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے، حکومت ایک منظم گورننس نظام کے تحت صورتحال کو ذمہ داری کے ساتھ سنبھال رہی ہے، حکومت  روزانہ کی بنیاد پر نگرانی، منصوبہ بندی اور مربوط فیصلے کررہی ہے، اگر عالمی قیمتوں میں تبدیلیوں کے باعث ناگزیر دباؤ پیدا ہوا تو حکومت قائم شدہ اور قابل پیش گوئی نظام کے تحت ردعمل دے گی ، ایسا اس لیے ضروری ہو گا تاکہ مارکیٹ میں بگاڑ سے بچا جا سکے اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

اجلاس میں ایل این جی اور ایل پی جی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سپلائی چین کے خطرات، جہازوں کی آمد و رفت کے شیڈول اور ٹرمینل آپریشنز سے متعقل امور  بھی زیر غور آئے۔

شرکا نے کہا کہ اگر رکاوٹیں برقرار رہیں تو طلب کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے متبادل اقدامات اختیار کیے جائیں، ترجیحی شعبوں کا تحفظ اور منڈی کا نظم برقرار رکھا جائے۔

اجلاس میں ایندھن کے استعمال میں بچت کے مرحلہ وار اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی اپنی سفارشات کل تک حتمی شکل دے کر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ کمیٹی سفارشات کے ساتھ ایک جامع عمل درآمدی منصوبہ بھی وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا۔

منصوبے میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کی یقین دہانی اور مؤثر نفاذی اقدامات شامل ہوں گے، قیمتوں کے تعین اور گورننس کے نظام کو مستحکم بنانے کی تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہوں گی، ضرورت پڑنے پر ایندھن کے تحفظ اور استعمال میں بچت کے اقدامات بھی شامل کیے جائیں گے۔

صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے کمیٹی نے روزانہ اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور طے کیا کہ پیٹرولیم ذخائر اور سپلائی چین کی نقل و حرکت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا،  متعلقہ اداروں کے درمیان بروقت اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک، رانا تنویر حسین، جام کمال وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، وفاقی سیکریٹریز، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور سینئر سیکریٹریز سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔





Source link

Continue Reading

Trending