Today News
خلیجی ممالک کے مسائل – ایکسپریس اردو
خلیجی ممالک میں صرف یو اے ای واحد ریاست ہے جس کا ایران سے سرحدی تنازعہ ہے مگر امریکا کی وجہ سے ان کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں ۔ سعودیہ کے سوا تمام ریاستیں چھوٹی ہیں جہاں ان کی فوجیں برائے نام ہیں مگر یہ ریاستیں آئل، گیس و قدرتی وسائل سے مالا مال اور تمام انتہائی دولت مند ریاستوں میں شمار ہوتی ہیں جن میں امارات بڑی ریاست اور دبئی امارات میں اہمیت کا حامل ہے اور دبئی ان سب میں سب سے اہم تفریحی اور تجارتی شہر ہے جہاں ہر ماہ دنیا بھر سے لاکھوں سیاح ، تاجر، صنعتکار اور ٹیکنوکریٹس آتے ہیں اور دبئی میں آبادی میں مقامی عرب اور غیر ممالک جن میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگ مختلف کاروبار کررہے ہیں اور زیادہ تر دکانوں میں اردو بولنے والے گاہکوں سے معاملات طے کرتے ہیں اور روزانہ دنیا بھر سے بڑی تعداد میں فلائٹس دبئی آتی جاتی ہیں اور دبئی کا خوب صورت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دن رات فلائٹس آتی جاتی ہیں، جن کا وہاں رش رہتا ہے اور پاکستان سے ایمریٹس کے تمام ہوائی جہاز پہلے دبئی آتے ہیں جہاں مسافروں کو سعودیہ سمیت دنیا بھر میں کہیں جانے کے لیے دبئی کچھ گھنٹے گزارنا پڑتے ہیں اور اپنی فلائٹس کے انتظار تک انھیں کھانا پینا اور شاپنگ کرنا پڑتی ہے اور دبئی ایئرپورٹ پر روزانہ کروڑوں درہم کا کاروبار ہوتا ہے۔
ایران کا امارات کے علاوہ کسی خلیجی ریاست عراق اور سعودی عرب سے مسلکی اختلاف کے سوا کوئی اختلاف نہیں اور عراق کا ایک حصہ امریکا کے زیر کنٹرول اور دوسرا ایران کا حامی ہے اور ایرانی بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں مگر امارات کے سوا کسی بھی ملک نے موجودہ جنگ میں ایرانیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے مگر اس کی ابتدا ہوچکی ہے۔
بحرین خلیجی ممالک میں امارات کے مقابلے میں چھوٹی مگر مالدار ریاست ہے جو موجودہ جنگ میں ایران کے ہاتھوں نقصان بھی اٹھا رہے ہیں۔ ویسے تو خلیجی ریاستوں کے علاوہ ایرانی حملوں سے سعودی عرب اور عراق میں جانی کم اور مالی نقصان زیادہ ہوا ہے مگر سعودی عرب، کویت ، عمان ، قطر و دیگر خلیجی ممالک صرف ایرانی حملوں میں اپنا دفاع کررہے ہیں اور بڑی سمجھ داری سے امریکا کے ایران پر حملوں میں فریق بن رہے ہیں نہ ان حملوں کی حمایت کررہے ہیں تاکہ علاقہ کی صورت حال مزید خراب نہ ہو اور یہ ممالک جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں کیوں کہ ان کا بھی مالی نقصان ہورہا ہے اور یہ سب تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں مگر اب یو اے ای اور بحرین ایسا نہیں کررہے بلکہ ایران مخالف گروپ میں شامل ہیں ۔
سعودی عرب، عراق اور خلیجی ممالک میں ایران امریکی اڈوں پر حملہ کرتا رہا ہے جہاں سے امریکا ایران پر ہر طرف سے حملے کررہا ہے جب کہ اسرائیل سے بھی ایران پر خوفناک حملے چالیس دنوں میں کیے گئے ہیں۔ ایران ان ممالک میں امریکی اہداف کو نشانہ اس بنیاد پر بنارہا ہے کہ ایران کا ان ممالک سے کوئی بھی تنازعہ نہیں مگر ان ممالک میں عشروں سے قائم امریکی اڈوں سے حملے ایران پر ہورہے ہیں، اس لیے ایران نے بھی پہلے ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جس سے امریکا کا نقصان ہوا، دیگر ممالک پر ایران نے حملے نہیں کیے مگر ایرانی حملوں میں امارات زیادہ نشانہ بنا اور دنیا کا اہم تفریحی و کاروباری شہر دبئی سب سے زیادہ اور بہت بری طرح متاثر ہوا ہے جس کی سیاحت مکمل طور پر ختم ہوئی۔ دنیا سے سیاحوں نے دبئی آنا چھوڑا اور جو غیر ملکی وہاں رہ رہے تھے انھوں نے جان بچانے کے لیے بڑی تعداد میں دبئی چھوڑا۔ دبئی سے نکلنے والوں کی لمبی لمبی قطاریں لگیں اور رمضان میں پھنسے ہوئے راقم کے ایک دوست کے مطابق وہ بمشکل 6 لاکھ روپے کا ٹکٹ لے کر وطن واپس آیا جس کے پاس ایمریٹس سے واپسی کا ریٹرن ٹکٹ تھا مگر ایمرٹس نے اپنی فلائٹس بند کرکے واپسی ٹکٹ کی رقم واپس کردی تھی ۔
دبئی کی کشیدہ صورت حال کے باعث بڑی تعداد میں پاکستانی عیدالفطر پر وطن بھی نہیں آسکے اور انھیں اپنے خاندانوں سے دور رہ کر امارات میں عید منانا پڑی۔ خلیجی ریاستوں میں زیادہ تعداد پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں کی ہے جن کا ایرانی حملوں میں جانی نقصان ہوا مگر امارات کا مالی نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے عالمی جنگی اصولوں کو پامال کرکے ایران کا بہت زیادہ مالی اور جانی نقصان ہی نہیں کیا بلکہ ایران میں اسکول، اسپتال ، لیباٹریز اور طبی اداروں پر حملے کیے جس کے جواب میں ایران نے بھی ایسے ہی جوابی حملے کیے جن کا ذمے دار ایران خود کو نہیں سمجھتا۔
تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ان خلیجی ممالک کو اتنی طویل جنگ کی توقع تھی نہ اپنے نقصان کا اندازہ تھا اور امریکا کے اڈے ختم کرنے کے لیے ایران انھیں کہتا بھی رہا مگر وہ سمجھتے رہے کہ کسی بھی مشکل میں امریکا انھیں تحفظ دے گا اور امریکی اڈے اور تحفظ ان کی مجبوری تھی مگر امریکا نے اربوں ڈالر ان تمام ممالک سے بٹورے اور جنگ میں انھیں تنہا چھوڑ کر ثابت کردیا کہ وہ ان ممالک کی حفاظت سے نہیں ان کے مال میں دلچسپی رکھتا ہے اور یہ ممالک مجبور ہیں جو امریکا کو نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں اور امریکی اڈے ختم کرانے کی پوزیشن میں نہیں اور یہی مجبوری انھیں ایرانی حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔
Today News
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے سبب مہنگائی میں مسلسل اضافہ، حالیہ ہفتے 28 اشیا مہنگی
اسلام آباد:
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد سے پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کی رفتار میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے، حالیہ ہفتے مہنگائی میں 1.93 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پچھلے ہفتے 1.01 فیصد اضافہ ہوا تھا جب کہ حالیہ ہفتے سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح بھی 9.12 فیصد سے بڑھ کر 12.15فیصد ہوگئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حالیہ ہفتے 28 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، حالیہ ہفتے 8 اشیاء سستی اور 15 کی قیمتیں مستحکم رہیں، ایک ہفتے میں ڈیزل 54.71 اور پیٹرول 17.86 فیصد مہنگا ہوا جب کہ حالیہ ہفتے ایل پی جی کی قیمتوں میں 8.61 فیصد اضافہ ہوا۔ ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 9.35، آلو 4.13، پیاز3.84 اور انڈے کی قیمتوں میں3.77 فیصد اضافہ ہوا جب کہ ایک ہفتے میں بیف، مٹن، بریڈ اور پکی ہوئی دال بھی مہنگی ہوئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق چکن، آٹا، گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ لہسن3.78 اور کیلے 3.39 فیصد سستے ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریے کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.75فیصد اضافے کے ساتھ 9.33فیصد رہی۔ اسی طرح 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.02فیصد اضافے کے ساتھ11.50فیصد رہی۔
22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.17فیصد اضافے کے ساتھ 10.51فیصد، 29 ہزار 518 روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.56فیصد اضافے کے ساتھ 10.61فیصد رہی۔
Today News
وزیر بلدیات سندھ کی گجرانولہ کے صنعتکاروں کو صوبے میں صنعتیں لگانے کی پیشکش
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے صوبائی صنعتی زونز میں گجرانولہ کے صنعتکاروں کو صنعتیں لگانے کی پیشکش کر دی۔
کراچی ایکسپو سینٹر میں گجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تحت تین روزہ میڈ اِن گجرانوالہ نمائش کے افتتاح کے موقع پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے وزیرِ بلدیات نے کہا کہ ان کے لیے ونڈو آپریشن کے تحت تمام مطلوبہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ںاصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی میں صنعتیں لگانے والے گجرانولہ کے صنعتکاروں کو بندرگاہ کی وجہ سے خام مال کی درآمدی لاگت میں کمی کی سہولت کے ساتھ انکی تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات بھی آسان ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ٹلنے کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کو امن کا ضامن قرار دیا جا رہا ہے، قیام امن کے لیے پاکستان کی بہترین سفارتکاری شاندار انداز میں کامیاب ہوئی۔ صدر مملکت، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور بالخصوص فیلڈ مارشل کی کاوشیں رنگ لائیں۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی شاندار خارجہ پالیسی نے جنگ بندی کروائی۔
ںاصر حسین شاہ نے کہا کہ نے نمائش میں شریک ہونے والے مقامی اور بین الاقوامی شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ گجرانولہ کے تیاری کردہ مصنوعات کا پاکستان اور دنیا بھر میں صنعتی لحاظ سے بڑا مقام ہے۔ اس نوعیت کی نمائشوں سے بزنس کو فروغ اور مثبت سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شاندار سفارکاری کی بدولت جنگ بندی اور عالمی برادری کے سراہنے پر نیتن یاہو اور مودی سمیت امن دشمن لوگ ناخوش ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ امت مسلمہ میں اختلافات بڑھیں اور جنگ ہو لیکن آج آپس میں جنگ کرنے والے اسلامی ممالک کے درمیان یکجہتی بڑھ رہی ہے۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے گیس پائپ لائن کی بات کی، اب تیل و گیس سے متعلق بڑی پیشرفت ہوگی۔
اس موقع پر گجرانولہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر علی ہمایوں نے کہا کہ میڈ اِن گجرانوالہ نمائش میں گجرانولہ کی 65 کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کے 150 اسٹالز لگائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی عالمی تجارت کا اہم گیٹ وے ہے، صنعتوں کی درآمد و برآمدی سرگرمیوں میں کراچی کے کردار و معاونت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بتایا کہ گجرانولہ میں 21ہزار ایس ایم ایز ہیں جو 3ارب 50کروڑ ڈالر مالیت کی تیار کردہ مصنوعات 68 ممالک کو برآمد کرتے ہیں۔
Source link
Today News
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش، موسم خوشگوار
کوئٹہ اور گردونواح میں ہلکی بارش کا سلسلہ شروع ہوتے ہی موسم خوشگوار ہوگیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ژوب، موسیٰ خیل، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبد اللہ، پشین اور کوئٹہ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ زیارت، لورالائی، بارکھان، تربت، کیچ، گوادر اور گردونواح میں بھی آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئٹہ اور قلات میں کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ زیارت میں 5 اور ژوب میں 11 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ سبی میں کم سے کم درجہ حرارت 17 اور تربت میں 20 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
مزید برآں نوکنڈی میں کم سے کم درجہ حرارت 20، چمن میں 12، گوادر میں 19 اور جیوانی میں 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
Source link
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Sports2 weeks ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Magazines2 weeks ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
اپنا کمرہ! – ایکسپریس اردو
-
Sports2 weeks ago
National Dialogue Committee condemns PCB’s action against Naseem Shah
-
Magazines2 weeks ago
Reflection: My academic comeback in Ramazan
-
Sports2 weeks ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final
-
Magazines2 weeks ago
Story time: An iftar party to remember