Connect with us

Today News

خود مختاری، علاقائی کشیدگی، پارلیمانی عزم

Published

on


صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ شکست کے لیے تیار رہے، پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کو اپنی صلاحیتوں کی محض ایک جھلک دکھا چکا ہے، افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروپوں کو ختم کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسِ سے خطاب ایسے نازک اور فیصلہ کن وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاستِ پاکستان کو بیک وقت داخلی استحکام، علاقائی کشیدگی اور عالمی سفارتی دباؤ جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ خطاب محض ایک آئینی تقاضے کی تکمیل نہیں تھا بلکہ اس میں قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، دہشت گردی کے خاتمے، علاقائی امن اور معاشی استحکام کے بارے میں ایک واضح سمت کا تعین بھی کیا گیا۔ صدر مملکت نے جو نکات اٹھائے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کو اس وقت سنجیدہ، مربوط اور ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت کا بھارت کو دوٹوک پیغام کہ وہ جنگی میدانوں سے بامعنی مذاکرات کی طرف آئے ورنہ شکست کے لیے تیار رہے، دراصل جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی اسٹرٹیجک صورتحال کا عکاس ہے۔ صدر پاکستان کا بیان ایک طرف قومی عزم اور دفاعی تیاری کا اظہار ہے تو دوسری جانب مذاکرات کی دعوت بھی۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک ذمے دار ریاست کو اختیار کرنا چاہیے۔ امن کی خواہش کمزوری نہیں بلکہ اعتماد اور طاقت کی علامت ہوتی ہے، بشرطیکہ اس کے پیچھے مستحکم دفاعی ڈھانچہ اور سیاسی وحدت موجود ہو۔

جنوبی ایشیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غلط فہمیوں، اشتعال انگیزی اور غیر ذمے دارانہ بیانات نے کئی بار حالات کو جنگ کے دہانے تک پہنچایا۔ ایسے میں سفارت کاری، بیک چینل رابطے اور بین الاقوامی ثالثی کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ صدر مملکت نے عالمی برادری کی ان کوششوں کو سراہا جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کی گئیں۔ یہ اعتراف دراصل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان خود کو ایک ذمے دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے جو طاقت کے استعمال کو آخری چارہ کار سمجھتی ہے اور مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے۔

افغانستان کے حوالے سے صدر پاکستان کا مؤقف بھی نہایت واضح تھا۔ انھوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنا ہوگا۔ افغانستان میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال نے خطے کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سرحد پار دہشت گردی، کالعدم تنظیموں کی پناہ گاہیں اور انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ ریاست کا یہ مطالبہ کہ افغان حکومت قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم کرے، دراصل اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ ہمسایہ ممالک کے درمیان باہمی احترام اور عدم مداخلت کا اصول بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہے، اگر ایک ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیتا ہے۔

 اسی تناظر میں آپریشن غضب للحق کا ذکر ناگزیر ہے۔ افواجِ پاکستان نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف جو کارروائیاں کی ہیں، ان کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سیکڑوں جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے، متعدد چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں اور اسلحہ بردار گاڑیاں ناکارہ بنائی گئیں۔ بلاشبہ ریاست اس معاملے میں کسی ابہام کا شکار نہیں بلکہ واضح حکمت عملی کے تحت کارروائی کر رہی ہے۔ تاہم عسکری کامیابی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی حکمت عملی بھی ضروری ہے، کیونکہ دیرپا امن محض بندوق کی نال سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکرات کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔

صدر مملکت نے اپنے خطاب میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر مبنی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی، تجارتی راستے اور سفارتی صف بندیاں اس کشیدگی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا یہ مؤقف کہ خطے کو مزید بحران سے بچانے کے لیے امن، تحمل اور مذاکراتی حل کو ترجیح دی جائے، ایک متوازن اور ذمے دارانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سیاست میں بڑی طاقتوں کی رقابت نے کئی خطوں کو پراکسی جنگوں کا میدان بنا دیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں، ایران کے ساتھ کشیدگی اور افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال نے ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی منظرنامہ تشکیل دیا ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال میں نہایت محتاط سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی بلاک سیاست میں غیر ضروری طور پر الجھنے کے بجائے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکے۔ متوازن خارجہ پالیسی، علاقائی روابط کا فروغ اور اقتصادی تعاون کے نئے راستوں کی تلاش وقت کی اہم ضرورت ہے۔

داخلی سطح پر صدر مملکت نے خود مختاری کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی استحکام کو قومی ترجیحات قرار دیا۔ یہ تینوں اہداف دراصل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر سلامتی کی صورتحال بہتر نہ ہو تو سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور اگر معیشت کمزور ہو تو دفاعی صلاحیت اور سماجی بہبود کے منصوبے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز، مہنگائی، بیرونی قرضوں اور مالیاتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔صدر مملکت کے خطاب میں جو بنیادی پیغام نمایاں تھا وہ یہ کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر کمزوری نہیں دکھائے گا۔ یہ مؤقف داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس، سرحدی خلاف ورزیوں پر مؤثر جواب اور سفارتی محاذ پر فعال کردار، یہ تینوں پہلو مل کر ایک جامع قومی حکمت عملی تشکیل دے سکتے ہیں۔

 یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری چارہ کار ہونا چاہیے۔ اگر مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند ہو جائیں تو کشیدگی مستقل صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بیک وقت سخت اور نرم دونوں پہلوؤں پر مشتمل پالیسی اپنائے، جہاں ضروری ہو وہاں سختی اور جہاں ممکن ہو وہاں لچک اور مذاکرات۔

نئے پارلیمانی سال کا آغاز اگر واقعی خود مختاری کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی استحکام کے عزم کے ساتھ کیا گیا ہے تو اس کے لیے بیانات سے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ قانون کی حکمرانی، اداروں کی مضبوطی، شفاف احتساب اور عوامی اعتماد کی بحالی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں اور معاشی طاقت کے بغیر خارجہ پالیسی میں خود مختاری برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔

آج پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سرحدی کشیدگی، دوسری جانب دہشت گردی کا خطرہ اور تیسری جانب معاشی دباؤ، یہ سب مل کر ایک پیچیدہ منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں۔ ایسے میں قیادت کی بصیرت، قومی اتحاد اور مؤثر حکمت عملی ہی وہ عوامل ہیں جو ملک کو اس بحران سے نکال سکتے ہیں۔ صدر مملکت کا خطاب اسی سمت میں ایک اشارہ تھا کہ ریاست اپنے چیلنجز سے باخبر ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔بالآخر قوموں کی طاقت ان کے اتحاد، حوصلے اور ادارہ جاتی استحکام میں مضمر ہوتی ہے، اگر پاکستان داخلی اختلافات کے باوجود بیرونی خطرات کے مقابلے میں متحد ہو جائے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرے اور معیشت کی بحالی کے لیے ٹھوس اصلاحات نافذ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ایک مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر ابھر نہ سکے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی و ریاستی قوتیں ایک صفحے پر آئیں اور قومی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھیں، تاکہ آنے والا پارلیمانی سال محض رسمی تقاریر تک محدود نہ رہے بلکہ عملی پیش رفت اور قومی استحکام کا سال ثابت ہو۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم کا سیکیورٹی گارڈ پر تشدد، گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے

Published

on



پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم نے سیکیورٹی گارڈز کو تشدد کا نشانہ بناکر ہنگامہ آرائی کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم کے کارکنان کا سیکیورٹی گارڈ سے جھگڑا ہوا اور یہ واقعہ لا کالج کے سامنے پیش آیا۔

طلباء تنظیم کے کارکنوں نے سیکیورٹی گارڈ پر تشدد کیا اور گاڑی کے شیشے توڑ دیے جبکہ اہلکاروں پر شیشے کی بوتلیں پھینکیں جس سے متعدد گارڈ زخمی ہوگئے۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور قانونی کارروائی کا آغاز کردیا۔

دوسری جانب یونیورسٹی ترجمان نے کہا کہ لاء کالج بند ہونے کے بعد زبردستی داخلے کی کوشش کی گئی۔ اجازت نہ ملنے پر سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ شرپسندی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

اُدھر طلبا تنظیم نے کہا کہ افطار کی اجازت دینے کے باوجود پروگرام کو روکنے کی کوشش کی گئی جس کے باعث بدنظمی اور پھر معاملہ خراب ہوگیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

ملک بھر کے صارفین کیلیے بجلی مہنگی، عوام پر 8 ارب 67 کروڑ سے زائد کا بوجھ پڑے گا

Published

on



نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر کے صارفین کیلئے  بجلی کی قیمت میں اضافہ کردیا۔

نیپرا کی جانب سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت قیمتوں بارے فیصلہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 35 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے۔

نیپرا نے اکتوبر تا دسمبر 2025 بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی جس کا اطلاق مارچ سے مئی 2026 کے تین ماہ کیلئے ہوگا۔

فی یونٹ قیمت میں اضافے سے بجلی صارفین پر 8 ارب 67 کروڑ 40 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔



Source link

Continue Reading

Today News

حزب اللہ کا اسرائیل پر ابتک کا سب سے بڑا میزائل حملہ؛ امریکی شہریوں کا انخلا شروع

Published

on


حزب اللہ نے لبنان سے اب تک کا طویل فاصلے تک کے مار کرنے والے راکٹوں سے اسرائیلی دارالحکومت سمیت وسطی اور شمالی علاقوں پر حملہ کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے راکٹس آسمان پر اُڑتے جیسے ہی اسرائیل کے قریب پہنچے صیہونی ریاست میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور افراتفری مچ گئی۔

اسرائیلی شہری دیوانہ وار اپنی محفوظ پناہ گاہوں ’’زیر زمین بنکرز‘‘ کی جانب بھاگے اور اندر داخل ہوگئے تاکہ اپنی جانیں بچا سکیں۔

یہ اب تک کا حزب اللہ کا اسرائیل پر اب تک کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل حملہ تھا جس میں ممکنہ طور پر بھاری نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی دارالحکومت میں پہلے ہی ریڈ الرٹ جاری کیا ہوا ہے اور تازہ حملوں سے شہریوں میں مزید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

ایمبولینسوں اور ریسکیو اداروں کی ٹیموں کو دارالحکومت کے مختلف مقامات کی جانب جاتے دیکھا گیا ہے۔

جبکہ دوسری جانب امریکا نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔

دوسری جانب اسرائیل سے امریکی شہریوں کے انخلا کا کام مزید تیز کردیا گیا جن کی تعداد 500 کے لگ بھگ ہے۔

واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تقریباً 500 امریکی شہریوں سے براہ راست رابطے میں ہے تاکہ انھیں بحفاظت واپس بلایا جاسکے۔

محکمہ خارجہ کے اہلکار نے مزید بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اب تک سیکڑوں امریکی شہری اسرائیل چھوڑ چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چند روز قبل 130 امریکی شہریوں کو اسرائیل سے نکالا جب کہ آج تقریباً ایک سو شہری روانہ ہونے والے ہیں۔

امریکی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مدد کے لیے دیے گئے ہنگامی نمبر پر رابطہ کریں اور اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام میں رجسٹر ہوں تاکہ تازہ معلومات حاصل کر سکیں۔

یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ روز خطے کے ایک درجن سے زائد ممالک میں موجود امریکیوں کو فوری طور پر وہاں سے نکلنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

جس میں کہا گیا تھا کہ جتنی جلدی ممکن ہو کمرشل پروازوں کے ذریعے اسرائیل سے کسی بھی محفوظ ملک کی جانب روانہ ہو جائیں اگرچہ خطے کی بیشتر فضائی حدود جزوی طور پر بند ہیں۔

عالمی عوامی امور کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈیلن جانسن نے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ سے نکلنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے فوجی طیاروں اور چارٹرڈ پروازوں کا بندوبست بھی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق حکام بیرون ملک موجود تقریباً تین ہزار امریکیوں سے براہ راست رابطے میں ہیں۔

 





Source link

Continue Reading

Trending