Connect with us

Today News

خیبر؛ وادی تیراہ میں مارٹر گولے گرنے سے 4 شہری جاں بحق

Published

on



خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے وادی تیراہ میں مارٹر گولے گرنے 4 شہری جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے علاقہ چاپری میں نامعلوم سمت سے فائر کیے گئے مارٹر گولے مقامی آبادی پر گرنے کے نتیجے میں 4 شہری جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق مارٹر شیلنگ کے دوران ایک گولہ مسافر پک اپ پر آ گرا، جس کے باعث 2 بچوں سمیت 4 مقامی افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، زخمی ہونے والے افراد کو ڈوگرہ اسپتال منتقل کیا گیا جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ وادی تیراہ میں مذکورہ واقعہ عین افطاری کے وقت پیش آیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کی شناخت مہران خان، منتظر آفریدی، خوگئی اور اکومت کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق علاقہ چاپری سے بتایا جاتا ہے، زخمیوں کو مزید علاج کے لیے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ مارٹر گولے گرنے سے قریبی گھروں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا اور واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سیاسی تربیت اور طلبہ یونین

Published

on


کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے وسیع سبزہ زاروں پر ایک عجیب سی خاموشی اُگ آئی ہے۔ یہ وہی کیمپس ہیں جہاں کبھی نعروں کی بازگشت ہوا کرتی تھی۔

جہاں بحث و مباحثہ صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں تھا بلکہ زندگی سیاست، انصاف اور مستقبل کے سوالات تک پھیلا ہوا تھا۔ آج جب میں طلبہ یونینوں کی معطلی پر نگاہ ڈالتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ہم نے اپنی نئی نسل کے ہاتھ سے مکالمے کا حق ہی چھین لیا ہو۔

پاکستان کی تاریخ میں طلبہ سیاست کوئی حادثاتی مظہر نہیں تھی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے برصغیر کی جامعات میں جو سیاسی شعور پروان چڑھا، اس نے آزادی کی تحریک کو جِلا بخشی۔

قیامِ پاکستان کے بعد بھی نوجوانوں نے اپنے عہد کے سوالوں سے منہ نہیں موڑا۔ 1950 کی دہائی میں ڈاؤ میڈیکل کالج کے چند نوجوانوں نے جب Democratic Students Federation کی بنیاد رکھی، وہ محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک روایت کی داغ بیل ڈال رہے ہیں۔

یہ وہی ڈی ایس ایف تھی جس نے 1953 میں تعلیمی مسائل اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کی، لاٹھی چارج اور گولیوں کا سامنا کیا اور نوجوانوں کو یہ سکھایا کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ اصولوں کی پاسداری کا نام بھی ہے۔

ڈی ایس ایف پر پابندی لگی، اس کے کارکن گرفتار ہوئے مگر خیال کو قید کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی فضا سے National Students Federation ابھری۔

این ایس ایف نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں جس فکری اور سیاسی تربیت کا ماحول پیدا کیا، وہ محض کیمپس کی چار دیواری تک محدود نہ رہا۔ اس ماحول سے ایسے نوجوان نکلے جنھوں نے بعد میں قومی سیاست، صحافت، ادب اور مزدور تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے ہاں اختلاف رائے جرم نہیں تھا بلکہ سیکھنے کا وسیلہ تھا، وہ مارکس پڑھتے تھے، فیض کوگنگناتے تھے اور ساتھ ہی اپنے عہد کی زمینی حقیقتوں سے جڑے رہتے تھے۔

طلبہ یونینیں محض انتخابی پوسٹروں اور تقریری مقابلوں کا نام نہیں تھیں۔ وہ جمہوری تربیت گاہیں تھیں۔ وہاں ووٹ ڈالنے کا شعور پیدا ہوتا تھا۔ منشور لکھنے کی مشق ہوتی تھی، مخالف سے مکالمہ کرنا سکھایا جاتا تھا۔

اختلاف کو برداشت کرنے اور دلیل سے جواب دینے کی تربیت وہیں پروان چڑھتی تھی۔ یہی وہ نرسری تھی جہاں سے سیاسی بصیرت رکھنے والے رہنما نکلتے تھے۔

جب کوئی نوجوان کلاس روم سے نکل کر جلسے میں تقریر کرتا تھا تو وہ صرف نعرہ نہیں لگاتا تھا بلکہ اپنے اندر ایک اعتماد محسوس کرتا تھا کہ وہ اجتماعی فیصلوں کا حصہ بن سکتا ہے۔

1968 اور 1969 کی تحریک کو کون بھول سکتا ہے؟ ایوب آمریت کے خلاف جب ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ سڑکوں پر نکلے تو ان کے ساتھ مزدور اور متوسط طبقہ بھی شامل ہوا۔

یہ اتحاد اچانک پیدا نہیں ہوا تھا، اس کے پیچھے برسوں کی تنظیم سازی مطالعہ اور مکالمہ تھا۔ یہی وہ دور تھا جب نوجوانوں نے آمریت کے ایوانوں کو یہ پیغام دیا کہ تاریخ کا پہیہ بند کمروں میں نہیں روکا جا سکتا۔

اس تحریک نے نہ صرف ایک آمرکو رخصت کیا بلکہ سیاست کے افق پر نئی سوچ کو بھی جنم دیا۔بدقسمتی سے ضیاء الحق کے دور میں طلبہ یونینز پر پابندی لگا دی گئی۔ دلیل یہ دی گئی کہ کیمپس میں تشدد بڑھ رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا تشدد کا حل جمہوری عمل کو معطل کرنا تھا؟ کیا ہمیں اصلاح کی طرف جانا چاہیے تھا یا مکمل خاموشی کی طرف؟ اس پابندی نے ایک پوری نسل کو سیاست کے ابتدائی تجربے سے محروم کردیا۔

جب آپ نوجوانوں سے منظم ہونے کا حق چھین لیتے ہیں تو وہ یا تو بے حسی کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر غیر منظم اور شدت پسند گروہوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

آج کی یونیورسٹیوں میں طلبہ موجود ہیں، مسائل بھی موجود ہیں مگر اجتماعی آوازکمزور ہے۔ فیسوں میں اضافہ ہو، ہاسٹل کے مسائل ہوں یا نصاب کی فرسودگی زیادہ تر احتجاج سوشل میڈیا کی پوسٹ تک محدود رہ جاتا ہے۔

ڈیجیٹل دنیا نے اظہارکے نئے راستے ضرور دیے ہیں مگر اس میں وہ تربیتی عمل نہیں، جو ایک باقاعدہ یونین فراہم کرتی ہے۔ یونین کا انتخاب لڑنا، منشور بنانا، ساتھیوں کو قائل کرنا، یہ سب سیاسی پختگی کی سیڑھیاں ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے کئی رہنما طلبہ سیاست سے ابھرے۔ انھوں نے کیمپس میں تنظیم سازی سیکھی، جلسے منظم کیے، اختلاف کا سامنا کیا۔

یہی تجربہ بعد میں قومی سطح پر ان کے کام آیا، اگر آج ہمیں سیاست میں برداشت مکالمے اور نظریاتی سنجیدگی کی کمی محسوس ہوتی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اس نرسری کو ویران کردیا ہے جہاں یہ اوصاف پنپتے تھے۔

یقینا ماضی مثالی نہیں تھا۔ طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم بھی ہوئے، اسلحہ بھی آیا اور بعض اوقات بیرونی سیاسی قوتوں نے کیمپس کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، مگرکیا کسی ادارے کی خرابی اس کی مکمل نفی کا جواز بن سکتی ہے؟

جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ وہ غلطیوں سے سیکھتی ہے خود کو بہتر بناتی ہے، اگر ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرایا جاتا، اسلحے پر مکمل پابندی لگتی اور انتظامیہ غیر جانبدار رہتی تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔ایک ترقی پسند سماج اپنے نوجوانوں سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔

وہ انھیں سوال کرنے، منظم ہونے اور اختلاف کرنے کا حق دیتا ہے،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہی سوال کل کو سماجی انصاف برابری اور جمہوری استحکام کی بنیاد بنیں گے۔

جب ہم طلبہ یونینزکی بحالی کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم اس امید کی بات کر رہے ہوتے ہیں کہ ہماری سیاست دوبارہ نظریاتی سنجیدگی اور عوامی مسائل کی طرف لوٹے۔

مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں یونیورسٹی کی دیواروں پر چسپاں پوسٹر محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہوتے تھے وہ خوابوں کے منشور ہوتے تھے۔

ان خوابوں میں ایک زیادہ منصفانہ سماج کی تصویر ہوتی تھی۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ان خوابوں کو دوبارہ جگہ دیں۔

طلبہ یونینز کی بحالی کوئی انقلابی نعرہ نہیں، یہ جمہوری تسلسل کی ایک کڑی ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں سیاسی بصیرت اخلاقی جرات اور اجتماعی شعور کے ساتھ آگے بڑھیں تو ہمیں ان کی آواز پر عائد یہ طویل خاموشی ختم کرنا ہوگی۔





Source link

Continue Reading

Today News

کیا غزہ میں فوج بھیجنی چاہیے ؟

Published

on


غزہ میں امن کے لیے قائم بورڈ آف پیس کے دو سربراہی اجلاس ہو گئے ہیں ۔ پاکستان کے وزیر اعظم میا ں شہباز شریف نے دونوں اجلاس میں شرکت کی ہے۔ پہلے اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو غزہ میں اپنی فوجیں بھیجنی چاہیے۔ انڈونیشیا، مراکش سمیت متعدد مسلم ممالک غزہ میں فوج بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کو غزہ میں تعینات ہونے والی عالمی فورس کا ڈپٹی کمانڈر بھی بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان نے ابھی تک غزہ میں فوج بھیجنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا۔

اس لیے جب بھی بورڈ آف پیس کا اجلا س ہو تا ہے، قیاس آرائیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ کیا اس اجلاس میں پاکستان فوج بھیجنے کا اعلان کر دے گا۔ کچھ دوست پراپیگنڈا بھی شروع کر دیتے ہیں۔

امریکی دباؤ کی بھی بات کی جاتی ہے۔ میری رائے میں اب یہ بات نہیں ہے کہ ہم پر فوج بھیجنے کا کوئی دباؤ ہے۔ جب سارے مسلم ممالک فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں، وہ اعلان کر رہے ہیں تو دباؤ کیوں ہوگا۔

دباؤ تو تب ہوگا جب کوئی مسلم ملک اس پر تیار نہ ہو جب کہ پاکستان ہی واحد آپشن ہو، اس لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے۔ پاکستان کی فوج پر اسرائیل کو تو سخت اعتراض ہے اور وہ تو کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کی فوج اس بین الا قوامی فورس کا حصہ بنے، باقی اسلامی ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ دوسر اہم سوال یہ ہے کہ غزہ کے مسلمانوں کا مفاد کیا ہے؟ ہمیں ان دونوں مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔

سب سے پہلے پاکستان کے مفادکی بات کریں، پاکستان کا مفاد اسلامی ممالک کے ساتھ چلنے میں ہے یا ان سے الگ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں ہے۔

ہمیں فلسطین کے معاملے میں اسلامی ممالک کے ساتھ چلنا چاہیے، مشترکہ فیصلے کرنے چاہیے۔ اس سے پہلے بھی آٹھ اسلامی ممالک فلسطین پر اکٹھے پریس ریلز جاری کرتے ہیں۔

مشترکہ موقف میں طاقت ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں غزہ میں فوج بھیجنے اور مسئلہ فلسطین میں پاکستان کو اسلامی ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنا چاہیے ۔

کوئی تنہا پالیسی نہیں بنانی چاہیے۔ جب سب بڑے اسلامی ممالک بورڈ آف پیس میں شامل ہو رہے تھے تو پاکستان کو بلا جھجھک بورڈ آف پیس میں شامل ہونا چاہیے تھا۔

اس کا پاکستان کو فائدہ ہوا ہے۔ ہم سینٹر اسٹیج پر موجود ہیں۔ انکار کرنے کی صورت میں ہم الگ بیٹھے ہوتے اور ہماری آواز کی کوئی اہمیت نہ ہوتی۔

جب پاکستان کے دوست اسلامی ممالک کو غزہ میں فوج بھیجنے پر کوئی ا عتراض نہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ جب وہ وہاں موجود ہوںگے تو مل کر ہی فیصلے ہوںگے۔

ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ صرف ہم ہی فلسطین اور غزہ کے مفاد کے چوکیدا رہیں۔ اور باقی اسلامی ممالک غزہ اور فلسطین کے دشمن ہیں۔ ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ باقی اسلامی ممالک کی افواج غزہ اور فلسطینیوں کے خلاف کام کریں گی، وہ وہاں اسرائیلی عزئم کی تکمیل کریں گی۔

ایسا نہیں ہے، سب مل کر ایک میز پر موجود ہوںگے تو ایک دوسرے کی طاقت ہوںگے۔ مل کر دباؤ بھی ختم کریں گے۔ مل کر فلسطین کی بہتر خدمت ہو سکتی ہے۔ اکیلا پاکستان فلسطین کی کیا خدمت کر سکتا ہے۔

آج جب پاکستان کوئی فیصلہ نہیں کر رہا توہم دنیا میں پاکستان کا مقام بلند نہیں کر رہے۔ بلکہ یہ سمجھا جا رہاہے کہ ہم فیصلہ سازی میں کمزور ہیں۔ آج دوست اسلامی ممالک دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل رہا۔

میں سمجھتا ہوں فلسطینی بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ فیصلے کی اس گھڑی میں ہم کوئی درست فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم نہ توا سلامی دنیا کے ساتھ چل رہے ہیں اور نہ ہی فلسطینیوں کے ساتھ چل رہے ہیں۔

پاکستان کی فوج کئی شعبوں میں غزہ میں مدد کر سکتی ہے۔ میڈیکل کور کے ڈاکٹر جا سکتے ہیں۔ انجیئرنگ کو ر وہاں کی تعمیر میں مدد کر سکتی ہے۔ کمیونیکیشن کے شعبے میں پاک فوج مدد کر سکتی ہے۔ لیکن جانا تو چاہیے۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ نہ جانے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ایک لمحہ کے لیے یہ سوچیں کہ غزہ میں تعینات کثیرالملکی فوج نے امن قائم کر دیا۔ غزہ کی تعمیر نو گئی۔ پھر سوچیں پاکستان کہاں کھڑ اہوگا۔

ہم یہی کہیں گے کہ ہم نے بہترین موقع کھو دیا۔ ہمیں اس فورس کا بھی حصہ ہونا چاہیے تھا۔جب فلسطینی سب مسلم ممالک کا شکریہ اد اکر رہے ہوںگے تو پاکستان کا نام نہیں ہوگا۔ یہی کہا جا ئے گا کہ پاکستان فیصلہ نہیں کر سکا۔ ہم خدشات کا شکار رہے۔

اگر فرض کر لیں کہ کچھ غلط ہو جاتا۔ تو ہم اکیلے تھوڑی ہوںگے۔ ایسے میں سب اسلامی ملک جو بھی فیصلہ کریں گے ، ہم بھی وہی فیصلہ کریں گے۔

ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ باقی سب اسلامی ممالک تو فلسطینیوں کے خلاف فیصلہ کر لیں گے، صرف ہم نہیں کریں گے۔ ہمیں یہ یقین کرنا ہوگا کہ سب مسلمان ممالک فلسطین اور فلسطینیوں کے ساتھ اتنے ہی مخلص ہیں جتنے ہم ہیں۔

باقی اسلامی ممالک کو شک سے دیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تو باقی ممالک نے فلسطین کے لیے ماضی میں پاکستان سے زیادہ عملی جدو جہد کی ہے۔ ہم ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس لیے کسی بھی مشکل میں مل کر ہی فیصلہ ہوگا۔ سولو فلائٹ میں کوئی فائدہ نہیں ، مل کر چلنے میں ہی فائدہ ہے۔

پاکستان محمود عباس کی فلسطین حکومت کو مانتا ہے۔ یہاں محمود عباس کی حکومت کا سفارتخانہ ہے۔ ہم نے کبھی حماس کا سفارتخانہ نہیں کھولا۔

ہمیں اپنی پالیسی جا ری رکھنی ہے۔ ہم واضح کر رہے ہیں کہ ہم حماس کو غیرمسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اس لیے اب وقت فیصلے کا ہے، اب مزید تاخیر درست نہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

زرخیز موتی – ایکسپریس اردو

Published

on


مجھے اپنی فیلڈ کو سمجھنے کے لیے کم از کم دو سال لگے تھے۔ الیکٹرانکس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن اس سے منسلک کوئی اور فیلڈ نہ تھی لہٰذا مجھے یہی لینا پڑا۔

مجبوری تھی پھر اس کو میں نے سمجھنا شروع کیا تو جا کر مجھے اس میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ پھر مجھے پتا چلا کہ میں نے اپنے آپ کو ہی کمتر سمجھا تھا میں تو بہت بہتر ہوں اور یہ بات مجھے فیلڈ میں اترنے سے پتا چلی ہے۔

جب تک ہم فیلڈ میں کسی کام کو لگن اور شوق سے نہیں کرتے تب تک ہمیں اس میں مزہ نہیں آتا ۔ کسی بھی اچھے سے اچھے کام کو بغیر دلچسپی اور بددلی سے کیا جائے تو وہ انسان کو کوئی خوشی نہیں دیتا۔ خوشی تب ہی حاصل ہوتی ہے جب کوئی بھی کام پورے شوق اور دل جمعی سے کیا جائے۔

’’کیا طالب علم اپنی پسند کی فیلڈ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں؟‘‘

اس کی ایک مثال میری اپنی ایک کلاس فیلو تو نہیں، اسکول فیلو کی ہے اسے لٹریچر سے انتہا کی حد تک عشق تھا، اسکول میں وہ ایسی باتیں کرتی تھی کہ ہم کہتے تھے کہ بہن ذرا آسان زبان میں بات کرتاکہ دوسرے بھی آسانی سے سمجھ سکیں‘اتنی مشکل زبان میں بات کرو گی تو دوسروں کو خاک سمجھ آئے گی۔

بہرحال اس نے پہلی پوزیشن لی اور اس نے ڈگری لے کر گھر میں لا کر اپنے والدین کو پکڑائی اور کہا کہ یہ ڈگری حاصل کرنا آپ کا شوق تھا تو میں نے حاصل کر لی، اب میں وہ کروں گی جو میرا دل چاہتا تھا۔

لہٰذا اس نے وہ کام پروفیشنلی اختیار کیا، وہ کالج کے زمانے سے ہی بلاگز لکھتی تھی، پھر اس نے باہر کے میگزین کے لیے کام کرنا شروع کر دیا، وہی شوق جو وہ اسکول کے زمانے میں رکھتی تھی۔ اس کی زبان ایسی لٹرل تھی اور ایسا ہی وہ لکھتی تھی۔

’’کس یونیورسٹی سے پڑھا اس لڑکی نے؟‘‘ سوال پوچھا گیا تو جواب نے ششدر کر دیا۔ کراچی کی نمبر ون سرکاری انجینئرنگ یونیورسٹی۔

اسی کے سیکنڈ پوزیشن ہولڈر کی بات سنیں وہ بھی ہمارے اسکول کا ہی تھا (کراچی کا مایہ ناز اسکول جس کا نظام کئی اسکولوں میں رائج ہے) اسے سرکار کے محکمے میں نوکری ملی تھی، پھر اسے ایک انجینئرنگ کمپنی میں جاب ملی۔ 

اس نے فوراً سرکاری کنٹریکٹ کی جاب چھوڑ کر انجینئرنگ کمپنی میں نوکری اختیار کر لی۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک ٹاپر کو انجینئرنگ کی جاب ملی ہوگی، جی نہیں، اسے ٹیکنیکل سیلز میں جاب ملی ہے اور وہ کر رہا ہے۔

یہ تو حیران کن بات ہے کہ ہمارے یہاں کے ٹاپرز کو بھی اس طرح کی جابس کرنا پڑتی ہیں، لیکن ایسا کیوں ہے کہ بڑے سرکاری اداروں میں نااہلی، کرپشن کی باتیں سنتے ہیں، ایسے ذہین بچوں کے ساتھ ایسا سلوک سمجھ نہیں آتا۔

صرف یہی نہیں ایسے ایسے ذہین نوجوان کہ ان کے ٹیچرز ان سے گھبراتے ہیں۔ میں اپنے ایک سینئر کی بات بتاتا ہوں، وہ تین سال تک بے روزگار رہے، اب جا کر کہیں جاب کر رہے ہیں، وہ بھی ان کی اہلیت کے لائق نہیں۔

میں نے خود ان سے ایک مضمون پڑھا تھا، انھوں نے مجھے بہت اچھی طرح سمجھایا تھا، پھر انھوں نے مجھ سے کہا کہ تمہیں کون ٹیچر پڑھا رہا ہے، میں نے نام لیا تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ ان سے اس ٹرم کا مطلب پوچھنا اور اگر وہ بتا دیں تو مجھے ضرور بتانا۔

اس ٹرم میں ایسا کیا تھا آخر؟

اس ٹرم میں ایسا کیا تھا، دراصل ان موصوف کو اس کا علم نہیں تھا اور اسی بات پر ان سے بحث ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں فیل کردیا گیا۔ یہ صرف ان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اکثر طالب علموں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن کیوں ہوتا ہے سوال یہ ہے۔

آپ ان کی قابلیت کے بارے میں ایسے اندازہ لگائیں کہ فلاں ( ایک نجی نامی گرامی یونیورسٹی) میں ان سے لوگ ہل جاتے ہیں۔

ہلنے کا مطلب؟ مطلب یہ کہ لوگ کنفیوژ ہو جاتے ہیں کہ اب یہ کوئی ایسا سوال نہ پوچھ لے کہ جس کا جواب ہمیں نہ آتا ہو۔ ایسے ذہین طالب علموں کو بھی جاب نہیں ملتی۔

اس کی کیا وجہ ہے؟ ( جواب مسکراہٹ کے ساتھ ملا)۔ اس لیے کہ جو انٹرویو لیتے ہیں انھیں بھی اپنی سیٹ بچانی ہوتی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ باہر کی دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہم اور ہمارا سلیبس بہت پیچھے ہے۔

اب جو باہر کی دنیا کو فالو کرتا ہے کیونکہ بہت کچھ آپ کو انٹرنیٹ کے ذریعے مل جاتا ہے تو جن کے ذہن کو پالش ہونا ہی ہوتا ہے وہ ہو جاتے ہیں، ان کا معیار بڑھ جاتا ہے جب  کہ ہمارے پڑھانے والے اپنے پرانے تعلیمی نظام اور سلیبس کو پڑھ کر آتے ہیں تو دونوں میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ کیا ایک ڈگری یافتہ نوجوان ایک اچھی نوکری کا اہل ہوتا ہے؟

بالکل ہوتا ہے بشرطیکہ اس نے عملی طور پر بھی کام کیا ہو، صرف رٹو طوطا اور لکیر کے فقیر بن کر آپ اچھی جی پی لے کر نمایاں ہو جاتے ہیں لیکن پڑھائی اور پریکٹیکل دو الگ الگ معیار ہیں، یہ ضرور ہے کہ اگر آپ پڑھائی میں اچھے ہیں اور اسے اپنے پریکٹیکل میں اپلائی کرتے ہیں تو کامیاب ہیں لیکن صرف کتابیں پڑھ لینا خاص کر سائنس اور ٹیکنیکل میدان میں کارگر نہیں۔

یہ ایک نوجوان کے خیالات تھے۔ ہمارے ہاں طالب علم کے ذہن کو نہیں دیکھتے کہ اس کا رجحان کس طرف ہے، وہ اپنے والدین کی خواہشات کے مطابق ہی فیلڈ اختیارکرتا ہے، پڑھتا ہے اس طرح ہم ناکارہ سسٹم تعمیر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارے یہاں اوسط درجے کی ذہانت والے لوگ ہر فیلڈ میں گھسے نظر آئیں گے۔

کچھ عرصہ قبل ایک صاحبہ اردو کے حوالے سے نظر آئیں، ان کی سرکاری ملازمت کے گریڈ کا کیا ہی کہیں لیکن جب ان کے املا کی عام سی غلطیاں دیکھیں تو دل پر ملال تھا۔ ایسا کیوں؟ انگریزی کے ٹیچر انگریزی تو کیا اردو بھی صحیح سے نہیں بول سکتے، اسی طرح اردو اور دوسرے مضامین کی کہانی ہے۔

ہم اوسط درجے کی ذہانت سے بھی گر گئے ہیں اور اپنی اس کرپشن پر رنجیدہ نہیں بلکہ بے باک ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر ایک ہیرا تھے، جن کی ذہانت، قابلیت اور حب الوطنی جتنا بھی سراہا جائے کم ہے لیکن کیا ڈاکٹر عبدالقدیر کے بعد ہم ان جیسے ذہین پاکستانی کی تلاش ترک کردیں جو اپنے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہمیں سوچنا ہوگا، کہیں ہم اپنے زرخیز ذہنوں کو ڈپریشن، مایوسی اور ناکامی کے کانٹوں میں الجھا کر ناشکری کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟





Source link

Continue Reading

Trending