Connect with us

Today News

خیبر پختونخوا میں شدید بارشیں، گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اموات 47 ہوگئی

Published

on



خیبر پختون خوا میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 47 افراد جاں بحق جبکہ 117 افراد زخمی ہوگئے۔

صوبے میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے پچھلے 4 روز کے دوران 21 افراد جاں بحق جبکہ 40 افراد زخمی ہوئے جبکہ 25 مارچ سے جاری بارشوں کے باعث اب تک مجموعی طور پر 47 افراد جاں بحق اور 117 افراد زخمی ہوئے۔

مجموعی طور پر جاں بحق افراد میں 27 بچے، 13 مرد اور 7 خواتین جبکہ زخمیوں میں 45 مرد، 21 خواتین اور 51 بچے شامل ہیں۔

بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 652 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 554 گھروں کو جزوی جبکہ 98 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے۔

یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں, ایبٹ آباد، مردان، باجوڑ، ہنگو، مہمند، کوہاٹ، شمالی وزیرستان، پشاور، خیبر، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، کرم، لکی مروت، شانگلہ، بٹگرام، لوئر کوہستان، مانسہرہ، طورغر، سوات، اپر دیر، چارسدہ، بونیر، مالاکنڈ، لوئر دیر، اورکزئی، جنوبی وزیرستان اور ٹانک میں پیش آئے۔

پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کو امدادی سامان روانہ کر دیا گیا جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو  متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا نیا سلسلہ 6 اپریل سے 9 اپریل کے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

بارشوں کے باعث دریائے کابل نوشہرہ کے مقام پر نچھلے سے درمیانے درجے کا سیلاب جبکہ دریائے کابل سے منسلک ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ہے۔

عوام سے اپیل کی جاتی ہے کے بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔ پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے فائرنگ، تین افراد ہلاک

Published

on


ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں تین مشتبہ افراد ہلاک جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

ترک میڈیا کے مطابق اسرائیلی سفارتخانہ کے قریب اچانک فائرنگ شروع ہوگئی اور اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی اور مشتبہ افراد کا مقابلہ کیا۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران تینوں مشتبہ افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

ابھی تک حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے ممکنہ مقاصد کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسلام آباد؛ شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران بیوی پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی

Published

on



تھانہ کرپا کی حدود میں خاوند نے معمولی تلخ کلامی پر لڑائی جھگڑے کے دوران بیوی پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔

پولیس کے مطابق خاتون جھلس کر شدید زخمی ہوئی، جسے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

متاثرہ خاتون اور خاوند کے درمیان معمولی تلخ کلامی پر لڑائی جھگڑا ہوا تھا، متاثرہ خاتون کی 10 سال قبل وحید ستی سے شادی ہوئی تھی۔

خاتون کی والدہ کی مدعیت میں خاوند وحید ستی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

مقدمے کے متن کے مطابق وحید ستی کے والد نے کال کر کے بتایا کہ بیٹی جل گئی ہے جبکہ بیٹی نے بتایا کہ خاوند نے مار پیٹ کی اور پیٹرول ڈال کر آگ لگا دی۔



Source link

Continue Reading

Today News

تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان میں توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا، وزیراعظم

Published

on



اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود پاکستان میں توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔

مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر  بجلی کی فراہمی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملکی برآمدات کی پیشرفت کے حوالے سے اہم اجلاس وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تیل کی رسد میں رکاوٹوں کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا مناسب حصہ ہونے کی وجہ سے توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔

شہباز شریف نے بیٹری توانائی اسٹوریج سسٹم کے منصوبے پر کام  تیز کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شمسی توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع ہی بجلی شعبے کا مستقبل ہیں۔ انہوں نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو قومی سطح پر مزید وسعت دینے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی اور چیلنجز کے باوجود خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات جاری ہیں۔ انہوں نے پی این ایس سی کو سمندری راستے سے ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے بحری جہازوں کا انتظام کرنے کی ہدایت  بھی کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود کامیاب سفارتکاری سے خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات کی رسد یقینی بنائی گئی ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم کو بجلی کی پیداوار کے حوالے سے طویل مدتی لائحہ عمل، حالیہ عالمی صورتحال میں ملکی برآمدات کے لئے مواقع اور  درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت بجلی کی کل پیداوار میں 55 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع اور 45 فیصد حصہ حیاتیاتی (fossil) ایندھن کا ہے جب کہ  اگلے 10 سال میں  بجلی کی قابل تجدید ذرائع سے پیداوار 90 فیصد تک، جب کہ حیاتیاتی ایندھن سے پیداوار 10 فیصد تک لے جانے  کے لیے منصوبہ بندی پر کام جاری ہے۔

شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر ملکی برآمدات کے لیے سہولت پیدا کرنے کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ خلیجی ممالک میں پاکستانی زرعی اجناس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا ڈاکٹر احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، ، سردار اویس احمد لغاری، جنید انور چوہدری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔





Source link

Continue Reading

Trending