Today News
خیبرپختونخوا حکومت کا باجوڑ خودکش دھماکے کے سہولت کاروں کے خلاف بڑے ایکشن کا فیصلہ
خیبرپختونخوا کی حکومت نے باجوڑ خودکش دھماکے میں ملوث سہولت کاروں کے خلاف بڑے ایکشن کا فیصلہ کرتے ہوئے سہولت کاروں اور معاونین کے سروں کی قیمت مقرر کردی۔
خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ذرائع نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے باجوڑ ملنگی خود کش حملے کے سہولت کاروں اور معاونین کے سروں کی قیمت مقرر کردی گئی ہے۔
ذرائع سی ٹی ڈی نے بتایا کہ تین سہولت کاروں کے سر کی قیمت پانچ کروڑ روپے مقرر کر دی گئی ہے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
یاد رہے کہ باجوڑ میں 16 فروری 2026 کو ملنگی پوسٹ پر خودکش حملے میں دو بے گناہ شہریوں سمیت 11 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے باجوڑ ملنگی پوسٹ پر خودکش حملہ کرنے والا دہشت گرد افغانستان کا شہری تھی اور اس کی شناخت احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی ہے۔
خودکش حملہ آور احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر افغانستان کے صوبہ بلخ کا شہری تھا اور طالبان کی اسپیشل فورسز کا حصہ بھی رہ چکا ہے۔
Source link
Today News
کراچی؛ ٹیپو سلطان بلوچ پاڑہ میں بھائیوں کے درمیان فائرنگ، ایک بھائی جاں بحق دوسرا زخمی
ٹیپو سلطان کے علاقے بلوچ پاڑہ کے قریب گھر میں فائرنگ کے واقعے میں ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا، بلدیہ میں گھر کے اندر فائرنگ سے بھی ایک شخص زخمی ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق بلوچ کالونی سٹی اسکول کے قریب گھر کے اندر فائرنگ سے ایک بھائی جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا ، مقتول کی لاش اور زخمی کو جناح اسپتال لیجایا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق مقتول کی شناخت 45 بہاؤ الدین کے نام سے کی گئی جبکہ زخمی بھائی 43 سالہ محی الدین کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ایس ایچ او ٹیپو سلطان اظہر خان نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ گھر میں بھائیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں پیش آیا ہے جس میں جلال الدین نامی بھائی نے فائرنگ کی تھی جو موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس واقعے کی مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
دریں اثنا بلدیہ حب ریور روڈ روٹ اے 25 اسٹاپ کے قریب گھر میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا جسے ایدھی کے رضا کاروں نے طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ مضروب کی شناخت 26 سالہ بلال ولد علی شیر کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ گھر میں اسلحہ صاف کرتے ہوئے اتفاقیہ گولی چلنے کا بتایا جا رہا ہے جس کی پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
Source link
Today News
غربت 29 فیصد ہوگئی، 7 کروڑ افراد انتہائی غریب، دولت کی عدم مساوات میں اضافہ؛ سرکاری سروے
پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر29 فیصدتک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 11برسوں کی بلندترین شرح ہے۔لوگوں کی آمدن میں عدم مساوات بھی گزشتہ 27 برسوں کی بلندترین شرح پر ہے ۔
یہ بات جمعے کو جاری سرکاری سروے رپورٹ میں بتائی گئی ہے جو وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے جاری کی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 7برسوں کے دوران لوگوں کی حقیقی آمدن اور اخراجات میں بڑی تنزلی دیکھی گئی ہے، پاکستان میں اس وقت سات کروڑ افراد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی صرف 8,484 روپے تک ہے۔
سال 2018-19ء سے 2024-25ء کے عرصہ کے دوران غربت میں32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2019ء میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی جو2024-25ء میں بڑھ کر28.9 فیصد ہوگئی،2014 کے بعد یہ بلندترین شرح ہے جب غربت کی شرح 29.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔سب سے خطرناک صورتحال دولت کی عدم مساوات ہے جو بڑھ کر32.7 تک پہنچ چکی ہے۔
اس سے قبل دولت کی عدم مساوات کی سب سے بلند شرح 1998ء میں ریکارڈ کی گئی تھی جو31.1 فیصد تھی۔پاکستان کو اس وقت 21 سال میں بیروگاری کی بلندترین شرح کا سامنا ہے جو 7.1 ہوچکی ہے۔اسی طرح غربت گیارہ برسوں کی بلندترین شرح پر ہے جبکہ دولت کی عدم مساوات 27 برسوں کی بلندشرح پر پہنچ چکی ہے۔یہ سب حکمران اشرافیہ کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہوا کیونکہ اس پروگرام کے سبب حکومت کو بعض شعبوں کو دی جانے والے سبسڈیز کو واپس لینا پڑا ،جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرمیں بھی گراوٹ آئی ۔
اس کے علاوہ کورونا سمیت دیگر قدرتی آفات اوراقتصادی شرح نمو میں کمی بھی غربت بڑھنے کی وجوہات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ غربت میں کمی کے رجحان کا پہیہ الٹا گھوما ہے اور اس کے برے اثرات حکومت کی پالیسیوں اور لوگوں کی سماجی ومعاشی زندگیوں پربھی نظر آئے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2فیصد،شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر17.4فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں گزشتہ سات برسوں کے دوران غربت کی شرح 41 فیصد اضافے کے ساتھ 16.5سے بڑھ کر 23.3فیصد ،سندھ میں 24.5 فیصد سے بڑھ کر 32.6 فیصد،خیبرپختونخوا میں 28.7 فیصد سے بڑھ کر 35.3 فیصد جبکہ بلوچستان میں 42 فیصد سے 12.4 فیصد اضافے کے ساتھ 47 فیصد ہوچکی ہے۔
لوگوں کی حقیقی ماہانہ آمدنی جو 2019ء میں 35,454 روپے تھی گزشتہ مالی سال تک 12 فیصد کمی کے ساتھ گر کر31,127 روپے رہ گئی ہے۔لوگوں کے ماہانہ اخراجات 31,711 روپے سے گرکر 29,980 روپے ہوگئے ہیں۔اسی طرح پنجاب میں دولت کی عدم مساوات 28.4 فیصد سے بڑھ کر32 فیصد ،سندھ میں 29.7 فیصد سے بڑھ کر 35.9 فیصد،خیبرپختونخوا میں 24.8 فیصد سے بڑھ کر 29.4 فیصد جبکہ بلوچستان میں21 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد ہوچکی ہے۔
لیبرمارکیٹ کا بھی برا حال ہے،بڑے پیمانے کی صنعتوںکی پیداوار کورونا وبا کی پہلے کی سطح پر رکی ہوئی ہے جہاں سے اب روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہورہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بیروزگاری اور کم پیداواریت سے غربت بڑھی ہے،صرف 90 لاکھ پاکستانی جو بیرون ملک مقیم ہیں 40 ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ بھیج رہے ہیں باقی24 کروڑ کی آبادی 40 ارب ڈالر کے برابر ایکسپورٹ کے بھی قابل نہیں۔
حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اصلاحات نے غربت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی ہے لیکن اس صورتحال سے نکلنے کیلئے ہمیں پائیدارروزگارکی ترقی ،حقیقی آمدنی کو بحال کرنے سماجی تحفظ کی طرف جانا ہوگا۔
Source link
Today News
تعصب ایک عالمی ورثہ ہے
امریکی ریاست منی سوٹا میں صومالی تارکینِ وطن کی آبادی دو فیصد ہے۔یہاں سے ایک صومالی نژاد رکنِ کانگریس الہان عمر صدر ٹرمپ کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ٹرمپ منی سوٹا کے صومالی نژاد ووٹروں کو ایسا کچرہ کہتے ہیں جو کسی کام کا نہیں اور اس کچرے کی صفائی کے بغیر امریکا عظیم نہیں بن سکتا۔بقول ٹرمپ یہ لوگ امریکا چھوڑ کر اپنے بدترین غلیظ اصل ملک کیوں نہیں لوٹ جاتے۔
ہو سکتا ہے بہت سوں کو ٹرمپ کا یہ تبصرہ بھی کچرے جیسا لگے مگر ان دنوں عمومی ماحول ایسا ہے کہ کسی میں ہمت نہیں کہ اپنے ہی شہریوں کے خلاف ایسے کھلم کھلا نسل پرستانہ تبصروں کو کسی امریکی عدالت میں چیلنج کرے اور عدالت اس کا سختی سے نوٹس لے کر اور کچھ نہیں تو ہلکی پھلکی سرزنش ہی کر دے۔
بالخصوص ڈھائی ماہ قبل ایک افغان پناہ گزین کے ہاتھوں واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کی ایک افسر کے قتل اور ایک کے شدید زخمی ہونے کے بعد تو گویا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا۔اس واردات کی آڑ میں تیسری دنیا کے کم ازکم سولہ ممالک کے شہریوں کا امریکا میں داخلہ ممنوع قرار پایا اور تیس دیگر ممالک کے شہریوں کے لیے امریکی ویزہ کا حصول مزید مشکل ہو گیا۔ویزہ مل بھی جائے تو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی اسکریننگ ملک میں داخلے سے پہلے لازمی قرار پائی ۔ٹرمپ کے حامیوں کے منہ کی کڑواہٹ اب تک دور نہیں ہوئی کہ سانولے رنگ کا زہران ممدانی نیویارک کا مئیر کیوں بن گیا اور اس کی شہریت منسوخ ہونے سے کیسے بچ گئی۔
اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایک پوسٹ بھی شئیر کی جس میں سابق صدر اوباما اور ان کی اہلیہ کی بندر جیسی میم بنائی گئی ہے۔مگر اس حرکت کا صدمہ یوں نہیں ہونا چاہئیے کہ لگ بھگ بارہ برس پہلے جب ٹرمپ نے پہلی بار صدر اوباما کی امریکی شہریت پر سوال اٹھائے تھے تب سے اب تک تعصب اور نسل پرستی کے پلوں تلے سے نفرت کا اتنا پانی گذر چکا ہے کہ امریکا میں اب کسی کے لیے بھی کسی نسل پرست ریمارک کے کوئی معنی نہیں رہے۔ انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی تک کی سفید فام امریکی نسل پرستی جو بظاہر کچھ عرصے کے لیے مدہم دکھائی پڑتی تھی، ایک انگڑائی لے کر امریکی ریاستی سوچ پر دوگنی شدت سے ٹوٹ پڑی ہے۔
امریکا کے علاوہ اس لہر کی لپیٹ میں ایسے ایسے ممالک آ رہے ہیں کہ جنھیں چند برس پہلے تک درگذر ، روشن خیالی اور کھلے پن کا امام سمجھا جاتا تھا۔مثلاً ڈنمارک میں نسل پرستی کی لہر کے خلاف ایک موثر روشن خیال اتحاد تشکیل دینے کے بجائے امیگریشن قوانین اتنے سخت کر دیے گئے ہیں کہ اب دوسرے یورپی ممالک بھی ان کی بتدریج تقلید کر رہے ہیں۔
جو برطانوی لیبر پارٹی کچھ عرصے پہلے تک کنزرویٹو پارٹی کو تعصب کا طعنہ دیتی آ رہی تھی اب اپنی امیگریشن پالیسیوں میں روایتی نسل پرستوں سے بھی اوپر جاتی دکھائی دے رہی ہے۔وزیراعظم کئر اسٹارمر کھل کے کہہ رہے ہیں کہ ان کی سرکار یقینی بنائے گی کہ یہ جزیرہ ( برطانیہ ) اجنبیوں کی پناہ گاہ نہ بن جائے۔
یہ وہی برطانیہ ہے جس نے دوسری عالمی جنگ کے بعد تباہ حال معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے برصغیر اور سابق افریقی نوآبادیات کے مزدوروں کے لیے امیگریشن کے دروازے ایسے کھولے تھے کہ سن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں برطانیہ پہنچنے کے صرف پندرہ دن کے اندر اندر سابق نوآبادیاتی باشندے برطانوی شہریت کے لیے اپلائی کر سکتے تھے۔اب یہ مدت دس برس کر دی گئی ہے اور دس برس بعد بھی درخواست گذار کے رہائشی و سماجی ریکارڈ کا جائزہ لے کر ہی اسے شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔مگر یہ سخت گیر پالیسی کم ازکم ان امیر مسلمان ممالک کی پالیسی سے تو پھر بھی بہتر ہے جہاں تارکینِ وطن کی تین تین نسلیں بھی شہریت کی اہل نہیں سمجھی جاتیں۔وہاں شہریت بنیادی حق نہیں بلکہ ’’ احسان ‘‘ ہے۔
غیر مغربی ممالک میں بھی اجنبیوں کے لیے برداشت ختم ہو رہی ہے۔مثلاً جو تارکینِ وطن یورپ جانے کی غرض سے لیبیا میں عارضی طور پر داخل ہوتے ہیں۔وہ سرسری گرفتاریوں ، گمشدگی ، تشدد ، ریپ ، قتل ، بھتہ خوری اور جبری مشقت کروانے والے گروہوں کے نشانے پر ہیں۔یورپی یونین لیبیائی کوسٹ گارڈز کی مسلح تربیت کے لیے بھاری رقم دیتی ہے تاکہ تارکینِ وطن کو یورپ جانے سے روکا جا سکے۔مگر لیبیا میں تارکینِ وطن سے ہونے والے سلوک سے یورپی یونین کو کوئی مطلب نہیں۔انسانی حقوق کا کوڑا صرف ان ممالک کی پیٹھ پر برسانے کے لیے ہے جو مغرب کو کسی نہ کسی وجہ سے پسند نہیں۔
کہنے کو لیبیا کا ہمسایہ تیونس بھی ایک عرب و بربر اکثریتی مگر افریقی ملک ہے۔تاہم وہاں بھی سیاہ فام تارکینِ وطن ایک مدت سے اپنی رنگت کا جرمانہ دے رہے ہیں۔لگ بھگ ڈھائی برس پہلے تیونس کے صدر قیس سعید نے بیان دیا کہ افریقی تارکینِ وطن کا اس ملک میں اکثریت بننے کا خدشہ حقیقی ہے۔ایسا ہوا تو تیونس کا ثقافتی و تاریخی رشتہ عرب ثقافت سے کٹ جائے گا۔اس بیان کے بعد ملک میں سیاہ فام طلبا اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے خلاف حملوں کی لہر اور گرفتاریوں کا سلسلہ چل نکلا۔
جنوبی افریقہ کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ کس طرح چالیس لاکھ سفید فاموں نے ڈھائی کروڑ سیاہ فام شہریوں کو اپارتھائیڈ پالیسی کے ذریعے انیس سو چورانوے تک ایک نسل پرست نظام میں جکڑے رکھا ۔مگر آج اپارتھائیڈ سے پاک اسی جنوبی افریقہ میں آس پڑوس سے روزگار کی خاطر آنے والے سیاہ فام تارکینِ وطن کو انہی حقارت بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے جس نظر سے گورے افریکانر جنوبی افریقی سیاہ فاموں کو دیکھتے تھے۔
انیس سو چورانوے میں آزادی ملنے کے بعد سے اب تک جنوبی افریقہ میں غیرملکی سیاہ فام تارکینِ وطن کے خلاف لگ بھگ ڈیڑھ ہزار پرتشدد وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ان وارداتوں میں تذلیل ، لوٹ مار ، اغوا اور قتل سمیت ہر طرح کے قصے شامل ہیں۔کوویڈ کے دوران بھی تارکینِ وطن امتیازی سلوک سے گذرے۔جنوبی افریقہ کی سول سوسائٹی کے کئی گروپ نائجیریا ، موزمبیق ، زیمبیا اور زمبابوے سے تلاشِ روزگار کے لیے آنے والے ہم نسلوں کے خلاف ریلیاں منظم کرتے رہے۔
لاطینی امریکی ممالک کولمبیا ، پیرو ، چلی اور ایکویڈور میں وینزویلا سے آنے والے تارکینِ وطن کے خلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔بھارتی حکومت بنگالی نژاد مسلمانوں اور میانمار کے روہنگیا پناہ گزینوں کو جب کہ ایران و پاکستان کی حکومتیں افغان پناہ گزینوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں اور تارکینِ وطن مخالف ریاستی بیانیہ مقامی شہریوں کو بھی انتہاپسند بنا رہا ہے۔
جب ریاست روزگار ، معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی طبقاتی عدم مساوات کے تناظر میں اپنے شہریوں کی توقعات پوری نہیں کر پاتی تو اس کا ذمے دار تارکینِ وطن کو ٹھہرانا مقامی ووٹروں کی توجہ بٹانے کا نہایت مجرب نسخہ ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
-
Tech1 week ago
WhatsApp’s Paid Version Will Bring These New Features
-
Tech1 week ago
The Compressed Timeline Of The AI Revolution
-
Tech2 weeks ago
Dan D’Agostino’s Momentum Z Monoblock Amplifiers Will Set You Back A Cool $125,000
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Stuck in the 1990s
-
Tech1 week ago
PTA Reveals Top Mobile Networks of Q4 2025
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Stars Land From Karachi To Lahore For Basant
-
Tech4 days ago
Samsung Promotes New Feature Ahead Of Galaxy S26 Ultra Launch
-
Tech1 week ago
Telegram Gets a Refreshed Look — Update Now Available in Pakistan