Today News
خلیج کا بحران اور پاکستان کے مقدر کا بلند ستارہ
ایک جنگ مشرق وسطی میں لڑی جا رہی ہے اور ایک جنگ پاکستان لڑ رہا ہے۔ دونوں جنگوں میں ایک بڑا فرق ہے۔ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کا مقصد تباہی ہے جب کہ پاکستان کی جنگ امن کے لیے ہے۔ اتنی بڑی جنگ لڑنے کے لیے پاکستان کو توانائی کہاں سے ملی؟ ملین ڈالر سوال یہی ہے۔ شاہ فیصل کی شہادت کے بعد شہزادہ خالد بن عبد العزیز السعود خادم الحرمین الشریفین کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے تو فوراً ہی ان کے شہید پیشرو اور ان کے درمیان موازنہ شروع ہو گیا۔
اس موقع پر کسی دانش مند نے کہا کہ شاہ فیصل جیسی بھاری بھرکم شخصیت کے جانشین کی مشکل دوہری ہے۔ ایک اپنے عہد کے چیلنجوں کا سامنا اور دوسرے اپنے پیش رو سے موازنہ۔ اتفاق سے وزیر اعظم شہباز شریف بھی اسی قسم کی صورت حال سے دوچار رہے ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، وہ اس قسم کے موازنے سے اوپر اٹھ رہے ہیں۔
کسی سیاست داں کی صلاحیت کا اندازہ کئی پیمانوں سے کیا جا سکتا ہے، ان میں ایک اچھی ٹیم بنانا اور اسے ساتھ لے کر چلنا ہے۔ قومی امور اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے ضمن شہباز شریف کا طرز عمل کیا ہے؟ یہ سوال اہم ہے۔ مجھے وزیر اعظم سے کئی ملاقاتوں کا اعزاز حاصل ہے۔ اہم قومی امور میں ان کی گفتگو سننے کے مواقع بھی اکثر ملے ہیں۔
میں پورے اعتماد سے یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ یہ شخص اجتماعیت پر یقین رکھتا ہے، تنہا پرواز اس کے مزاج میں نہیں۔ مئی کی جنگ کے بعد عالمی منظر نامے پر پاکستان کا پروفائل یک دم بلند ہوا تو ایک مجلس میں کچھ لوگوں نے وزیر اعظم کی تعریف کی۔ اس قسم کے مواقع پر جیسا ہوتا ہے، بعض لوگ وزیر اعظم کی نگاہ میں آنے کے لیے زیادہ تعریف کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسی گفتگو سن کر وزیر اعظم نے اپنے مخصوص انداز میں انگشت شہادت لہرائی یعنی اپنی بات میں زور پیدا کرتے ہوئے کہا: ’’پاکستان کی کامیابیوں کا راز ٹیم ورک میں ہے۔ یہ حقیقت کبھی نظر انداز نہ کی جائے۔‘‘
وزیر اعظم کا ٹیم ورک کیا ہے؟ پاکستان کی موجودہ ہیئت حاکمہ پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کے تین مراکز ہیں، ایک وہ خود یعنی وہ اور ان کی کابینہ، دوسرے ایوان صدر اور تیسرے راول پنڈی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بعض عوامل ہمارے یہاں ایسے رہے ہیں جن کی وجہ سے راول پنڈی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی سبب سے بعض اوقات راول پنڈی اور اسلام آباد میں اختلاف رائے بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کے بہت سے تکلیف دہ مناظر گزشتہ دہائیوں اور خاص طور پر گزشتہ برسوں میں ہم دیکھتے رہے ہیں۔
راول پنڈی اور اسلام آباد کے درمیان اختلاف رائے دیگر وجوہ سے بھی پیدا ہو سکتا ہے جیسے مفادات کا تصادم لیکن اس کی کچھ وجوہات دوسری بھی ہو سکتی ہیں جیسے پیشہ ورانہ انداز فکر کی وجہ سے تجزیے میں اختلاف کا پیدا ہو جانا۔ اس قسم کی صورت حال میں قیادت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اختلاف رائے کے باوجود سب کو ساتھ لے کر چلے۔
شہباز شریف کی قیادت میں حکومت قائم ہوئے دو برس ہوتے ہیں، اس عرصے میں داخلی اور خارجی معاملات میں بہت سے ایسے مراحل پیدا ہوئے جو طاقت کے ان تینوں مراکز کے راستے جدا کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان کو عالمی منظر نامے میں جو توانائی میسر آئی ہے، اس کا راز یہی ہے۔ یہ درست ہے کہ وزیر اعظم سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر جانتے ہیں لیکن اتنا کافی نہیں۔ ایسی صورت میں دیگر فریقوں کا تعاون اور خوش دلی بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ تاریخ کے اس مشکل عہد میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور مسلح افواج چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں حکومت کے ساتھ ہر قومی معاملے میں خوش دلی سے تعاون کر رہی ہے۔ یہ وطن عزیز کی خوش قسمتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے، اس کا راز بھی یہی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں پاکستان کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تنہائی کا شکار کر دیا گیا تھا لیکن پی ڈی ایم کی حکومت نے ذمے داری سنبھالتے ہی اس مسئلے کو چیلنج کے طور پر قبول کیا اور چند ماہ کے عرصے میں ہی صورت حال بدل گئی۔ اس میں جہاں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی محنت کو دخل تھا، وہیں بلاول بھٹو زرداری نے بھی وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنے حصے کی خدمت انجام دی۔ پاکستان کو ملنے والی اہمیت کی ایک اور وجہ جنوب مشرقی ایشیا کے اندر اور افغانستان کے ساتھ امن کیلیے پاکستان کی سنجیدہ خواہش اور کوششیں ہیں۔
اس کے مقابلے میں بھارت اور اس کی سیاسی اور فوجی قیادت نے روگ یعنی کسی غنڈے کا کردار ادا کیا ہے۔ بھارت نے جنگ مسلط کی تو پاکستان نے اس کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ اس پر برتری بھی حاصل کی۔ اس موقع پر پاکستان چاہتا تو بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا لیکن اس مرحلے پر دوستوں اور خاص طور پر امریکا نے جنگ بندی کے لیے کہا تو پاکستان نے کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ امن کے لیے مخلص کسی سنجیدہ طاقت کا طرز عمل ایسا ہی ہونا چاہیے۔ پاکستان کی یہی سنجیدگی ہے جس کی عالمی برادری نے قدر کی اور مشرق وسطی کے خوف ناک تنازعے میں پاکستان پر اعتماد کیا۔ دوسرے خلیج کے بحران میں بھارت کی طرح منافقانہ طرز عمل اختیار کرنے کے بجائے امن کے لیے سنجیدگی کے ساتھ ان تھک کوشش کی۔یہی اسباب ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی قیادت میں دنیا امن کی تلاش میں نکلی ہے۔
اسلام آباد میں ترکیہ، سعودیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی ہے۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ساتھ حادثہ پیش آ جانے کے باوجود کانفرنس کو متاثر نہیں ہونے دیا پھر وہ زخمی حالت میں چین بھی روانہ ہو گئے۔
ایک عالمی بحران میں پاکستانی قیادت کا یہی احساس ذمے داری ہے جسے دنیا دیکھ رہی ہے اور ایران جیسا برادر ملک بھی جو اپنی تاریخ کی غیر معمولی آزمائش سے دوچار ہے۔ایران، امریکا اور سعودی عرب کا اعتماد پاکستان کو حاصل ہے۔ عالمی سیاست کا یہ غیر معمولی واقعہ ہے جو خطے میں امن کی خواہش کو توانا بنا رہا ہے۔ اس سفر میں چین کی شمولیت کے بعد ابھی کچھ اور ملک بھی اس قافلے میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔ پاکستان کا اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہو سکتا ہے؟ بعض حلقوں نے ان دنوں یہ بے پر کی اڑائی کہ پاکستان کی امن کوششوں سے ایران نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور پاکستان آنے سے انکار کیا ہے، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس کی دوٹوک تردید کر کے اس پروپیگنڈے کا غبارہ پنکچر کر دیا ہے۔
پاکستان کی کوششیں جاری تھیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریر کردی ۔یہ تقریر سن کر ایک بھولا بسرا شعر یاد آ گیا ؎
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
خواجہ حیدر علی آتش کو بھی کسی ڈونلڈ ٹرمپ سے واسطہ پڑا ہو گا کہ وہ ایسا شعر کہنے پر مجبور ہوئے۔ اس تقریر سے پہلے لگتا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یو ٹرن لے چکے اور جنگ کا کانٹ ڈان شروع ہو چکا۔ اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد امریکی صدر کے مزاج میں جیسا ہوتا ہے، Premenstrual Syndrome جیسی کیفیت پیدا ہوئی اور انھوں نے ٹروتھ سوشل پر دھمکی دینی ضروری سمجھی کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے پتھر کے زمانے میں لوٹا دیا جائے گا۔ جنگ مخالف نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کو دھمکی لگانی ضروری سمجھی۔
ان بیانات کے بعد ٹرمپ کی تقریر میں نیا کیا تھا؟ کیا یہ کہ آبنائے ہرمز سے امریکا کا لینا دینا کچھ نہیں، ہاں کسی کو تیل کی ضرورت ہے تو وہ اس راستے کو کھلوا لے یا پھر ہم سے تیل خریدے۔ یہ بات بھی وہ پہلے کہہ چکے تھے۔کیا یہ کہ آئندہ دو تین ہفتوں تک ایران پر تابڑ توڑ حملے کیے جائیں گے۔ یہ دھمکی بھی وہ پہلے دے چکے تھے۔ سوال یہ ہے کہ پھر تقریر کیوں کی؟
اس سوال کا جواب بھی امریکا سے آیا ہے۔ امریکی مذاکرات کاروں نائب صدر جے ڈی وینس، سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور امریکی خصوصی نمائندگان اسٹیو ویٹکوف اور جیراڈ کشنر نے پاکستان سے رابطہ کیا ہے اور اسے آگاہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا کے چند مطالبات پورے کیے جائیں۔اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد میں چار ملکی وزرائے خارجہ کانفرنس اور پاک چین بیجنگ اعلامیے کے بعد جنگ بندی کے ضمن میں جو پیش رفت ہوئی تھی، وہ جاری ہے لیکن اس طرح جنگ بندی میں امریکا ہزیمت محسوس کرتا ہے لہذا اسے کچھ فیس سیونگ دی جائے تا کہ انوکھے لاڈلے کو کھیلنے کے لیے چاند میسر آ سکے۔
کیا پاکستان اور چین اور پاکستان اور چار ملکی اتحاد اور خود ایران اس کا اہتمام کریں گے؟ ثالث کیا کریں گے؟ یہ اپنی جگہ اہم ہے لیکن ایران کا ایسا کوئی موڈ دکھائی نہیں دیتا۔ ایران کیوں ایسے دشمن کو کوئی رعایت دے جو خود اپنے ہی جال میں پھنس چکا ہے۔ دشمن داری کا اصول بھی یہی ہے لیکن امن کی خواہش ہو تو کچھ اور بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ کچھ اور کیا ہے؟ آئندہ دو تین ہفتوں میں ہمیں یہی ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔ جنگ اب بھی الٹی گنتی گن رہی ہے اور پاکستان نے جو امن مشن شروع کیا تھا، برگ و بار لا رہا ہے۔ان کامیابیوں کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی۔
Today News
جنگ کے منفی اثرات – ایکسپریس اردو
خطے کے کچھ ممالک نے امریکا سے مل کر آبنائے ہرمز بطور طاقت کھلوانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ اسرائیلی وزیراعظم نے بھی ایران کے خلاف خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مل کر نیا اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کسی بھی مسلم ملک کا ہمدرد نہیں بلکہ وہ اپنی چال بازیوں سے مسلمان ممالک کو آپس میں لڑانے کا خواہشمند ہے ، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ مقصد ہے جس کے حصول کے لیے دونوں نے مل کر ایران پر حملے کیے اور ایران کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ امریکا، ایران سے بہت دور جب کہ اسرائیل ایران کے قریب ہے جو ایران کی رینج میں ہے۔
اس لیے ایران نے اسرائیل پر جوابی حملے کیے اور اسرائیل کو زبردست مالی نقصان پہنچایا اور امریکا کو بھی جواب دیا اور خطے میں واقع امریکی اڈوں اور ممکنہ اہداف پر حملے کیے اور وہاں بھی زبردست نقصان پہنچایا جس میں کچھ جانی نقصان بھی ہوا مگر یہ جانی نقصان مقامی عرب باشندوں کا کم اور وہاں موجود ایشیائی باشندوں کا زیادہ ہوا جو وہاں حصول روزگار کے لیے رہ رہے تھے، جن میں کچھ پاکستانی بھی شامل تھے ۔
ایک عشرے قبل راقم کو دبئی میں ملازمت کرنے والے ایک بھارتی ہندو نے بتایا تھا کہ یو اے ای میں عربوں سے زیادہ بڑی تعداد بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے عوام کی ہے مگریو اے ای میں غیر ممالک سے آنے والے غیر مسلم ٹیکنالوجی میں زیادہ ماہر اور زیادہ دولت مند ہوتے ہیں اس لیے ان کو وہاں عزت بھی زیادہ دی جاتی ہے۔ کیوں کہ وہ باہر سے ڈالر اور دیگر یورپین کرنسی لے کر آتے ہیں جو وہ وہاں سیر وتفریح پر خرچ کرتے ہیں اور واپسی میں شاپنگ بھی کرتے ہیں جس سے وہاں کاروبار کو فروغ ملتا ہے ،دبئی نے غیر ملکیوں کی سہولیات کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں اور تفریح کے متعدد خوبصورت مقامات بنا رکھے ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر سے لوگ دبئی آتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی رقم دبئی کی بہت بڑی آمدنی کا ذریعہ ہے ۔
دبئی سیاحوں کے لیے انھیں ہر ممکن سہولیات فراہم کرتا ہے اور دبئی کو سیاحت کا اہم مرکز بنا چکا ہے۔راقم کو متعدد بار دبئی جانے کا موقع ملا اور یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ بھارت و بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستانی مہارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے ہیں ۔ دبئی ایئرپورٹ پر امیگریشن کے دوران بنگلہ دیش سے آنے والوں کو پاکستانیوں کے مقابلے میں جلد فارغ کیا گیا ۔ پاکستانیوں کی یو اے ای میں اہمیت کم ہونے کے ذمے دار پاکستان کے حکمران رہے ہیں جن کی امارات میں ذاتی جائیدادیں اور کاروبار ہیں اور حکومت سے فارغ ہونے کے بعد پاکستانی سیاست دان دبئی میں رہتے آئے ہیں اور یہ ہی اقتدار میں رہ کر یو ترقی یافتہ ملکوں سے امداد و قرضے مانگ مانگ کر پاکستان کی بے عزتی کے ذمے دار ہیں کیونکہ بھکاریوں اور مقروضوں کی کہیں عزت نہیں ہوتی بلکہ ان کی توہین کی جاتی ہے۔
پاکستان امیر عرب ملکوں کا مقروض ہے جب کہ یو اے ای کی بھارت سے قربت بڑھ رہی ہے۔ یو اے ای نے بھارت سے دفاعی معاہدے بھی کیے۔کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کئی ملکوں کو پاکستان کی نئی بندرگاہ گوادر پر بھی تحفظات ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ گوادر کی ترقی سے ان کا کاروبار متاثر ہوگا اور دنیا کو تجارت کے لیے نئی بندرگاہ میسر آجائے گی۔ بعض ملکوں کو یہ بھی خطرہ ہے کہ گوادر ان کی بندرگاہوں کی جگہ نہ لے لے، مگر حقیقت یہ ہے کہ گوادرکبھی دنیا میں کسی کی جگہ اس لیے نہیں لے سکتا کہ پاکستان کا مقصد گوادر بندرگاہ کی ترقی ہے مگر گوادر میں دیگر ملکوں جیسی سہولیات ،امن اور روزگار کا تصور بھی ممکن نہیں ۔یو اے ای بھارت کو ترجیح اور اہمیت دیتا ہے کیونکہ بھارت یو اے ای کا محتاج ہے۔
یو اے ای کے حکمران اپنی چھٹیاں گزارنے اور موسمی شکار کے لیے پاکستان ضلع رحیم یارخان کے علاقے میں نجی طور پر آتے ہیں، یہ ان کا نجی دورہ ہوتا ہے سرکاری نہیں ۔ یو اے ای کے حکمران پاکستان کے سرکاری دورے بھی کم کرتے ہیں جب کہ پاکستانی حکمران آئے دن یو اے ای جاتے رہتے ہیں۔حالیہ ایران جنگ سے دبئی بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور جو لوگ دبئی جانے کو اعزاز سمجھتے تھے‘ وہ بھی اس وقت پریشان ہیں۔ یواے ای کی کوشش ہے کہ ہرمز بندرگاہ کھول دی جائے کیونکہ اس سے اس کی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ یو اے ای ایران جیسی دفاعی صلاحیت کا ملک نہیں وہ کاروباری اور سیر و تفریح کا ملک ہے ۔
Today News
ملکی دولت چند ہاتھوں تک محدود، معاشی نظام کی تشکیل نو ناگزیر
اسلام آباد:
پاکستان میں جاری معاشی بحث عموماً شرح سود، مالی خسارے، ٹیکس نظام اور قرضوں کے گرد گھومتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور ساختی نوعیت کا ہے۔
ایک ایسی معیشت جو بنیادی طور پر قرض اور یقینی منافع پر قائم ہو، نہ صرف دولت کو چند ہاتھوں تک محدود کر دیتی ہے اور طویل مدتی ترقی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ متبادل فریم ورک موجود ہے جو اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے اور جس میں استحصالی قرضوں کی حوصلہ شکنی، رسک شیئرنگ کی حوصلہ افزائی، مشکلات کا شکار قرض داروں کیلیے نرمی اور مالی معاملات میں شفافیت پر زور دیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق دولت میں اضافہ صرف پیداواری سرگرمیوں کے ذریعے ممکن ہے۔رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی نظام میں زیادہ تر بوجھ قرض لینے والوں پر ہوتا ہے جبکہ قرض دینے والے محفوظ رہتے ہیں، معاشی سست روی کی صورت میں کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کو حقیقی پیداواری سرگرمیوں سے جوڑنا ضروری ہے، جب سرمایہ بغیر کسی عملی شراکت کے منافع پیدا کرتا ہے تو معیشت میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے، اس کے برعکس، شراکت داری پر مبنی سرمایہ کاری کاروبار کو فروغ دیتی اور معیشت کو مستحکم بناتی ہے، سخت قرض کی شرائط اکثر دیوالیہ پن اور بے روزگاری کا باعث بنتی ہیں، جبکہ ری اسٹرکچرنگ اور مہلت دینے جیسے اقدامات معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شفافیت، دستاویزی معیشت اور مضبوط قانونی نظام سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں،پاکستان کو درپیش چیلنجز میں بلند عوامی قرضہ، کم سرمایہ کاری، کمزور صنعتی ترقی اور دولت کا ارتکاز شامل ہیں، پاکستان کو قرض پر مبنی نظام سے نکل کر ایک شفاف، منصفانہ اور شراکت داری پر مبنی معاشی ڈھانچے کی طرف بڑھنا ہوگا۔
Today News
پی ٹی آئی کی 9 اپریل جلسے کیلیے پاور شو کی تیاری، ہر رکن کو 500 کارکن لانے کا ٹاسک
پشاور:
پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی صدارت میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں 9 اپریل کو ہونے والے جلسے کے حوالے سے جامع حکمت عملی تیار کرلی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 9 اپریل کو وزیراعلیٰ کی قیادت میں پشاور سے ایک بڑا قافلہ راولپنڈی کے لیے روانہ ہوگا جو جی ٹی روڈ کے ذریعے پنڈی پہنچے گا۔
حکمت عملی کے تحت اگر قافلے کو کسی مقام پر روکا گیا تو وہیں جلسہ کیا جائے گا، تاہم پارٹی نے تصادم سے گریز کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں پارٹی کے ہر ایم این اے اور ایم پی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کم از کم 500 کارکنوں کو جلسے میں شرکت کے لیے لائیں تاکہ بھرپور پاور شو کیا جا سکے۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports2 weeks ago
PSL 11 set to start with Lahore-Hyderabad clash